اخلاقی اقدار کا جنازہ۔۔۔ کون بھگتے گا خمیازہ
17 May 2019 2019-05-17

کل بازار جانا ہوا تو راستے میں کئی عجیب چیزیں دیکھنے کو ملیں، کہیں اکیلی جاتی لڑکیوں کے ساتھ لڑکے مستی کرتے نظر آئے تو کہیں بوڑھے سبزی فروش سے ایک عورت بھائو تائو پرتلخ کلامی کررہی تھی۔ تھوڑا آگے دیکھا تو بائیک اور گاڑی والا آپس میں دست و گریباں تھے۔ کپڑوں کی دکان میں داخل ہوئی تو ایک بیٹی اپنی ماں سے نہایت بدتمیزی سے بات کرتی نظر آئی باہر نکلی تو شورمچا تھا ایک چورکسی لڑکی کا پرس لے کر بھاگ گیا اوروہ چِلاّ رہی تھی۔اس ایک گھنٹے میں دل اتنا گھبرایا کہ کچھ خریدے بغیر ہی واپس آگئی۔آتے ہوئے سوچا استاد جی سے ملاقات ہوجائے۔ وہ اپنے صحن میں مرغیوں کو دانہ ڈالتے نظر آئے۔مجھے بڑی حیرت تھی جب بھی دیکھو یا تو نماز قرآن یا تدریس یا کوئی اور مشغلہ کبھی ٹی وی اور موبائیل کو ان کے قریب نہیں دیکھا۔ استاد جی کو سلام کہنے کے بعد ادھر ہی چارپائی پر بیٹھ گئی اور بے ساختہ پوچھا۔

استاد جی ایک بات سمجھ نہیں آتی زمانہ کہاں سے کہاں چلا گیا ہے آج کل تو کوئی بھی انٹرنیٹ ٹی وی اور موبائیل کے بغیر نہیں رہ سکتا پھر پرانے وقتوں میں لوگ ان چیزوں کے بغیر کیسے رہ لیتے تھے؟

استاد جی زیِر لب مسکرائے اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

بچہ جی بالکل ویسے ہی جیسے آج لوگ اخلاق، انسانیت،مروت اور خلوص کے بغیر رہتے ہیں۔ میں نے استاد جی سے پوچھا کہ آخر ہم ادب اور اخلاق اب کہاں سے سیکھیں

استاد جی گھمبیر آواز میں بولے !

‘بچہ جی اخلاق سیکھنا ہے تو علمائے کرام اور دین دار لوگوں کی صحبت میں بیٹھو’

یہ کہہ کر وہ اپنے کام میں مشغول ہوگئے اورمیں سوچ کے سمندر میں غرق ہوگئی بات کوئی ایسی مشکل بھی نہ تھی ابھی بازارسے میں جو دیکھ کر آرہی تھی وہ سب کیا تھا یہی تو تھا؟

ہمارے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے انٹرنیٹ بھی اورجدید آلات بھی لیکن دیکھا جائے تو ہم اخلاق، مروت،شرم اوراحساس کے بغیر جی رہے ہیں۔

گھریلو، سماجی یا پھرعالمی سطح بحیثیت قوم ہماری اخلاقی برائیوں کی وجہ سے ہم نے اپنا اعتبار کھو دیا ہے۔ دنیا میں ہماری کوئی عزت ہے اورنہ ہی ہم پر کوئی اعتبار کرتا ہے؟

ذرا غور کریں، پاکستان بننے سے آج تک اس ملک میں کون سی اقدار کی پاسداری کی گئی ہے؟

کوئی ایسی حکومت جس نے معاشرے اور قو م کی اخلاقی اقدار کی بہتری کے لیے کوئی کام کیا ہو؟

یہ اخلاقی تربیت کس نے کرنی ہے؟ والدین، اساتذہ، تعلیمی ادارے، میڈیا،علما یا سیاسی رہنما؟

لیکن یوں لگتا ہے کہ سب نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ضرورلاپرواہی کی ہے جس کی وجہ سے معاشرتی بگاڑ میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں لگتا ہے سارے عوامل نے مل کر ایک ایسی نسل تیار کردی ہے جس کا خاصہ بد زبانی، خود غرضی،عدم برداشت اور بے مروتی ہے۔ اس کا عملی نمونہ آپ سوشل میڈیا پر تو آئے روز دیکھتے ہی رہتے ہیں بلکہ حیرت تو اس بات کی ہے کہ کئی لوگوں اور پیجز کو تو باقاعدہ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے باقاعدہ فنڈز ملتے ہیں گالیاں نکالنے کیچڑ اچھالنے اور بد زبانی کرنے کے۔ جس ملک کے لیڈرز ایوانوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو گالیاں دیں، اپنی کرپشن بچانے کے لیے ایک دوسرے کی بہنوں بیٹوں کی چادریں اچھالیں۔اس کے عوام سے آپ کس قسم کے اخلاق کی توقع کر سکتے ہیں؟

یہاں آکر مجھے اچانک استاد جی کی بات آئی کہ اخلاق سیکھنے کے لیے علما ئے کرام کی صحبت میں بیٹھو۔ واقعی یہ بات سچ لگی کیونکہ قیام پاکستان سے لے کرآج تک جتنے بھی علما یا دینی جماعتوں کے ممبران سینٹ اورقومی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے وہ کسی بھی ایشو یا قرارداد پیش کرنے کے موقع پرکبھی بھی اخلاق اورادب کے دائرہ کار سے باہر نہیں ہوئے۔ ان کی گفتگو ہمیشہ اخلاقیات کے دائرے میں رہی۔ اس کے

مقابلے میں باہرکی یونیورسٹیوں اور بڑے بڑے اداروں کے تعلیم یافتہ اسمبلی فلور پر ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے اور ایک دوسرے کی عزت اچھالتے نظر آئے یہ بات واقعی دونوں لحاظ سے ایک ریکارڈ ہے۔

باقی جہاں تک بار رہی اخلاق کی تو کسی بھی ملک کی ترقی اورخوشحالی میں اخلاقی اقداروروایات کی بہت زیادہ اہمیت ہے اگر آپ میں اخلاق مروت برداشت نہیں تو پھر آپ کس طرح کسی بھی چیز میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہرجا بے ایمانی، ملاوٹ، رشوت،دھوکہ ، قانون شکنی اورہوس کے ڈیرے ہیں اور یہ برائیاں حکمرانوں سے لے کر عوام تک موجود ہیں۔

آخر اتنے مکمل دین اور اتنی عظیم ہستی نبی آخر الزمانؐ کے امتی ہونے کے باوجود ہمارا ایسا امیج کیوں بن گیا ہے؟ کیونکہ ہم اپنی اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں۔ ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے،ہماری رگ رگ میں جھوٹ کا زہر سرایت کر گیا ہے۔ ہم تو اس نبیؐ کے امتی ہیں جنہوں نے ان کے راستے میں کچرا پھینکنے والوں کی خبرگیری اور پتھر مارنے والوں کے لیے ہدایت کی دعا کی۔ آپؐ کی حیات طیبہ ایسے ہزارہا واقعات سے بھری پڑی ہے جن کو ہم مشعل راہ بنا کر اس معاشرے کو سنوار سکتے ہیں۔

خود اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی آخر الزماں کے اخلاق مبارکہ کوعظیم قرار دیا ہے جبکہ حضور پاکؐ نے اپنے ارشادات میں اخلاق حسنہ کو اپنانے کی ہمیں بھی تلقین فرمائی ہے

حضور پاک نے ارشاد فرمایا کہ اکمل المومنین ایماناا حسنھم خلقا (ابو داو۔د ترمزی)

ترجمہ:کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں

لیکن افسوس ناک حقیقت ہے کہ ہمارا رویہ اسلامی تعلیمات اور اسوہ رسولؐ سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا اور اکثریت اخلاق و کردار سے بالکل عاری ہے۔وہ تمام اخلاقی برائیاں جو زمانہ جاہلیت میں پائی جاتی تھیں وہ ہم میں موجود ہ ہیں۔ یاد رکھیں جب تک ہم مسلمان اپنے اخلاق کو نہیں سنواریں گے اور ہماری زندگیاں اسلام کی تعلیمات کا عملی نمونہ نہیں پیش کریں گی اس وقت تک ہم ترقی نہیں کر سکتے۔

اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و سنت سے رہنمائی لیں اور اپنی زندگی کو سنواریں۔ والدین،تعلیمی اداروں اور میڈیا کو بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا جو اصلاح معاشرہ کیلئے نمایاں خدمات انجام دے سکتا ہے۔جبکہ علمائے کرام کی اہمیت کو تسلیم کیے بغیراور اس ضمن میں ان کے کردار کو نظر انداز کر کے ہم معاشرے کو اخلاقی بنیادوں پرکھڑا نہیں کر سکتے۔ اس وقت پاکستان میں غربت اور دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کی بحالی بھی انتہائی اہم ہوگئی ہے تاکہ ہم اقوام عالم میں اپنا کھویا وقار بحال کر سکیں۔


ای پیپر