Mushtaq Sohail, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
17 May 2021 (11:47) 2021-05-17

کچھ بھی نہیں بدلا، صرف لہجے بدلے ہیں، گفتگو کے انداز اور قرینے بدل گئے ہیں۔ تحمل مزاجی اور اخلاق و مروت کی جگہ گالم گلوچ اور اوٹ پٹانگ الزامات نے لے لی ہے۔ وہی روز و شب وہی دبائو وہی تنائو، ملک بھر میں سیاسی کشیدگی ہر آنے والے دن میں کشیدگی میں اضافہ، عوام نان شبینہ کو محتاج، زندگی جہنم بنا دی گئی۔ سب کچھ اپنا کیا دھرا، قرآنی حکم ’’خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہوجس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا‘‘ روز اول سے حکومت کے قلب و ذہن پر اپوزیشن سوار، عوام کی حالت زار اللہ جانے یا عوام ،جس تن لاگے وہ تن جانے، بیٹھے بیٹھے خیال آیا تین سال بیت گئے، دو سال بعد کس منہ سے عوام کا سامنا کریں گے۔ بڑے طمطراق سے کہا ’’اپوزیشن کو چھوڑو عوام کا خیال کرو، اپنے کارناموں کو اجاگر کرو۔‘‘ وزراء، وزرائے مملکت، مشیر، معاونین خصوصی اور ڈیڑھ درجن ترجمان کارنامے ڈھونڈنے لگے، جس جانب نظریں دوڑائیں الزامات کے ڈھیر نظر آئے جھولی میں سوائے تقریروں اور کج بحثوں کے کچھ نہ پایا۔ دو تین دن اپوزیشن کا ذکر خیر نہ ہوا تو زندگی پھیکی لگنے لگی۔ ایسی زندگی کا کیا فائدہ، کرپشن کا ذکر نہ نواز شریف اور ان کی منی لانڈرنگ کے قصے کہانیاں، زندگی کے سارے رنگ اپوزیشن کو برا بھلا کہنے ہی سے نکھرے نکھرے اجلے اجلے دکھائی دیتے ہیں، دو تین دن سارے ترجمان اور معاونین خصوصی اداس پھرتے رہے جس نے پوچھا جواب ملا ’’ہمیں تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا، ماضی قریب و بعید میں جو پیپلز پارٹی و ن لیگ سے وابستہ رہے اس وقت بھی یہی کچھ کرتے تھے حکومت بدلی ہے ما شاء اللہ وہ نہیں بدلے جو نئے کردار شامل ہوئے ان کا کردار پرانوں سے زیادہ جارحانہ، اپوزیشن کو صلواتیں سنانا ان پر طعن و تشنیع کے کوڑے برسانا ہی بہتر بلکہ بہترین کارکردگی کی علامت اور معیار ٹھہرا ،آپا نے تو مریم نواز کو اپنے تصور میں لا کر ایک پرانا گیت الاپنا شروع کردیا۔ ’’تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے‘‘ دو تین دن بعد پھر وہی روز و شب، وہی رونا دھونا، وہی کرپشن کا سیاپا، زندگی کرپشن اور اپوزیشن کے ذکر کے بغیر ادھوری، سارے ٹی وی چینل رمضان المبارک کی برکات اور مغفرت کی بشارتیں سمیٹنیکے بجائے سب کچھ بھلا کر اسی پسندیدہ موضوع پر لوٹ آئے کسی نے الا ما شاء اللہ نہ سوچا کہ غریب عوام برکتوں اور رحمتوں والے اس ماہ مقدس میں بھی راشن بیگز کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ تیس چالیس ہزار ماہانہ تنخواہ پانے والے بھی راشن کے تھیلے لے جاتے نظر آئے۔ سیلانی ٹرسٹ، عالمگیر ٹرسٹ اور  دیگر بے شمار فلاحی اور رفاہی اداروں نے غریبوں میں راشن تقسیم کیا۔ حکومتی ادارے کہیں نظر نہ آئے۔ عرض کر رہے تھے کہ دو تین پھیکے پھیکے دنوں کے وقفے کے بعد پھر الزامات کے دفتر کھل گئے۔ کارکردگی کہاں گئی، کہنے لگے روزانہ ایک تختی لگ تو رہی ہے۔ ان تختیوں کے مطابق نئے شہر بس رہے ہیں۔ عوام کو اربوں روپے کے قرضے دیے جا رہے ہیں وزیر اعظم نے 

جب سے نوٹس لیا ہے چینی پانچ روپے سستی ہوگئی ہے۔ مخالفین چوکس، جواب ان کا آیا کہ تختیاں لگنا کہاں کی کارکردگی کون سا منصوبہ شروع ہوا کون سا مکمل کیا گیا۔ کس منصوبہ سے ملک و قوم اور غریب عوام کو فائدہ پہنچا۔ ایک کلو چینی کے لیے لمبی قطاریں دن بھر انتظار کے بعد ایک کلو کا پیکٹ ہاتھ لگا۔ کرسی پر بیٹھے اہلکار نے آواز دی انگوٹھے پر انمٹ سیاہی کا نشان تو لگواتے جائو، سیاہی کے نشانات انگوٹھوں پر نہیں ماتھوں اور پیشانیوں پر لگ رہے ہیں۔ لکھی جانے والی تاریخ ان ہی دھبوں اور انمٹ سیاہی سے بھری رہے گی۔ ہڑپہ اور موینجوداڑو کی کھدائی کے دوران بھی اسی قسم کی تختیاں برآمد ہوئی ہوں گی۔ دو الو (مغربی دنیا میں اسے فلسفی اور دانشور جانور) سمجھا جاتا ہے) درخت پر بیٹھے جھگڑ رہے تھے بیٹے بیٹی کی شادی کے موقع پر جہیز کا مسئلہ درپیش تھا۔ بیٹی کے باپ کا لہجہ  دھیما اور بیٹے کے باپ کا جارحانہ تھا اس کا کہنا تھا کہ اپنے داماد کو چار ویران شہر جہیز میں دو تو تمہاری بیٹی سے اس کی شادی کروں گا بیٹی کا باپ بولا فی الحال دو ویران شہر لے لو بزر جمہر دو سال اور وزیر اعظم رہا تو پورا ویران ملک جہیز میں دے دوں گا۔ ’’دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویران ہوگئیں۔‘‘ بستی بسنا کھیل نہیں ہے بستے بستے بستی ہے۔ دو سال میں کتنے گھر لاکھ دو لاکھ بن جائیں گے۔ باقی کہاں گئے۔ ’’ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘۔ کچھ خیال روز و شب، ہم کہاں کھڑے ہیں؟ 22 بار آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹا چکے جولائی سے مارچ تک 9 ماہ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی 21 کھرب تک پہنچ گئی جو حکومتی آمدنی کے 82 فیصد کے برابر ہے۔ پرفارمنس صفر، ڈیلیوری صفر، میرٹ صفر، جھوٹ بولنے میں گولڈ میڈلسٹ، حماقتوں میں سپر اسٹار، اپنے محترم تجزیہ کار کے مطابق جب قدم قدم پر ڈیلیں ڈھلیں بے ایمانی، دو نمبری، قدم قدم پر کرپشن لوٹ مار جب پوری سیاست 10 شخصیات کے گرد گھوم رہی ہو 10 آقا باقی غلام، جو آقا کہہ دیں غلاموں کے لیے حرف آخر ان حالات میں کیچڑ میں پھنسی گاڑی کیسے نکلے گی۔ گاڑی کے سوار کسی اور گاڑی میں بیٹھ کر نکل گئے۔ دھکا لگانے والے غریب ہانپ کانپ رہے ہیں۔ حکومت کا ماسٹر پلان لنگر خانوں کا قیام، کوئی بھوکا نہ سوئے سعودی عرب سے بھی زکوٰۃ کے فنڈ میں سے چاول ہی ملے زکوٰۃ اکٹھی کرو ملک چلائو، چلتے چلتے یاد آیا عید الفطر کے موقع پر حکومت نے ایک اور وعدہ پورا کردیا کہ پوری قوم کو جگائیں گے۔ رویت ہلال کے انتظار میں پوری قوم نصف شب تک جاگتی رہی، باقی آدھی رات خریداری میں گزر گئی، عید کے تینوں دن ٹی وی پروگراموں میں شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں داخل کرنے اور خوشی کے شادیانے بجاتے گزر گئے شیخ صاحب کو عید کے دن بھی چین نہیں آیا کسی نے لکھ بھیجا کہ ’’کبھی مچان سے نیچے اتر کے بات کرو، بہت پرانے ہیں قصے شکاریوں والے‘‘ 92 فیصد عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں ان کی فکر کریں اللہ کے علاوہ دو سال بعد عوام کو بھی چہرہ انور دکھانا ہوگا۔ اپوزیشن کی بات چھوڑیں وہ اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھود چکی پی ڈی ایم اتحاد کے قیام کے بعد فلک شگاف نعرے بلند بانگ دعوے لیکن ڈیرے پر بم دھماکے سے خوفزدہ پارٹی سب سے پہلے فرار، دوسری پارٹی مخالف غیر متحرک، غیر فعال، ن لیگ خاموش، مولانا فضل الرحمان عید کے بعد فیصلہ کن تحریک چلانے پر مصر، پتا نہیں کیسے تحریک چلائیں گے اور کیسے موجودہ حکومت کو گھر بھیجیں گے۔ اپوزیشن تتر بتر جھاڑو کے تنکوں کی طرح منتشر حکومت کو کم از کم اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں، مستقبل کے فیصلے بھی ایوانوں میں نہیں دیوان خانوں میں ہو رہے ہیں نواز شریف نے ’’اقبال کا کہا مانا اور خودی کو بلند کرتے رہے بلند کرتے کرتے آئوٹ ہوگئے پیپلز پارٹی والوں نے ’’بڑوں‘‘ کا کہا مانا اور وقتی طور پر سرنگوں ہو کر حفظ و امان میںآ گئے کسی نے طنزاً ن لیگ والوں کو چرکہ لگایا کہ ’’جھکنے والوں نے رفعتیں چھولیں تم خودی کو بلند کرتے رہے‘‘ اب تک کی صورتحال میں اپوزیشن سے کچھ نہ ہوگا حکومت کے بقول’’ لوٹی دولت ‘‘آئندہ دوسال میں بھی واپس نہ آسکے گی۔ کیا معیشت کی گاڑی اسی طرح دلدل میں پھنسی رہے گی؟ وفاقی بجٹ کے بعد حالات کے مزید خراب ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک سال میں 1273 ارب کے قرضے، ہر پاکستانی پونے دو لاکھ کا مقروض، نان جویں کو محتاج، غریب پونے دو لاکھ کیسے اور کہاں سے ادا کرے گا۔ کوئی تو بتائے 18 کروڑ فاقہ کش عوام کا کیا بنے گا؟


ای پیپر