جمہوریت اور وفاداری کا امتحان
17 مئی 2018 2018-05-17

نواز شریف کے بیانیہ سے جو نئی بحث چھڑی ہے، وہ اب مزید پھیلتی جا رہی ہے۔ ایک اور پنڈورا بکس کھلے گا۔ نواز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے اسلام آباد میں اگست 2014ء سے شروع ہونے والے دھرنے کے کردار عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری ہی نہیں اور لوگ بھی ہیں اُن کے نام وہ جلد بتائیں گے۔ جب یہ نام منظر پر آئیں گے جمہوریت رہے گی یا نہیں البتہ اس سے پاکستان کی بدنامی ہو گی۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اس ساری صورت حال سے پریشان ہیں کیونکہ قومی سلامتی کمیٹی کا جو اجلاس ہوا ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہہ دیا ہے کہ وہ نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس سلسلے کا تازہ اجلاس نوا زشریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف کے درمیان ہوا ہے اس میں نواز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ کسی صورت میں اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کشیدگی کے اس ماحول میں عمران خان خوش ہے کہ نواز شریف کے مؤقف کی وجہ سے بڑی تعداد میں مسلم لیگی پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔ میاں صاحب مودی کا راگ الاپتے رہے تو ہمارے لیے (ن) لیگ کی باقیات کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ کپتان کے لیے یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ جس نے بھی لوٹوں پر اعتبار کیا اس کی اپنی کشتی ڈوب گئی۔ نوا زشریف مسلم لیگ سے جانے والوں سے فکر مند نہیں ہیں جانے والوں کا کوئی نہ کوئی قیادت کے ساتھ ایشو چل رہا تھا کوئی بڑا بریک تھرو ابھی تک نہیں ہوا دوسری پارٹیاں بھی اس صورت حال سے پریشان ہیں۔

یہ وفاداریاں بدلنے کا موسم ہے سیاسی پرندے نئی اڑان بھر رہے ہیں۔ جیسا کہ ہر الیکشن میں ہوا کرتا ہے۔ اس بار پارٹی کے نظریے سے بالا ہو کر ، دھڑے اور برادری کی ضرورت کے مطابق فیصلے ہو رہے۔ سیاسی وفاداری اور قلابازی یہ یونہی نہیں ہیں ڈوریاں ہلتی ہیں، مستقبل کے سہانے خواب نظر آتے ہیں۔ اپنی خواہش جو بھی ہو الزام کا بار دوسرے پر ہی دھرنے کا مزہ آتا ہے۔ کیونکہ یہ اقتدار کی ضرورت بھی ہے۔ فہمیدہ مرزا کے بارے میں افواہیں تو کافی عرصہ سے تھیں مگر اس کا عملی مظاہرہ پاکستان کی پہلی خاتون سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے عین اس وقت کیا جب موجودہ قومی اسمبلی کی پانچ سالہ مدت ختم ہونے میں صرف 13 یوم باقی رہ گئے۔ یہ ان کے جانے پر ہی کیا جائے گا کوئی فرق نہیں پڑتا مگر حقیقت تو یہی ہے فرق تو پڑتا ہے پارٹی کی بڑی اکثریت آصف زرداری کے نظریۂ سیاست سے اتفاق نہیں کرتی مگر پارٹی کا ’’لیور‘‘ ابھی تک زرداری کے ہاتھ میں ہے۔ پارٹی میں اب شاید ہی کوئی لیڈر دستیاب ہو جس نے بھٹو کے ساتھ کام کیا ہو۔ یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ پارٹی کا دامن ایسے جیالوں سے خالی ہو رہا ہے جنہوں نے بھٹو کے ساتھ کام کیا تھا۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے اختلافات اس وقت شروع ہوئے تھے جب ان کے شوہر کے زرداری سے اختلافات ہوئے۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی رہیں پھر زرداری اور مرزا کے درمیان شوگر مل کا معاملہ آ گیا جس سے تعلقات کا قصہ ہی تمام ہو گیا۔ پھر کینسر کے موذی مرض نے فہمیدہ مرزا کو گھیر لیا۔ پارٹی قیادت نے کئی کئی بار استعفیٰ پر اصرار کیا مگر وہ پارلیمنٹ کے اندر پارٹی پالیسی پر چلتی رہیں۔ اُن کے جانے سے پارٹی کا کافی نقصان ہوا ہے۔ فہمیدہ مرزا کا تعلق حیدر آباد کی مشہور سیاسی ’’قاضی فیملی‘‘ سے ہے اُن کے والد قاضی عبدالمجید عابد ایوب کے ساتھ بھی رہے اور بھٹو کی پارٹی میں بھی۔ ضیاء الحق دور میں وزیر ان کے بھائی قاضی عابد بھی پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے۔ ڈاکٹر فہمیدہ ایک کامیاب سپیکر تو رہی ہیں مگر عوام کی محبت کی وجہ سے وہ قومی نشست پر ’’ہیٹ ٹرک‘‘ کرنے والوں میں بھی شامل رہی ہیں۔ خاص طور پر بینظیر بھٹو سے ان کی گہری دوستی رہی ۔ سترہ مئی 2007ء کو پارٹی سے تعلق توڑتے ہوئے فہمیدہ مرزا نے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ وہ لوکل ایشو پر زیادہ فوکس کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے بدین میں اپنے انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ وہ اب پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑیں گی اب وہ اس جماعت میں جائیں گی جو سندھ اور بدین کے عوام کو پانی اور دیگر سہولتیں دے گی پارتی قیادت کا نام لیے بغیر انہوں نے یہ بھی کہہ ڈالا ’’پارٹی نے تو روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ کر کے سب کچھ چھین لیا جبکہ اس جلسے میں ذوالفقار مرزا کی چوٹ کافی گہری تھی ۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ زرداری نے محترمہ سے زیادہ منی لانڈرنگ میں گرفتار ہونے والی ماڈل کو اہمیت دی۔ فہمیدہ مرزا کی طرح مسلم لیگ (ن) کے باغی اور سابق وزیراعظم نے بھی قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیتے ہوئے اس پوری اسمبلی کو ہی چارج شیٹ کر دیا کہ ’’اسمبلی میں جھوٹ بولا جاتا ہے اور اداروں کو برا بھلا کہا جاتا ہے‘‘۔ بے چارے ظفر اللہ جمالی کیا کریں اب وہ اس اسمبلی میں ان فٹ ہیں وہ خود کو اسٹیبلشمنٹ کے پلڑے میں ڈال رہے ہیں۔ دوسرے جانب مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا یہ حال ہے کہ تحریک انصاف کی منحرف رکن مسرت زیب بھی شریک ہوئیں ۔ نوا زشریف نے سوات میں جلسہ کیا تھا اس میں مسرت زیب کا بیٹا مسلم لیگ میں پہلے ہی شامل ہو چکا ہے۔ مسرت زیب والئ سوات کی بہو اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی سالی ہے جبکہ گوہر ایوب کا تعلق بھی اسی خاندان سے ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو لوگوں کے جانے

کا پہلے بھی تجربہ ہے گوجرانوالہ کے سابق ایم این اے رانا نذیر جن کے ایک بیٹے ایم این اے دوسرے بیٹے ضلع کونسل کے وائس چیئرمین ہیں نوا زشریف کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ 2000ء میں بھی رانا خاندان پہلے مسلم لیگ ق میں شامل ہوا اور نواز شریف کو چھوڑ کر (ق) لیگ میں شامل ہوا اب وہ پھر چھوڑ گئے ہیں۔ تحریک انصاف میں چلے ہوئے کارتوس جا رہے ہیں۔ یہ قصہ کوئی نیا نہیں ہے۔ جاوید ہاشمی نے دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ان کو مسلم لیگ میں لانے کا سہرا خواجہ سعد رفیق کے سر ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو اس وقت چھوڑا تھا جب عمران خان کے انقلاب کے نعرے نے مینار پاکستان سے لینڈ کیا تھا۔ اُن کو بہت روکا تھا۔۔۔ مگر وہ نہ مانے۔ جاوید ہاشمی کو ا س وقت سوچنا چاہیے تھا جب 19 مارچ 2012ء کو انہیں تحریک انصاف کا صدر بنایا گیا تو عمران خان کے بارے میں بہت سے سوالات نے جنم لیا کہ یہ کیسا انقلاب چاہتے ہیں اور کیسی جمہوریت ۔ جمہوریت میں تو الیکشن ہوتے ہیں۔ عمران خان جو پہلے ہی چیئرمین تھے شاہ محمود قریشی وائس چیئرمین یعنی عمران خان کے نمبر 2 بن گئے۔ شاہ محمو دقریشی کے پرانے حریف جاوید ہاشمی کو تحریک انصاف کا صدر بنا کر خود قریشی پارٹی کی ترتیب میں تیسرے اور و کلاء تحریک کے حامد خان سینئر وائس پریذیڈنٹ چوتھے نمبر پر چلے گئے۔ تحریک انصاف کے دستور میں صدر کا کوئی عہدہ ہی موجود نہیں تھا۔ جاویدہاشمی کو صدر کے عہدے پر فائز رکھنے کے لیے دستور میں ترمیم کر کے یہ عہدہ جاری کیا ہے۔ اس سارے کھیل میں قیادت اختلافات کی زد میں آ گئی۔ شاہ محمود قریشی بظاہر تو یہ تاثر نہیں دے رہے تھے کہ انہیں تیسری پوزیشن پر رکھنے میں کوئی اعتراض ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی جاوید ہاشمی کی صدارت کے منصب پر تعیناتی کو کسی صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ پارٹیاں تو چلتی رہتی ہیں معاملہ تو قیام پاکستان سے پہلے کا ہے۔ کہانی عام لوٹا سے شروع ہوئی تھی پھر پوری ری پبلیکن پارٹی بن گئی۔ ایوب نے کنونشن بنا لی۔ ضیاء الحق اور مشرف کی اپنی اپنی لیگ تھی مگر اصل سوال جو اٹھتا ہے کہ آخر لوٹا کریسی کو روکا جائے تو کیسے روکا جائے۔ جب یہ کردار متحرک ہوتا ہے جمہوریت لڑھک جاتی ہے۔ ایک زمانہ تھا ایئر مارشل اصغر خان کے پاس بڑے لیڈر تھے، اتنے تھے کہ بھٹو کی جماعت میں بھی نہیں تھے مگر اس

پارٹی میں نہ تحریک رہی اور نہ استقلال، ایسا ہی حادثہ مرحوم غلام مصطفی جتوئی کا ہوا۔ آج (ق) لیگ کہانی کھڑی ہے۔ یہ سب تاریخ کے فیصلے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس طرح سیاسی جماعتوں کی توڑ پھوڑ نہیں ہونی چاہیے۔ انتخاب میں شکایت ایک فریق کو ہے کہ دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ وفاداریاں بدلنے والوں کا معاملہ عوام کے سامنے ہے وہ انتخاب میں اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ مگر اصل سوال تو یہ ہے کہ اداروں کو انتہائی شفاف بنانے میں مدد دینی چاہیے۔ پارلیمنٹ بالا تر ہے اسے بالاتر ہی ہونا چاہیے۔ چیئرمین نیب سچا ہے تو ثبوت پیش کرے مگر چیئرمین نیب نے ایک ایسے مقدمے کا معاملہ اٹھایا جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ سب سیکھنے کی باتیں ہیں اور سیکھنے سے ہی مسائل حل ہوں گے۔


ای پیپر