مری بائیکاٹ۔۔۔ آنکھوں دیکھا احوال!
17 مئی 2018 2018-05-17

خوشی اس بات کی ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ قوم بدل رہی ہے۔ پہلی دفعہ لوگوں کو احساس ہو رہا ہے کہ اپنے حقوق کے لیے بات کرنی ہے، مافیاز کے خلاف جنگ لڑنی ہے۔ اور اس بیداری اور تبدیلی کا کریڈٹ کسی لیڈر کو نہیں بلکہ سوشل میڈیا کو جاتا ہے۔ یاد رکھیں جب بھی آپ کا استحصال ہوتا ہے، جب بھی کوئی آپ کو بلیک میل کرتا ہے۔ تو وہ سب کچھ آپ کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا۔ مکمل نا سہی لیکن کسی حد تک آپ بھی قصور وار ہوتے ہیں۔ آپ اپنے استحصال میں کیوں شامل ہوتے ہیں اس کی بیشمار وجوہات ہیں لیکن چند بڑی وجوہات میں آپ کا بیوقوف ہونا، اپنے حقوق کے بارے میں لاعلم ہونا یا پھر لالچی ہونا شامل ہے۔ چند سال پہلے جب پنجاب فوڈ اتھارٹی پہ محترمہ عائشہ ممتاز کا راج تھا تو میں نے ان کا ایک انٹرویو کیا۔ انہوں نے بڑی خوبصورت بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ مافیا ہمیشہ لوگوں کی بیوقوفی کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ جب میں اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے رویے
دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کی بات سو فیصد سچ ہے۔ ہم میں سے آدھے سے زیادہ لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ قانون میں ان کے لیے کیا حقوق موجود ہیں یا وہ کس فورم پہ شکایت کر سکتے ہیں۔ بس ایک ہی بہانہ۔۔۔ ’’چھوڑیں جناب۔۔۔ شکایت کوئی نہیں سنتا۔ بس جی آواز اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں‘‘۔ او یار، آپ آواز اٹھائیں تو سہی، آپ بات تو کریں۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ کالم پڑھنے والوں میں سے اکثریت کو علم نہیں اگر کوئی پولیس والا آپ سے بدتمیزی کرتا ہے تو اس کے خلاف شکایت کس نمبر پر کرنی ہے؟ آپ کے یونین چیئرمین کا کیا نام ہے؟ اس کا فون نمبر کیا ہے؟ علاقے کا تھانہ کہاں ہے اور تھانیدار کون ہے؟ اگر کوئی دکاندار آپ کو گھٹیا چیز فروخت کرتا ہے، معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف صارف عدالت میں درخواست کیسے دینی ہے؟ سچ بتائیں آپ کو ان سب باتوں کا علم ہے؟
گزشتہ سال انہی دنوں فروٹ بائیکاٹ مہم چلی تھی۔ اور اب لوگ مری کے بائیکاٹ کی بات کر رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے دوستوں کے ساتھ اسلام آباد اور مری جانے کا اتفاق ہوا۔ پہلی خوشخبری تو یہ سناؤں کہ مہم کامیاب ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ جن وجوہات کی وجہ سے بائیکاٹ مہم چل رہی ہے وہ کافی حد تک درست ہیں۔ وہاں کچھ دکانداروں سے گھوم پھر کر معلومات حاصل کیں۔ ایک دکاندار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پہ بتایا کہ سر یہاں پر مافیا کا قبضہ ہے۔ اپنی مرضی کے نرخ مقرر کیے گئے ہیں۔ فیملیز بالخصوص عورتوں کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ہے اور ساتھ موجود مرد آواز تک نہیں اٹھا سکتے۔ اگر خاندان کا کوئی فرد ذرا سا ردعمل ظاہر کرے تو اسے زدوکوب کیا جاتا ہے۔ متوسط طبقے کے لوگ ہنی مون کے لیے مری کا انتخاب کرتے ہیں۔ انہیں خاص طور پر تنگ کیا جاتا ہے۔ بلیک میل کیا جاتا ہے۔ مہم کی کامیابی بارے پوچھنے پہ اس نے بتایا کہ ایک ہفتے سے کاروبار میں مندا ہے۔ ہم فارغ بیٹھے ہیں۔ اور اب تو مقامی تاجروں اور انتظامیہ کی طرف سے خوش آمدید کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔ سیاحوں کو پھول پیش کیے جا رہے ہیں۔ یعنی سادہ لفظوں میں یوں کہیں کہ مافیا کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دو تین لڑکے گاڑی پارک کروانے کے لیے آ گئے۔ جب گاڑی پارک کی تو پارکنگ فیس 300 روپے تھی۔ اور بعض جگہوں پہ 600۔ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ کھڑی گاڑی کا ہوٹل والے ٹائر پنکچر کر دیتے ہیں اور پھر خود سے ہی مہنگے داموں پنکچر لگانے والا مہیا کر دیا جاتا ہے۔ کہیں پہ بھی آپ ذرا سی بحث کریں تو گاڑی پر لکیر مار دی جاتی ہے۔ اور آپ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان ساری بدتمیزیوں کو دیکھتے، سامنے کھڑے پولیس والوں کا کردار یہ ہے کہ اگر آپ غلطی سے ان سے مدد طلب کر لیں تو پھر آپ کو ان سے جان چھڑانے کے لیے ان کو الگ سے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ وہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ مکمل طور پر مقامی مافیا کے رحم و کرم پر ہیں۔ ان کی مرضی، جتنے چاہیں دام مقرر کریں اور جس سے چاہیں جو سلوک کریں۔
اب بہت سے لوگ مری بائیکاٹ مہم کا حصہ بن رہے ہیں اور مجھے اس سے خوشی ہوئی ہے کہ قوم میں کم از کم شعور تو آ رہا ہے۔ ہم تو اس قدر بیوقوف قوم ہیں کہ ہم نے دکانداروں کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ کسی پھل والے یا دہی والے سے آپ یہ کہیں کہ یار ذرا اچھا پھل دو یا دہی اچھا دینا۔ تو وہ جواب میں کہتا ہے '' شکر کرو اے مل ریا اے '' یعنی ہم نے ہر سہولت کو آکسیجن بنا دیا ہے۔ مری کے ساتھ ساتھ کچھ اور بائیکاٹ بھی ضروری ہیں۔ بیشمار ریسٹورنٹ اور کیفے ایسے ہیں جہاں قیمتوں کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کوکا کولا کی بوتل کا گلاس 300 کا ملتا ہے اور اس ریسٹورنٹ سے ٹھیک اگلی گلی میں پوری ڈیڑھ لٹر بوتل 85 روپے میں مل جاتی ہے۔ برانڈ مافیا، پرائیویٹ سکول مافیا، یار کس ملک میں رہ رہے ہیں ہم! کوئی ہے جو ان سے پوچھ گچھ کرے؟ ٹھیک ہے اگر آپ کی کوالٹی اور ماحول دوسروں سے بہتر ہے تو قیمت بھی زیادہ ہو گی لیکن ٹھگ تو نہ بنیں۔ میرا خیال ہے کہ ایسے بدمعاشوں کے بائیکاٹ کی بھی کوئی مہم چلنی چاہیے۔


ای پیپر