معاشی پالیسی اورنواز شریف کا متنازع بیان
17 مئی 2018

2013ء کو وجود میں آنے والی مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت کے اختتام کو ہے ۔ معاشی لحاظ سے پاکستا ن کو ایشین ٹائیگر اور ایک مضبوط ریاست بنانے کا نعرہ بلند کرنے والوں کی کارکردگی پر ایک نظر دوڑائیں تو سخت مایوسی ہوتی ہے ۔ معاشرے میں ہر طرف افراتفری ،انتشار اور لاقانونیت سرایت کرتی معلوم ہوتی ہے ۔ جس عوام نے موجودہ حکمرانوں کو اقتدار کی کرسی پر بٹھایا تھا آج وہی نجات کی راہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔اگرچہ حکمرانوں کے گناہوں کی فہرست طویل ہے مگر میں یہاں معیشت کی زبوں حالی پر اکتفا کرتے ہوئے عوام کو درپیش مسائل پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں ۔ بد قسمتی سے ملکی معاشی صورت حال دن بدن ابتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ مہنگائی،بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ نے غریب عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ معاشی خوشحالی کا دعویٰ کرنے والے اپنی واضح سمت کو متعین کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ریلیف عوام سے کوسوں دور ہے۔ریلوے،پی آئی اے، سٹیل مل ،ایف بی آر اور دیگر سرکاری اداروں میں ہونے والی کرپشن ملکی معیشت کو دن بدن کمزورکررہی ہے۔ایک برس میں ضروریات زندگی کی مختلف اشیاء کی قیمتوں میں 15 سے 35 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ اگر حکمران اپنے اللے تللے ختم، بیرون ملک بینکوں میں پڑی رقم واپس اور ٹیکس سسٹم کو ٹھیک کرلیں توہمیں کشکول لے کر دنیا کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
آئی ایم ایف سے قرضے لے کر ملک چلانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ۔آئی ایم ایف نے نومبر1980ء سے اکتوبر2008تک28برسوں میں پاکستان کو صرف6ارب ڈالر کے قرضے دیے جبکہ نومبر2008سے ستمبر2013کے پانچ برسوں میں پاکستان کے لئے تقریباً18ارب ڈالر کے قرضوں کی منظوری دی۔گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان کے قرضوں اور واجبات میں 47فیصد اضافہ ہوا ۔اب موجودہ صورت حال کچھ اس طرح ہے کہ پاکستان کے مجموعی قرضے 268کھرب 15ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔مجموعی قرضوں میں 288کھرب 21ارب حکومت کے قرضے ہیں ۔ایک سال میں قرضوں کے بوجھ میں 34کھرب 77ارب روپے کا اضافہ ہوا ۔سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران مجموعی طورپر 9کھرب 91ارب روپے کے نئے قرضے لئے گئے ۔بیرونی قرضہ 91.761ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے ۔
سودی نظام نے ملکی معیشت کو برباد کرکے رکھ دیا۔ عوام پہلے ہی بدحال ہیں رہی سہی کسر موجودہ حکومت کے اقدامات نے نکال دی ہے۔ مسلم لیگ(ن)کو جھولیاں بھر بھر کو ووٹ دینے والے اس کی کارکردگی سے شدید مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔11مئی کے انتخابات کے بعد یہ تاثر عام ہورہا ہے کہ صرف چہرے بدلے نظام میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیںآئی۔کرپشن کا ناسورمعاشرے کی جڑوں کومضبوطی سے جکڑے ہوئے ہے۔ایک طرف روزانہ12ارب روپے کی کرپشن ملکی معیشت کے لئے تباہی کا باعث بن رہی ہے جبکہ دوسری جانب کمیشن مافیا سرگرم ہے۔لوگوں کو اپنے جائز کام کروانے کے لئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔خودکشیوں کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیاہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران ایسی پالیسیاں مرتب کریں جس کا فائدہ عام لوگوں تک پہنچ سکے۔دکھاوے کے اقدامات سے گریز کیا جائے اور عملاً کام کرکے دکھایا جائے۔ انتہائی افسوس کامقام ہے کہ قانون سازی کرنے اور ریاست کو چلانے والے ادارے بل ادانہیں کرتے جس کاخمیازہ متوسط اور غریب طبقہ کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ ایوان صدر، وزیراعظم سیکرٹریٹ،وزارت پانی وبجلی، نادرا، الیکشن کمیشن،سی ڈی اے،موٹروے پولیس،جی ایچ کیو، فضائیہ اوربحریہ سمیت سینکڑوں سرکاری محکمے نادہندہ ہیں۔ ملک میں جاری توانائی بحران کے خاتمے کے لئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر نہایت ضروری ہے۔اس سے جہاں ایک طرف سستی بجلی فراہم ہوگی وہاں لاکھوں ایکڑ زمین سیراب اور ہزاروں ملازمتوں کے مواقع بھی پیداہوں گے۔مگر بدقسمتی سے قومی مفاد کے اس اہم منصوبے کو سیاست کی نذرکردیا گیا ہے۔ پاکستان میں توانائی بحران کے باعث لاکھوں مزدور بے روزگار ہوچکے ہیں۔صنعتیں بند اور کاروبار ٹھپ ہورہے ہیں۔لاگت میں اضافے کے باعث ہماری مصنوعات عالمی مارکیٹ کامقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ ملکی سرمایہ دار ہندوستان، بنگلہ دیش، چین، ترکی ، ملائیشیا اور دیگر ممالک کارخ کررہے ہیں۔
کالم کے آخر میں کچھ تذکرہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے متنازع بیان کا ۔ایک ایسے شخص کو جو تین مرتبہ اس ملک کا وزیر اعظم رہ چکا ہو کسی بھی لحاظ سے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ملکی سلامتی کے خلاف بیان بازی صرف اس لیے کرے کہ اس کو ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے کرپشن پر نا اہل قرار دے دیا تھا۔ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ اس نے ضیاء الحق کی پالیسیوں پر تنقید کی مگر اداروں کو حر ف تنقید نہ بنایا۔بہت سارے راز دل میں لے کرپھانسی کے پھندے سے جھول گئے ۔جبکہ دوسری طرف خود کو اس قوم کا لیڈر کہلانے والے نواز شریف کا طرز عمل، افسوسناک اور قابل مذمت ہے ۔وقت کے کچھ فیصلے ہوا کرتے ہیں ان کو کھلے دل سے تسلیم کرنے میں ہی دانش ہوتی ہے ۔اگر ہوا کی مخالف سمت میں چلنے کی کوشش کریں گے تو تھک ہار کر نیچے گرنا ہی مقد ر بنتا ہے ۔نواز شریف کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے ایک بیان سے خود مسلم لیگ کو کتنا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے ۔2018ء کا انتخاب سر پر ہے ۔اس قسم کے بیانات کا خمیازہ مسلم لیگ ن بالخصوص وسطی پنجاب کے لوگوں کو بھگتنا پڑے گا۔یو ں محسوس ہوتا کہ جیسے نواز شریف انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ وہ در حقیقت اپنے زوال کو تسلیم نہیں کر پا رہے ۔بہر کیف یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وہ اپنی اس کوشش میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں۔مگر یہ امر قابل ذکر ہے کہ نواز شریف نے سلامتی کے ایشو پر مریم نواز کو جواب دینے سے منع کر دیا تھا جس سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ مریم نواز کا سیاسی کئیر شروع ہونے سے قبل ہی ختم ہو جائے ۔


ای پیپر