کچھ یادیں کچھ باتیں

17 مئی 2018

عباس اطہر المعروف شاہ جی نے مئی 2013ءمیں ہمیں داغ مفارقت دیا، اس وقت کچھ سطریں ان کی یاد میں تحریر کی تھیں جو آج بھی میرے دل کی آواز ہیں ، سیاسی موضوعات پر اگلے ہفتے بات کریں گے۔
شہ سرخیاں اب نہیں لگیں گی کیونکہ شاہ جی سرخیوں کو بیوہ کر گئے، یہ شاہ جی ہی تھے جو اخبار کی مانگ کو سرخی کے سیندور سے اس طرح سجاتے کہ دیکھنے والے دلہن کے روپ رنگ سے ،پیا کا نام بوجھ لیتے۔ ان کی سرخی خبر میں جان ڈال دیتی تھی تو اخبارکی شان بڑھاتی، کوئی سوچ سکتاہے کہ خبر کا مفہوم یک لفظی سرخی میں بیان کیا جاسکتا ہے لیکن جب انہوں نے ''ٹھاہ'' کی سرخی لگائی تو سب کوپتہ تھاکہ خبرکیاہے۔ کسی کونہیں پتہ کہ جنگل کا بادشاہ آٹاکھاتا ہے یا نہیں لیکن شاہ جی مشکل اوربنجرزمین سے دلچسپ اورحیرت ناک سرخی جمانے کے استاد تھے انہوںنے جب سرخی جمائی''شیرآٹا کھا گیا'' تو کسی کو وضاحت کی ضرورت نہیں پڑی۔ ایک سرخی تو ایسی لگائی کہ ذوالفقار علی بھٹو جان سے گزر گئے یہ سرخی آج بھی ان کے نام سے منسوب ہے'' ادھرتم اورادھر ہم''اور یہی عنوان ٹھہرا ''سقوط ڈھاکہ'' کا اوریہی سب سے بڑا الزام ہے بھٹو صاحب کی سیاست پر مگر سچائی یہی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے یہ الفاظ کبھی نہیں کہے۔سچ تو یہ ہے کہ ہم صحافت کے اس دور میں ہیں جسے بلاشبہ شاہ جی کے نام سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔
کیالکھوں اورکیسے لکھوں کہ عباس اطہر نہیں رہے،شعبہ صحافت میں ان کے عقیدت مندوں کا شمار ممکن نہیں توکس منہ سے کہوں کہ 23سال پہلے مجھے ویکلی اور ماہناموں کی نوکری سے روزانہ صحافت میں ان کی بدولت ہی داخل ہونے کا موقع ملا۔ یہاں تو ہر کسی کو ان سے تعلق اور نسبت کادعویٰ ہے اور میں تو صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی جوتیاں سیدھی کرنے کے طفیل دو لفظ الٹے سیدھے لکھ لینے سے زیادہ کچھ بتانے کو نہیں۔ وہ نام کے ہی نہیں دل کے بھی شاہ تھے، کس کس کا نام لکھوں جوشاہ جی کے سوشل سیکورٹی نیٹ میں تھا؟ ان کے ارد گرد بیروزگار صحافیوں کو کبھی فکر میں مبتلا نہیں دیکھا کہ ان کے بوڑھے کندھے آخر تک ان بیروزگار صحافیوں کی بیروزگاری کے ''جنازے'' اٹھانے سے نہیں تھکے۔
کیموتھراپی کے بعد ان کی عیادت کیلئے گیا تودل کودھچکا لگا۔سر کے ریشمی سفید بال جو ان کی شخصیت کا حصہ تھے نہیںرہے تھے۔نیوز روم میں ان سے پہلی ملاقات میں میری زیادہ توجہ ان کے بالوں پر ہی تومرکوز رہی تھی۔ ساتھ کام کرتے ہوئے متعدد بار اپنے بالوں کوسفیدی لگاکربھی دیکھا کہ ان جیسے بال کیا کسی اور کو بھی سوٹ کرسکتے ہیں؟
دیکھا تودل ڈوب گیا مگر زبان سے یہی نکلا ''شاہ جی اللہ نے چاہا تو آپ جلد بالکل ٹھیک ہوجائیںگے'' لیکن دل کو اپنے ہی منافقانہ لہجے کے کھوکھلے پن کا بخوبی احساس تھا۔ مجھے پتہ تھاکہ اب شاہ جی ہمارے پاس مہمان ہیں اس لئے انسانی اور صحافتی کمینے پن سے مجبور ہو کر ساجد عمر گل کو گواہ بنا کر سادہ سے لہجے میںپوچھا'' شاہ جی زندگی میں کبھی کسی سے متاثر ہوئے ہیں'' یہ سوال پوچھتے ہوئے میرے ذہن میں ذوالفقار علی بھٹو، چراغ حسن حسرت، چی گویرا سمیت نجانے کتنے نام گھوم رہے تھے، شاہ جی کے جواب نے مجھے حیران کر دیا کہ جو نام انہوں نے لیا سچی بات ہے میرے ذہن میں نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ''مجید نظامی'' میری جہالت نے مزید اکسایا کہ ''کیوں'' تو کہنے لگے وہ ایک بڑا انسان ہے جس نے کبھی کسی لمحے آدمیت کے مقام سے نیچے اتر کر لوگوں کے شیشے اپنے پتھروں سے نہیں توڑے۔ ویسے ایمانداری کی بات ہے جو کچھ شاہ جی لکھتے تھے کیا کسی نے سوچا کہ وہ نوائے وقت جیسے روایتی مکتبہ فکر کے اخبار میں بغیر کسی ردوقدح کے شائع ہوجانا بذات خود بہت کچھ بتاتا ہے۔میں نے کہاشاہ جی صحافت میں آنے کاخیال ہی کیوں آیا اور آپ کوکون لے کرآیا؟
کہنے لگے شاعری کو تو اس زمانے میں ذریعہ معاش نہیں بنایا جاسکتا تھا توریلوے سے فراغت کے بعد نذیر ناجی مجھے کراچی کے اخبار انجام میںلے آئے۔ اخبارات میں مجھے نذیر ناجی ہی متعارف کرانے کا باعث ہوئے اور سچی بات ہے کہ نیوزروم میں الفاظ کی منجی پیڑھی ٹھوکنے کاکام مجھے دیکھنے میں آسان لگا تھا۔میں جو پچھلے 23سال سے ان کے ہم عصروں کے متعلق بدلتے رویوں سے بخوبی آگاہ تھا نے پھر ہمت کی اور پوچھا کہ نذیر ناجی سے آپ کا تعلق اس تمام عرصے میں کیسا رہا ہے۔ سادہ سے لہجے میںکہنے لگے کبھی سمجھ نہیں آیا عجیب سا تعلق ہے جسے پہلے میں لو اینڈ ہیٹ سمجھتا تھا مگر یہ اس سے بھی پیچیدہ ہے۔اگلا سوال یہ تھا کہ کوئی پچھتاوا یا خواہش ہے تو شاہ جی نے حسب عادت سادگی سے کہا کاکا مینوں کوئی پچھتاوا نہیں اپنی پوری اننگز کھیڈی اے پوری واری لئی ایہے دل دی ہر ریجھ پوری کیتی اے۔اپنے کم وچ نام ،مقام حتیٰ کہ پیسا وی کمایا اے،راج کیتا اے۔ میری کوئی خواہش نہیں رہی( مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے اپنی پوری اننگز مزے سے کھیل کر پوری باری لی ہے، اپنے دل کی ہر خواہش پوری کی ہے اور اپنے کام میں نام، مقام حتی کہ پیسہ بھی بنایا ہے ،میری کوئی ادھوری خواہش نہیں)۔
میں نے پھر پوچھا کوئی فکر ہے۔۔۔ تو کن اکھیوں سے ساتھ والے کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ایک تھی مگر اس کے لئے سکول کی ایک فرنچائز برانچ لے دی ہے۔باہر نکل کر ساجد گل نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے یہ شاہ جی کا آخری انٹرویو ہو۔
ایک اور بات جس کا تذکرہ ضروری ہے جب یہ کینسر کا معاملہ شروع ہوا ،اور ابھی رپورٹس کی تصدیق ہورہی تھی تو ایک ملاقات میںکہنے لگے میرا جس طرح سلطان لاکھانی نے خیال رکھا ہے ایکسپریس میرا آخری اخبار ہوگا، بیرون ملک ٹیسٹوں کے لئے جو انتظامات کیے گئے تھے ان کی تعریف کے لئے کہے الفاظ مجھے پوری طرح یاد نہیں لیکن ان الفاظ کے بعد میرے دل میں لاکھانی کے حوالے سے مشکوریت کے جذبات امڈ آئے تھے۔مجھے یاد ہے جب وہ آخری بار نوا ئے وقت میں تھے تو شام کی سیر کے لئے مجھے لارنس گارڈن چند دن ساتھ لے کر گئے ،میں نے ان کی صحت کے حوالے سے فکر مندی کا اظہار کیا توکہنے لگے اوئے میں ایناں چیزاں دی وجہ نال نہیں مرنا جنہاں دی تینوں فکر اے میں زندگی وچ ہر تجربہ ضرور کیتا اے تے اپنے آپ تے کیتا اے۔مجھے پتہ ہے میں کیا کر رہا ہوں۔(اوئے میں نے ان چیزوں کی وجہ سے نہیں مرنا جن کی تمہیں فکر ہے، میں نے زندگی میں ہر تجربہ کیا ہے اور اپنی ذات پر کیا ہے)۔
سادگی ایسی کہ پہلی ملاقات میں کوئی جان بھی نہ پائے کہ کتنی بڑی تاریخی شخصیت روبرو ہے۔
مجھے یہ بھی یاد ہے شاہ جی نے مجھے پروف ریڈرنگ سے نکال کر رپورٹنگ کا پہلا موقع دیا تھا مگر روزنامہ صداقت کے جب حالات خراب ہوئے تو میری شامت آتی گئی۔بندے کم ہوتے گئے اور میری ذمہ داریاں بڑھتی چلی گئیں۔نیوز روم ،میگزین، اداریہ غرض مجھے ہر شعبہ میں گھسایا گیا ،تھکاوٹ کے باعث رات دو بجے روز شاہ جی کو کوسنا میرا معمول سا بن گیا تھا اس کے بغیر مجھے نیند نہیں آتی تھی۔میری زیادہ شامت تنویر عباس نقوی مرحوم کی غیر حاضری میں آتی کہ مجھے شاہ جی اور حسن نثار سے ملوانے والا وہی تھا اور اس کی غیر حاضری میں اس کی ذمہ داریاں بھی میری ہوجاتیں اور نقوی مرحوم جب غائب ہوتے تھے تو اکثر غائب ہی رہتے تھے۔تب پتہ نہیں چلا لیکن اس زمانے کا کیا ہوا کام بعدمیں میرے کام آیا اور سمجھ آئی کہ شاہ جی نے میرے ساتھ اصل میں مہربانی کی ہے تو میں نے شاہ جی کی خدمت میں پیش ہوکر کہا کہ اگر کبھی زندگی میں وہ انسانی کھال کا جوتا پہننا چاہیں تو میں حاضر ہوں۔ان کا بطور استاد ملنا ہی بڑی سعادت کی بات ہے وگرنہ ان کا حق ادا کرنے کے قابل تو شاید میں کبھی بھی نہیں تھا۔
روزنامہ دنیا اسلام آبادمیں جوائنگ پر سب سے پہلا ایس ایم ایس ان کاآیاتھا وہ فون خراب ہوگیا،کاش پہلی بیروزگاری پر انکے دئیے ہوئے دو سو ستر روپے میں نے سنبھال کر رکھے ہوتے !
کسے خبر ہے کہ حج پر جائے بغیر اپنے حصے کی کنکریاں وہ مار چکے ،آخری دفعہ ان کا نام پرنٹ لائن پر چھپ چکا۔
سیدعباس اطہر اور ہم سب کے شاہ جی، جن کی سرخیوں کے لئے اخبار کے آٹھ کالم بھی کم پڑ جاتے تھے کتنی آسانی سے دوکالم خبر اور دو گز زمین میں سما گئے!
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

مزیدخبریں