Khalid Mahmood Faisal, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
17 May 2021 (11:37) 2021-05-17

گذشتہ دنوں جب کپتان نے روایت سے ہٹ کر سفراء کرام کو آن بورڈ لیا،انکی ’’حسن کارکردگی‘‘ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی تو انہیں بہت ہی ناگوار لگا،انکی حمایت میں انکے سابق پیٹی بھائی بھی متحرک ہو گئے،اور وسائل کی کمی کا رونا ہونے کے ساتھ اس انداز میں کارروائی کو انہوں نے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا انہیں زیادہ قلق یہ بھی تھا کہ دشمن ملک کی سفارت کاری کی تعریف کر کے ان زخموں پر نمک چھڑکا گیا ہے، شنید ہے کہ کپتان نے اس انداز میں باز پرس کرنے کا فیصلہ ان سنگین شکایات کے تناظر میں کیا جو اوورسیز پاکستانیوں نے کی تھیں، جن کی تلافی سفارتخانوں میں بیٹھے ’’بابو‘‘ نہ کر سکے،حسب سابق روایتی طریقہ اپنانے کے بجائے کپتان نے پورے عالم کے سامنے اِنکی کلاس لے کر نئی طرح ڈالی جو اِنہیں ناگوار گزری ہے۔

انسانی تمدن کے ساتھ ہی سفارت کاری کا آغاز ہو گیا تھا اسکی شکلیں مختلف تھیں،سفارت عربی کا لفظ ہے یہ سفر سے مشتق ہے،اس کے کئی معنی ہیں، جن میں ایک دو ممالک کے مابین صلح کرانا بھی ہے، ترکی زبان میں ایلچی۔انگریزی میں ایمبیسڈر ،اردو میں سفارت کار کی اصطلاح مستعمل ہے، اس عمل کو ڈپلو میسی کہا جاتا ہے،روایت یہ بھی ہے کہ اسلام سے قبل خلیفہ دوئم اہل عرب کے سفیر سمجھے جاتے تھے،انکی کاوش کی بدولت عربوں کی تجارت کو فروغ ملا جسکا تذکرہ قرآن حکیم میں بھی ہے،جب نبی آخرزمان ؐ نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی تو اپنے بھی ہم عصر ریاستوں کے بادشاہوں کو خطوط لکھے، مدینہ سے باہر قبائل سے معاملات طے اور معاہدات کئے۔

کہا جاتا ہے اسلامی تاریخ کی کامیاب سفارت کاری میں ’’صلح حدیبیہ‘‘ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے،آپ ؐ نے اس معاہدہ کی وساطت سے دنیا کو یہ سبق سکھایا ہے کہ طاقت رکھنے کے باوجود امن کی خاطر کچھ قربانی دینا بھی پڑے تو اس میں چنداں مضائقہ نہیں،امن کے لئے جہاں تک جانا پڑے جایا جائے،کیونکہ انسانیت کی حرمت سب سے مقدم ہے۔

اسلام نے سفراء کی کچھ خصوصیات بھی بیان کی ہیں، ان میں قابل ذکر یہ ہیں، انکا نیکو کار، ذہین، فطین، پروفیشنل، معاملہ فہم ہونا لازم ہے، نیز جغرافیائی حالات پر گہری نظر رکھتا ہو،مزاج شناس ،حاضر جواب،خوش لباس،ہمدرد، نرم خو ہو ،فوجی 

انتظام کا جائزہ لینے کی صلاحیت اس میں ہو،دوسرے ممالک کے سربراہان کی خوبیوں اور خامیوں سے آشنا بھی ہو،اسکی دُنیا کے معاشی ،تجارتی،معاشرتی حالات پر مکمل نظر ہو ،دنیا میں رائج معروف زبانوں سے یہ ضرور واقف ہو۔

ہماری اسلامی ریاست کے سفراء اگر ان صفات کے حامل ہیں اور وہ تارکین وطن کے لئے ہمدردی کا جذبہ رکھتے، انہیں شکایت کا موقع نہ دیتے تو کپتان کبھی بھی ان سے اس طرح پیش نہ آتے، عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے ہی سفارت خانے ہیں

جہاں سائلین کی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں،مسائل کے حل کے لئے وہی کلچر اپنایا جاتا ہے اسی طرح ہی سرخ فیتہ آڑے آرہا ہوتا ہے جس کا سابقہ انہیں یہاں پیش آتا ہے،زیادہ کرب ناک داستانیں تو ان بے بس بے چاروں کی ہیں جو کسی ناکردہ گناہ کے جرم میں پابند سلاسل ہو جاتے ہیں لیکن وہاں ان کا کوئی پر سان حال نہیں ہوتا،دیار غیر میں وہ کس اذیت سے گزرتے ہیں، انہیں کیا مشکلات ہوتی ہیں، انکے لواحقین یہاں کس قرب سے گزرتے ہیں، سفارت خانوں میں بیٹھی’’ خدائی مخلوق‘‘ ان کے درد سے ناآشنا ہوتی ہے، جن ممالک میں قانون کی حکمرانی نہیں، شاہی نظام ہے وہاں یہ بدقسمت افراد جیلرز کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں، کچھ غیر سرکاری تنظیمیں جب متحرک ہوتی ہیں،ان قیدیوں کے مسائل سے سفارت خانوں آگاہ کیا جاتا ہے تو اِنکی آنکھیں کھلتی ہیں،ذرائع بتاتے ہیں کہ سفارت خانوں میں تعینات عملہ کی اولین خواہش بیرون ملک مستقل بسنے اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی ہوتی ہے ،اپنی بھر پور صلاحیتیں وہ صرف اس مقصد کے لئے ہی صرف کرتے ہیں، انہیں ان تارکین وطن سے قطعی ہمدردی نہیں ہوتی جو ہماری آئی سی یو میں ہر لحظہ پڑی قومی معیشت کی سانس کی بحالی کے لئے بھاری بھر کم زر مبادلہ بھیج کر اس کو سہارا دیتے ہیں۔سفارتی عملہ کی عدم دلچسپی کی بدولت بیرون ممالک قوانین سے لاعلمی کی اس طبقہ کو سزا یوںملتی ہے کہ تارکین وطن کی آدھی حیاتی اپنی دستاویزات مکمل کرنے میں گزر جاتی ہے،زیادہ تکلیف دہ مرحلہ ان لواحقین کے لئے ہوتا ہے،کاغذات کی تکمیل یہاں جن کے ذمہ ہوتی ہے۔

ہمارا دیرینہ مسئلہ تو کشمیر ہی ہے، اس ضمن میں سب بخوبی جانتے ہیں کہ جو عزت، مرتبت ہمارے دشمن ملک کو عرب ممالک میں میسر ہے، جو امن ایوارڈ ان کا مقدر ہے وہ ہماری سیاسی قیادت کا نصیب کہاں؟کیا ہندوستانی نژاد اامریکی نائب صدر کی کامیابی بغیر لابنگ کے ممکن تھی، اقوام متحدہ میں بھارتی اور ہماری پذیرائی سفراء کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں، کشمیریوں کی آئینی حیثیت میں تبدیلی ممکن نہ تھی اگر عالمی رائے عامہ ہمارے حق میں ہوتی، اس کے باوجو د بھی کپتان کے نام سفراء کی سبکی کے لئے خط لکھنے کی ضرورت پیش آئی ہے تو انہیں اپنی ہی ادائوںپر غور کر نا چاہئے۔

سابق دور حکومت میں کمرشل اتاشی کی تعیناتی کو اس لئے لازم خیال کیا گیا تاکہ ٹرید کو فروغ ملے، لیکن زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ معیشت اور برآمدات کے فروغ میں روایتی انداز اپنایا جارہا ہے، اس وقت افریقی ممالک میں سرمایا کاری کرنے، روزگار کے مواقع تلاش کرنے کے روشن امکانات ہیں، اسی طرح سنٹرل ایشین ریاستوں میں معدنی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے،سی پیک کے لئے سرمایہ لانے اور اس منصوبہ کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس کا تعلق ہماری معاشی ترقی سے بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے، جدید ٹیکنالوجی کے حصول، سرمایہ کاری، مارکیٹنگ سے ہمارے معاشی وسائل میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے اگر سفارت خانوں میں موجود عملہ اپنی روش تبدیل کرے تو ہمارے ہاں بھی سرمایہ کار آسکتے ہیںجو بھارت کا رخ کرتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والا وقت ایشیا کا ہے، اس خطہ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، پھرون بیلٹ ون روڈ نے اس کے لئے ہل من مزید کی کیفیت پیدا کر دی ہے ،ان حالات میں ہمارے سفراء کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ گئی ہیں، تاہم بعض سیاسی حلقے شکوہ کناں ہیں کہ سفارت خانوں میںایسے افراد کو بھی لگایا جاتا ہے جو ریٹائرڈ ہوتے ہیں، کیونکہ انکی تعیناتی سرکار کی مجبوری بن جاتی ہے۔ 

اسلام کی آمد سے قبل اگر سفراء اہل عرب کے لئے تجارت کو مثالی ترقی دے سکتے ہیں جب اونٹ ہی ذرائع نقل وحمل کی بڑی سواری تھی ،توآج کی گلوبل دنیا میں تجارتی ،معاشی، سماجی، دفاعی ترقی میں سفراء کرام کا کردار کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے شائد اسی لئے کپتان کو میڈیا کی وساطت سے ان مخاطب ہونے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔


ای پیپر