رمضان ۔۔۔مبارک۔۔۔
17 مئی 2018

دوستو۔۔۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوچکا۔۔۔ہم بچپن میں اکثر اپنے ٹیچرز سے یہی سوال کیا کرتے تھے کہ ۔۔۔ رمضان کو ’’ مبارک ‘‘ کیوں کہتے ہیں۔۔۔جس پر ایک ہی جواب ملتا تھا کہ اس مہینے میں بے پناہ برکتیں، رحمتیں، نعمتیں ملتی ہیں، اسی لئے یہ مہینہ سب کے لئے ’’ مبارک ‘‘ہوتا ہے۔۔۔لیکن جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے، ہم پہ رمضان کو مبارک کہنے کی بہت سی تشریحات سامنے آنے لگیں۔۔۔آج کل کے دور میں رمضان غریبوں کے لئے ’’ مبارک ‘‘ نہیں رہا۔۔۔یہ ہم نہیں ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں۔۔۔وہ مزید فرماتے ہیں کہ ۔۔۔ رمضان کا جوش و خروش تو صرف بچپن میں ہوا کرتا تھا اب اس کی جگہ بناوٹ نے لے لی ہے شاید۔۔۔لیکن اعتراف کرنے سے ڈرتے ہیں۔۔۔ہم اپنے لفظوں کو سنوارتے ہیں کہ وقت گزرنے کا پتا بھی نہیں چلا اور پھر، رمضان آگئے۔۔۔پھر سب مل جل کر رمضان ’’گزارنے‘‘ میں لگ جاتے ہیں۔۔۔کوئی یہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں سوچتا کہ جو رمضان گزرگئے، کیا ہم ان کا حق اس طرح ادا کرپائے جیسا کہ اس کا حق تھا۔۔۔
رمضان وہ واحد مہینہ ہے جس میں ہمارے ہر عمل کی ذمے داری ہم پر خود ہی عائد ہوتی ہے،کیونکہ شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں۔۔۔ورنہ گیارہ ماہ تو ہم شیطان پر لعن طعن کرکے کام چلالیتے ہیں۔۔۔اور ایسے ایسے کام کرجاتے ہیں کہ ایک بارتو شیطان بھی کہنے پر مجبورہوگیا کہ، یار جو کام تم نے کیا ہے وہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔ رمضان کا مہینہ تھا، ایک سْنی مولوی مرزاغالب سے ملنے آئے، عصر کا وقت تھا۔ مرزا نے خدمتگار سے پانی مانگا۔ مولوی صاحب نے تعجب سے کہا۔ ’’کیا جناب کا روزہ نہیں ہے؟‘‘۔۔۔مرزا نے کہا۔۔۔۔سْنی مسلمان ہوں، چار گھڑی دن رہے تو روزہ کھول دیتا ہوں۔۔۔مرزا غالب نے ایک بار رمضان المبارک میں اپنے ایک دوست کو روزوں کے حوالے سے خط میں لکھا تھا۔۔۔دھوپ بہت تیز ہے، روزہ رکھتا ہوں مگر روزے کو بہلاتا رہتا ہوں، کبھی پانی پی لیا، کبھی حقہ پی لیا، کبھی کوئی ٹکڑا روٹی کا بھی کھا لیا، یہاں کے لوگ عجیب فہم رکھتے ہیں، میں تو روزہ بہلاتا ہوں اور یہ صاحب فرماتے ہیں کہ تْو روزہ نہیں رکھتا، یہ نہیں سمجھتے کہ روزہ نہ رکھنا اور چیز ہے اور روزہ بہلانا اور چیز ہے۔۔۔ہمیں اپنے ایک دوست پر شک ہوا کہ اس کا روزہ نہیں، ہم نے اسے کہا، قسم کھاؤ، تمہارا روزہ ہے۔ ۔۔۔دوست ہمیں دیکھ کر مسکرایا اور بڑی معصومیت سے کہنے لگا۔۔۔واہ، قسم کھا کر میں اپنا روزہ توڑ لوں۔۔۔ایک مولوی صاحب کسی گاؤں کی مسجد میں درس دے رہے تھے۔۔۔کہنے لگے، روزوں کے بدلے جنت میں آپ کو اپنی ہی بیوی ملے گی۔ یہ سن کر پاس بیٹھے دیہاتی نے اپنے ساتھ والے کو کہنی ماری اور سرگوشی کی۔۔۔پتر ہور رکھ روزے۔۔۔
مشاہدے میں آیا ہے اور عام طور پریہ بات سچ بھی ثابت ہوئی ہے کہ رمضان میں بڑے بڑوں کا بجٹ فیل ہوجاتا ہے، کیونکہ ماشاء اللہ اس ماہ مبارک میں دن بھر روزے رکھنے والے خوش عقیدہ حضرات کی خوش خوراکی نفس پر ایسی حاوی ہوتی ہے کہ کسی نعمت کو چھوڑنا گناہ کبیرہ تصور کرتے ہیں۔۔۔کھجور اور پکوڑے سے لے کر زرق برق ملبوسات تک ببانگ دہل آزادانہ لوٹ مار جاری رہتی ہے۔ حقیقت سے ہمارا رشتہ کچھ زیادہ دوستانہ نہیں، برا نہ منائیے گا لیکن رمضان دراصل ہمارے لئے سال کا سب سے بڑا بزنس سیزن ہوتا ہے۔ غریب روزہ دار مجبور ہے کہ منہ مانگے مول ادا کرے، ٹھیلے والا ہو یا عظیم الشان شاپنگ مال اس مقدس مہینے کی برکت سے پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ماہ مقدس کے نام پر ٹی وی چینلز میں علما، نعت گو، اداکار، کرکٹرز، ماڈلز، گلوکار سب ایک میک اپ میں ایک ہی گھاٹ پر منہ مانگے مول لے کر سادگی، قناعت اور اللہ کی رضا کا درس دینے کی نیکی کماتے ہیں۔ سرعام کھانا پینا تو ممنوع مگر اشیائے خورونوش پر لوٹ مار کی آزادی ہوتی ہے۔۔۔جن کی تیوریوں پر پڑے بل دور سے نظر آ جائیں، بیزارگی اور جھنجھلاہٹ کی تصویر، یہ نشانی ہے روزہ داروں کی، اس کیفیت میں بے تکلف ہونے کا خطرہ قطعی مول نہ لیں۔ خیرحضور روزہ خور ہوں یا روزہ دار دفاتر میں کام آدھا اور جھگڑے دگنے ہو جاتے ہیں۔ بازاروں اور بسوں میں ذرا ذرا سی بات پر چیخ و پکار معمول ہوتی ہے اور بعض ’’برگزیدہ‘‘ روزہ دار مذہبی خبط عظمت کے تحت دفتری کام چھوڑ چھاڑ کر پندونصائح اپنا لیتے ہیں، یہ درسی کیفیت عموماً افطار تک جاری رہتی ہے۔۔۔سڑکوں اور بازاروں میں ہر بندہ دوسرے کو کاٹ کھاجانے والی نظروں سے ’’گھوریاں‘‘ مارتا نظر آتا ہے۔۔۔ان میں سے توکچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو سحری کھانے کے فوراً بعد کہنا شروع کردیتے ہیں کہ آج روزہ بہت لگ رہا ہے ،دفتر آتے ہیں تو ہر ایک سے فرداً فرداً پوچھتے ہیں’’تمہارا روزہ ہے؟‘‘ اور اس کا جواب سنے بغیر کہتے ہیں’’میرا تو ہے‘‘۔۔۔تربوز والا بھی دو،تین ’’دانوں‘‘ کو دھپ،دھپ کرنے کے بعد جب چوتھا دانہ آپ کو دیتا ہے تو آپ یقین کرلیتے ہیں کہ یہی ’’دانہ‘‘ لال، رسیلا اور میٹھا نکلے گا، حالانکہ تربوز والا اصل میں آپ کی نفسیات سے کھیل رہا ہوتا ہے۔۔۔ہم نے بھی ایک کیلے والے سے جب پوچھا کہ کیلے کیا درجن لگائے۔۔۔وہ کچھ فلسفی ٹائپ تھاکہنے لگا، پانچ روپے کا ایک کیلا(یعنی ساٹھ روپے درجن کہتے ہوئے اسے شدید اندرونی تکلیف ہورہی تھی شاید)۔۔۔ہم نے بھولپن سے پوچھا۔۔۔پانچ روپے، چھلکے کے بغیر کتنے کا لگاؤ گے؟؟۔۔۔
یہ ہمارے معاشرے کی افسوس ناک حقیقت ہے کہ جب رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جلوہ گر ہوتا ہے تو ہم میں سے کچھ لوگ رمضان کے تقدس و عظمت کا مذاق اڑاتے ہیں ،صحت و طاقت کے باوجود روزے نہ رکھ کر اس مہینے کی حرمت پامال کرتے ہیں ،کچھ ایسے ہیں جو روزہ کی فرضیت کے منکر بھی ہیں ،ایسے لوگ ہمارے نزدیک دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ آپ دیکھتے ہونگے کہ کچھ مسلمان صحت مند ہونے کے باوجود سڑکوں ،ہوٹلوں اور آفسوں میں دھڑلے سے کھاتے پیتے اور سگریٹ نوشی کرتے نظرآتے ہیں ، ایسے لوگوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ’’ میری ساری امت معاف کردی جائے گی سوائے کھلم کھلا گناہ کرنے والوں کے‘‘۔ (بخاری،مسلم)۔۔۔اللہ سے ڈرو جس پر کوئی چیز مخفی نہیں ،بھوک و پیاس کی یہ مشقت جو آپ اللہ کی رضا کے لئے برداشت کررہے ہیں ،اس پر بے پناہ اجرو ثواب ہے۔ حدیثِ قدسی ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے ’’روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کابدلہ دوں گا‘‘۔۔۔یعنی روزہ کی عظمت اور اس کی شان اتنی بلند ہے کہ دیگر عبادتوں کے اجروثواب کے برعکس اللہ تعالیٰ خود ہی اس عبادت کا ثواب اور بدلہ بندے کوعنایت فرمائے گا۔۔۔
اب چلتے ہیں آخری بات کی جانب۔۔۔باز اور شکروں کی موجودگی کے باوجود چڑیا کے بچے پرورش پاتے رہتے ہیں۔شیردھاڑتے رہتے ہیں اور ہرن کے خوبصورت بچے بھاگتے پھرتے ہیں۔فرعون نے سب بچے ہلاک کر دیئے، مگر اصل بچہ اس کے گھر میں پرورش پاتا رہا۔یہ سب اس مالک کے کام ہیں۔ اس کی پیدا کردہ مخلوق اپنے اپنے مقرر شدہ طرزِ عمل سے زندگی گزارتی رہتی ہے۔زمانہ ترقی کرگیا،مگر مکھی، مچھر اور چوہے اب بھی پیداہوتے ہیں، جراثیم کش دوائیں نئے جرثومے پالتی ہیں، جیسے جیسے سائنس ترقی کررہی ہے،بیماریوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔۔۔انسان کل بھی دکھی تھا ،آج بھی سکھی نہیں۔ علاج تو خالق کے قْرب میں ہے۔ لوگ سمجھتے نہیں۔۔۔


ای پیپر