چن جی !
17 مئی 2018

منڈی بہاﺅالدین سے پیپلزپارٹی کے ایک بہت ہی اہم رہنما ندیم افضل چن پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ وہ شاید واحد سیاسی رہنما ہیں جن کے لیے عمران خان کی اپنی یہ خواہش تھی وہ پی ٹی آئی جائن کرلیں۔ اُن سے پہلے اُن کے چھوٹے بھائی وسیم افضل چن اور اُن کے ماموں نذر گوندل بھی تحریک انصاف میں شامل ہوگئے تھے، پارٹیاں بدلنا خاص طورپر بار بار بدلنا میرے نزدیک باعث عزت نہیں ہوتا۔ مگر پیپلزپارٹی اب ایسی سیاسی جماعت بن چکی ہے جس کے ساتھ رہنا بھی باعث عزت نہیں رہا، یہ جماعت اپنی کرپشن اور نااہلی کے باعث خود کو تباہی کے اُس مقام پر لے آئی ہے جہاں اِس سے جُڑے ہوئے اکثر سیاسی رہنما کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرکے خود کو اِس پارٹی سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ اور جو مسلسل جُڑا رہنا چاہتے ہیں اُنہیں یا تو کوئی دوسری جماعت خصوصاً پی ٹی آئی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں یا اُن سے یہ وعدہ کرنے کے لیے تیار نہیں کہ الیکشن میں اُنہیں ٹکٹ وغیرہ دیا جائے گا۔ یا پھر پیپلزپارٹی سے اُن کا کوئی نہ کوئی ایسا مالی مفاد ضرور وابستہ ہے جس کے تحت پارٹی چھوڑنے میں اُنہیں شدید دشواری کا سامنا ہے،....ایک زمانے میں یہ جماعت وفاق کی علامت ہواکرتی تھی، اس کی شہید سربراہ کو ”چاروں صوبوں کی زنجیر“ کہا جاتا تھا۔ پوری دنیا اِس پر متفق ہے کہ اِس جماعت کا بیڑا غرق کرنے میں بنیادی کردار آصف زرداری کا ہے۔ مجھے ملک معراج خالد کی ایک بات اکثر یاد آتی ہے۔ وہ فرمایا کرتے تھے” جنرل ضیاءالحق ایڑی چوٹی کا پورا زور لگاکر بھی بھٹو کی پارٹی ختم نہ کرسکا۔ مگر یہ کام بھٹو کے داماد نے بھٹو کے نام پر بغیر زور لگائے کردیا “ ....اب یہ جماعت آہستہ آہستہ ایک صوبے تک محدود ہوتی جارہی ہے۔ اگلے انتخابات میں خفیہ قوتوں کی بھرپور سرپرستی حاصل کرنے کی کوشش کے باوجود ممکن ہے یہ ایک صوبے تک بھی محدود نہ رہے، پی ٹی آئی کے کچھ رہنما ہروقت عمران خان کو چمٹے رہنے کے بجائے سندھ کے دورے کریں، وہاں تنظیم مضبوط کریں، اور سندھ کے سیاسی ڈاکوﺅں کی مسلسل لُوٹ مار، بددیانتیوں اور نااہلیوں کو بے نقاب کرکے عوامی شعور بیدار کریں، اُس کے بعد مجھے یقین ہے سندھ بھی پیپلزپارٹی کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اِس ملک کے کروڑوں بے بس بے کس، بے شعور اور مظلوم عوام نے سوچا بھی نہیں تھا ایک وقت آئے گا دوجماعتی نظام سے اس ملک کو چھٹکارا مل جائے گا۔ اقتدار کے لیے نون لیگ اور پیپلزپارٹی نے باریاں مقرر کررکھی تھیں، بلکہ یہ کہا جائے زیادہ مناسب ہوگا کرپشن کے لیے باریاں مقرر کررکھی تھیں، دونوں جماعتوں کا ایک ہی مشن تھا جو ”کمیشن“ تھا۔ اُوپر اُوپر سے یہ ایک دوسرے کے سخت مخالف تھے۔ اندر اندر سے ملے ہوئے تھے۔ یہ نعرہ شاید ان دونوں جماعتوں کے لیے ہی تخلیق ہوا تھا ”وچوں وچوں کھائی جاﺅ، اُتوں رولا پائی جاﺅ“ ....عمران خان کی بائیس سالہ مسلسل سیاسی جددجہد کے نتیجے میں پاکستان کے کروڑوں عوام کو اِس یقین سے اب نجات ملتی جارہی ہے کہ یہ ملک صرف دوسیاسی جماعتوں کے لیے ہی وجود میں آیا تھا۔ خاندانی جمہوریت پر زبردست زد پڑی ہے۔ ایک پارٹی کے سربراہ ”گونگلواور آلو بیرون ملک میں اور دوسری پارٹی کے سربراہ کا ببلو پورا زور لگاکر بھی کچھ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اُسے نوجوانوں کی اُمید سمجھا جاتا ہے کہنے کا مقصد یہ ہے ”بوڑھے اور کرپٹ طوطے“ جتنی چاہیں کوششیں کرلیں اپنے اپنے ” اُلوﺅں“ کو اقتدار میں لانے میں اب شاید ناکام ہی رہیں گے ....دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے پیروں پر اتنے کلہاڑے مار لیے ہیں سیاسی میدان میں اب اِن کا کھڑے رہنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے، ان کا وجود ان دنوں کانپتا ہوا لڑکھڑاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔....اِن حالات میں کچھ سیاسی رہنماﺅں کے ایک مختلف اور منفرد منشور کی حامل سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے عمل کو زیادہ ناپسندیدگی سے نہیں دیکھا جاتا۔ ....ندیم افضل چن اور اُن کے چھوٹے بھائی وسیم افضل چن ایف سی کالج میں میرے شاگرد تھے، انتہائی مو¿دب اور اخلاقی قدروں سے لبا لب بھرے ہوئے یہ دونوں نوجوان مجھے ہمیشہ سے بڑے عزیز رہے ہیں۔ عزت ، دولت ، شہرت اللہ کی ہرنعمت اُن کے پاس ہے مگر اُن کی اصل شناخت اُن کی ”عاجزی“ ہے جس کی بنیاد پر وہ نہ صرف اپنے اپنے حلقوں کے عوام میں بلکہ پورے پاکستان میں مقبول ہیں۔ اُن کے والد حاجی افضل چن نے جس انداز میں اُن کی سیاسی واخلاقی تربیت کی وہ بڑی لائق تحسین ہے۔ وہ پیپلزپارٹی کا اثاثہ تھے، اُن کی پارٹی میں
موجودگی سے لوگ اِس یقین میں مبتلا تھے پیپلزپارٹی کی ساری مچھلیاں گندی نہیں ہیں۔ اُن کے پارٹی چھوڑنے پر بلاول نے کہا ” چن صاحب نظریاتی نہیں تھے صرف نظر آتے تھے“۔....وہ واقعی نظریاتی نہیں تھے، کیونکہ پیپلزپارٹی کا نظریہ پچھلے کتنے ہی برسوں سے صرف اور صرف لُوٹ مار ہے ، ندیم افضل چن پر ایسا کوئی الزام نہیں، کوئی سیاسی رہنما حقیقت میں چاہے کتنا ہی ایماندار کیوں نہ ہو پیپلزپارٹی سے جُڑے رہنے کی وجہ سے اُس بے چارے کی ایمانداری خواہ مخواہ مشکوک سمجھی جانے لگتی ہے۔ چن فیملی کی تحریک انصاف میں شمولیت کے حوالے سے ” چن ہاﺅس“ منڈی بہاﺅالدین میں ایک بڑا اجتماع ہوا، جس میں عمران خان خصوصی طورپر مجھے ساتھ لے گئے۔ یہاں سینکڑوں لوگ موجود تھے۔ عمران خان کا ہیلی کاپٹر کھیتوں میں اُترا تو اجتماع میں موجود سینکڑوں لوگ دیوانہ وار اُس جانب بھاگ اُٹھے۔ کپتان کے ساتھ لوگوں کی اِس والہانہ محبت کا یہ منظر میں کوئی پہلی بار نہیں دیکھ رہا تھا، ندیم افضل چن نے اِس موقع پر بہت خوبصورت گفتگو کی۔ وہ ہمیشہ بہت سوچ سمجھ کر بہت اچھا بولتے ہیں۔ اُس سے قبل اُن کے والد حاجی افضل چن ، اُن کے ماموں نذر حیات گوندل اور چھوٹے بھائی وسیم افضل چن کی تقریریں بھی بڑے غور اور توجہ سے سنی گئیں۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین بھی خوب بولے ۔ ندیم افضل چن کا انداز مگر سب سے منفرد تھا۔ عمران خان نے تو کمال ہی کردیا۔ سب سے پہلے اُنہوں نے چن فیملی کو پی ٹی آئی میں خوش آمدید کہا۔ پھر ندیم افضل چن کی تقریر کے جواب میں فرمایا ” آپ اگر واقعی اِس نظریے کے تحت پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں کہ ہم پاکستان کو ایک نیا اور اچھا خصوصاً ایسا پاکستان جو امیر غریب کے لیے برابر ہو، بنائیں گے، تو پھر آج آپ اپنے حلقے کے لوگوں کی موجودگی میں مجھ سے حلفاً وعدہ کریں، آپ کو ذرا سا بھی جب یہ احساس ہو حکومت بنانے کے بعد ہم اپنے اِس نظریے سے ہٹ گئے ہیں آپ مجھے اور پی ٹی آئی کو چھوڑنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگا ئیں گے“.... ایسی بات عمران خان ایسا سچے جذبے اور سوچ رکھنے والا انسان ہی کرسکتا ہے، اس اجتماع میں کمپیئرنگ کے فرائض عمران خان کے ایک انتہائی مخلص ، جاںنثار اور پرانے کارکن عابد غوری نے ادا کیے۔ ایسے انتھک اور دلیر کارکن پی ٹی آئی کا ایسا اثاثہ ہیں اُن کے مقابلے میں انتخابی ٹکٹ محض کسی نمبر ٹانکنے والے کو دی گئی یہ بڑی زیادتی ہوگی۔ ....جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کچھ عرصے بعد پیپلزپارٹی میں صرف وہی لوگ رہ جائیں گے بلاول بھٹو زرداری پر جن کی نظریں ہیں۔


ای پیپر