بھرتیاں بطور سیاسی ہتھیار ؟
17 May 2019 2019-05-17

سندھ میں صوبائی محکمہ اینٹی کرپشن سرگرم ہو گیا ہے۔ دادو میں گزشتہ سال تقریبا دو لاکھ گندم کی بوری گم ہوجانے پر محکمہ خوراک کے ضلعی افسران اور فلو مل مالکان کے خلاف الگ الگ آٹھ مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔خردبرد کی گئی گندم کی مالیت پچپن کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ اس سے قبل سکھر میں نیب نے محکمہ خورا کے بعض گوداموں پر دس لاکھ بوریوں کی پراسرار گمشدگی پرچھاپے مارے تھے اور انہیں سیل کیا تھا۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاسوں میں میڈیا کے نمائندوں کی موجودگی پر پابندی عائد کردی گئی ہے سندھ ا سمبلی کی روایات رہی ہیں کہ میڈیا کے نمائندے اس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن بھی موجود نہیں۔ لہٰذا کمیٹی میں صرف حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی ہی موجود تھے۔

’’سرکاری ملازمتوں میں دیر کیوں ؟‘‘ کے عنوان سے’’ روز نامہ پنہنجی اخبار‘‘ لکھتا ہے کہ بالآخر حکومت سندھ نے گریڈ ایک سے چار تک کی بھرتیاں کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم گریڈ پانچ سے پندرہ تک کے بارے میں مخمصے کا شکار ہے۔ ان بھرتیوں کے لئے کچھ عرصہ قبل ضلع اور صوبائی سطح پر کمیٹیاں قائم کی گئی تھی، لیکن بعض اعتراضات آنے پر یہ کمیٹیاں ختم کردی گئی۔ سرکاری ملازمتوں میں بھرتی میں دیر کی وجہ سے صوبے میں بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ماضی میں متعدد بار اخبارات میں ملازمتوں کے اشتہار دے کر ہر امیدوار سے سینکڑوں روپے خرچ کرائے گئے۔ جبکہ امیدواروں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ یوں مجموعی طور پر سندھ کے بیروزگاروں کی جیب سے کروڑوں روپے نکال لئے گئے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کونسی قانونی رکاوٹ ہے؟ جو حکومت کو یہ نیک کام کرنے سے روکے ہوئے ہے۔ ایسے میں یہ خدشات پیدا ہونا فطری ہے کہ ملازمتیں سیاسی بنیادوں پر تقسیم کی جائیں گی۔ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ کس ایم این اے اور ایم پی اے کو کتنی ملازمتیں دی جائیں۔ سندھ میں میرٹ کا سوال ہمیشہ مار کھاتا رہا ہے۔ اس میں کسی اور کا نہیں بلکہ حکومت وقت کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ جب نوکریاں پیسوں، رشوت، سفارش اور اثررسوخ کی بنیاد پر ملنے کا رواج عام ہو، پھر یہ تاثر کیوں نہ پختہ ہو کہ سندھ حکومت میرٹ پر نہیں بلکہ اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لئے ملازمتوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سندھ حکومت کے پاس یہ بہترین موقعہ ہے کہ وہ میرٹ کو نظر انداز کرنے کے تاثر کو رد کرے۔ ایک نئی اور بہترین مثال قائم کرے، اگر اس مرتبہ سیاسی بھوتاروں کو نوازنے کے بجائے میرٹ پر اور عام آدمی کو ملازمتیں دی گئیں، تو کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔۔

روزنامہ کاوش لکھتا ہے کہ محکمہ صحت کی انتظامیہ نے سندھ کے لوگوں بشمول بچوں اور خواتین ، جس طرح ایچ آئی وی ایڈز کے حوالے کیا ہے اس کے لئے مجرمانہ غفلت بہت ہی چھوٹی اصطلاح ہوگی۔محکمے کے عقل سے خالی انتظامیہ نے ایک پوری نسل کو قبرستانوں کے حوالے کرنے کا بندوبست کردیا ہے۔ صرف رتوڈیرو کے علاقے میں تصدیق ہو چکی ہے کہ چار سو افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ جبکہ تھر تک اس مرض کے کیس سامنے آئے ہیں۔ اتنے دنوں کے بعد سیکریٹری بہادر نے لاڑکانہ پہنچنے کی زحمت کی۔اور چانڈکا ہسپتال میں ایچ آئی وی میں مبتلا بچوں کے علاج کے مرکز کا افتتاح کیا۔ ان کی روانگی کے بعد اس سینٹر کو تالے لگ گئے۔ جب یہ حالت ہو، افسرشاہی کی قبیل سے عوام کے بھلے کی کس طرح سے امید کی جاسکتی ہے؟

محکمہ صحت کی کارکردگی دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ محکمہ سندھ سے آبادی کا بوجھ کم کرنے کا کام کررہا ہے۔ سندھ میں ایڈز کنٹرول کا پروگرام کئی برسوں سے چل رہا ہے۔ ہر سال بجٹ بھی جاری ہوتا ہے۔ پھر یہ رقم کہاں گئی؟ عطائی ڈاکٹر ہر ضلع میں موجود ہیں۔ لاپروائی اور صحت کے اصولوں پر عمل نہ کرنے والے نائیوں کی دکانیں ہر شہر میں موجود ہیں۔ غیر محفوظ اور بار بار استعمال ہونے والے اوزاروں سے بچوں کا ختنہ کرنے والے بھی ہر ضلع میں موجود ہیں۔خون دینے اور لینے کے معاملے میں صحت کے اصولوں کی پابندی کرنے والے بلڈ بینک بھی ہر ضلع میں ہیں۔ قصہ یہ ہے کہ عوام میں آگاہی کی مہم کہیں بھی بھرپور طریقے سے نہیں چلائی گئی ہے۔ سندھ کو اس حالت پر پہنچانے کا کس کو قصوروار ٹھہرایا جائے؟ گزشتہ گیارہ سال سے تو یہاں پر پیپلزپارٹی کی حکمرانی ہے۔

ایڈز اور میڈیا میں اس کی کوریج کے بارے میں روزنامہ کاوش نے بھیشم کوٹک کاایک معلوماتی کالم شائع کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ایڈز میں مبتلا ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ لمبی عمر، خوش اور اچھی زندگی نہیں گزار سکتے۔ یا آپ سے جینے اور علاج کا حق چھینا جاسکتا ہے۔ ہر ملک کا قانون اس کے شہری کو جینے کا حق دیتا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کے لئے سزا مقرر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس قانون پر عمل کتنا ہوتا ہے۔ان مریضوں کے حقوق کی کون اور کتنی بات کرتا ہے؟

ایڈز اور ایچ آئی وی سے بچنے اور اس کے علاج سے متعلق سندھ کے قانون مجریہ 2013 کے سیکشن 8 کے مطابق وہ سب ادارے جن کے پاس ایڈز کے شک یا بیماری میں مبتلا شخص کا ریکارڈ ہو، اس پر لازم ہے کہ اس شخص کا نام، اور شناخت سے لیکر کسی بھی سطح کی رپورٹ کو راز میں رکھے ۔ اس شخص کی تحریری اجازت کے بغیر اس کا علاج اور صحت کا ریکارڈ کسی اور سے شیئر نہیں کرسکتا، ان حالات کا ریکارڈ صرف عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ عدالت یہ ریکارڈ راز میں رکھے گی اور عام نہیں کرے گی۔ اس ایکٹ کے تحت کوئی بھی ادارہ ایڈز کے مرض میں مبتلا شخص کی شناخت، یا صحت کے بارے میں معلومات مریض کی مرضی کے بغیر شائع نہیں کر سکتا۔اس مریض کے خلاف پروپیگنڈا کا بھی حق نہیں رکھتا۔ کوئی بھی شخص یا ادارہ اگر اس ایکٹ کی خلاف ورزی کرے گا ، اس کے لئے پچاس ہزار روپے سے لیکر دو لاکھ روپے تک کے جرمانہ کی سزا مقرر ہے۔ اس قانون میں یہ بھی واضح ہے کہ اس مریض کے لئے صحت کی سہولت میں دیر یا انکار کرنے کی صورت میں اس مریض کا مرض بڑھنے یا موت واقع ہونے کی صورت میں علاج کی سہولیات مہیا نہ کرنے والے ادارے یا شخص پاکستان پینل کوڈ کے تحت سزا دی جاسکتی ہے۔


ای پیپر