نئے پاور بروکرز اور سندھ
17 مئی 2018 2018-05-17

پاکستان میں اچانک نئے پاور بروکرز کا ظہور نظر آتا ہے۔ سندھ میں علی قاضی نے تبدیلی پسند پارٹی بنا لی۔ پیپلزپارٹی کے سپریمو آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ذوالفقار مرزا نے بدین میں بہت بڑا شو کر کے صوبے میں حکمران جماعت کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کا اعلان کردیا۔ ایک طویل عرصے تک امریکہ میں رہائش پزیر سابق طالب علم رہنما اقبال ترین نے بھی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی بنا لی۔ خیبرپختونخوا سے منظور پشتین اٹھا ہے جو پختونوں کے حقوق اور ان کے درد کی داستان لئے ہوئے ہے۔ بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی بن گئی۔ پنجاب میں پہلے مذہبی بیانیے کے ساتھ لبیک یا رسول اللہ پارٹی اٹھی، لیکن بعد میں اس کی پزیرائی کو کم کیا گیا۔ اس کے بجائے جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبے کے نعرے کے ساتھ سرائیکی محاذ سامنے آیا ۔ جس نے اب تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ دو عشروں سے تحریک انصاف تبدیلی کے نعرے کے ساتھ موجود تھی۔
یہ تمام مظاہر ملک کے اندر معاشی، سیاسی اور سماجی تبدیلی کا اظہار کرتے ہیں۔ گزشتہ چار عشروں کے دوران شہری آبادی بڑھی ہے۔یہ شہری طبقہ خود کو متوسط طبقے کے طور پر اپنی شناخت کراتا ہے۔یعنی ملک کے اندر بڑے پیمانے پر متوسط طبقہ وجود میں آیا ہے۔ یہ طبقہ ایک ’’ نئے پاکستان‘‘ کا خواب دیکھتا ہے۔ یہ متوسط طبقہ ہی نہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال نے بھی کردار ادا کیا۔
یہ سب کچھ راتوں رات یا صرف گزشتہ پانچ سال کے عرصے کے دوران نہیں ہوا۔ اس کے آثار 2013 ء کے الیکشن کے موقع پر بھی نظر آرہے تھے۔ لیکن اس کا موثر اور بھرپور طریقے سے اظہار نہیں ہو سکا تھا۔ تب امریکہ افغانستان سے فوجوں کا انخلاء چاہ رہا تھا۔ امریکہ کی خواہش تھی کہ ان کی فوجوں کے انخلاء کے بعد پاکستان صورت حال سے نمٹ لے گا۔ لیکن چین کی خطے میں جارحانہ انداز میں داخلے نے معاملے کو الجھا دیا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ امریکہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود پاک افغانستان معاملات نہیں بن پا رہے ہیں، خطے میں چین کا اثر نفوذ بڑھ رہا ہے، بظاہر لگتا ہے کہ امریکہ کا اثر کم ہوا ہے۔ پاکستان امریکہ کے بجائے اب متعدد معاملات میں امریکہ کے بجائے چین کی طرف دیکھنے لگا ہے۔ نئے دائروں میں اتحاد بن رہے ہیں۔ بھارت، افغانستان اور امریکہ کی قربت ہے۔ ایران کا امریکہ سے تنازع ہے لیکن بھارت اور ایران دوست ہیں۔
2013ء کے انتخابات کے بعد کا منظر نامہ کچھ اس طرح تھا کہ نواز شریف کی حکومت مکمل عسکری اور بیوروکریسی کی حمایت سے بنی۔ تحریک ا نصاف مسلم لیگ فنکشنل، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان ، محمود اچکزئی کی پختونخوا عوامی ملی پارٹی، ایم کیو ایم حلقۂ اقتدار میں شریک ہوئیں۔ یہی صورت حال بلوچستان کی رہی، صوبے میں کشیدگی کے باوجود متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کو شریک اقتدار بنایا گیا۔ یعنی ملک میں موجود پرانی اور مین سٹریم
سیاسی جماعتوں کو شریک اقتدار کیا گیا۔ سیاسی اشرافیہ بظاہر ڈرائیونگ سیٹ پر رہی۔ لیکن وہ اندرونی اور بیرونی حقیقی قوتوں کی ماتحت اور دباؤ میں رہی۔ دوسری طرف یہ بھی ہوا کہ اس سیاسی منظر نامے میں لبرل اور ترقی پسند قوتیں دباؤ میں رہیں۔ کہ کسی طرح سے وہ حلقہ اقتدار سے باہر رہیں۔ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی تاحال سندھ میں پوزیشن رکھتی ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے ان دونوں کا تعلق ایک ایسے صوبے سے ہے جس کی اقتدار کے نئے ڈھانچے میں کوئی جگہ نہیں۔ پنجاب ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اہم کردار رہے ۔ سندھ اس دائرۂ اقتدار میں دور کے نقطے کی طرح رہا۔ سندھ میں اہم مسئلہ قیام امن رہا۔ صوبے کے دارالحکومت کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا گیا۔ اور پیپلزپارٹی پر بھی کرپشن وغیرہ کے مقدمات قائم ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبے میں رینجرز کی تعیناتی اور کراچی کے ساتھ صوبے بھر میں آپریشن کرنے کی دھمکی کے معاملات سر فہرست رہے۔ پیپلزپارٹی لوگوں کو کچھ دینے کے بجائے خود کو بچانے میں مصروف رہی۔ یہاں تک کہ ہر سال بجٹ میں ملازمتوں کے اعلان کے باوجود کوئی ملازمت نہیں دے سکی۔
یہ منظر نامہ بتاتا ہے کہ ملک میں موجود تمام مین سٹریم سیاسی جماعتوں کو شریک اقتدار کیا گیا۔ لیکن یہ جماعتیں نئے حقائق اور طبقے کو اپنے اندر سمو نہ سکیں۔ ان کے مطالبات اور ضروریات کو ایڈریس نہ کر سکیں۔ ان پارٹیوں کو صورت حال کا ادارک کم تھا یا ان میں صلاحیت نہیں تھی یا پھر وہ اپنی جماعتوں کو کلوزڈ کلب کے طور پر چلا رہی تھیں۔ ان سیاسی جماعتوں کے تنظیمی ڈھانچے خواہ پالیسیوں میں پرانے طبقات ہی حاوی رہے۔ لہٰذا اب ملک کی سیاست میں ان طبقات کو رول دیا جارہا ہے جو شریک اقتدار نہیں رہے یا پھر جن کو یہ پارٹیاں اپنا نہ سکیں۔ اس کی مختلف صوبوں میں مختلف اشکال سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ستر اور اسی کے عشرے میں بڑے پیمانے پر پاکستانی بیرون ملک رہائش پزیر ہوئے۔ وہاں پر انہوں نے ملازمتیں یا چھوٹے موٹے کاروبار کئے۔ اب وہ پاکستان میں بعض چیزیں بیرون ملک کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی امر اہم ہے کہ وہ اب فکر روزگار سے بھی فارغ ہیں۔ تحریک انصاف اور سندھ میں بننے والی اقبال ترین کی پارٹی زیادہ تر سمندر پار پاکستانیوں کے خیالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ سندھ میں علی قاضی کی تبدیلی پسند پارٹی اور اقبال ترین کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی بنیادی طور پر نئے شہری طبقے کی نمائندگی کرتی ہیں اور دونوں براہ راست اقتدار کی سیاست کرنا چاہتی ہیں۔ اس لئے آئندہ انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔ اقبال ترین طالب علمی کے زمانے میں قوم پرست رہے ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو بیرون ملک سے وطن لوٹنے والوں اور بعض ریٹائرڈ افسران کی حمایت حاصل ہے۔
ذوالفقار مرزا نے پارٹی نہیں بنائی، وہ کسی پارٹی میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔ گزشتہ روز بدین میں ایک بڑا سیاسی شو کیا۔ ان کی بیگم رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے پیپلز پارٹی سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ اور کہا کہ اب وہ اس سیاسی جماعت میں جائیں گی جو سندھ اور بدین کے عوام کو پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی یقین دہانی کرائے گی۔ ذوالفقار مرزا اور ان کی بیگم سندھ میں پیپلزپارٹی سے ناراض حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ان کا زیادہ تر فوکس سندھ کی دیہی آبادی رہے گی۔ وہ پیپلزپارٹی کے مخالفین سے اتحاد کرکے ملک گیر پارٹی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ تبدیلی پسند پارٹی اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی عین انتخابات کے موقع پر میدان میں آئی ہیں۔ ابھی ان کا تنظیمی نیٹ ورک بھی صحیح معنوں میں نہیں بن سکا ہے۔ اس کے علاوہ انتخابی مہم بھی بمشکل چھ ہفتے کی ہوگی۔ اس مختصر مدت میں لوگوں کو موبلائز کرنا اتنا آسان کام نہیں ہوگا۔
دوسرے صوبوں میں نئی پارٹیوں اور نئے طبقات کواقتدار اور اختیار میں نمائندگی مل سکتی ہے لیکن سندھ میں صورت حال میں کوئی بڑی تبدیلی خارج از امکان لگتی ہے۔ مستقبل میں ابھرنے والے اقتدار کے ڈھانچے میں سندھ کی اہمیت وہ رہے گی جو 2013ء کے انتخابات کے بعد تھی۔ ممکن ہے کہ یہ نئے پاور بروکر انتخابی نتائج پر زیادہ تراثر انداز نہ ہو پائیں۔ لیکن پیپلزپارٹی اور دیگر مین سٹریم پارٹیوں کو یہ ضرور پیغام مل سکتا ہے کہ وہ اپنی پالیسیاں اور تنظیمی ڈھانچہ تبدیل کریں اور نئے طبقوں کو اپنے اندر سمو لیں۔


ای پیپر