Khalid Minhas, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
17 May 2021 (11:45) 2021-05-17

جنگ کی اپنی اخلاقیات ہے اور جب ایک فریق اسرائیل ہو تو اخلاقیات کو وہ ملبے تلے دفن کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ ا ب وہ جوان ہو گیا ہے پہلے اس کا درجہ حرامی بچے کا تھا آج وہ عالمی غنڈہ ہے۔ اسے علم ہے کہ کوئی نہیں جو اسے روکے۔ جن سے امید تھی کہ وہ اس پرچیں بہ چیں ہوں گے انہیں پہلے ہی اپاہج کر کے اپنا ہم نوا بنا لیا ہے۔ یورپ اس کے ساتھ کھڑا ہے اور یہ وہی یورپ ہے جس نے یہودیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور یورپ سے انہیں نکال کر فلسطین بھیج دیا۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر ہٹلر کو سلیوٹ کرنے کو دل کرتا ہے۔ جو دس فیصد بچائے تھے انہوں نے دنیا کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے۔

غزہ کی تازہ ترین جنگ فلسطینیوں نے شروع نہیں کی بلکہ اس کاآغاز تو خود اسرائیل نے کیا ہے۔ اسرائیل کو اس وقت دو محاذوں کا سامنا ہے ۔ ایک طرف حماس ہے جو غزہ میں موجود ہے اور وہاں سے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش کر رہی ہے اور دوسری طرف اسرائیل کے اندر رہنے والے عرب ہیں جن کا جینا وہاں آ کر آباد ہونے والے یہودیوں حرام کر دیا ہے۔ زبردستی ان کی زمینوں پر قبضے کیے جارہے ہیں اور گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان سیٹلرز کی پشت پر کھڑے تھے۔ شیخ جراح کا واقعہ سب کے سامنے ہے۔ شیخ جراح کی وجہ سے مسئلہ خراب ہوا ہے اور اسرائیل نے اپنے اندر موجود انتشار اور تقسیم کو ختم کرنے کے لیے اس جنگ کا آغاز کر دیا ہے ۔ مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا ہے اور نہتے نمازیوں پر تشددکیا۔ اس کے نتیجہ میں حماس نے اسرائیل پر راکٹ برسانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اسرائیل کے وزیراعظم کے مطابق حماس نے ریڈلائن کو عبور کیا ہے۔حماس کا یہ حملہ اسرائیل کی توقع سے بڑھ کر تھا اور اسی کی شدت کو سامنے رکھتے ہوئے اسرائیل نے غزہ کو تہہ و بالا کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا۔

غزہ ایک چھوٹی سی پٹی ہے جہاں پر بڑی تعداد میں فلسطینی رہتے ہیں۔اسرائیل حماس کا نیٹ ورک توڑنے کے لیے کارپٹ بم باری کر رہا ہے۔یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ حماس نے زیر زمین راستے اور سرنگیں بنائی ہوئی ہیں اور ان کو ختم کرنے کے لیے سارا کام ہو رہا ہے۔ جن گھروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ان کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہاں حماس کا فلاں کمانڈ ر رہتا تھا۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو ختم کرنے کی بات کی جارہی ہے اور اس کی آڑ میں اس بارہ منزلہ بلڈنگ کو بھی زمین بوس کر دیا گیا جس میں الجزیرہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے دفاتر تھے۔ اس اونچی بلڈنگ سے الجزیرہ دنیا کو اسرائیل کے کرتوت دکھا رہا تھا اور یہ اسرائیل کو کسی طور گوارہ نہیں تھا۔ ا سی فوٹیج کا نتیجہ ہے کہ آج لندن ، امریکہ ، کینیڈا ، آسٹریلیا سمیت 

دنیا کے مختلف ممالک میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ فلسطین کے حق میں بات میں کی جارہی ہے اور اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کی مذمت کی جا رہی ہے۔حکومتیں اپنی مصلحت کا شکار ہیں مگر عوام انسانی حقوق کی خلا ف ورزیوں پر سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ اردن میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں اور لوگ اسرائیل کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے سرحد پر پہنچ گئے۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بڑا مظاہرہ ہوا ہے ۔ بنگلہ دیش اور ترکی میں بھی لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے عوام کی خاموشی کھلتی ہے۔ یا تو ہم بہت سمجھدار ہوگئے ہیں یا بہت بے حس۔عمران خان اور حکومتی عملداروں نے ٹویٹر پر فلسطین کے حق میں مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردوان نے فلسطین کے حق خود ارادیت کیلئے ہر ممکن قدم اٹھانے کا اعلان بھی کیا ہے حالانکہ اسرائیل اور  ترکی ایک دوسرے سے تجارت کر رہے ہیں اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو تسلیم کر رکھا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ  اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلاتے اور ترکی میں اسرائیل کے سفارت خانے کو بند کرتے۔ عرب ممالک کے پھیکے بیانات سامنے آئے ہیں اور انہو ں نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔

ایک طرف کیل کانٹے سے لیس اسرائیل ہے اور دوسری طرف فلسطین کے نہتے بچے۔ہمارے مذمتی بیانات سے فلسطین نے یہ جنگ نہیں جیت سکتا ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ عالم عرب اور عالم اسلام میں عوام کے غیض و غضب سے سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے۔ عوام اگر سڑکوں پر نکل آئیں اور سرحد کا رخ کر لیں تو اسرائیل اس دبائو کو برداشت نہیں کر سکے گا۔ کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟ اقبال نے کہا تھا

مگر یہ راز آخر کھل گیاسارے زمانے پر

حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے

اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد 193 ہے اور اس میں سے 138ممالک فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرتے ہیں۔ دوسرے ممالک جو فلسطین کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے  ان کی اکثریت بھی  پی ایل او(پیپلز لبریشن آرمی) کو فلسطین کی نمائندہ جماعت کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔  ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اسرائیل کا یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے او رکیا دوسری ریاستوں کا فرض نہیں ہے کہ وہ اس کی مدد کے لیے آگے آئیں۔جنرل راحیل شریف اسلامی ممالک کی ایک فوج کے سربراہ بنائے گئے ہیں مگر یہ فوج صرف دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے ۔ کیا اسرائیل نہتے شہریوں کے خلاف دہشت گردی کا ارتکاب نہیں کر رہا۔ اگراسرائیل کی ا س حالیہ کارروائی جنگ تسلیم کر لیا جائے تب بھی فلسطینیوں کی مدد کرنا مسلم امہ پر فرض ہے اور اگر یہ دہشت گردی ہے تو اسلامی فوج کے کمان دار جنرل راحیل شریف کو تلواریں پکڑ کر ڈانس نہیں کرنا چاہئے۔ 

اسرائیل اور اس کے اتحادیوںکی یہ کوشش ہے کہ فلسطینیوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ رہے اور نہ ہی ان میں یہ سکت ہو کہ وہ اسرائیلی فوج کے سامنے کھڑے ہو سکیں تاہم اس جنگ میں وہ شہادتوں کی ایک داستان رقم کر رہے ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ حماس کہیں کسی اور ایجنڈے کی تکمیل کے لیے فلسطین کے لوگوں کو قربانی کی بھینٹ تو نہیں چڑھا رہی۔فلسطینی ریاست کے فیصلے کرنے کے اختیار کو بھی دیکھنا ہو گا ۔ کیا حماس جو کارروائیاں کر رہی ہے محمود عباس اور فلسطینی حکومت کی مرضی اور منشا کے مطابق کر رہی ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ حماس نے اسرائیل پر راکٹوں کی جو بار ش کی ہے کیا اس کا مقصد اسرائیل کے حفاظتی نظام کے نقائص کا پتہ لگانا تھا اگر ایسا ہے تو اس کی قیمت فلسطین کے معصوم بچوں نے ادا کی ہے۔ اپنی بات بال جبریل کے ان اشعار پرختم کرتا ہوں

مجھے آہ و فغاں نیم شب کا پھر پیام آیا

تھم اے رہ روکہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا

یہ مصرع لکھ دیا کسی شوخ نے محراب مسجد پر

یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا


ای پیپر