Photo Credit INP

نواز شریف کے متنازع بیان پر پارٹی اراکین پھٹ پڑے,مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی
17 مئی 2018 (19:49) 2018-05-17

اسلام آباد :پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی موجودگی میں ارکان اسمبلی نے پارٹی صدر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر زور دیا کہ وہ نواز شریف کے بیانیے میں نرمی پیدا کریں، بالخصوص ڈان اخبار کو ممبئی حملوں سے متعلق دیئے گئے انٹرویو کے بعد (ن) لیگ کی پوزیشن پر منفی اثرات پڑے ہیں لہٰذا اس صورتحال سے پارٹی کو نکالنے کےلئے فوری طور پر اہم فیصلے کئے جائیں جبکہ وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز اور گجرات سے قومی اسمبلی کے رکن چوہدری عابد رضا نے کہا کہ نواز شریف کے بیانیے کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں اس بیانیے کی وجہ سے ہی مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک برقرار ہے جبکہ اجلاس میں سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان کی عدم شرکت پر بھی ارکان نے تشویش ظاہر کی اور انہیں پارٹی کے اجلاسوں میں دوبارہ بلانے کا پرزور مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا، جس میں پہلی مرتبہ پارٹی سربراہ کے طور پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو شرکت کی دعوت دی گئی، اجلاس میں اویس لغاری ، عبدالرحمان کانجو سمیت جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے دیگر ارکان نے تجویز دی کہ نواز شریف کے بیانیے میں نرمی لائی جائے، بالخصوص ممبئی حملوں سے متعلق جو انٹرویو ڈان میں شائع ہوا ہے اس سے مسلم لیگ (ن) کے بارے میں ایک منفی تاثر پیدا کیا جا رہا ہے لہٰذا پارٹی صدر کی حیثیت سے شہباز شریف صاحب آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے پر فوری توجہ دیں اور نواز شریف سے بات کر کے بیانیے میں نرمی پیدا کروائی جائے۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا کہ وہ آزاد حیثیت سے جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے تھے اور پارٹی کے ساتھ ہیں، عبدالرحمان کانجو نے کہا کہ جہانگیر ترین کی نا اہلی کے بعد لودھراں کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی اور ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ درست ہے مگر متنازعہ بیانات سے گریز کرنا چاہیے، دانیال عزیز نے کہا کہ نواز شریف کو بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں، ہم اس مرحلے میں پہنچ چکے ہیں کہ کچھ بھی کرلیں اور بیانیہ تبدیل بھی کرلیں تو ہمارے بارے میں جو پالیسی بنا لی گئی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی.

چوہدری عابد رضا نے کہا کہ جب سے میں نے نواز شریف کا گجرات میں تاریخی جلسہ کروایا ہے، میرے خلاف انتقامی کاروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور مجھ پر چلنے والے مقدمے میں تیزی لائی جارہی ہے لیکن ان سب کے باوجود ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہم پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ فیصل آباد سے مسلم لیگ (ن) کے رکن میاں عبدالمنان نے کہا کہ آج چوہدری نثار علی خان کو یہاں ہونا چاہیے تھا، شہباز شریف صاحب آپ انہیں اپنے ساتھ رکھیں اور انہیں لے کر آئیں، سرگودھا سے رکن قومی اسمبلی شفقت بلوچ نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان پارٹی کے سینئر رہنما ہیں، انہیں پارٹی میں ایکٹو ہونا چاہیے اور پارلیمانی پارٹی ان کے بغیر نا مکمل ہے، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان پارٹی میں ہیں اور پارٹی کے ساتھ رہیں گے، انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ چوہدری نثار علی خان اس وقت عشراک کے نوافل ادا کررہے ہوں، جس پر سرگودھا سے قومی اسمبلی کے رکن حامد حمید نے کہا کہ چوہدری صاحب فرض چھوڑ کر نفل کیوں پڑھ رہے ہیں انہیں پہلے فرض پر توجہ دینی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد ایک نوجوان رکن قومی اسمبلی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں خطاب کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، اگر دیا جاتا تو وہ یہ کہتے کہ آج کے اجلاس میں نواز شریف کو بھی موجود ہونا چاہیے تھا اور میں یہ کہتا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو نواز شریف کے پاس جا کر کہتے ہیں کہ ان کا بیانیہ صحیح ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے اور وہی لوگ جب شہباز شریف کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ نواز شریف کا بیانیہ تبدیل کروائیں، ہمیں مفاہمتی پالیسی پر مبنی آپ کا بیانیہ درست لگتا ہے، ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر