پردے میں رہنے دو
17 May 2020 (00:04) 2020-05-17

دوستو، خبر کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں ماسک پہننا لازم قرار دے دیا۔وزیراعظم پاکستان کے ہمراہ کورونا وائرس کے حوالے سے بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اب تک ماسک پہننے پر قوم کو چھوٹ دے رکھی تھی کہ چاہیں تو پہن لیں یا نہ پہنیں۔لیکن اب ہم اس کو لازم قرار دے رہے ہیں۔ پبلک مقامات اور رش والے مقامات پر جاتے ہوئے ماسک پہننے کی پابندی ہوگی۔ چند روز میں اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا جائے گا۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام صوبائی وزرائے صحت کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد ایک قومی پروگرام تشکیل دیا ہے۔جس کا نام ہے’وی کیئر’رکھا گیا ہے۔ اس کے تحت پاکستان کے کونے کونے میں پھیلے ایک لاکھ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی ٹریننگ کروائی جائے گی اور بتایا جائے گا کہ پی پی ایز کا موثر استعمال کیسے کیا جاتا ہے۔۔یعنی اس خبر سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرد و زن کے لئے ’’پردہ‘‘ لازمی کردیاگیا ہے۔۔ ماسک سے چہرہ چھپایا جاتا ہے اور شاید پردے کا بھی یہی کام ہے۔۔

دنیا کے ہر شخص کے ذہن میں ان دنوں ایک سوال کلبلا رہا ہے کہ کورونا وائرس نامی اس بلا سے کب نجات ملے گی اور زندگی پہلے کی طرح معمول پر آئے گی۔ عالمی ادارہ صحت کی ’چیف سائنسدان‘ سومیا سوامی ناتھن نے اس سوال کا ایسا جواب دے دیا ہے کہ سن کر لوگوں کی پریشانی اور بڑھ گئی۔ ایک برطانوی اخبار کے مطابق سومیا سوامی ناتھن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس پر قابو پانے میں چار سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بات گلوبل بورڈ روم ڈیجیٹل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’کورونا وائرس کی وباء کے خاتمے کا بہترین اور حتمی راستہ موثر ویکسین ہے لیکن اس کی تیاری میں کئی شکوک و شبہات ہیں، ویکسین کا موثر اور محفوظ ہونا، اس کی پروڈکشن، ڈسٹری بیوشن وغیرہ۔ یہ ایک طویل مرحلہ ہے جس میں چار سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔دوسری طرف عالمی ادارہ صحت کے ہیلتھ ایمرجنسیز پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان کا کہنا ہے کہ ’’چونکہ اس وباء کے خاتمے کا دارومدار وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات اور موثر ویکسین کی تیاری پر ہے لہٰذا امید کی جا سکتی ہے کہ اس کا خاتمہ جلد ہو جائے تاہم اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘‘ڈاکٹر مائیک نے اپنی گفتگو میں لاک ڈاؤن میں نرمی یا اس کا خاتمہ کرنے والے ممالک کے لیے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’ممالک کو مناسب نگرانی کے اقدامات کے بغیر لاک ڈاؤن میں نرمی لانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ایک نیا وائرس ہے جو پہلی بار انسانوں کو لاحق ہوا ہے چنانچہ یہ پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے کہ ہم کب تک اس وائرس پر غالب آئیں گے۔۔خاتون چیف سائنسدان نے یقین کریں ڈرا کر رکھ دیا۔۔ یعنی کوروناپانچ سالہ منصوبہ لے کر آیا ہے اور اس سے پہلے اس کے جانے کا کوئی موڈ نظر نہیں آرہا۔۔

لاک ڈاؤن کے باعث نائی کی دکانیں بند ہیں۔۔ مردحضرات کے بال اور شیو انتہائی حد تک بڑھ چکی ہیں۔۔ کچھ خواتین تو باقاعدہ مونچھوں کو بل دے کر شوہروں سے بات کرنے لگی ہیں کیوں کہ بیوٹی پارلرز بند ہونے کی وجہ سے ان کی تھریڈنگ بھی نہیں ہورہی ۔۔ احباب کے لئے خوشخبری ہے کہ محکمہ صحت پنجاب نے حجام اور بیوٹی سیلون مالکان کے لیے ایس او پیز جاری کردیئے۔ایس او پیز میں کہا گیا ہے کہ حجام اور بیوٹی سیلون مالکان ایک وقت میں ایک گاہک کی پالیسی اختیار کریں، گاہکوں کو ٹیلی فون پر وقت دینے کی روایت اپنائیں اور ایک گاہک کا تولیہ دوسرے پر ہرگز استعمال نہ کیاجائے۔محکمہ صحت کے ایس اوپیز میں کہا گیا ہے کہ گاہکوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ ماسک پہنیں یا منہ کپڑے سے ڈھانپ کر رکھیں، کھانسی یا چھینک آئے تو منہ کہنی سے ڈھانپ لیں، جبکہ کٹے ہوئے بالوں کو گڑھا کھود کر دبا دیا جائے۔ایس او پیز کے مطابق حجامت کے دوران کاغذی تولیے استعمال کرنے کو ترجیح دی جائے، تولیہ اور کپڑا واشنگ پاوڈر سے 60 تا 90 ڈگری سینٹی گریڈ گرم پانی میں دھوکر استعمال کیا جائے، جبکہ کرسیوں، میزوں اور دروازوں کو بار بار واشنگ پاوؤڈر یا کلورین محلول سے صاف کریں۔ایس او پیز کے مطابق حجام یا سیلون مالکان نیا گاہک بٹھانے سے پہلے کرسی کو جراثیم کش محلول سے صاف کریں، گاہک کا گلا خراب ہو تو معذرت کرلیں جبکہ دکان میں سینیٹائزر بھی رکھا جائے۔دوسری طرف سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ حجاموں کی دکانیں کھولنے کے حوالے سے نظرثانی کی جائے۔ لاک ڈائون میں چھوٹے دکانداروں کو کاروبار کی اجازت سے متعلق سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے چھوٹی بڑی مارکیٹس کھول دی ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ باقی مارکیٹیں کھول دی گئی ہیں تو حجام اور بیوٹی پارلرز کیوں نہیں کھول سکتے؟ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ حجام کی دکانوں اور بیوٹی پارلرز سے کورونا پھیلنے کا زیادہ خدشہ ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ حجاموں کی دکانیں بند رکھی جارہی ہیں تو لوگ عید پر بال کیسے کٹوائیں گے؟ حجاموں کے لیے بھی ایس او پیز بنادیں، عمل درآمد نہ ہو تو بند کرسکتے ہیں۔ جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ماہرین صحت کی مشاورت سے نائی کی دکانیں کھولنے کے لیے سوچا جاسکتا ہے۔

کورونا وائرس کی وباء نے انسانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں۔ ماہرین پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اس وباء کی وجہ سے لوگوں کے رویوں سے لے کر رہن سہن تک پر بہت زیادہ اثر پڑے گا اور ان میں تبدیلی آئے گی۔ اب رہن سہن کے حوالے سے امریکہ میں ایک بڑی تبدیلی کی بات شروع ہو گئی ہے۔ایک برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ میں پبلک ٹوائلٹس کو از سرنو ایسے طریقے سے بنانے کی بات چل نکلی ہے کہ ان کے ذریعے کورونا وائرس یا دیگر اقسام کے وائرسز نہ پھیلنے پائیں۔ موجودہ ٹوائلٹس میں جب رفع حاجت کے بعد فلش کیا جاتا ہے کہ ان سے ہوا کا ایک بھبھوکا نکلتا ہے اور یہ ہوا پورے ٹوائلٹ، حتیٰ کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے ریسٹ روم میں پھیل جاتی ہے۔چونکہ کئی تحقیقات میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ لوگوں کے فضلے میں بھی کورونا وائرس موجود ہوتا ہے لہٰذا اس ہوا میں شامل پانی کے نظر نہ آنے والے قطروں میں کورونا وائرس بھی موجود ہو سکتا ہے اور پبلک ٹوائلٹس میں کی جانے والی ایک تحقیق میں اس کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس ریسٹ روم میں آنے والے دیگر لوگوں میں سانس کے ذریعے داخل ہونے کا غالب امکان ہوتا ہے چنانچہ ٹوائلٹس کو ’ری ڈیزائن‘ کیا جانا چاہیے۔ ’امریکن ریسٹ روم ایسوسی ایشن‘ بھی ٹوائلٹس کو ری ڈیزائن کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہمیں سنگل پرسن، جینڈر نیوٹرل باتھ رومز بنانے چاہئیں اور کموڈز پر ایسے ڈھکن لگانے چاہئیں جو فلش کرتے وقت ہوا کو باہر جانے سے روکیں۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ خوبصورتی کی کمی کو اخلاق پورا کرسکتاہے لیکن اخلاق کی کمی کو خوب صورتی پورا نہیں کرسکتی۔۔ حسن اخلاق کیلئے ہمارا مذہب بھی زور دیتا ہے۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر