Sumera Malik, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
17 May 2021 (11:30) 2021-05-17

جہاں بھی جائیں تو ایک ہی سوال ہوتا ہے مہنگائی بہت ہے۔ کیا کیا ہے معیشت کا وزیر اعظم عمران خان نے، ان کی حکومت کیوں نہیں کنٹرول کر سکی مہنگائی۔۔ لیکن اس سوال پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے آن لائن فون کال پر ایسا مدلل اور خوبصورت جواب دیا کہ لاجواب کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ٹیم کی میں ایک ادنیٰ سی کارکن ہوں۔ میں یہ کہنا چاہتی ہوں۔ مہنگائی کے تناظر میں سابقہ حکومتوں اور ان کے حکمرانوں کے اللے تللے اور کوتاہیاں آپ کے سامنے ہیں کہ کیسے ملک تباہ ہو گیا ہے۔ اللہ کے فضل وکرم سے تبدیلی کی لہر آئی جس کی بدولت اس حکومت نے برسر اقتدار آ کر ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا ہے۔ حکومت کی پالیسیاں مثبت رہیں اور کنسٹرکشن انڈسٹری کے چلنے سے مزید 30 انڈسٹریاں رواں دواں ہوئی ہیں۔ جس کی وجہ سے سیمنٹ کی سیل میں 19فیصد ریکارڈ اصافہ ہوا ہے۔ موٹر سائیکل کی خریداری میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ موٹر سائیکل مڈل کلاس اور غریبوں کی سواری ہے۔ ٹریکٹر کی خریداری میں 58 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ٹیوٹا کار کی خریداری میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ کراچی سٹاک ایکسچنج میں 66 فیصد اضافہ سامنے آیا۔ اسی طرح آئی ٹی کی ایکسپورٹ میں 44 اضافہ دیکھا گیا۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں 65 فیصد لوگ دیہات میں رہتے ہیں۔ آج دیہات میں دیکھیں کہ ٹریکٹر اور موٹر سائیکل کی سیل بڑھی ہے۔ کسان کو گنے کی قیمت وقت پر اور اچھی ملی پہلے 120 روپے من پر سیل کرتے تھے۔ اچھی بات یہ ہے کہ گنے کی پیداوار میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مکئی اور چاول 

کی پیداوار 13.6 فیصد بڑھ گئی ہے۔گندم کی فی من 500 روپے قیمت بڑھنے سے 1100 ارب روپے کسانوں کو اضافی آمدن حاصل ہوئی ہے۔ جس سے کسان کی چیزوں خریدنے کی صلاحیت بڑھی ہے۔ یہ کسانوں کی خوش حالی کی جانب پیش رفت ہے۔ موجودہ حکومت کسانوں کی خیر خواہ ہے۔ عمران خان کی حکومت کسانوں کے لیے کسان کارڈ لے کر آئی ہے۔ جس سے سبسڈی براہ راست ان کے اکاؤنٹ میں آئی ہے۔ دیکھئے مہنگائی کے سوال کا جواب میں نے دے دیا ہے کہ جس ملک کی ایکسپورٹ بڑھ رہی ہو اور ریکارڈ سیل ہو رہی ہو اس ملک کی اکانومی کیسے تباہ ہو سکتی ہے۔۔ بھارت میں کورونا کی وجہ سے 22 کروڑ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے آ گئے ہیں۔ برطانیہ کی دس فیصد اکانومی کریش ہوئی ہے۔ جبکہ عمران خان نے اکانومی کو بچایا اور ملک کو کورونا سے بھی بچایا گیا ہے۔ دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ چند افراد کے مفادات کی خاطر ملک کو مسائل درپیش ہیں بلکہ عوام ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ موجودہ حکومت تو چوروں اور لٹیروں کا منطقی انجام چاہتی ہے۔ لیکن وہ جو ہیں نہ وہ چوروں کو جیلوں سے باہر نکال رہے ہیں، ڈیلیں کر رہے ہیں۔ جس دن سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے۔ خزانہ خالی ہے۔ فوجی ادوار آئے جمہوریت آتی رہی ہے حکمران طبقے کی لاٹری نکلی ہوئی ہے۔ لیکن عوام کے کپڑے تک اتر چکے ہیں۔ اور خزانہ خالی ہے؟۔ سب جانتے ہیں کون لوگ ہیں جو چوروں کو این آر او دے کر باہر بھیج رہے ہیں؟ کون لوگ ہیں جو ثابت شدہ کرپٹ ججز کو بے قصور و معصوم قرار دے رہے ہیں؟ کوئی ہے نہ جن کی وجہ سے سارے چور آج آزاد دندناتے پھر رہے ہیں۔ ڈیل کرنے والوں نے ان سے ڈیلیں نہیں کرنی تھیں۔ ملکی خزانہ چوروں اور لٹیروں کی پچھاڑی پر جوتے مار کر لوٹی گئی دولت ملک میں واپس لانی تھی کہ چوروں سے لوٹی دولت نکلوانے میں ہی ملک و عوام کا فائدہ ہے نقصان نہیں۔

چور ڈیلیں کر کے باہر جا رہے ہیں، یہ عوام کا قصور ہے؟ لب لباب یہ ہے کہ ملک میں عدلیہ کو مضبوط ہونا پڑے گا ہے۔ ہر روز سن رہے ہیں عمران خان اسمبلیاں توڑ رہے ہیں۔ کب؟ یہ سوال اپوزیشن والے ہر وقت کرتے ہیں اور فضول واویلا مچایا ہوا ہے کہ ملک میں افراتفری ہے۔ بے چینی ہے۔ وہ جھوٹے دعوے کرتے ہیں۔ حکومت کام نہیں کر پا رہی۔ نظام مملکت فلاپ ہو چکا، معیشت کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ کسی شخص کا کام نہیں چل رہا۔ علاوہ سرکاری ملازمین کے احتساب ختم ہو چکا ہے۔ ڈاکو آزاد ہیں۔ این آر او، ڈیلیں، بس سیاست کا مکروہ کھیل جاری ہے۔ ملک و عوام کیساتھ کوئی جواب دینے والا ہے؟ عمران خان کو پچھلے تین سال سے سمجھ ہی نہیں آ رہی ہے کہ کرنا کیا ہے؟ چھوڑو، نکلو۔ اپوزیشن یہ ساری باتیں کر کے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ اور صرف تماشا دیکھنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن کی سیاسی کھوپڑی میں سمجھ نام کی شے ہے ہی نہیں جبکہ اس کی عقل گھاس چرنے گئی ہے۔ عمران خان کی حکومت ملک کو استحکام کی جانب لے جا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں معیشت سنبھل رہی ہے۔ اب یہ ہو کر رہے گا کہ چور ڈاکو اور لٹیرے کیفر کردار تک پہنچائے جائیں گے۔ اپوزیشن کی دُم پر پیر رکھ دیا گیا ہے اور وہ بلبلارہی ہے۔ چوروں کی یہ روایت پرانی ہے جب وہ قانون کے شکنجے میں آتے ہیں تو شور مچاتے ہیں۔


ای پیپر