ایسے کیسے چلے گا؟
17 May 2019 2019-05-17

شراب کی بوتل پر کولڈ ڈرنک لکھ دینے سے وہ حلال ہو جاتی ہے کیا؟ چھ ارب ڈالر کیلئے ملک گروی رکھ دیا اب چھ ارب روپے کیلئے چوروں کو حرام کی دولت حلال بنانے کا قانونی جواز فراہم کردیا گیا، ڈیڑھ سو ارب کے آمدن سے زائد اثاثے ظاہر کئے گئے تو چھ ارب کا ریونیو اکٹھا ہوگا۔ ایک ایسی حکومت جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی ساکھ کھو رہی ہو، اس پر کوئی چور بھی کیسے اعتماد کرے گا؟ ایک سال کے عرصے میں دوسری ایمنسٹی پلس اسکیم لانے کا مقصد؟ کام سارے وہی کرنے تو پہلے حکمرانوں پر تنقید کیوں؟ آئی ایم ایف سے قرضہ آپ نے بھی لیا، بلکہ آپ نے تو قرض لینے کے سارے ریکارڈ ہی توڑ ڈالے، روپیہ آپ نے بالکل ہی بے قدر کردیا، بجلی گیس پٹرول ہر شے آپ نے مہنگی کردی، چوروں کو بچانے کیلئے اسکیمیں آپ بھی لے کر آرہے۔ چوکوں چوراہوں میں آپ کی تصاویر کے بڑے بڑے نمائشی بینرز آویزاں ہیں، شاہی پروٹوکول آپ کا ان سے بھی زیادہ، گورنر ہاؤسز میں دال دلیے کی افطاریوں پر کروڑوں کا خرچہ ہورہا، وزیراعظم ہاؤس کا بجٹ کتنا کم ہوا، کتنا بڑھا، یہ تو آئندہ حکومت ہی بتائے گی۔

کیا کمال کی اسکیم لائے ہیں، مطلب چور کا نام منظر عام پر لانے والے کو جزا کے بجائے سخت سزا دی جائے گی، چور ڈاکو کو مکمل تحفظ اور شرافت سے ٹیکس دینے والے تنخواہ دار طبقے کو ایف بی آر کی آئے روز دھمکیاں، جو جذبہ حب الوطنی کے تحت چند ماہ قبل فائلر بنے،ان سے معمولی سے معمولی اثاثوں کی منی ٹریل مانگی جارہی ہے، موزوں جواب نہ ملنے پر طرح طرح کی قانونی کارروائیوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،نوآموز ٹیکس فائلر ز کو ٹیکس نیٹ میں آنا مجرم ہونے جیسا لگنے لگا ہے، ایسے عدم تحفظ کے ماحول میں کون فائلر بننا پسند کرے گا؟ جو بندہ تنخواہ میں بمشکل گزارا کررہا اسے کس جرم کی سزا دی جارہی کہ وہ فائلر بن کر گوشوارے جمع کرانے کیلئے وکیلوں کے پیچھے پیچھے بھاگتا پھرے، فیسیں الگ سے ادا کرے۔مغرب میں پارٹ ٹائم کام کرنے والے اسٹوڈنٹ بھی ٹیکس دیتے ہیں، آن لائن ٹیکس ریٹرن جمع کراتے ہیں اور تین چار ہفتوں بعد ان کے اکاؤنٹ میں ساری رقم ٹرانسفر ہوچکی ہوتی ہے۔ یہاں زمینی حقائق کیا ہیں؟ لوئر مڈل کلاس تنخواہ دار طبقے کے مسائل کی کیا بات کریں، ہر شہری خواہ امیر ہو یا غریب ہر سانس لینے کا ٹیکس ادا کرتا ہے، لیکن ٹیکس ریٹرن ہونے کا تصور بھی گناہ سمجھتا ہے۔ موبائل فون کمپنیاں گزشتہ ایک دہائی میں کھربوں روپے کا ود ہولڈنگ ٹیکس وصول چکیں، بینک ٹرانزیکشنز پر اربوں کا ود ہولڈنگ ٹیکس وصولا جا چکا، کتنا ریٹرن ہوا؟ بڑی بڑی کمپنیوں کے کروڑوں روپے کے ٹیکس ریٹرن کے کیسز برسوں سے عدالتوں اور ایف بی آر کے درمیان پنڈولم کی طرح جھول رہے، سرکار نے ایک دھیلا ڈھیلا نہیں کیا۔ ایسی بے یقینی کے عالم میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کا کیسے سوچا جا سکتا ہے، جب ہر سال دو سال بعد ایمنسٹی اسکیم آہی جانی ہے تو کاہے فائلر بننے کا کشٹ اٹھائیں؟ جب تک جان ہے لوٹ مار کریں، جان پر بن آئی تو مل ملا کر لے آئیں گے کوئی ایمنسٹی اسکیم ،نکال لیں گے کوئی پلی بارگین کا راستہ۔ مریں گے تو وہی جو آج بھی نیم جان ہیں۔

نیب کے پاس کھربوں روپے کی کرپشن کے کیسز ہیں، کتنی ریکوری ہوئی؟ ریکوری کی رقم سن کر محسوس ہوتا ہے آٹے میں نمک کا تناسب کتنا زیادہ ہوتا ہے، اونٹ کے منہ میں زیرہ تو بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ روز کوئی نہ کوئی چار پانچ سو ارب کی کرپشن میں دھر لیا جاتا ہے، ڈرائی کلینگ کیلئے سال چھ مہینے جیل بھی بھیج دیا جاتا ہے، خزانے میں کیا آتا ہے؟ ٹھینگا؟ کدو؟ الٹا سرکاری وکیلوں کا ٹی اے ڈی ریکوری سے تجاوز کرجاتا ہے۔ ایسے کیسے چلے گا؟ کب تک نئی نئی اسکیمیں بنائی جاتی رہیں گی، کرپشن کو قانونی تحفظ دیا جاتا رہے گا، انسداد بدعنوانی کے نام پر بدعنوانی کو فروغ دیا جاتا رہے گا۔ وہ چوروں کو نہ چھوڑنے کے وعدے کئے تھے کسی نے، وہ وعدے کیا ہوئے؟

حکومت کا ایجنڈا کیا ہے، معاشی اہداف کیا ہیں، حکمت عملی کیا ہے، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ دن پورے کرنے کی حکمت عملی کب تک چلے گی؟ ملکی تاریخ میں اس قدر جلدی کوئی حکومت اتنا غیر مقبول نہیں ہوئی۔ دعوے سے کہتا ہوں ، آج اصلی ریفرنڈم کرالیا جائے، کپتان کو 20 فیصد ووٹ لینے کیلئے بھی 30 پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔لیکن اس وقت تو اپوزیشن جماعتوں کو اپنی اپنی پڑی ہے، سب کسی نہ کسی طرح کے این آر او کے چکر میں ہیں، حزب اختلاف کے قائدین روز عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں، دو دو ہفتے کی ضمانتیں کرا رہے ہیں، ضمانتوں میں توسیع کرارہے ہیں، فی الحال لگتا نہیں وہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا ایڈونچر کریں گے۔ جبکہ عوام مہنگائی غربت بے روزگاری سے بستر مرگ پر ہیں، سابق حکمرانوں سے تنگ ووٹر موجودہ حکومت سے بھی مایوس ہوچکا، وہ پریشان ہے، جائے تو کہاں جائے، کس سے منصفی چاہے۔ عید کے بعد گرمی اور سیاسی پارا بڑھے گا، ایسے میں حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے موثر اقدامات نہ کئے تو بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی، حکومت شاید گھر نہ جائے ، لیکن ملک کئی دہائیاں پیچھے چلا جائے گا۔ آئندہ حکومت کو واقعی نیا پاکستان بنانا پڑے گا۔

کنٹینر پر تقریروں میں عمران خان صاحب نے ہمیں بتایا تھا، جب عادل اور قابل اعتماد حکمران آئے گا تو عوام ٹیکس دینے سے نہیں گھبرائیں گے، کیونکہ وہ جان جائیں گے کہ ان کا پیسہ چوری ہو کر باہر نہیں جائے گا بلکہ ان پر ہی خرچ ہو گا، عادل حکمران چوروں کو بچانے کیلئے ایمنسٹی اسکیمیں نہیں لائے گا، قرضے لے کر قوم کو بھکاری نہیں بنائے گا، قوم سے جھوٹ نہیں بولے گا، مہنگائی نہیں کرے گا، امیر غریب کیلئے ایک قانون ہوگا، سب کو انصاف ملے گا، مفت علاج ہوگا، کسی کو علاج کیلئے باہر نہیں جانا پڑے گا، گرین پاسپورٹ کی دنیا میں عزت ہوگی۔ عوام کا انتظار کب ختم ہوگا؟ وہ عادل حکمران کب آئے گا؟ مہنگائی بے روزگاری، غربت فوری ختم نہیں ہوسکتی، یہ بات تو سمجھ میں آتی تھی ، ہم خود کو فریب دے لیتے کہ آپ ہی وہ عادل حکمران ہیں، لیکن قرضوں کے تاریخی ریکارڈ بنانے والا، قوم کو بھکاری بنانے والا، چوروں کو قانونی تحفظ دینے والا عادل اور قابل اعتماد حکمران نہیں ہوتا، یہ ہمیں آپ نے ہی سمجھایا تھا۔ اور اب جبکہ آپکو اتنی جلدی ایمنسٹی کی ولائتی شراب کی بوتل پر اثاثے ظاہر کرنے کی دیسی کولڈ ڈرنک کا لیبل لگا کر مارکیٹنگ کی ضرورت آن پڑی ہے تو اس کا مطلب ہے آپ خود بھی تسلیم کرچکے، آپ کنٹینر پر بیان کئے گئے وہ تصوراتی حکمران نہیں ہیں۔


ای پیپر