عمران خان کا ریاست مدینہ کا محدود تصور
17 مئی 2018

اس ہفتے کی اہم بات تحریک انصاف کے لاہور کے جلسے میں عمران خان کا سنجیدہ انداز میں اپنا منشور پیش کرنا ہے۔ عمران خان سیاسی افق پر کچھ عرصے سے ایک ابھرتی ہوئی قوت بن کر سامنے آئے ہیں ۔اگر ہم اپنے ملک کی تاریخ کا جائزہ لیں توبحیثیت ایک جمہوری ریاست پاکستان کی سیاسی تاریخ کوزیادہ خوشگوار نہیں کہا جاسکتا ۔بار بار مارشل لاء لگتے رہے ہیں ۔ اگر ہم ہندوستان کی سیاسی تاریخ کے ساتھ موازنہ کریں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ وہاں آج تک مارشل لاء نہیں لگا۔ہمارے ہاں تھوڑا سا عرصہ درمیان میں آتا ہے جب جمہوری انداز سے کوئی سیٹ اپ وجود میں آتا اور پھر مارشل لاء لگ جاتا ہے۔اس طرح وقفے وقفے سے مارشل لاء لگتا رہا ہے۔بدقسمتی سے سیاسی طور پریہ ہمارا مقدر بن گیا ہے۔ہماری سیاسی تاریخ ایسی نہیں کہ جس کا ذکر چھیڑ کر محسوس ہو کہ ہم نے بحیثیت قوم کوئی کارنامہ سرانجا م دیا ہے۔صورتحال اس کے بالکل برعکس رہی ہے اور ہے۔مسلم لیگ کی جدوجہد سے پاکستان وجود میں آیا تھا لیکن پھر وہ سیاسی اعتبار سے کمزو ر سے کمزور تر ہوتی چلی گئی۔ 1970ء کے الیکشن کو پاکستان کی تاریخ
میں سب سے شفاف الیکشن تسلیم کیا جاتا ہے، پیپلز پارٹی ایک طاقتور جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔اس الیکشن میں مسلم لیگ کو گنتی کی چند سیٹیں ملی تھیں۔ایک اعتبار سے پیپلز پارٹی نے اس الیکشن کو سوئپ کیا تھا۔1988میں آئی جے آئی وجود میں آئی اور مسلم لیگ دوبارہ ایک قوت بن کر ابھری ۔جب مسلم لیگ کو 1988ء الیکشن میں کامیابی ملی تھی تو بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے اس پر تبصرہ کیا تھا ۔اس کامیابی میں نو از شریف کا بڑا حصہ تھا۔ڈاکٹر صاحب ؒ نے یہ فرمایا تھا کہ ایک جمہوری ملک میں دوملک گیر سیاسی پارٹیوں کا وجود ضروری ہوتا ہے تاکہ یہ نظام بہتر طور پر چل سکے۔اس وقت تک صرف ایک ہی پارٹی میدان میں تھی اور وہ پیپلز پارٹی تھی۔یہ ایک اچھی بات ہے کہ مسلم لیگ ایک برابر کی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔انہوں نے اسے ایک اچھا شگون قرار دیا تھا۔اب ملکی معاملات متوازن طور پر چل سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ میاں نواز شریف ، کا تعلق سرمایہ دار طبقے سے ہے لیکن انہوں نے سیاسی سطح پر بہت محنت کرکے مسلم لیگ کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔اس کے بعد کے سارے حالات لوگوں کے سامنے ہیں۔اس وقت پیپلز پارٹی کی حیثیت ملک گیر سطح پر نہ ہونے کے برابر ہے۔میں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ مسلم لیگ موجودتو ہے لیکن میاں نواز شریف نے جو کچھ کیا ہے ، وہ اب اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔یہ ساری حقیقت اپنی جگہ لیکن اس وقت یہ ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے اور سامنے کوئی بڑی قوت نظر نہیں آرہی تھی ۔اس خلاء کو میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان نے پر کیا ہے۔اس وقت پاکستان میں دوسری بڑی سیاسی پارٹی عمران خان کی تحریک انصاف ہے۔ عمران خان نے لاہور کے جلسے میں جو منشور پیش کیا ہے اس میں ریاست مدینہ کو عنوان بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تعلیم سب کے لئے یکساں ہونی چاہئے۔صحت کے حوالے سے بھی انہوں نے اپنا ایجنڈا پیش کیا ہے ۔ملازمت میں تعیناتی میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔زراعت میں ایمرجنسی کا نفاذ ہونا چاہئے۔نکات کی ایک طویل فہرست ہے جو یقیناًاچھے ہیں ویسے الیکش سے قبل اچھے اچھے دعوے کئے جاتے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے ایک اچھا منشور پیش کیا ہے۔لیکن جس نظام کی وہ بات کرتے ہیں وہ اسے ریاست مدینہ والے نظام کا نام دیتے ہیں ۔یہ میرے نزدیک سب سے بڑا ایشو ہے۔ ریاست مدینہ کے تقاضے تو کچھ اور ہیں۔جو نکات انہوں نے پیش کئے ہیں ، وہ بھی اچھے ہیں۔ ریاست مدینہ میں تو پوری زندگی کا نقشہ دیا گیا ہے ۔ہر شعبے سے متعلق اسلامی تعلیمات ہیں۔وہ تعلیمات جب وہاں آئیڈیل کے طور پر آئی تب وہ ریاست مدینہ کہلائی،جس کی اصل شکل دنیا نے نظام خلافت راشدہ کی صورت میں دیکھی ہے۔آنحضورؐ کی حیات طیبہ میں معاملات ابتدائی شکل میں تھے۔آپؐ پر مسلسل غزوات مسلط ہورہے تھے۔لیکن دور خلافت راشدہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس نظام کو اپنے ڈھائی سالہ دور خلافت میں مستحکم کیا ۔حضرت عمر فاروقؓ نے ریاست کے تمام ادارے تشکیل دئیے اور پھر وہ نظام دیا جسے میں ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی زبان میں بیان کروں تو وہ ایک کلی تھی جو حضورؐ کی حیات طیبہ میں اسلام کے غلبہ کی صورت میں نمودار ہوئی تھی ۔گویا یہ نظام ایک بند کلی کی شکل میں تھا جیسے گلاب کی کلی جس میں خوشبو بھی ہے اور رعنائی بھی لیکن جب تک کلی پوری طرح نہیں کھلتی۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں وہ کلی مکمل گلاب کے پھول کی شکل اختیار کرگئی اوراس کی خوشبو اور رعنائی سے زمانے نے استفادہ کیا۔ ریاست مدینہ اس کا نام ہے۔ عمران خان کے تصورات میں بہت سارے معاملات ریاست مدینہ سے واضح طور مختلف ہیں مثلاًمرد و زن کا اختلاط، عائلی نظام کے حوالے سے سوچ وغیرہ۔ یہ بات درست ہے کہ تعلیم سب کے لئے یکساں ہونا چاہئے۔میں جس جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اصل تعلیم کون سی ہے؟حضورؐ نے بھی فرمایا ہے کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔وہ کون سا علم ہے جو فرض ہے؟علم اصل میں بنیادی دینی علم کا نام ہے۔لحد سے مہد تک آپ نے بحیثیت مسلمان کیسی زندگی گزارنی ہے؟قرآن کا علم اور حدیث وسنت کا علم ۔یہ تو آج کے نظام تعلیم کا حصہ ہی نہیں ہے۔اولین ترجیح اسے حاصل ہونی ہے۔دیگر علوم و فنون کی حیثیت ثانوی ہے۔لیکن جب آپ اسلامی ریاست کی بات کرتے ہیں تو وہاں ترجیحات تو کچھ اور ہیں۔یہ آج دور دور تک کسی کے حاشیۂ خیال میں نہیں ہے۔بالخصوص معاشرتی سطح پر مرد و زن کا عدم اختلاط ۔وہاں تو مخلوط محافل کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں۔موجودہ نظام تعلیم کو کم از کم ریاست مدینہ والا نظام تو نہ کہا جائے۔پہلے اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالا جائے۔ عمران خان ریاست مدینہ کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہتے ہیں تو ہم بھی اس کے حامی ہیں لیکن اس کے تقاضوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے اور ان ترجیحات کو ذہن میں رکھتے ہوئے جو وہاں تھیں، اس کے مطابق نظام کو استوار کرنے کی بھی ضرورت ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ عمرا ن خان جوکہہ رہے ہیں اس میں جو کمی اس حوالے سے رہ گئی ہے تو اس کی تلافی کریں۔ان حالات کا شعور رکھنے والے لوگوں سے رہنمائی حاصل کرکے اس راستے کو اختیار کریں جو وہاں سے ملے بجائے اس کے کہ وہ اپنی سوچ کو حرف آخر سمجھتے ہوئے اسی کو بروئے کار لائیں اور اسی کو اپنی کامیابی سمجھیں کہ ان کی سوچ کی تکمیل ہورہی ہے ۔
میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ پاکستان کا مستقبل ، اس کا استحکام ہی نہیں بلکہ اس کی بقا بھی حقیقی اسلامی نظام کے ساتھ مشروط ہے۔اگر یہ نظام نہیں آیا تو ملک کی سالمیت ہر وقت خطرے میں رہے گی۔اگر آپ ماضی کے تمام تجربات کو دیکھیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہمارا ملک ہر وقت عدم استحکام کا شکار رہاہے ۔ملک میں علیحدگی پسند تحریکیں بھی چل رہی ہیں۔اس سب کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اللہ کے دین سے غفلت ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ بغاوت کا معاملہ کیا ہے اور اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری سوچ کو درست کرے اور ہمارے ذمے داروں کو صحیح اسلامی شعور عطا فرمائے اور اس ملک کو اللہ کے دین کا گہوارہ بنانے کے لئے قوم کو بھی توفیق دے کہ وہ اپنا مال و جان سب کچھ دین کے لئے لگائے ۔آمین یا رب العالمین۔


ای پیپر