روزہ اور ہم
17 مئی 2018 2018-05-17

صد شکر کہ نزول قرآن کا مہینہ اوررحمتوں اور برکتوں کا ماہ مبارک اس برس بھی ہم گناہگاروں کونصیب ہو ا۔ فضیلتوں کے اس مہینے کی مبارک ساعتیں ،رحمت ،مغفرت اور نار جہنم سے نجات کے عشرے،لیلتہ القدر کی گھڑیاں اور طاق راتیں میسر آئیں ، اللہ اللہ کہاں ہم کوتاہ اندیش مسلمان اور کہاں اللہ کی رحمتیں اور رمضان کی بر کتیں ۔۔۔۔رمضان المبارک ہر سال آتا ہے اور دنیا کے تین ارب مسلمان اپنے اپنے انداز میں اس کا استقبال کرتے ہیں، کروڑوں مسلمان روزے رکھتے ہیں۔ مساجد نمازیوں سے بھرجاتی ہیں، نوافل اور تلاوت قرآن کی مقدار کئی گنا زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس ماہ مبارک میں مسلمان اربوں کھربوں روپے کی زکوٰۃ نکالتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ مقدار میں صدقات و خیرات کرتے ہیں۔ جنہیں اللہ نے توفیق او استطاعت دی ہے، وہ دوسرے مسلمان بھائیوں کیلئے سحر و افطار کا بندوست کرتے ہیں۔ لاکھوں افراد عمرے کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ تعداد اعتکاف کرنے والوں کی ہوتی ہے۔اس ماہ مبارک میں اگر کسی ایک شہر کے تمام بالغ مسلمان مرد فرض نماز کے لیے نکل آئیں تو اس شہر کی تمام سڑکیں بلاک ہوجا ئیں لیکن ایسا نہیں ہوتا۔اس ماہ مبارک میں مجموعی طور پر مسلمانوں کے دل نرم اورنیکی کی طرف راغب ہوتے ہیں کہ پورا ماحول اللہ سے تعلق اور اس کی رحمت و مغفرت کا طلب گار ہوتا ہے۔ دعاؤں میں رقت اور رویوں میں کچھ نرمی بھی آجاتی ہے، لیکن اس سب کے باوجود مسلمانوں کی اجتماعی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ عبادات، صدقات وخیرات، توبہ واستغفار اور ذکر وازواذکار میں کئی گنااضافے کے باوجود ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں رمضان سے پہلے تھے۔ دنیا بھر کے مسلمان بے حال ہیں، غربت، بیماری، پسماندگی کے علاوہ تعلیم اور ترقی سے دوری اسی طرح برقرار ہے۔ کیونکہ روزے نماز کے ساتھ ساتھ ہم گرانی، ذخیرہ اندوزی، جھوٹ، فریب، ایک دوسرے کا حق مارنے بلکہ لوٹ مار کرنے میں بھی لگے رہتے ہیں۔ چنانچہ اتنی عبادات بھی ہمارے ذاتی اور اجتماعی رویوں کو مکمل طور پرتبدیل نہیں کرتیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عبادات کی روح کو نہیں سمجھ سکے یا ان کی روح اور منشا کے مطابق خود کو تبدیل کرنے کو تیار نہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ روزہ نماز اور خیرات و صدقات کے بعد ہم کاروبار،تجارت،ملازمت،تعلقات، بین الاقوامی امور ،صحت اور تعلیم سمیت ہر شعبہ اور معاملے میںآزاد ہو گئے ہیں ۔

ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم روزے کی حالت میں بھی سودی لین دین کرتے ہیں۔کسی کا حق مار کر عمرے پر چلے جاتے ہیں۔ صدقات کرتے ہوئے گرانی وذخیرہ اندوزی بھی جاری رکھتے ہیں۔ ٹیکس چوری کرکے فلاحی اداروں کو عطیات دیتے ہیں۔ ملازمین کی تنخواہیں روک کو مساجد کو چندے دیتے ہیں۔ کمزور اور نادار رشتہ داروں کو دھتکار کر اپنے گھر کے سامنے غریبوں اور محتاجوں کی قطاریں بنوا کر ان میں خیرات تقسیم کرتے ہیں۔ کمیشن کے پیسوں اور رشوت کی رقم سے اجتماعی افطاریاں اور رمضان دستر خوان سجاتے ہیں۔ ہمارا یہ رویہ اسی طرح کے نتائج پیدا کرسکتا ہے اور یہی رویہ جاری رہا تو نتائج بھی یہی نکلتے رہیں گے۔

اور اب تور مضان، افطار کا نام ہو کر رہ گیا ہے۔خواتین سارا وقت افطار کی تیاری میں لگادیتی ہیں حالانکہ یہ قیمتی لمحات اللہ سے لو لگانے کے ہیں۔ سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں، فلاحی ادارے، کاروباری وتجارتی انجمنیں بڑھ بڑھ کر افطار پارٹیاں کرتے ہیں۔ ان افطار پارٹیوں میں جو ہڑبونگ مچتی ہے۔ جس طرح کی چھینا جھپٹی ہوتی ہے۔ وہ بھی سب جانتے ہیں۔ کئی جگہوں پر تو افطار سے پہلے ہی لوگ افطاری پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان افطار پارٹیوں پر لاکھوں روپے خرچ کرنے والوں کو دنیا بھر کے بے بس مسلمان یاد نہیں آتے۔انہیں یہ توفیق نہیں ہوتی کہ وہ یہ رقم ستر سال سے اسرائیلی اور بھارتی مظالم کے شکار فلسطین اور کشمیر کے بے کس مسلمانوں کو یا برما کے ان بے یارو د مددگار مسلمانوں کو بھجوا دیں جن پر اللہ کی زمین ہی نہیں، سمندر کی وسعتیں بھی تنگ کردی گئی ہیں۔ ان بے سہارا مسلمانوں کے بارے میں قیامت کے روز ہم سے بھی سوال کیا جائے گا۔ہمیں آگ ،بارود اور موت تقسیم کرتی ہوئی بمباری میں سانس لیتے ہوئے شامی مسلمان یاد ہیں نہ فلسطین میں کمسن بچوں کے لاشے اٹھائی ہوئی مائیں۔ ہم نے تو شاید کشمیر میں جوان بھائیوں کے جنازوں پر بین کرتی ہوئی کشمیری بہنوں کو بھی بھلادیا ہے۔

اس وقت صرف برما، یمن، افغانستان اور کشمیر کے مسلمان ہی مصائب میں گھرے ہوئے نہیں، خود پاکستان کے عوام بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں آگ اوربارود کا کھیل جاری ہے اور فاٹا اورشمالی علاقہ جات کے عوام دہشتگردی کے خوف کا شکار ہیں۔ لیکن ہم شاید انہیں بھول کر رمضان شوز سے انعامات اکٹھے کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ کمپنیاں جو ان شوز میں کروڑوں روپے کے انعامات بلاوجہ تقسیم کررہی ہیں، ان میں سے کسی کو بلوچستان،فاٹا، اورشمالی علاقہ جات میں دہشتگردی کا شکار ہونے والے لوگوں کیلئے سحری وافطاری کا بندوبست کرنے کا خیال آیا اور نہ فلسطین ،کشمیر اوربرما کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے ان کے دلوں میں کوئی ہوک اٹھی۔

گزشتہ چند سال سے ٹی وی چینلز کے رمضان شوزکی نئی روایت شروع ہوئی ہے، جن میں اچھل کود اور تمسخر و استہزا کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چند ایکٹرز مسخروں کے انداز میں یہ پروگرام کرتے ہیں اور ہزاروں لوگ بھک منگوں کی طرح انعامات کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں، ان پروگراموں میں چند دینی سوالات کے بعد حاضرین کا مذاق اڑایا جاتا ہے یا ان کے ساتھ تضحیک آمیز انداز اپنایا جاتا ہے۔

قارئین ہماری اس انفرادی اور اجتماعی بے حسی اور بے روح اعمال سے صرف وقتی تبدیلی ہی آسکتی ہے، اسی لیے ہم رمضان میں سروں پر ٹوپیاں اور ہاتھوں میں تسبیح پکڑ لیتے ہیں۔ مگر جیسے ہی یہ ماہ مبارک مکمل ہوتا ہے اور رحمتوں اور برکتوں کے اس ماحول کی جگہ معمول کی زندگی لیتی ہے، ہم تسبیح چھوڑ کر ایک بار پھر چھریاں سنبھال لیتے ہیں اور ایک دوسرے کو ذبح کرنے میں پہلے کی طرح مصروف ہوجاتے ہیں، وہی سودی کاروبار، وہی گرانی،وہی ذخیرہ اندوزی، وہی سیاسی لوٹ مار اور وہی معاشی استحصال دوبارہ شروع ہوجاتا ہے، عید کے چنددنوں بعد ہی وہ سب کچھ ہونے لگتاہے جورمضان میں تھوڑا بہت رک گیا ہوتا ہے،کاش ہم غور کریں اور روزے کی مشق کے ساتھ اپنے اندر وہ تبدیلی لے آئیں جو ہمارے مالک و خالق کا منشا ہے،

قارئین! روزہ اللہ کے احکامات کے سامنے مکمل سرنڈر کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم روزے میں بھی اپنی اناوں کے ساتھ ظاہری نمود و نمائش میں مصروف رہے تو ہماری انفرادی اوراجتماعی زندگیوں میں کوئی تبدیلی آئے گی، نہ امت مسلمہ کے مصائب کم ہونگے۔


ای پیپر