توانائی بحران اور حکومتی کارکردگی۔۔۔؟
17 مئی 2018



موسم گرما کی حدت کی حرارت جوں جوں بڑھتی چلی جا رہی ہے ملک بھر کے شہری اور دیہی علاقوں میں غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔جس کے باعث معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز)کے نظام سے جڑے مسائل کے علاوہ این ٹی ڈی سی کی پاور ٹرانسمیشن لائنز اور پاور پلانٹس ٹرپ ہو جانے کے باعث آٹھ ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی ہے۔جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ملک میں جب بھی لوڈشیڈنگ کی بات زیر بحث آتی ہے تو اس کی بڑی وجہ ملک میں آبی ذخائر کی کمی کا ذکر بھی کیا جاتا ہے ۔اس وقت ملک میں صرف دو بڑے آبی ذخائر منگلا اور تربیلا ڈیمز موجود ہیں لیکن بد قسمتی سے ان دو ڈیمز کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جا رہی ہے۔ملک میں آبی ذخائر کی کمیابی پر الگ سے ایک مفصل کالم درکارہے۔اس پر بھی انشاء اللہ جلد لکھوں گا۔پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق ملک کے پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار 16495میگاواٹ ہے جبکہ تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز)درپیش مسائل کے باعث 13813میگاواٹ بجلی حاصل کر رہی ہیں۔گزشتہ ایک دہائی سے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے متبادل ذرائع اور اس میں اضافہ کیلئے قائم کردہ بورڈ(AEDB)کے
قیام کے بعد ابتک کوئی حوصلہ افزا نتائج سامنے نہ آسکے۔پاکستان ہر سال پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر بارہ ملین ڈالرز سے بھی زائد رقم خرچ کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہ لا حاصل کوشش بھی پاکستانی قوم کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات نہ دلا سکی اور قومی گرڈ سٹیشن میں کوئی قابل ذکر میگاواٹ بجلی داخل نہ ہو سکی۔جتنے بھی ملک بھر میں توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے منصوبوں پر کام شروع کیا گیا وہ منصوبے یا تو خسارے کا شکار ہوگئے یا پھر ان منصوبوں کو کرپشن کا اژدہا نگل گیا۔پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے پانچ بڑے ذرائع موجود ہیں جن میں پانی‘تھرمل (تیل‘ قدرتی گیس ‘کوئلہ) ہوا‘سورج اور ایٹمی توانائی شامل ہیں۔پاکستان کی سر زمین بیش بہا قیمتی وسائل اپنے سینے میں سموئے ہوئے ہے۔ اور اس بات سے بھی انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ پاکستان میں قدرتی گیس اور کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں لیکن حکومتیں ان ذخائر کو دریافت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔اگر حکومتیں توانائی بحران کا مستقل حل ڈھونڈتے ہوئے یہ ذخائر دریافت کرنے میں کامیاب ہو جاتیں تو پھر شاید آج اس قوم کو یہ اذیت جھیلنے کی نوبت نہ آتی۔ملک میں تھرمل ذرائع سے 61.6فیصد ہائیڈرو الیکٹرک سے 33فیصداٹامک انرجی سے 4.2فیصدشمسی اور دیگر ذرائع سے 1.2فیصد بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ملک کی آبادی کو 19ہزار میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے۔جبکہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار بارہ ہزار میگاواٹ ہے۔ماہرین کے مطابق ملک میں توانائی بحران خود ساختہ ہے جس کی بڑی وجہ ملک میں بیڈ گورننس ہے۔تقسیم کار کمپنیوں میں ایسے افراد کی کھیپ کو بھرتی کیا گیا ہے جو کرپٹ اور اہلیت کے پیمانے پر پورا نہیں اترتے جس کے باعث یہ محکمہ کرپشن گنگا میں پورا پورا ڈوب چکا ہے۔پاکستان میں توانائی بحران کی اصل ذمہ دار وزارت پیداوار‘وزارت پانی و بجلی اور وزارت پٹرولیم ہے۔پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت طلب سے تقریباً دوگنا زائد ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام گزشتہ ایک دہائی سے لوڈشیڈنگ کا بدترین عذاب کیوں جھیل رہے ہیں۔ اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ ٹھوس حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھائے تو بلوچستان کے تمام کوسٹل ایریاز میں ہوا کے ذریعے پنجاب،سندھ اور بلوچستان کے اسی فیصد ایریا میں شمسی توانائی کے ذریعے اور تمام پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں اور چشموں کے ذریعے بھی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔دنیا میں ایسی بے شمار کمپنیاں موجود ہیں جو ندی نالوں کے ذریعے دیہاتوں اور چھوٹے شہروں کو بجلی فراہم کر سکتی ہیں۔پاکستان میں اس وقت اٹھارہ ڈیمز اور درجن سے زائد بیراج موجود ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ مزید ڈیمز بنانے کی طرف سنجیدگی کے ساتھ توجہ مرکوز کرے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں اس وقت تین سو سے زائد بڑے ڈیمز موجود ہیں اور بھارت دنیا بھر میں ڈیمز بنانے والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔آبی ذخائر کی کمیابی حکومت کے لئے لمحۂ فکر ہے۔ملک میں تھر کے علاقے میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں ایک اندازے کے مطابق پانچ سو سال کیلئے پچاس ہزار میگاواٹ بجلی ان ذخائر سے پیدا کی جا سکتی ہے۔ اور ان ذخائر سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت فی یونٹ چار روپے ہو گی۔اس وقت جو بجلی ہم تیل سے پیدا کر رہے ہیں اس کی قیمت فی یونٹ صارف ساڑھے سولہ روپے ادا کر رہا ہے۔آپ یقین کریں کہ امریکہ اور یورپ میں سمندر میں کھمبے لگا کر بڑے بڑے پنکھے لگائے گئے اور اس طریق کار سے ہوا کے دباؤ سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔پن چکیوں سے بجلی پیدا کرنے کا دنیا میں عام رواج ہے۔پاکستان کو دریاؤں کی سر زمین کہا جاتا ہے۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سمندری حدود دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ماہرین کے مطابق آئندہ کئی دہائیوں تک صرف پانی کے بہاؤ سے توانائی کا حصول ہی سب سے بہتر اور سستا ترین ذریعہ ہوگا۔وہی ممالک ترقی کی شرح میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو واٹر ٹربائن کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے اور نئے ڈیمز کی تعمیر جاری رکھیں گے۔پاکستان میں توانائی کے منصوبوں پر قرض کے استعمال اور پراجیکٹس شروع کرنے کے حوالے سے سست روی پر ایک سال قبل ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔چھ اعشاریہ چار ارب ڈالرز کے پورٹ فولیو کے مطابق تقریباً تین اعشاریہ ایک ارب ڈالرز توانائی شعبوں کیلئے مختص تھے۔اس تمام صورت حال کے زائچہ نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا آج بھی صورت حال وہی ہے جو دس سال قبل تھی جس کے باعث عام فرد کے معاملات زندگی تلپٹ ہو کر رہ گئے ہیں۔ہمارے پاس اس وقت انیس ہزار میگاواٹ بجلی
پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اگر ہم فوری طور پر پن بجلی کے نظام کی خرابیوں کو دور کر لیں، ہم پرائیویٹ کمپنیوں کو ادائیگیاں کر دیں اور لائن لاسز پر قابو پالیں تو ہم فوری طور پر سات ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔حکومت کے درجنوں ادارے واپڈا کے ڈیفالٹر ہیں اگر یہ ادائیگیاں کر دی جائیں تو ادائیگیوں کا سلسلہ ٹھیک ہو سکتا ہے۔ملک میں جو بجلی کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے اس صورت حال کے پیش نظر فرنس آئل کی رسد کے تسلسل کو قائم نہ رکھا گیا تو آنے والے دنوں میں لوڈشیڈنگ کے بے قابو جن پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ملک میں موجود دریاؤں،قدرتی جھرنوں، آبشاروں، قدرتی گیس، اور کوئلے کے وسیع ذخائر سے اگر حکومت استفادہ نہیں کرتی تو مستقبل قریب میں یہ بحران شدید تر ہو جائے گا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے مئی 2013ء کے الیکشن میں جو فیصلہ کن اکثریت حاصل کی تھی وہ اس بنیاد پر انہیں اکثریت ملی تھی کہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کریں گے۔لیکن جو وعدہ تھا وہ شاید اب وفا نہ کر سکیں کیونکہ اب الیکشن بالکل سر پر آن پہنچے ہیں حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کو لوڈشیڈنگ کا عذاب بہا کر لیجائے گا۔


ای پیپر