سروے میں لوگوں نے کہا ”مرجاﺅ“ تولڑکی نے کیا کیا ؟
17 May 2019 (18:42) 2019-05-17

کوالا لمپور:ملائیشیا میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جس میں ایک 16 سالہ لڑکی نے عوامی سروے کے بعد خود اپنی جان لے لی۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

تفصیلات کے مطابق نوعمر لڑکی دیویا ایمیلیا کا تعلق مشرقی ملائیشیا کے علاقے ساراواک سے تھا اور اس کی خودکشی کے بعد نوعمر بچے اور بچیوں کی دماغی صحت پر ایک بحث چل پڑی ہے۔انسٹا گرام پر ایک نوعمر لڑکی نے عوام سے پوچھا کہ کیا اسے زندہ رہنا چاہیے؟ یا مرجانا چاہیے تو اس کے جواب میں 69 فیصد افراد نے کہا کہ اسے مرجانا چاہیے۔ لڑکی نے ایک مختصر نوٹ میں یہ لکھا تھا، بہت ضروری، میری مدد کیجیے کہ میں مرجاں یا زندہ رہوں؟ اس کے بعد اکثریت نے اسے مرجانے کا مشورہ دیا جس کے بعد لڑکی نے خودکشی کرلی۔

پولیس کے مطابق لڑکی ایک عرصے سے ذہنی تنا اور ڈپریشن کی شکار تھی جس نے عوامی رائے کے بعد بلڈنگ کی عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی۔لڑکی کی موت پر پورے ملائیشیا میں سوگ اور صدمے کی ایک لہر دوڑ گئی ہے جس کے بعد نوجوانوں کے وزیر سید صادق سعید عبدالرحمان نے ملکی سطح پر نوجوانوں کی دماغی صحت اور نفسیاتی ا?گاہی کا قومی پروگرام شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نوجوانوں کی دماغی صحت کے بارے میں فکرمند ہوں اور اس پر سنجیدگی سے کام کیا جائے گا۔دوسری جانب ملائیشیا کے رکن پارلیمنٹ رام کرپال سنگھ نے کہا کہ جن شقی القلب لوگوں نے دیویا کو خودکشی کا مشورہ دیا وہ اس جرم میں برابر کے شریک ہیں اگر لوگ اسے مجبور نہ کرتے تو وہ بچی اب بھی زندہ ہوتی۔


ای پیپر