وہی خدا ہے!
17 May 2020 (00:04) 2020-05-17

رمضان تیزی سے گزر رہا ہے۔ مغفرت کا عشرہ بھی ختم ہونے کو ہے۔ مغفرت طلبی کس حال میں ہے؟ خبر، اخبار کی دنیا وہی بے ڈھب چال دکھا رہی ہے جو سدا سے ہے۔ رجوع الیٰ اللہ کی توفیق اللہ ہی سے مانگتے ہیں ورنہ اخباروں کے میگزین اور کالی اسکرینیں وہی مناظر دکھا رہے ہیں جسے انہوںنے کبھی گناہ سمجھا ہی نہ تھا۔ انہی عشوؤں غمزوں سمیت عورت کی جلوہ گری، تصاویر، ساز وآواز۔ سیاست گری اور سیاست بازی بھی حسب سابق ہے۔ نہ کورونا کے خوف نے دل اور سر اللہ کے آگے جھکائے، نہ روش بدلی۔ قہر الٰہی کورونا پر رمضان کی آمد ایک مہلت رحمت پانے اور مغفرت مانگنے کی تھی۔ اللہ ہر حال میں اپنے بندے کو معاف کرنا چاہتا ہے۔ یہی اس کی شان کریمی ہے، غنی عن العالمین ہونے کے باوجود! ندامت کا احساس لیے مکھی کے سر کے برابر بھی آنسو آج جہنم کی آگ ٹھنڈی کرسکتا ہے۔ جسے ٹھنڈا کرنے کو سارے سمندروں کے پانی بھی ناکافی ہیں مگر اس قطرے برابر آنسو کے لیے بھی احساس گناہ چاہیے۔ فرائڈی تعلیم و تربیت، فلموں ڈراموں کا ماحول، گناہ، ثواب کے تصورات ماؤف کردیتا ہے اور انسان کو حیوانی جبلتوں کا ایک ملغوبہ بناکر رکھ دیتا ہے۔ قرآن ہم سے سوال کرتا ہے: کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟ (الحدید۔16)

آج ہم کتاب ملنے کے 1400 سال بعد عین اسی قساوتِ قلبی اور بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ فسق، نافرمانی ہماری رگ وپے میں رچی ہوئی ہے جیسے۔ اللہ کے احکام کو جاننے، پہچاننے، ماننے سے انکاری ہیں۔ جس حکم کی بات کرو، ایک طوفان بدتمیزی بپا ہوجاتا ہے۔ عورت کی شتر بے مہاری سورۃ النور، الاحزاب کے سارے احکام روند رہی ہے مگر کسی کو اف کہنے کی مجال نہیں۔ معیشت سود، جوا، رشوت، ملاوٹ، ہمہ نوع کرپشن کی صورت قوم کی رگوں میں رواں دواں ہے۔ راگ رنگ فلمیں ڈرامے جیسے خون میں رچ بس کر دھماچوکڑی مچا رہے ہیں، مگر ہم بڑے اچھے مسلمان اور ریاست مدینہ کے دعویدار ہیں۔ سیاست ہیرا پھیری، ایمان فروشی، کفر کے ہاتھ دینی وملی شناخت فروشی سے آلودہ ہے مگر۔ نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے! ایسے میں طوفانی بارشوں کے تھپیڑے خوفناک کڑک گرج کے ساتھ ہماری زرعی معیشت کی تباہی کا سامان کررہے ہیں۔ ٹڈی دل 3 لاکھ کلو میٹر رقبے پر موجود مزید نمک چھڑک رہا ہے۔ کورونا کی تلوار، ہماری تمام تر نااہلیوں، بدانتظامیوں کے بیچوں بیچ سر پر لٹک رہی ہے۔ دو مہینے کی پابندیاں اور لاک ڈاؤن، بازار کھلتے ہی تہس نہس ہو گیا۔ عجب قوم ہے! بازاروں میں دیوانہ رش یکایک۔ کپڑوں (برانڈڈ) کی خریداری کا یہ عالم تھا کہ ایک دوکان دار کے مطابق پہلے دن ہی ایسا رش ٹوٹ پڑا کہ چار گھنٹے میں چار لاکھ کی خریداری خواتین کر گزریں! کون سی غربت، کیسی معاشی بدحالی، کہاں کا

عذاب الٰہی اور اس کا خوف یا رجوع الی اللہ! مساجد پر ہنگامہ کھڑا کرنے والے سینی ٹائزر ماسک کے بغیر آؤ دیکھا نہ تاؤ بازاروں میں باؤلے ہوئے پھر رہے ہیں۔ لگژری خریداری پر ضرورت ہے کہ چھاپہ مار کر لگژری کورونا ٹیکس وصول کیا جائے۔ اور مستزاد یہ کہ یہ رش سیلاب انگیز موسلا دھار بارش کے بیچوں بیچ ہے۔ہر سطح پر ہم جوں کے توں ہیں۔ یہی حال قومی اسمبلی اور اس کے مباحث کا بھی ہے۔ اصلاح کے آثار ہر جا عنقا ہیں۔ جمہوریت کے دلدادہ وزیراعظم قومی اسمبلی میں وزارت صحت کے مرتبان کے حامل ہونے کے باوجود اجلاس میں آنے کے روادار نہ ہوئے!ہم امریکا، چین، آئی ایم ایف سے تو بھیک مانگیں گے۔ ان کے ڈومور تو نبھائیںگے لیکن رزاق باری تعالیٰ کے آگے سر تسلیم خم کرنے سے محروم ہیں۔

ابھی تو کورونا کے دریا کے پار اتر کر جو اگلے معاشی، بے روزگاری کے دریا کا سامنا کرنا ہے، اس کے لیے بھی منصوبہ بندی کی فکر اور صلاحیت دونوں ہی سے محروم ہیں۔ ملک ملک نگاہ دوڑاکر دیکھ لیجیے۔ قحط الرجال کا وہ سماں ہے کہ الاماں۔ بڑے چودھری کے ہاں دیکھیں۔ امریکی صدر خود اپنے ہاں بھی غیرذمہ دار اور مسخرا نما گردانے جاتے ہیں۔ صحافی بیلن فرننڈز (الجزیرہ) لکھتی ہیں: ’ٹرمپ اور ان کے داماد کشنر اس نظریے کے مطابق دلجمعی سے کام کررہے ہیں کہ امریکی معیشت بچانے کی خاطر زیادہ سے زیادہ امریکیوں کی جانیں گنوائی جاسکتی ہیں… امریکا کی معیشت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ کورونا ختم ہونے کے بعد بھی اس کے سنبھلنے کا کوئی امکان نہیں۔ امریکا اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ قرض دار ملک ہے‘۔

یاد رہے کہ امریکا میں بے روزگاری 80 سال کی بلند ترین سطح پر ہے اس وقت! کچھ ایسا ہی حال مودی کا بھی ہے چیلنج سے نمٹنے میں۔ لگے ہاتھوں مودی اور بی جے پی نے ملک سنبھالنے کی بجائے مسلمان رگیدنے، کشمیر میں اپنے مذموم عزائم پورے کرنے اور پاکستان پر کنٹرول لائن پر حملے کرنے کو اہم تر جانا۔ کورونا بدنیت سیاست دانوں کے ہاتھوں دوہرا عذاب بن گیا۔ عوام نے جرم ضعیفی کی سزا پائی۔ برے حکمرانوں کو برداشت کیے جانا بھی خود موجب سزا ہے۔ کشمیر میں طویل کرفیو سے سانس بحال ہوئی بھی نہ تھی کہ کورونا لاک ڈاؤن نے زندگی اجیرن کردی۔ اس دوران بھارت نے اسے ہندو، کشمیر میں لاکر آباد کرنے کا موقع غنیمت جانا۔ رمضان کا پہلا عشرہ 16 حریت پسندوں کی شہادت سے خون میں نہا گیا۔ بعدازاں حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو کو دو ساتھیوں سمیت شہید کرنے پر احتجاج اور نہتے عوام پر مظالم کی نئی لہر اٹھ گئی۔ ہم زبانی جمع خرچ بھی کر پائیںگے تو کشمیری غنیمت جانیں۔ کشمیری بہادر اور غیور قوم ہے جو غلامی میں بھی ہماری نسبت آزاد تر ہے! ہم سے آن ملے تو انہیں بھی کشکول ہی دی جائے گی خوش آمدیدی تحفے کے طور پر۔ اب تو فقر غیور والی زندگی انہیں راس آئی ہے۔ یہاں حلوائی کی دکان پر بٹتی (احساس بھری) دادا جی کی فاتحہ ملتی پائیںگے۔ حکومتی نااہلیوں، بدعنوانیوں، اجارہ داریوں، ہیراپھیریوں کے دائمی ادوار ہیں جو پے درپے ہمارا مقدر ہر حکومت کے ہاتھوں بنتے ہیں۔ دو ٹکے کے ماسک اور سینی ٹائزر کی فراہمی میں جو کھیل کھیلے گئے، وہ چینی، آٹا بحران سے کچھ کم نہ تھے۔ مخصوص افراد، گروہوں، کمپنیوں کو نوازنا عوام کی صحت اور سہولیات سے اہم تر تھا۔ فارمولا بین الاقوامی سیاست کاری کا یہی ہے کہ دنیا بھر کے وسائل لوٹ کر اسی میں سے کچھ سرمایہ خیرات کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا۔

مغربی ممالک کی عالمی لوٹ مار کے پردے بھی کورونا نے چاک کیے ہیں۔ براعظم افریقہ میں وسائل کی بندربانٹ ان ممالک کے مابین جس طرح رہی، وہ اب سامنے ہے۔ ان کا غم اب یہ ہے کہ افریقہ اور مشرق وسطی میں ان کی کھڑی کی اشرف غنی نما نااہل، نکمی، بددیانت کم وسائل والی حکومتیں، عوام کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہ رہی ہیں۔ ایسے میں عدم اطمینان کا بڑھنا پھیلنا دہشت گرد (اسلامی!) ایجنڈوں کے لیے جگہ بنائے گا۔ کورونا کی بنا پر جا بجا موجود امریکا برطانیہ کی فوجیں افریقہ سے واپس بلانی پڑ رہی ہیں۔ ہزاروں امریکی فوجی بیماری کی رخصت پر ہیں یا کورونا پازیٹو ہیں۔ خود ان کی اتحادی افریقی فوجوں پر بھی کورونا حملہ شدید ہے۔ نائیجریا میں فوجی پالیسی چیف کی طرف سے حکم نامہ لیک ہوا جس میں کہا گیا کہ ہمیں گاڑیاں اب دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کی بجائے، اجتماعی تدفین اور کورونا مریضوں کو ہسپتال لے جانے کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی۔

ایسے میں مسلمانوں میں یہ تاثر بڑھ پھیل رہا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف عالمی مالی استحصال اور جنگی جرائم پر یہ اللہ کے انصاف کا بے آواز کوڑا برسا ہے۔ یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ امریکی وائرس زیادہ متعدی ہے! امریکا خود بھی تو کم متعدی نہیں! امریکا کے نہلے پر کورونا کا دہلا آن پڑا ہے۔ تم چوری چھپے والے خاموش (Stealth) طیارے اور بغیر پائلٹ کے خودکار ڈرون استعمال کرتے تھے۔ اب سامنا کرو خفیہ ترین کارکردگی کے حامل خودکار کورونے کا! دم بخود اسے سمجھنے کی کوشش میں موت کی وادی میں اترتے جارہے ہیں۔ اب فکر یہ بھی ہے کہ سماجی فاصلہ، الگ تھلگ مقید رہنے سے قوت مدافعت مزید کم ہوجائے گی (جو نازنخروں کی بنا پر پہلے ہی کم ہے۔ پاکستان آجائیں تو مچھر کی تاب نہیں لاسکتے۔ ہمارا پانی پی لیں تو بیت الخلا کے پھیرے لگاتے ادھ موئے ہوجائیں) اسے عذاب قرار دینے پر عالمی میڈیا میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ آنکھوں دیکھے حقائق اور دلوں کے اندر جا اترنے والے تاثر سے جو عقیدہ بنتا ہے، اسے پروپیگنڈے سے دور کرنا ممکن نہیں۔ تحقیق کے مطابق پوری دنیا زیر وزبر کردینے والا کورونا کا مجموعی وزن (دنیا بھر میں ملاکر) ایک گرام ہے! بھاری بھرکم ہوائی جنگی بیڑوں، عالمی صنعتوں، بھرے پرے شہروں کے لیے ایٹم بم سے زیادہ ہلاکت خیزی کی کل اوقات ایک گرام ہے۔ کیسے کہہ دیں کہ اس کے پیچھے وہ نادیدہ ہاتھ نہیں جسے جھٹلانے میں تم دن رات ایک کیے دیتے ہو! دکھائی بھی نہ دے، نظر بھی جو آرہا ہے … وہی خدا ہے! وہی خدا ہے! لاالہ الااللہ!


ای پیپر