17 نومبر 2019 2019-11-17

ٹماٹر چارسو روپے کلو تک فروخت ہوئے تو ہر طرف مہنگائی کا شور مچ گیا، تحقیق کی تو علم ہوا کہ معاملہ صرف ٹماٹروں تک ہی محدود نہیںپیاز ایک سو بیس روپے اور آلو ساٹھ روپے کلو تک جا پہنچے ہیں، وہ سبزی والے جو دھنیا اور مرچیں مفت میں ڈال دیتے تھے اب مانگنے پربھی ٹکا سا جواب دیتے ہیں، پالک بھی ساٹھ روپے کلو تک پہنچ گئی، وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ شادیوں کا سیزن آ گیا ہے۔ ٹماٹر اس وجہ سے مہنگا ہوا کہ سندھ کی فصل مبینہ طور پر خراب ہو گئی اور سارا بوجھ سوات کے ٹماٹر پر آپڑا، انڈیا سے ٹماٹر آتا تھا مگرسکھوں کے لئے کرتارپور کھلنے کے بعد بھی ٹماٹروں کے لئے واہگہ بند ہے لہٰذا انڈین ٹماٹر کا ٹرک پہلے افغانستان جاتا ہے ، وہاں سے ری لوڈ ہوتا ہے اور پھر واپس آتا ہے لہٰذا مہنگا تو ہو گا۔ مہنگائی عجیب و غریب شے ہے کہ یہ امیر علاقوں میں رہنے والوں کو محسوس ہی نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے بھی کہہ دیا کہ ٹماٹر کراچی کی سبزی منڈی میں سترہ روپے کلو مل رہا ہے،اب اس بھلے آدمی نے کبھی ٹماٹر خریدا ہو تو علم ہوکہ ریٹ کیا ہے۔ہمارے مہربان ایک بڑے مگر ریٹائرڈ بیوروکریٹ سوشل میڈیا پر کہہ رہے تھے کہ بجلی اور پٹرول بہت مہنگے ہوگئے ہیں،انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بل خود بھرنا پڑے ہوں گے اور پٹرول بھی خود ہی ڈلوانا پڑا ہو گا۔

مہنگائی سو فیصد ایک اضافی اصطلاح ہے جس کا تعلق آپ کی آمدن اور دولت کے ساتھ ہے۔ اس کی سیدھی سادی سی مثال یوں ہے کہ اگر آپ کے پاس ایک کروڑ روپے موجود ہیں تو آپ کے لئے بیس لاکھ روپے کی گاڑی ہرگز مہنگی نہیں کیونکہ آپ اپنی دولت یا بچت کا محض پانچواں حصہ استعمال کرتے ہوئے خرید رہے ہیں لیکن اگر آپ کے پاس صرف ایک لاکھ روپے ہیں تو آپ کے لئے پانچ لاکھ روپوںکی گاڑی بھی مہنگی ہے کیونکہ وہ آپ کی دولت یا بچت سے پانچ گنا زیادہ مالیت کی ہے۔ مجھے آج سے دس، گیارہ برس پرانی بات ابھی تک یاد ہے جب جناب شہباز شریف نے جلاوطنی کے بعد ایک مرتبہ پھر وزارت اعلیٰ کاعہدہ سنبھالا تھا اور اپنے پہلے بجٹ میں ہی سستی روٹی سکیم کا اعلان کر دیا تھا۔ وہ ایک ظہرانے پر ہم صحافیوں کے سامنے اس کا فخریہ اعلان کر رہے تھے تو میرا کہنا تھا کہ آ پ سستی روٹی دینے کے بجائے لوگوں کو روزگار دینے کی طرف زیادہ توجہ کریں کہ اگر کوئی شخص دیہاڑی پر لگا ہوا ہے اور دن میں پانچ، سات سو روپے کما لیتا ہے تو وہ پانچ روپے کی روٹی بھی خرید سکتا ہے لیکن اگر کسی کی دیہاڑی ہی نہیں لگی تو اس کے لئے دو روپے کی روٹی بھی مہنگی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ان کی حکومت کے پہلے برس مہنگائی سب سے کم بڑھی۔ وہ جہاں کھڑے ہیں وہاں سے یہی نظرآتا ہے کیونکہ ان کے تمام تر اخراجات اب ریاست کی ذمہ داری ہو گئے، ہاں، انہوں نے ناجائز منافع خوری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبائی حکومتیں اس پر قابوپائیں۔ پنجاب کی حکومت نے اس پر کمال کیا کہ اپنے کچھ ملازمین اور کچھ سیاسی عہدے داروں کی ڈیوٹیاں لگا دیں کہ وہ دکانوں پر چھاپے ماریں اور جہاں سرکاری قیمت سے زیادہ پر اشیا فروخت ہو رہی ہوں ان دکانداروں کو جرمانے کریں اور جیل بھیج دیں اور پھر یہی ہوا۔ ہمارے پاس پریس ریلیزیں آئیں کہ ہزاروں دکانداروں کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا تھوک ( یعنی ہول سیل) میں بھی اشیا سرکاری نرخوں پر مل رہی ہیں تو میں سبزی منڈی کے حالیہ دورے کے بعد گواہی دے سکتا ہوں کہ وہاں مارکیٹ کمیٹی کی پرائس لسٹ پر صرف مُولیاں مل رہی تھیں، اس کے سوا کچھ نہیںلہٰذا جب ایک دکاندا رپھڑئیے سے مہنگی سبزی خریدے گا،اسے دکان تک لانے کے لئے لوڈرکا کرایہ بھرے گا، دُکان کا کرایہ اور اگر کوئی ملازم ہے تو اس کی تنخواہ کے ساتھ ساتھ بجلی کا بل اور شاپنگ بیگز کا خرچ بھی نکالے گا، کارپوریشن کے علاوہ فوڈ اتھارٹی، لیبرڈپیارٹمنٹ وغیرہ کی رشوتیں بھی قیمت میں جمع کرے گا اور اس کے ساتھ اپنے بیوی بچوں کے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لئے منافع بھی نکالے گا تو وہ سرکاری ریٹ پر کیسے سودا بیچے گا جب وہ پہلے ہی سرکاری ریٹ سے زیادہ پر خرید کر لایا ہو گا۔ میں نے پھڑئیوں سے پوچھا کہ تم زیادہ نرخوں پر کیوں بیچتے ہو تو جواب ملا کہ بولی میں کھڑے ہو کر دیکھ لیں کہ ہمیں کس بھاو¿ ملتا ہے اور سیمپل کا ڈبہ دکھانے کے بعد کس طرح گندا اور خراب مال ہمیں دیا جاتا ہے، ہم سرکاری ریٹ پر کیسے بیچیں؟

آڑھتی کا لفظ بہت برا لگتا ہے مگر ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ اگر آڑھتی نہ ہوتو کسان کاکھیت ہی آباد نہ ہو۔ یہ آڑھتی ہی ہوتا ہے جب کوئی حکومت اور کوئی رشتہ دار قرض تک نہیں دیتاتو وہ کسان کی مدد کرتا ہے۔آڑھتیوں اور کسانوں سے پوچھاکہ تم مہنگائی کیوں کرتے ہو تو جواب ملا کہ جس ٹیوب ویل سے پانی لگاتے ہیں اس کے بجلی کے بل دیکھے ہیں کہاں پہنچ گئے ہیں، تم نے ڈیزل کا ریٹ دیکھا ہے کہ گذشتہ دور کی نسبت دوگنا ہو گیا ہے، ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی بوری کی قیمت میںہوش ربا اضافے کا علم ہے تو کسان کہاں سے سستا اناج اگائے۔یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ان کی قیمتیں کم رکھے اور طلب و رسد پر بھی نظر رکھے ورنہ جہاں جس شے کی کمی ہوگی وہاں اس شے کی قیمت بڑھ جائے گی۔ ویسے بھی یہ موجودہ دور کی نعمت ہے کہ وہ جو شخص اپنے بچوں کو آج سے چار، پانچ سال پہلے ایک ہزار مہینہ فیس والے سکول میں پڑھا رہا تھا وہ اب ا س کے لئے مہنگا ہو گیا ہے۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کی فیس ہزار روپے سے بارہ سو روپے ہو گئی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی کمائی میں اضافے کے بجائے کمی ہو گئی ہے۔ نہ صرف پہلے والے کارخانے چل رہے ہوں ، نئے لگ رہے ہوں، مزدور اور ہنرمندنوکریوں سے فارغ ہونے کے بجائے اچھی نوکریوں اور بہتر تنخواہوں کی طرف جا رہے ہوں تو کچھ مہنگا نہ لگے۔

مہنگائی بڑھنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ روپے کی گردش رک گئی ہے۔ سرمایہ دار اور سرمایہ کار خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ دہشت گردی کے الزامات کی وجہ سے ہماری حکومتوں کو روپے کی نقل و حمل پرنظر رکھنے کی ضرورت ہے مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ روپے کا کوئی دین،کوئی دھرم نہیں ہوتا۔ وہ نہ کافر ہوتا ہے اورنہ ہی مسلمان۔ وہ جہاں جاتا ہے وہاں آسانی سے عیاشی تک کا باعث بنتاہے۔ روپیہ جب ایک جیب سے نکلتا ہے اور دوسری میںجاتا ہے تو اس سے عوام اور حکومتیں دونوں کماتے ہیں،یقین نہ آئے تو لاہور کی رنگ روڈ کے ساتھ چاروں اطراف پھیلی ہاو¿سنگ سوسائیٹیوں کے ٹھپ ہوتے ہوئے کاروبار کو دیکھئے۔ ایک کروڑ پتی جب دو،چار کروڑ روپے کا گھر نہیں خریدتا تو جہاں حکومت کو رجسٹری اور انتقال کے لاکھوں کروڑوں کے ٹیکسوں کا نقصان ہوتا ہے وہاں اس کامطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ٹھیکیدار کا کام بھی ٹھپ ہو گیا، وہاں راج مستری مزدور اور رنگ ساز بھی ویہلے ہو گئے،حکومتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی یہی بے روزگاری درحقیقت غربت اورمہنگائی لاتی ہے ۔ میرا آپ سے سوال ہے کہ جب آپ کا کاروبار چل رہا ہو، آپ کی جیب میں نوٹ آ رہے ہوں تو کیسی مہنگائی،کہاں کی مہنگائی۔ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی مینجمنٹ میں ناکامی کی وجہ سے ٹماٹروں کی مہنگے ہونے سمیت یہ وہ بدانتظامی اور نااہلی ہے جو مہنگائی کی صورت لاد دی گئی ہے۔


ای پیپر