قبلہ اول کے محافظ اور غدار؟
17 مئی 2018 2018-05-17

رواں سال 14مئی کا دن امت مسلمہ جب کہ 15مئی کادن فلسطینی مسلمانوں کی تاریخ کاافسوس ناک دن تھا۔گزشتہ سال 6دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کا اعلان کرکے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا۔جس کے بعد دنیا بھر میں ہنگامے ہوئے،امریکا اور اسرائیل کی مذمت کی گئی۔مگر امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے اعلان کے ٹھیک 5ماہ بعد عملاً امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیا۔ٹرمپ سے پہلے امریکی صدور نے امریکی سفارت خانے کی منتقلی کا اعلان کیا مگر اسے عالمی دنیا کے دباؤں کی خاطر منتقل نہ کرسکے۔1995ء میں باقاعدہ امریکا کی جانب سے امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کا منصوبہ پیش کیاگیا۔جس کے لیے 85ملین ڈالر سے زائد کی رقم بھی مختص کی گئی۔مگر کسی میں اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی ہمت نہ ہوئی۔امریکی صدر ٹرمپ کی ہٹ دھرمی کے باعث اب امریکا کے بعد گوئٹے مالا نے بھی اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیا ہے۔بہرحال 14مئی کو بیت المقدس کے علاقے ارنونا میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کی تقریب ہوئے جس میں امریکی حکومتی وسیاسی عہدیداروں پر مشتمل لگ بھگ 800 کے قریب لوگ شریک ہوئی۔دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم ،اسرائیلی صدر اور دیگر حکومتی اورملک کی بڑی شخصیات بھی اس تقریب میں شامل تھیں۔امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے دن غزہ اور دیگر علاقوں میں 60 سے زائد فلسطینی مسلمانوں کو شہید جب کہ اڑھائی ہزار سے زیادہ کو زخمی کیا گیا۔گویا قبلہ اول کے محافظ مسلمانوں کی لاشوں پر امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا گیا۔اسی دن 1600سے زائد یہودی شدت پسند قبلہ اول مسجداقصی ٰ میں گھس کر اپنی مذہبی رسومات کے نام پر قبلہ اول کی حرمت کوپامال کرتے رہے۔بلکہ 14مئی کے دو دن بعد بھی 100سے زائد یہودیوں نے دوبارہ قبلہ اول پردھاوا بول کر قبلہ اول کی حرمت کو پامال کیا۔14مئی کے دن اسرائیلی مظالم میں ٹانگوں سے معذور فادی ابوصلاح کو بھی نشانہ بنایا گیا۔جو وہیل چیئر پر بیٹھ کر غزہ میں دیگر فلسطینیوں کے ساتھ احتجاج میں شریک تھا۔غزہ میں 14 اور 15 مئی کو اسرائیلی درندوں نے نہ صرف مظاہرین پرگولیاں اور شیل برسائے بلکہ آس پاس کے گھروں پر بھی شیل فائر کیے،جس سے 8سالہ ننھی لیلی الغندور شہید ہوگئی۔مارچ2018ء کے آخر میں قبلہ اول کے محافظوں کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی تحریک"حق واپسی " کو 8 ہفتے گزرنے والے ہیں۔ان 8 ہفتوں میں دوسو سے زئد فلسطینیوں کو شہید جب کہ 5ہزار کے لگ بھگ کو
زخمی کیا جاچکاہے۔ان فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔جب کہ ماہ رمضان کا مہینہ بھی آچکاہے۔اس سے پہلے 2010ء ،2011ء اور2012ء کے رمضان میں بھی مسلسل فلسطینیوں پرمظالم ڈھائے جاتے رہے ہیں۔
امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے خلاف دنیا نے پہلے کی طرح مذمتی بیانات اور تشویش کا اظہار کیاہے۔سلامتی کونسل میں قرارداد بھی لائی گئی،مگر ویٹو کی قاتلانہ اور غیرعادلانہ تلوار نے دنیا کے 14طاقتور ملکو ں کا تنہا تنہا سرقلم کر دیا۔ یہ تلوار امریکا نے چلائی۔دوسری جانب ترکی کے سوا دیگر اسلامی ملکوں کے حکمرانوں نے حسب سابق مذمتی بیانات دیے۔بلکہ اس بار خلیجی اور دیگر عرب ممالک کا رویہ انتہائی افسوس ناک رہا،بیانات میں کہیں امریکا کا نام لے کر مذمت نہ کی گئی۔اگرچہ قاہر ہ میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلا س ہوا،مگر سوائے مذمت کے کچھ نہ کیا گیا۔ترکی نے اسرائیلی اورامریکی سفیرکو عارضی طورپر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا اور اپنے سفیر کوا سرائیل سے واپس بلالیا۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بارے کہا کہ ان کے ہاتھ معصوم لوگوں کے خون سے رنگین ہیں۔امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی اور فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف ہنگامی طور پر ترکی نے اسلامی ملکوں کا اجلاس بھی 18 مئی بروز جمعہ کوطلب کیا ہے۔اس کے علاوہ ترک صدر نے پاکستان،سعودی عرب،روس ،جرمنی اور برطانیہ سمیت دیگرملکوں کے صدور اور وزرائے اعظم سے ٹیلی فون پر بات چیت کرکے حالیہ مظالم کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
قبلہ اول کے محافظوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم اور قضیہ فلسطین کے بارے اسلامی دنیا کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو نہایت افسوس ناک صور ت حال سامنے آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی صحافی بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے مسلمان منافقت تو ختم کرلیں پھر اسرائیل کے خلاف کوئی اقدام اٹھائیں۔تاریخی حقیقت یہ ہے کہ 1948میں اسرائیلی قیام کی راہ ہموار کرنے میں ان غداروں کا ہاتھ تھا جو آج بھی درپردہ اسرائیل کی نہ صرف حمایت کررہے ہیں،بلکہ اسرائیل کی بھرپور مدد کررہے ہیں۔اگرچہ درمیان میں کچھ درد دل رکھنے والے لوگ آئے جنہوں نے فلسطینی قضیے پر سٹینڈ لیا،مگر 70سال کا زیادہ تر عرصہ اسرائیلی درندوں کی چاپلوسی میں صرف کیا۔فلسطینی قضیے کو عربی قضیہ کہنے والے لوگ آج بھی امریکا کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔بلکہ اب تو امریکا کے واسطے سے اسرائیل سے بھی تعلقات قائم ہوچکے ہیں۔کچھ لوگ تو قضیہ فلسطین کے حل کے لیے صدی کی سب سے بڑی ڈیل کے لیے بھی کوشاں ہیں۔اس ڈیل میں فلسطینیوں کو قبلہ اول اور بیت المقدس سے محروم کرنے کے علاوہ فلسطین کی زرخیز تاریخی زمین کو یہودیوں کے حوالے کرکے فلسطینیوں کو صحراؤں میں دھکیلنا شامل ہے۔منافقت کی انتہا دیکھیے ایک طرف قبلہ اول کے نام پر مسلمانوں کو دھوکہ دیا جاتاہے کہ وہ قضیۂ فلسطین اور قبلہ اول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کو یقین دہانیاں کروائی جاتی ہیں کہ وہ جو چاہیں کریں۔کیا امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی امریکی حلیف عرب و دیگرممالک کی رضامندی کے بغیر ممکن تھی؟قطعاً نہیں!یہی وجہ ہے کہ 6دسمبر 2017ء کو امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد ان ممالک نے امریکی صدر کے متنازع اقدام کے خلاف قضیہ فلسطین کو قضیہ اسلامی ،قضیہ عربی کہنے والے ممالک کی جانب سے کوئی منصوبہ بندی کی گئی،نہ ہی کوئی دفاعی لائحہ عمل اپنایاگیا۔حدتو یہ ہے کہ 10 مئی سے پہلے تک کسی اسلامی دنیا کے حکمران کی طرف سے امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے منصوبے کے خلاف کوئی بیان تک نہ آیا۔حالاں کہ انٹرنیشنل میڈیا اور اسرائیلی میڈیا مسلسل امریکی سفارت خانے کی منتقلی کی خبریں دے رہا تھا۔بلکہ 7مئی کو بیت المقدس میں امریکی سفار ت خانے کے سائن بورڈ بھی نصب کیے جاچکے تھے،جو پوری دنیا نے دیکھے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو اجلاس 62فلسطینی مسلمانوں کی لاشوں اور 3ہزار سے زائد زخمیوں کے بعد بلائے جارہے ہیں وہ پہلے بلالیے جاتے تاکہ نہتے فلسطینیوں پر ظلم ڈھایا جاتا اور نہ اْنہیں اپنی عزت بچانے کے لیے مذمتی بیانات اور ہنگامی اجلاس بلانے پڑتے۔مگر یہ سب نہیں کیا گیا،جس کا مطلب اس کے سوا بھلا کیا ہوسکتاہے کہ یہی لوگ دراصل اسرائیل اور امریکا کے متنازع اقدامات کے پیچھے ہیں اور انہی کی رضامندی سے بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ منتقل کیا گیا ہے؟نیتیں اللہ جانتا ہے،اس میں کوئی شبہ نہیں،یہ بھی درست ہے کہ ساری اسلامی دنیا کے حکمران ایک جیسے نہیں ،بہت سے اب بھی فکرمند ہیں کہ کیسے اسرائیلی جارحیت کے سامنے بند باندھا جائے۔مگر عمومی صورت حال اسرائیلی جارحیت کے سامنے بند باندھنے کی نہیں،بلکہ اپنے اقتدار کی پختگی کی خاطر اسرائیلی اور امریکی جارحیت پر آنکھیں بند کرنے کی ہے۔بہرحال قضیہ فلسطین اور قبلہ اول کی حفاظت ،عربوں کی ٹھیکیداری ہے،نہ عجموں کی اور نہ ہی دیگر ملکوں کی سردردی ہے،یہ تو امت مسلمہ کا اجتماعی شعار ہے،جس کی حفاظت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔اگر آج کوئی امت مسلمہ کے اس مقدس شعار پر سودے بازی کرتاہے تو رسوائی دونوں جہاں میں اس کا مقدر ہوگی۔مگر امت مسلمہ کا یہ مقدس شعار قیامت تک آنے والے ہرمسلمان کے ذہن میں ہمیشہ تازہ رہے گا جس کے لیے وہ اپنا تن من دھن قربان کرتارہے گا۔


ای پیپر