عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کانوٹس لے
17 مئی 2018 2018-05-17

اقوام متحدہ میں پاکستان کی طرف سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھانے پر پاکستان اور بھارت کے مندوبین کے درمیان زبردست جھڑپ ہوئی ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا محکمہ پبلک انفارمیشن ایسے خطوں پر خاص طور پر توجہ دے جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔
پاکستان کے مندوب مسعود انور نے کہا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ ڈی پی آئی دنیا کے مختلف خطوں میں پائی جا رہی کشیدگی کے خاتمے میں کردار ادا کر سکتا ہے اور بھائی چارہ قائم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ادارے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملات کو اجاگر کرنا چاہیے۔ کشمیر ،میانمار اور فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ ڈی پی آئی ان خلاف ورزیوں کو اجاگر کرے تاکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں اقدامات ہوں۔
اجلاس میں موجود بھارتی مندوب سرویناس پرساد نے پاکستان کی تجویز پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ بھارت اس تجویز کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان کی تجویز غیر متعلقہ ہے۔ اس ادارے سے اس تجویز کا کوئی تعلق نہیں۔ اقوام متحدہ کی کمیٹی کے اجلاس میں اس معاملے پر پاکستان اور بھارت کے مندوبین کے درمیان زبردست جھڑپ ہوئی۔
برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ کے 65 ارکان کے دستخطوں سے کشمیر پٹیشن برطانوی وزیراعظم کو بھی پیش کر دی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دولت مشترکہ کی کانفرنس کے دوران برٹش کشمیریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کے سلسلے میں اپنا سیاسی اور اخلاقی کردار ادا کریں۔ برطانوی پارلیمنٹ میں کل جماعتی کشمیر کانفرنس بھی ہوئی۔ کشمیریوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں سے لندن کی فضائیں کشمیر کی آزادی کے نعروں والے غباروں سے بھر گئیں۔دولت مشترکہ سربراہ کانفرنس میں اس دفعہ ماضی کی نسبت مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی قابل ستائش کوشش کی گئی۔
بھارت گزشتہ ستر سال سے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کا بے دریغ خون بہا جا رہا ہے، لیکن اپنے اپنے مفادات کی اسیر عالمی طاقتیں اس سے صرف نظر کئے ہوئے ہیں۔ اس مسئلہ کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کی اصل ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوتی ہے جس کے نمائندے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے بھارت نواز رویئے کے باعث یہ مسئلہ پیداہوا۔ انگریز گورنر جنرل قانوناً اور اخلاقاً اس بات کا پابند تھا کہ وہ تقسیم ہند کے ریاستوں کے بارے میں فارمولے پر عمل کراتا۔ بھارت کے غاصبانہ قبضے کے بعد بھی برطانیہ نے اس ضمن میں وہ کردار ادا نہیں کیا جو اس کا فرض بنتا تھا۔ بعد میں یہ مسئلہ عالمی سیاست کا شکار ہو گیا۔ اب جس طرح دولت مشترکہ سربراہ کانفرنس کے انعقاد کے دوران اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کیلئے انسان دوست اور آزادی پسند حلقوں نے کوشش کی ہے، اگر ایسی کوششیں اسی شدومد اور جذبے سے جاری رکھی گئیں تو یقیناًہمارے کشمیر کاز کو تقویت پہنچے گی۔
کشمیر ایک بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ تنازع ہے۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے زیادہ سرگرم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ علی گیلانی نے پاکستان پر زوردیا کہ دنیا بھر میں قائم اپنے سفارت خانوں اور سفارتی چینلوں کو مزید متحرک کرے اور انہیں کشمیریوں کی جدوجہد اور جموں وکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرانے کی ذمہ داری سونپ دے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک اہم فریق ہے اور اس تنازعے کا حتمی حل پاکستان کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ہے، لہٰذا پاکستان کو جرأت اور حوصلے کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنے کی ضرورت ہے۔حریت فورم کے چےئرمین میرواعظ عمر فاروق نے جو مسلسل گھر میں نظر بند ہیں اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیری عوام اور حریت رہنماؤں نے ہر سطح پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کی ہمیشہ تعریف کی ہے۔
حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے بھارتی حکومت کالے قانون افسپا پر نظرثانی کرنے اور منسوخ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے اپنی جاری سالانہ رپورٹ میں کہا ہے گزشتہ سال مئی میں بھارتی فوج نے پڈگام میں بھارتی پارلیمانی انتخابات کے دوران ایک راہگیر کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے والے فوجی افسر کو شاباش دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے بھارتی حکومت کالے قانون افسپا پر نظرثانی اور وادی میں اس کے نفاذ کو منسوخ کرنے میں بھی ناکام رہی جبکہ یہ قانون بھارتی فوجیوں کو وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا اس قانون کے تحت گزشتہ طویل عرصے سے بھارتی فوج بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال وادی میں حکام نے 27 بار انٹرنیٹ سروسز بھی بند کر کے لوگوں کو آزادی اظہار رائے سے محروم کیا جبکہ بڑے پیمانے پر پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئیں۔
بھارت خود کو دنیا کا سب کا بڑا جمہوری ملک گردانتا ہے لیکن اس نے گزشتہ ستر برس سے کشمیریوں کی آزادی سلب کر رکھی ہے اور وہ ان کے بنیادی حقوق بْری طرح پامال کر رہا ہے۔ سید علی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق ،محمد یٰسین ملک اور دیگرحریت رہنماؤں کو مسلسل نظر بند رکھا جا رہا ہے۔ غیر قانونی طو ر رپر نظر بند کشمیریوں کو جیلوں میں طبی سمیت تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا تا ہے۔ کشمیری رہنماؤں نے کہا کہ کشمیری اپنی خواہشات کے مطابق تنازع کشمیر کا حل چاہتے ہیں جس کی پاداش میں بھارت انہیں بدترین چیرہ دستیوں کا نشانہ بنارہا ہے۔


ای پیپر