Dr Ibrahim Mughal, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
17 May 2021 (11:42) 2021-05-17

صاحبو پچھلے دنوں ’’مدرز ڈے‘‘ منایا گیا۔ اس رواج کی داغ بیل اہل مغرب نے ڈالی۔ ہمارے ہاں اس پر دل کھول کر تنقید ہوئی۔ کہنے لگے کہ سال کے 365 کے 365 دن ماں کے ہونے چاہئیں۔ صرف مدر ڈے والا ایک ہی دن کیوں؟ بات کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ہم اہل مغرب کے ہر فعل کو تنگ نظری سے دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ بات تو یہ ہے کہ اس سے کوئی بھی انکاری نہیں کہ ہمیں ہر روز ماں کو یاد رکھنا چاہیے۔ مگر دنیا کے ظالم بکھیڑے، غم روزگار، پھر اپنے بیوی بچوں کی ذمہ داریاں شعوری طور پر ہمیں الجھا لیتی ہیں۔ اور پھر دیکھئے ماں کی فراخ دلی کہ وہ ہمیں یاد دنہیں دلاتی کہ ہم اس کی طرف بھی توجہ کریں۔ یوں ایک دن اس کے لیے مخصوص کرنے کا مطلب ہے کہ ہمیں سال بھر کی کوتاہیوں کا احساس ہوجائے۔ اور پھر ایک دن کو مدر ڈے کے طور پر منانے کا مطلب یہ کہاں سے نکل آیا کہ چونکہ ہم  نے ایک دن مدر ڈے کے طور پر منالیا ہے، لہٰذا باقی 364 دن ہم ماں سے فارغ ہیں؟ ارے مدر ڈے تو وہ ایک دن ہے، جس دن ہمیں ماں سے سال بھر برتی ہوئی بے توجہگی پہ نظر ڈالنی چاہیے۔ ٹھیک ہے اہل نظر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ثابت کرنے کے لیے بہت سے دلائل لاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی خوش نظری وقت صبح کے وجود کو ثبوت حق کے لیے کافی قرار دیتی ہے۔ وہ ٹھیک کہتے ہیں۔ لیکن ماں کی ممتا کا وجود؟ کیا کوئی اور بڑی دلیل ہے اللہ پاک کی وحدانیت کو ثابت کرنے کی؟ ابراہم لنکن جو امریکہ کی تاریخ کا عظیم ترین صدر ہے، نے کہا تھا کہ میری کامیابیوں کی وجہ میری ماں کی دعائیں ہیں جو ہر وقت میری ساتھ چمٹی رہتی ہیں۔ یہ روبرٹ برالٹ نے کہا تھا کہ اگر تمہاری ماں ہے تو تم کسی ایسی جگہ نہیں پہنچ سکتے جہاں اس کی دعائیں تمہارے لیے پہلے سے موجود نہ ہوں۔ بو علی سینا نے کہا:  اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلیٰ مثال تب دیکھی … جب سیب چار تھے اور ہم پانچ … تب ماں نے کہا مجھے سیب پسند ہی نہیں۔ 

قادر مطلق کے نزدیک ماں کی محبت کیا ہے؟ بس یوں سمجھ لیں کہ ’’صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کو حج کا رکن بنادیا۔ حضرت ہاجرہؑ جو ایک ماں تھیں، کی سنت کے طور پر۔‘‘ مختصراً یہ کہ حضرت ہاجرہؑ کو پانی کے حصول کے لیے جو انہوں نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑکو پلانا تھا، صفا اور مروہ نامی دو پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا پڑا تھا۔ پھر اللہ پاک نے حضرت موسیٰؑ سے ان کی والدہ ماجدہ کے انتقال کے بعد کہا تھا ’’اے موسیٰ! اب سوچ سمجھ کر چلنا کہ اب تیری ماں کی دعائیں تیرے ساتھ نہیں ۔‘‘ علامہ اقبال نے شکوہ لکھا اور خوب لکھا۔ البتہ بعد ازاں انہیں جواب شکوہ بھی لکھنا پڑا۔ مگر علامہ نے ایک شکوہ اور لکھا۔ انہوں نے اپنی والدہ ماجدہ کی رحلت کے بعد مشیت ایزدی سے شکوہ کیا     ؎

عمر بھر تیری ریاضت میری خدمت گر رہی

میں تیری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی

یاد رہے کہ علامہ اس شکوہ کا جواب نہ لکھ پائے۔ ماں کی محبت کی بات ہورہی ہے تو رکشائوں، بسوں اور ویگنوں کے پیچھے لکھی یہ عبارت یاد آتی ہے ’’ماواں ٹھنڈیاں چھاواں‘‘۔ یہ عبارت حصہ ہے صوفی شاعر محمد بخش کے اس شعر کی جس میں وہ خاندان کے مختلف کرداروں کی محبت کا احاطہ کرتے ہیں۔ پورا شعر کچھ یوں ہے   ؎

بھائی بھائیا دے درد ونڈاندے، بھائی بھائیاں دیاں باواں

باپ سراں دے تاج محمد، ماں ٹھنڈیاں چھاواں

ان مائوں کی محبت کچھ اتنی سیدھی بھی نہیں ہوتی۔ بسا اوقات تو یہ بہت عجیب ہوتی ہے۔ ہوا یوں کہ ایک مرتبہ مجھے لاہور سے راولپنڈی جانے کے لیے ریل گاڑی میں سفر کرنا پڑا۔ پوری گاڑی میں مسافروں کا بہت رش تھا۔ گوجرانوالہ کے اسٹیشن پر ایک ادھیڑ عمر عورت جس کے ہمراہ کوئی سات آٹھ سالہ لڑکا تھا، اس ڈبے میں داخل ہوئی جس میں مَیں سوار تھا۔ میرے سامنے کی سیٹ پر ایک نو عمر خاتون اپنے تین چار ماہ کے بچے کے ساتھ پہلے سے بیٹھی ہوئی تھی۔ ادھیڑ عمر خاتون نے اپنے بیٹے کو نو عمر خاتون کے ساتھ بٹھانے کے بعد خود بھی وہاں بیٹھنے کی کوشش کی ۔ جگہ تنگ تھی۔ نو عمر خاتون نے اسے بٹھانے سے انکار کردیا۔ ادھیڑ عمر خاتون بھی شاید کسی چھوٹے باپ کی نہ تھی۔ نو عمر خاتون سے لڑ پڑی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو جی کھول کر بے نقط سنائیں۔ قریباً قریباً ہاتھا پائی تک نوبت آپہنچی تھی۔ تاہم نو عمر خاتون کو ادھیڑ عمر خاتون کے لیے کچھ جگہ چھوڑنا پڑی۔ کچھ دیر ڈبے میں خاموشی رہی۔ تھوڑی دیر میں نو عمر خاتون کی گود کے بچے نے بے طرح رونا اور کھانسنا شروع کردیا۔ اسے شاید اوچھو لگ گیا تھا۔ نوعمر خاتون نے بچے کو چپ کرانے کی ناتجربہ کاری سے بھرپور کچھ ترکیبیں آزمائیں۔ لیکن بے سود۔ ادھیڑ عمر خاتون جو پہلے خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی اچانک جھلا کر بولی ’’کیا کرتی ہو۔ ہائے بچے کو مار ڈالو گی کیا۔ تمہیں کیا اچھو بھی ٹھیک کرنا نہیں آتا؟ کیوں نہیں سیکھا؟ ادھر لائو منے کو میں دیکھتی ہوں۔‘‘ نو عمر خاتون نے ہوں ہاں کیے بغیر بچے کو ادھیڑ عمر خاتون کے حوالے کردیا۔ کیا محبت بھری نظر تھی جو ادھیڑ عمر نے بچے پہ ڈالی۔ پھر کچھ دیر مختلف طریقوں سے اس کی پیٹھ سہلائی۔ بچہ نا صرف خاموش ہوگیا بلکہ کلکاریاں بھرنے لگا۔ اس کی ماں نے بچے کو واپس لینا چاہا۔ ادھیڑ عمر نے نرمی سے سمجھایا ’’گود میں رہے گا تو پھر اچھو لگ جائے گا۔ اسے لٹانا پڑے گا۔‘‘ تب وہ اپنے لڑکے سمیت سیٹ چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ کہا کہ یہاں لٹائو۔ میرا اسٹیشن آنے کو ہے میں اتر جائوں گی۔ یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلی گئی۔ میں نے سوچا شاید دروازے کی طرف گئی ہوگی۔ لیکن تین چار اسٹیشن گزرنے کے بعد جب میں باتھ روم کی جانب گیا میں نے دیکھا وہ ملحقہ کمپارٹمنٹ میں اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑی ہوکر سفر کررہی ہے۔ یہ کیسی ماں تھی کہ سر بھی نہیں جھکایا اور ممتا کی محبت بھی نچھاور کر گئی۔

کیا انسانی عقل، ممتا کی بلندی تک کبھی پہنچ پائے گی؟ کیا سائنسی ترقی کبھی اس کا تجزیہ کرسکے گی۔ ایک واقعہ سنا کر میں اپنے بیان کو ختم کرتا ہوں۔ میں اپنے ایک دوست جسے ہم سب اس بنا پر کہ وہ مرچنٹ نیوی میں ملازم ہے جہازی کہا کرتے تھے، پوچھا کہ تم اتنے بحری سفر کرچکے ہو، نت نئی دنیا دیکھ چکے ہو، کوئی ایسا واقعہ سنائو جو تمہارے اور ہمارے لیے انتہائی محیر العقول ہو۔ تب جہازی نے سنایا ‘‘ایک مرتبہ ہم ایک ایسے جزیرے پہ پہنچے جہاں غربت کے سوائے کچھ دیکھنے کو نہ ملا۔ وہاں میں ایک چھوٹے سے ڈھابے میں بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ ایک عورت جس نے ایک تین چار ماہ کا بچہ اپنی چھاتی سے لگایا ہوا تھا، میرے پاس آئی اور کہا کہ نصف ڈالر دے دو تاکہ میں اس بچے کو دودھ پلاسکوں، پھر چاہے  جو مرضی مجھ سے سلوک کرلینا۔ یہ بتا کر جہازی خاموش ہوگیا اور فضا میں تکنے لگا۔ میں نے جہازی سے نہیں پوچھا کہ پھر کیا ہوا۔ لیکن صاحبو اس روز نہیں تو اگلے روز کسی جہازی نے نصف ڈالر کے عوض وہ سلوک اس کے ساتھ کر لیا ہوگا۔ میں اس سلوک کرنے والے کی بات یہاں نہیں کرتا۔ میں تو اس ماں کی بات کرتا ہوں جس نے اپنی ممتا کے جذبے کے سامنے اپنے نسوانی جذبے کی قربانی دے دی۔ جان لیں کہ اگر عورت اس حرام کام سے دور رہتی تو اس کے پیچھے اس کا مذہبی جذبہ بھی ہوتا ہے، لیکن اصل وجہ اس کا وہ نسوانی جذبہ ہوتا ہے جس کی اس نے ہزاروں سال لگا کر خاندان کو قائم رکھنے کے لیے پرورش کی ہے۔ کیا آپ اس عورت کو سلام نہیں کریں گے جس نے ہمیں، انسانی نسل کو دودھ پلا نے کے لیے اپنے جذبہ نسوانی کی قربانی دے دی؟ باقی رہی بات اس عورت کے گناہ کے مرتکب ہونے کی تو یہ فیصلہ میں علماء پہ چھوڑتا ہوں کہ وہ اس پہ کیا حد لگاتے ہیں۔ 


ای پیپر