تھینک یو، گورنر سٹیٹ بینک۔ ڈالر ساتویں آسمان پر
17 May 2019 2019-05-17

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے گورنر ڈاکٹر باقر رضا کی پروفائل کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے موجودہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے آئی ایم ایف کی طرف سے مصر کی معیشت میں بہتری لانے کے لیے 2 کام کیے ایک تو انہوں نے مصری کرنسی کو Free Float کیا یعنی مقامی کرنسی کی ڈالر کے مقابلہ میں شرح مبادلہ کے تعین میں مصری حکومت کا اختیار ختم کر دیا گیا جس سے وہاں ڈالر کی قیمت آسمان کو چھونے لگی ان کا دوسرا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے مصر میں ہر طرح کی حکومتی Subsidies کا خاتمہ کر دیا جس کے بعد مصر میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ مصر کی معاشی حالت اس وقت نہایت دگر گوں ہے اور وہ مکمل طور پر آئی ایم ایف کے Debt Trap یعنی قرضوں کے جال میں جکڑا جا چکا ہے۔

آئی ایم ایف کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی مداخلت کے بعد ایسا لگتا ہے کہ عملاً ملک کی باگ ڈور آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی ہے۔ ریاست کی آئینی حکومت جو بھی ہو اور جس پارٹی سے بھی تعلق رکھتی ہو اور جتنا مرضی بھاری مینڈیٹ لے کر آئے وہ آئی ایم ایف کے ایک ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرے گی۔ ہمارے مشیر خزانہ نے اپنی ایک پریس بریفنگ میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان جن معاشی مشکلات میں گھرا ہوا ہے ایسا پہلے کبھی آج تک نہیں ہوا۔ گویا یہ ایک تشویشناک صورت حال ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز پر ڈالر کی قیمت 141 روپے تھی جس میں یومیہ ایک سے دو روپے کا اضافہ ہوتے ہوتے اب قیمت 150 ہو چکی ہے۔ ڈالر کو قابو میں رکھنا سٹیٹ بینک کا کام ہوتا تھا مگر نئے معاہدے کے بعد سٹیٹ بینک اس میں مداخلت نہیں کرے گا جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا امکان یقین میں بدل چکا ہے۔ ڈالر کی وجہ سے ایک دفعہ پھر پٹرول مہنگا ہو گا اور اس کے نتیجے میں ایک دفعہ پھر مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہو گا۔ سننے میں آ رہا ہے کہ حکومت نے ڈالر میں 37 فیصد اضافے پر اتفاق کیا ہے جس کی رو سے بجٹ کے بعد ڈالر مزید مہنگا ہو گا۔ معاشی تجزیے ڈالر میں اضافے کی رفتار سے پیچھے رہ گئے ہیں عام اندازہ یہ تھا کہ اس سال کے آخر تک ڈالر 150 کا ہو گا مگر یہ تو جون سے پہلے سے ہی وہاں پہنچ گیا جو کہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے جا رہی ہے جس کی رو سے شرح سود میں مزید اضافہ ہو گا اس سے پہلے شرح سود 5 فیصد تک بڑھ چکی ہے اس سے پاکستان میں کاروباری سرگرمی مزید ماند پڑے گی کیونکہ Cost of doing bussiness میں اضافے سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس ساری صورت حال سے نظر آ رہا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی معاشی حکمت عملی موجود نہیں ہے سب کچھ آئی ایم ایف کے کہنے پر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے معاشی ماہرین منظر سے غائب ہیں۔

دلچسپ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے آگے سر تسلیم خم کر کے ہمیں ملا کیا ہے کوئی 15 یا 20 بلین ڈالر مل جاتے تو پھر کوئی بات بھی تھی مگر ہمیں تو صرف 6 ارب ڈالر گرانٹ کیے گئے ہیں اور وہ بھی 3 سال میں اس سے زیادہ رقم تو موجودہ حکومت سعودی عرب امارات اور چائنہ جیسے دوست ممالک سے محض مروت میں حاصل کر چکی ہے۔

آصف زرداری حکومت کے دور میں جب کیری لوگر بل کی شکل میں امریکہ نے پاکستان کو 7 ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا تو پورے ملک میں کہرام مچ گیا تھا کہ اس کی شرائط بڑی ذلت آمیز اور رسوا کن ہیں اس موقع پر فیصل آباد کے تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ ہمیں گیس اور بجلی دے دیں اور یہ رقم ہم سے لے لیں مگر حکومت نے اس پیش کش پر توجہ نہ دی۔ پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری میں 20 ارب ڈالر کا Potential موجود ہے مگر حکومت ایکسپورٹرز کو مراعات نہیں دیتی جسکی وجہ سے ہماری ایکسپورٹ سالہا سال سے کم ہو رہی ہے۔

ایمنسٹی کو نافذ کر دیاگیا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس سے کیا نتائج بر آمد ہوتے ہیں ۔ ن لیگ کی حکومت میں یہ سکیم اس لیے ناکام ہوئی تھی کیونکہ تحریک انصاف اس کی مخالفت کرتی تھی اور اس کو غیر قانونی قرار دیتی تھی اس دور میں عمران خان نے کہا تھا کہ ہم بر سر اقتدار آ کر اس کا خاتمہ کر دیں گے اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کو جیل میں ڈالا جائے گا جس کی وجہ سے تاجر خوف زدہ ہو گئے اب وہ خود اس کے بہت بڑے حامی ہیں۔ یہ ایک ایسا یو ٹرن ہے جو معیشت کا پانسہ پلٹ سکتا ہے مگر اس کا انحصار اس کے نفاذ پر ہے۔ پاکستان میں کتنے ہی کروڑ پتی ہیں جو ایک پیسہ بھی ٹیکس ادا نہیں کرتے انہیں ٹیکس دھندہ کے طور پر رجسٹر کرنے کے لیے کسی سکیم کی نہیں بلکہ حکومتی رٹ کی ضرورت ہے مگر ٹیکس اکٹھا کرنے کا نظام اتنا ناقض غیر پیشورانہ اور بد عنوانی سے لبریز ہے کہ جب تک اس کا سد باب نہ ہوا کوئی سکیم کا میاب نہیں ہو سکتی۔

یہاں پر ہمیں خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاور کے اس افسوسناک واقعہ کا ذکر کرنا ہے جس میں ایک فارن کوالیفائڈ ڈاکٹر اسسٹنٹ پروفیسر ( سرجن ) ضیاء آفریدی کو وزیر صحت پخوتونخوا حشام انعام اللہ اور اس کے گن مینوں نے سرعام تشدد کا نشانہ بنایا اُسے زمین پر لٹا کر بندوقوں کے بٹ مارے گئے جس سے ڈاکٹر آفریدی کا سر پھٹ گیا خون میں لت پت ڈاکٹر آفریدی کی تصویر سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ آپ کہیں گے کہ اس واقعہ کا معاشی حالات سے کیا تعلق ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ معیشت کا طرز حکمرانی کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور طرز حکمرانی کا رول آف لاء کے ساتھ تعلق اس سے بھی زیادہ ہے۔ اگر ایک وزیر قانون کی دھجیاں بکھیرتا ہے اور حکومت اس کا ناجائز دفاع کرتی ہے تو ایسی حکومت کبھی بھی نمائندہ حکومت کہلانے کی مستحق نہیں ہے۔ اس واقعہ کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے کزن نوشیرواں برکی پر خیبر اسپتال میں ڈاکٹروں نے انڈہ پھینک دیا جو احتجاج کا ایک علامتی طریقہ تھا کہ ان کی غلط مشاورت کی وجہ سے ینگ ڈاکٹروں کے مسائل بڑھ رہے ہیں اس واقعہ کے رد عمل میں وزیر صحت خود وہاں پہنچے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ پختونخوا پولیس نے وزیر موصوف کے دبائو پر زخمی ڈاکٹر کے خلاف واقعہ کا مقدمہ درج کیا جس میں انہیں وزیر صحت پر حملہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

اعظم خان سواتی کو پڑوسیوں کی گائے چھیننے پر وزارت سے ہٹا دیا گیا تھا مگر اس کیس میں چونکہ نوشیرواں برکی وزیر اعظم کا کزن ملوث ہے جس پر انڈہ پھینکا گیا تھا وزیر صحت نے چونکہ ساری لاقانونیت نوشیرواں برکی کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے کی ہے اس لیے وزیر اعظم صاحب اس دفعہ اعظم سواتی والا انصاف نافذ کرنے سے قاصر ہیں جبکہ گزشتہ تین دن سے پختونخوا کے ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں ان ڈاکٹروں کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ ہسپتال کے CCTV کیمرے میں اس واقعہ کی فوٹیج موجود ہے جس میں وزیر صحت اور ان کے گن مین زمین پر گرے ہوئے ڈاکٹر آفریدی کو ٹھڈے مار رہے ہیں۔

out of box سوچ یہ ہے کہ اس وقت نیب میں زیر سماعت کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مجموعی مقدمات کی مالیت 6 بلین ڈالر کی اس رقم سے زیادہ ہے جو آئی ایم ایف ہمیں سخت ترین شرائط پر دینے جا رہا ہے۔ اگر ان مقدمات کی پیشہ ورانہ بنیادوں پر اور میرٹ پر پیروی کی جاتی تو شاید ہمیں آئی ایم ایف پیکیج کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔


ای پیپر