ہما ر ا تجارتی خسا ر ہ اور اس کا سبب
17 مئی 2018 2018-05-17

ایک مر تبہ نہیں بلکہ کئی مر تبہ لکھ چکا ہو ں کہ وطنِ عزیز کی اگر معا شی صو ر تِ حا ل کو بہتر کر نا ہے تو یہاں کی در آمدا ت اور برآمدات میں توازن قائم کرنا ہو گا۔ لیکن اس ملک کو تو نقا ر خا نہ بنا دیا گیا ہے او ر نقا ر خا نے میں بھلا طو طی کی آ و ا ز کو ن سنتا ہے۔ایک ما ہ پہلے ہی تحر یر کیا تھا کہ گز شتہ نو ما ہ کے دو ر ا ن بر آ مد ا ت میں تیر ہ فیصد جبکہ در آ مد ا ت میں ستر ہ فیصد ا ضا فہ ریکا ر ڈ کیا گیا ہے۔ اور ا ب جبکہ رو ا ں ما لی سا ل کو شر و ع ہو ئے دس ما ہ گز ر چکے ہیں تجا ر تی خسا رہ تیس ارب سے بھی ز یادہ ہو چکا ہے۔یا د دلا نے کی ضر ور ت ہے کہ رو ا ں ما لی سا ل کے لیے حکو مت نے تجارتی خسارے کا ہدف 25 ارب 70 کروڑ ڈالر رکھا تھا۔ رواں مالی سال میں جولائی تا اپریل برآمدات میں 14 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اس عرصے میں برآمدات کا حجم 9 ارب 20 کروڑ ڈالر ہوگیا، لیکن دوسری جانب درآمدات کا حجم 6 ارب 10 کروڑ ڈالر اضافے کے ساتھ 49 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا اور یہ رواں سال کے مجموعی ہدف سے زائد ہے۔یہی و ہ تصو یر ہے جو ظا ہر کر تی ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی دوسرے ممالک کے ساتھ ہماری تجارت زرِ مبادلہ کے ذخائر پر سب سے بڑا بوجھ بنی ہوئی ہے۔ حکومتی سطح پر کی گئی کوششوں کے نتیجے میں مذکورہ مدت میں برآمدات میں کچھ اضافہ تو ہوا لیکن ہم نے اس سے زیادہ چیزیں درآمد کرلیں اور یوں یہ اضافہ تجارتی خسارے کے لق و دق صحر ا میں کہیں کھو گیا۔ کچھ عرصہ قبل پا کستا ن میں ہو نے وا لی معا شی تبدیلی کو سراہا جارہا تھا ، اس کو نا جا ئز طو ر پر سہر اہے جا نے کا بیڑا سا بق وفا قی و ز یرِ خز ا نہ غلا م ا سحق ڈا ر نے ا ٹھا یا ہو ا تھا۔ اب ا ن کے غبا ر ے میں پھو نکی گئی ہو ا نکل ر ہی ہے۔ مگر حسا س سو ا ل تو یہ ہے کہ اس لمبے چو ڑے خسا رے کا ا ثر با لآ خر کہا ں پہنچ کے د م تو ڑ تا ہے ؟ تو صا حبا ن انتہا ئی د کھ کے سا تھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اس کا نشا نہ ملک کا غر یب اور در میا نہ طبقہ بنتا ہے۔یہ دونوں طبقے ا حتجا ج تک کر نے کے حق سے تک محر و م ہو تے ہیں۔ ا گر یہ احتجا ج کر نے لگیں تو اگلے ر و ز ان کے خا ند ا ن کو کھا نا کون بہم پہنچا ئے گا؟ مگر ا ن کے دلو ں سے وہ بد د عا ئیں نکلتی ہیں جو عر شِ معلٰی تک پہنچتی ہیں۔ عبر ت کے طو ر پر مغر و ر اور خو د سر اسحاق کی مو جو د ہ حا لت د یکھ لیں۔مگر یہ تو ابھی آ غا ز ہے۔ ا سحق ڈا ر کی قو می دو لت لو ٹنے کی مہلک پا لیسیا ں انہیں کس طر ح کے انجا م سے دو چا ر کر تی ہیں، یہ آ نے و ا لا و قت ضر و ر بتا ئے گا۔
بہر حا ل اسحا ق ڈا ر کے قصے کو فی ا لحا ل ایک طر ف رکھتے ہو ئے پا کستا ن کی معیشت کے بحر ا ن کے معا ملے کا جا ئز ہ لیں تو ہم د یکھتے ہیں کہ پاکستان میں معیشت کو جس سب سے بڑے بحران کا سامنا رہا، وہ ہے بیرونی ادائیگیوں اور آمدنی میں توازن قائم کرنا، جن کو معیشت
کی زبان میں رواں کھاتوں کا خسارہ کہا جاتا ہے۔ اس خسارے نے پاکستانی معیشت کو ہمیشہ بحران کا شکار رکھا ہے۔ گزشتہ حکومت کے اختتام اور 2013ء کے الیکشن کے بعد نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے وقت بھی عالمی میڈیا نے پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا، اور اس وقت نئی منتخب حکومت نے آئی ایم ایف سے اقتصادی ریلیف پیکیج حاصل کرکے ثابت بھی کیا تھا کہ ملکی معیشت کی حالت ٹھیک نہیں۔ اب پھر جبکہ موجودہ حکومت کا پانچ سالہ دور مکمل ہونے والا ہے، عبوری حکومت بننے والی ہے اور یہ سال انتخابات کا ہے تو قومی معیشت کی حالت بہتر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ چار ساڑھے چار برس موجودہ حکمران معیشت کے مستحکم ہونے اور پاکستان کو ایشیا کا معاشی ٹائیگر بنانے کے جو دعوے کرتے رہے، وہ کیا ہوئے؟ پاکستان کے پاس زرمبادلہ حاصل کرنے کے دو بڑے ذریعے ہیں۔ پہلا برآمدات اور دوسرا سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں اپنے رشتے داروں کو بھیجی گئی ترسیلاتِ زر ہیں۔ درآمدات و برآمدات کی صورت حال کا جائزہ ہم نے لے لیا، برآمدات میں اضافہ تو ہوا، لیکن درآمدات اس کی نسبت زیادہ بڑھ گئیں۔ ترسیلاتِ زر میں بھی اگرچہ گزشتہ مالی سال کی نسبت اضافہ تو مشاہدے میں آیا لیکن معاملات کو اب بھی اطمینان بخش قرار نہیں دیا جاسکتا کہ بیرونِ ملک سے کافی پاکستانیوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کارکنوں نے رواں مالی سال 2017/18ء کے پہلے 10 ماہ میں 16 ارب 25 کروڑ سے زائد امریکی ڈالر وطن بھجوائے، جو 3.92 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ گزشتہ برس کی اسی مدت میں 15 ارب 64 کروڑ ڈالر موصول ہوئے تھے۔ اپریل 2018ء میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی مالیت 1650.59 ملین ڈالر تھی، جو مارچ 2018ء کے مقابلے میں 6.89 فیصد کم اور اپریل 2017ء کے مقابلے میں 7.25 فیصد زیادہ ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق بینکاری نظام کے ذریعے ترسیلات وطن بھجوانے والے پاکستانی تین اہم خطوں میں آباد ہیں۔ خلیج تعاون کونسل، بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ۔ لیکن خلیجی ملکوں میں تیل کی قیمت کم ہونے سے مالی بحران، امریکہ اور برطانیہ میں سخت قوانین کی وجہ سے ترسیلات زر میں کمی ہورہی ہے۔ ان حالات میں ضرورت ایسی پالیسی مرتب کرنے کی ہے، جس کے نتیجے میں برآمدات میں اضافہ تو ہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ درآمدات کی شرح یا مقدار کم بھی کی جاسکے۔ دوسرے یہ کہ حکومتی سطح پر بیرون ملک نئی نو کر یا ں تلاش کی جائیں تاکہ مزید پاکستانیوں کو بیرون ملک بھیجا جاسکے۔ اس کے ساتھ مختلف وجوہ کی بنا پر بیرون ملک سے پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے کے عمل کو روکا جائے۔ یہی دو طریقے ہیں، جن کے ذریعے زرِ مبادلہ کے قومی ذخائر کو اطمینان بخش حد تک مستحکم رکھا جاسکتا ہے۔ برآمدات بڑھانے اور درآمدات میں کمی لانے کے لیے حکومت کو کچھ جرأت مندانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ لگژری اشیاء کی درآمد پر سختی سے پابندی عائد کرنا اور صرف ناگزیر اشیاء کی درآمد کی اجازت دینا ہوگی۔ یورپ، امریکہ، برطانیہ اور سیکنڈے نیویا جیسے ممالک میں تجارت بڑھانا سود مند ہے لیکن اس خطے کے ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے سلسلے میں بھی جامع منصوبہ بندی کی ضر و رت ہے۔ بیر و نی مما لک میں مقیم پا کستا نی حضر ا ت اپنے خا ند ا ن سے دو ر رہ کر اس ملک کی ا قتصا دی حا لت کو بہتر بنا نے کے لیے بہت بڑی قر با نی دے رہے ہیں، ان کی قر با نی کو نہ صر ف حکو متی سطح پر سر اہے جا نے کی نہ صر ف ضر و ر ت ہے، بلکہ ان کے حقوق کا وہا ں ر ہتے ہو ئے تحفظ کر نا حکو مت کی ا ہم ذ مہ د ا ری ہے۔او ر پھر یہی نہیں بلکہ جن جن مما لک میں وہ خدمات سر ا نجا م دے رہے ہیں ان ان مما لک میں بھی اپنے لو گو ں کے حقو ق کے تحفظ کے لیے ان کی حکو متو ں سے مذا کر ا ت کر نا ہو ں گے۔ اپنے لو گو ں کو پر د یس میں بے یا رو مد د گا ر چھو ڑ دینا ظلم کے ز مر ے میں تو آ تا ہی ہے۔ مگر اس کا نقصا ن ملک کی اقتصا د ی حا لت کو بھی پہنچ کے ہی ر ہتا ہے۔


ای پیپر