اے کرونا تو کیا چیز ہے کدھر سے آیا ہے
17 May 2020 (00:06) 2020-05-17

کرونا وائرس‘ بیماری ہے، وبا ہے، آفت ناگہانی ہے، بلائے بے درماں یا عذاب خداوندی ہے… یہ جو کچھ بھی ہے اس کی اصل نوعیت کے بارے میں سائنس دانوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔ دنیا کے چوٹی کے ڈاکٹر اور ماہرین ادویات جدید ترین لیبارٹریوں میں سر مار رہے ہیں دوا ایجاد نہیں ہو رہی… حکومتیں پریشان ہیں… ماہرین سماجیات غلطاں ہیں اس کے بارے میں نت نئے نظریات سوچے اور کھودے جا رہے ہیں … اسباب کا پتہ لگایا جا رہا ہے… کسی ایک بات پر اتفاق نہیں ہو رہا اس کی جڑ کہاں پائی جاتی ہے… کس زمین کا پودا ہے… کس درخت کا کڑوا پھل ہے… یہ بلا کہاں سے کیوں اور کس طرح وارد ہوئی… پورے کے پورے عالم انسانیت کو اپنی جکڑبندی میں لے لیا ہے… اموات پر اموات واقع ہو رہی ہیں… بیماروں کا شمار نہیں… ہسپتالوں میں جگہ باقی نہیں رہی… سازشی تھیوریاں تھوک کے حساب سے گردش کر رہی ہیں… کس پر یقین کیجیے اور ان میں سے کسی ایک کے اندر کوئی حقیقت بھی پائی جاتی ہے یا نہیں تو پھر یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے… ہم سے پہلے کی نسلوں میں طاعون کی بیماری پھیلا کرتی تھی… کھیتوں کو اجاڑ کر رکھ دیتی تھی، گھروں محلوں اور شہروں کو ویران کردیتی تھی… ہمارے بزرگ ایک مردہ دفنا کر آتے تھے تو دوسرا تیار ہوتا تھا لیکن اس بیماری کا جتنی بھی مہلک اور جان لیوا ہوتی تھی… اس وقت کے ڈاکٹروں اور اطباء کو معلوم ہوتا تھا… کئی مریضوں پر دم درود بھی کام دکھا دیتا تھا… پرانے لوگ بتاتے ہیں جادوٹونے کا اثر بھی ہو جاتا تھا… مگر کرونا پر کوئی چیز اپنا اثر نہیں دکھاتی… حفاظتی تدابیر البتہ بہت بتائی جاتی ہیں… لوگوں کو ازبر ہو چکی ہیں… کچھ سختی سے عمل کرتے ہیں… جو پرواہ نہیں کرتے ماسک کی پابندی کو خاطر میں نہیں لاتے ایک دوسرے سے ضروری فاصلہ برقرار نہیں رکھتے… ہاتھ ملانے سے گریز نہیں کرتے علم اور شعور انہیں بھی ہر بات کا ہے… ایسا کرنے سے پرہیز روا رکھنی چاہئے… لیکن ان میں سے بھی ہر کوئی بیمار نہیں جا پڑتا بستر علالت پر دراز نہیں ہو جاتا… چنگا بھلا رہتا ہے مگر بہت سے ایسے ہیں جو شکار ہو جاتے ہیں… کچھ کی موت واقع ہو جاتی ہے… زیادہ تر دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں… زندگی کی دوڑ میں شریک ہو جاتے ہیں اور وہ جو ہم میں سے بہت زیادہ سیانے ہیں، عقلمند ہیں اور شعور رکھتے ہیں… ڈاکٹروں کی بتائی ہوئی ہر بات اور حکومت کی ہر ہدایت پر عمل پیرا ہوتے ہیں… حال ان کا بھی دوسروں سے مختلف نہیں ہوتا… مرض کا شکار ان میں سے بھی ہوتے ہیں ،مستند سے مستند ماہرین ان میں سے کچھ بیچارے ہو جاتے ہیں… صحتمند ہو جانے والوں کاتناسب بھی پہلی قسم والوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتا… گویا کرونا وائرس ایک معمہ ہے… سمجھنے کا نہ سمجھانے کا…

امریکہ والے دوڑ میں سب سے آگے ہیں… اپنی انگریزوں کی قوم کہ کبھی ہماری حاکم ہوا کرتی تھی… ہم سے پہلوں کے دور میں بچہ بچہ ان کی حکمرانی سے متاثر کیا مرعوب اور چکاچوند کے آگے آنکھیں خیرہ کیے رکھتا تھا… آج بھی مال روڈ پر میم چلتی نظر آئے تو سر نیہوڑ کر احترام کے ساتھ راستہ دیتے ہیں… سلام کرتے کرتے رہ جاتے ہیں… جیسے آج بھی یہ قوم ہماری حکمران ان انگریزوں کا کرونا وائرس کے آگے بے بسی کا یہ عالم ہے وزیراعظم ان کا کرونا کے ڈنک سے مرتے مرتے بچا ہے… لندن کے ڈاکٹروں نے تجہیز و تکفین کی تیاری کر لی… ٹین ڈائوننگ سٹریٹ کہ برطانوی وزیراعظم کے سرکاری دفتر کا پتا ہے وہاں نئے مکین لا بٹھانے کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں کہ اچانک بستر مرگ پر آخری سانس لیتے برطانیہ کے سربراہ حکومت کو ہوش آنا شروع

ہو گیا… زندگی کی لہر لوٹ آئی… بورس جانسن چند روز کے اندر کام پر واپس آنے کے قابل ہو گئے… تب دنیا کو معلوم ہوا کہ منگیتر موصوف کی انہیں ایک ننھے بیٹے کا تحفہ دینے والی ہیں… گھر کی رونقوں میں اضافہ ہونے والے برطانوی قوم نے بھی اطمینان کا سانس لیا… وزیراعظم اپنے کو جیتی جاگتی حالت میں ہنستے مسکراتے اور کام کاج میں مصروف دیکھ… آخر وہ کون سی دوا تھی جو کارگر ثابت ہوئی… کون سی احتیاطی تدابیر تھی جو تیر بہدف ثابت ہوئی… یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا ساری کہانی کو دہرانے کا مقصد یہ ہے آج کا انگریز بھی اپنے مقابلے میں موجودہ زیادہ ترقی یافتہ امریکی بہتر منتظم اور قاعدے ضابطے کے ساتھ زندگی گزارتا ہے… لیکن کرونا نے اس ملک کے وزیراعظم کو بھی ایک مرتبہ تو چاروں شانے چت کر کے رکھ دیا… یورپ کے ہی ایک مشہور ملک اٹلی کو لے لیجیے… دنیا بھر کے سیاحوں کی آماجگاہ ہے… ارض روم اور اس کی جنم دی ہوئی قدیم تہذیبوں میں سے ایک نے یہیں پر جنم لیا تھا اور پروان چڑھی تھی… شہروں کے عین بیچ میں ندیاں بہتی ہیں، کشتیاں چلتی ہیں، مناظر ایسے خوبصورت کہ دیکھے نہیں جاتے… نئی اور پرانی عمارتیں ہیں… یہ شہر جدید اور قدیم تہذیبوں کا مرقع ہے… زندگی کی کوئی سہولت ایسی نہیں جو اس قوم کے باسیوں کو میسر نہ ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہاں دنیائے عیسائیت کی سب سے بزرگ ہستی پاپائے روم کا صدر مقام ویٹکن ہے… پاپائے اعظم جس عقیدتمند کی جانب نظر کرم کے ساتھ دیکھیں وہ مسیحیوں کے بقول روحانی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے… دنیوی زندگی جنت ارضی کا نمونہ بن جاتی ہے… اس اٹلی کو کرونا کی بلا نے جو آن کر دبوچا تو شہریوں کی چیخیں نکل گئیں… سب سے زیادہ اموات تاریخی اور مذہبی عجائبات سے بھری اس سرزمین کے باسیوں کے حصے میں آئیں… پھر اے کرونا تم ہی بتائو تم کیا چیز ہو… کدھر سے آئی ہو… کب واپس جائو گی اور اپنے پیچھے کیسا ترکہ چھوڑ کر جائو گی…

اور اے لوگو ہم پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش وغیرہ کے باسیوں کا کیا مذکور… ڈسپلن نے ہماری قوموں کو چھو کرنہیں دیکھا… احتیاطی تدابیر کو خاطر میں نہیں لاتے… مارکیٹیں ہماری لاک ڈائون کے باوجود پُرہجوم رہتی ہیں… کھوے سے کھوا چھلتا ہے… ماسک خال خال نظر آتے ہیں اور جسمانی فاصلے برقرار رکھنے کی بجائے وہی پرانی دھکم پیل ہماری نہ بدلنے والی طرز حیات کے نمونے پیش کرتی ہے… مسجدیں بھری رہتی ہیں… بازار کم کم بند ہوتے ہیں… حکومتیں ژولیدہ فکری کی شکار ہیں… اس تمام تر ہڑبونگ اور افراتفری کے باوجود اموات کا تناسب امریکہ اور یورپ کے ملکوں سے کم ہے… محلوں کے محلے اور شہروں کے شہر نسبتاً محفوظ ہیں… ہسپتالوں میں مریضوں کا اژدہام ہے… جنازے بھی اُٹھ رہے ہیں… واویلا بھی بہت مچتا ہے… اخبار انہی خبروں سے بھرے پڑے ہیں… ٹیلی ویژن پروگراموں کا موضوع بھی یہی ہے… لیکن وہ مولوی مدن والی بات نہیں جو برا حال ترقی یافتہ قوموں کا ہوا ہمارا نہیں… پاکستان کے وزیراعظم کو فکر کھائی جا رہی ہے اگر لاک ڈائون جاری رکھا گیا تو معیشت زمین دوز ہو کر رہ جائے گی، اٹھنے کا نام نہ لے گی، غریب کھائے گا کیا پہنے گا کیا…حکمرانی میں حصہ دار مگر کچھ دوسرے بھی عناصر ہیں اور طاقت و رسوخ میں کسی سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہیں انہیںیہ فکر دامن گیر رہتی ہے لوگوں نے مرنا شروع کر دیا تو اس قوم کو بچائے گا کون… سخت بیچارگی کی حالت سے نکالے گا کون… صوبائی خودمختاری کا راج ہے… سندھ والوں نے وائرس کی خبریں چلتے ہی اپنی راہ الگ اپنائی… لاک ڈائون کا اعلان کرڈالا… سختی کے ساتھ عمل پیرا بھی ہوئے… وزیراعظم ہمارے چیں بچیںہوئے… لیکن شاہان ارض پاکستان کو وادی مہران والوں کی ادا پسند آئی… انہوں نے پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومتوں کو کہہ ڈالا پیچھے مت رہو… لاک ڈائون کر ڈالو… ان کی کیا مجال تھی انکار کرتے وزیراعظم بیچارے کو بھی ایک اسی گاڑی پر سوار ہونا پڑا… لیکن سندھ والوں کوانہوں نے ہرگز معاف نہیں کیا… ایک کے بعد دوسرا بیان ان کے وزیروں اور مشیروں کی جانب سے اخبارات کی زینت بنتا ہے… ٹیلی ویژن سکرینوں پر رونق دکھاتا ہے اور سوشل میڈیا مذاق اور ٹھٹھے کا موضوع بنتا ہے… اے کرونا تو کیا چیز ہے اورکہاں سے نازل ہوا ہے… کچھ تو بتا… تو نے امریکہ اور چین کی چپقلش میں کہیں زیادہ کبھی کبھی ڈر آتا ہے تمہاری وجہ سے تیسری عالمگیر جنگ تو نہ چھڑ جائے گی… ٹرمپ کو اس کے اپنے لوگ نیم پاگل کہتے ہیں… وہ کہتا ہے میرے ملک کے شہری مرتے ہیں تو مرنے دو… میں اگلا الیکشن بھی جیت کر دکھائوں گا… بھارت کا نسلی تعصب کا مارا ہوا وزیراعظم نریندر مودی نسلی امتیاز بلکہ نفرت پھیلانے کی دوڑ میں اس سے بھی آگے نکلا جا رہا ہے… مسلمانوں پر عرصہ حیات پہلے سے تنگ کر رکھا تھا… اب جو کرونا کی آفت نے دوسرے ملکوں کی مانند اس کے یہاں بھی ڈیرے بسائے ہیں مسلمانوں کو معطون کرتا ہے… ان کا سوشل بائیکاٹ کیا جا رہا ہے… کوئی پوچھنے والا نہیں اگر ان کی مساجد میں اجتماعات ہوتے ہیں تو کیا تمہارے مندروں میں نہیں ہوتے… عقل کیا گھاس چرنے گئی ہوئی ہے… پس اے کرونا تو اتنا بتا دے تو کس چیستان کا نام ہے… کب رخصت ہو گا… جب جائے گا تو اپنے پیچھے کتنی تباہی کس قسم کی بربادی چھوڑے گا اور کیسے کیسے انسانیت کش رویے تیری یاد کے طور پر باقی رہ جائیں گے…


ای پیپر