Dr Azhar Waheed, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
17 مارچ 2021 (11:14) 2021-03-17

ایک فیملی فزیشن اور استاد ہونے کے ناتے مجھ سے میرے مریض اور شاگرد پوچھتے ہیں کہ آپ معافی کا سبق دیتے ہیں‘ معافی کیسے دی جائے اور ہم اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی کو آخر کب تک معاف کرتے رہیں۔ اپنے مریضوں کے طبی مسائل کے ساتھ ساتھ اْن کے نفسیاتی مسائل اور گھریلو جھمیلوں سے نپٹنے کا مشورہ بھی ایک  بوڑھے فیملی فزیشن کے فرائض میں شامل ہوتاہے۔ لطف کی بات یہ کہ طبی مسائل کی اُسے مشورہ فیس مل جاتی ہے لیکن گھریلو مسائل اسے بغیر فیس لیے حل کرنا ہوتے ہیں۔ 

آج سے کوئی بیس ایک برس قبل کی بات ہے ‘ ایک سادہ لوح جوڑا مجھے اپنا بچہ دکھانے کے لیے آیا کرتا۔ اس بچے کے چند وزٹ ایسے تھے کہ اس کی ماں اور نانی اسے لے کر آئی ، باپ غائب تھا۔ میں نے پوچھا ‘بچے کا والد کدھر ہے؟ بچے کی ماں اور نانی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، دونوں کی آنکھیں نمناک تھیں۔ غریب نانی نے بتایا کہ میاں بیوی کی ناچاقی ہوگئی ہے، اور یہ دوماہ سے گھر بیٹھی ہے۔ نوبیاہتا بیوی بہت خوبرو تھی، میں نے سوچا یہ اگر چند ماہ اور میکے بیٹھی رہی تو آس پاس شر پسند عناصر اِس پر ڈورے ڈالنے سے باز نہ آئیں گے ‘ اسے واپس اس کے گھر بھیجنا چاہیے۔ میں نے کہا ‘ مجھے ذرا اْس کا فون نمبر دو۔ بچے کے والد کو فون کیا ، اور اْس کی سرزنش کی‘ تمہیں اپنے بچے کا خیال نہیں ہے کیا؟ تمہارا بچہ نمونیے میں پڑا ہے اور ا س کا علاج اس کی نانی کرا رہی ہے، وہ لوگ تو بیچارے اِس کا علاج افورڈ ہی نہیں کر سکتے ، چلو! ابھی اپنے بیوی بچوں کو گھر لے کر آؤ،اپنی ضد میں اپنے بچوں کو خراب نہیں کرتے۔ یہ جوڑا آج بھی میرے پاس آتا ہے، پانچ عدد بچوں کا ماں باپ بن چکا ہے اور مجھے مائی باپ کہتا ہے۔ 

جو چیز آج ناقابلِ معافی نظر آ رہی ہے‘ کل وہی چیز اسے معمولی دکھائی دے گی۔ تب اُس شخص کو پچھتاوا ہوگا جو آج کے دِن اسے معاف نہیں کر سکا۔ میاں بیوی کی ناچاقی کی وجہ اپنی اَنا کا بے محابہ اظہار ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کی عزتِ نفس کا خیال نہیں رکھتے تو  اپنے لیے دوسروں کے دل میں نفرت پیدا کرتے ہیں۔ جسمانی چوٹ تو وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک جاتی ہے‘ لیکن روح پر لگنے والا زخم مندمل نہیں ہوپاتا۔ جھگڑا ہو جانا بڑی بات نہیں‘ جھگڑے کا طول پکڑنا اصل بات ہے۔ایک دوسرے سے معافی مانگ کر ‘یا معافی دے کر جھگڑا ختم کیا جا سکتا ہے۔ مزاج کا اختلاف اور ترجیحات کا فرق باہمی چپقلش کا باعث بن جاتا ہے، اس میں کچھ تعجب نہیں۔ تعجب یہ ہے کہ ایک دوسرے کی غلطیاں ناقابلِ برداشت ہو جائیں۔معاف نہ کرنا ‘دِل کی اصل بیماری ہے۔ جسے ہم معاف نہیں کر سکتے ‘ اُسے ہی تو معاف کرنا ہے۔ محبت کی طرح معافی بھی غیر مشروط ہوتی ہے۔ جس طرح محبت کرنے والا یہ شرط لگائے بغیر محبت کرتا ہے کہ اُسے جواب میں بھی محبت ملے گی‘ اس طرح دِل سے معاف کرنے والا کسی پیشگی شرط کے بغیر معاف کرتا ہے۔ شرائط پر دی گئی معافی ‘ معافی نہیں بلکہ معاہدہ ہے۔ شادی بھی ایک معاہدہ ہے لیکن شادی کے بعد اگر یہ معاہدہ‘ عہد ِ وفا میں نہ بدلے تو بات نہیں بنتی۔ وفا کے باب میں حضر ت واصف علی واصفؒ کا یہ جملہ بہت معروف ہے، اور اس جملے پر مرحوم اشفاق احمد بھی سر دھنتے تھے۔ جملہ یہ تھا’’ وفا تو ہوتی ہی بے وفا کے لیے ہے‘‘

ایک چھت کے نیچے سکونت پذیر دو مختلف المزاج لوگ زیادہ دیر تک سکون سے اکٹھے نہیں رہ سکتے‘ جب تک کہ فضل ِ خداوندی شاملِ حال نہ ہو۔واصف علی واصف فرماتے ہیں’’ شادی سے پہلے ہم ایک دووسرے کا ماضی دیکھتے ہیں یا حال ، جبکہ گزارناہمیں مستقبل ہوتا ہے، ایک خوشگوار ازدواجی زندگی فضل ِ خداوندی ہے‘‘عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ مزاجوں کا فرق رکھنے والے ہم سفر ایک دوسرے کے حق میں ظالم ہو جاتے ہیں۔ بالعموم دونوں میں سے ایک ظالم ہوتا اور دوسرا مظلوم!  مرشدی واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے ’’ ظالم بننے سے بہتر ہے‘ مظلوم بن جاؤ‘‘  ایک مرتبہ مجھ سے ایک تیز طرار شاگرد نے پوچھا کہ واصف صاحبؒ نے لکھا ہے کہ ہم سفر اگر ہم خیال ہوں  تو منزلیں آسان ہو جاتی ہیں، تو سوال یہ ہے کہ اگر کسی کا ہم سفر ہم خیال نہ ہوتو وہ کیا کرے؟ وہ غالباً کسی نئے ہم سفر کے بارے میں مجھ سے اجازت طلب کرنے کے خیال میں تھا۔ میں نے کہا ‘تم نے اپنے مطلب کو قول کوٹ کر دیا ہے ‘اور جس قول سے تمہارے مطلب پر ضرب پڑتی ہے‘ اسے تم چپکے سے منفی کر گئے۔ کہنے لگا‘ وہ کیسے؟ میں نے کہا‘ آپؒ نے یہ بھی تو لکھا ہے کہ ہم سفر کو راضی رکھو‘ خواہ وہ ہم خیال نہ بھی ہو۔ کتاب اس لیے کافی نہیں‘ کتاب تزکیۂ نفس نہیں کرتی۔ صرف کتاب پر اکتفا کرنے والا کتاب سے اپنے مطلب کی نصیحت نکال لے گا اور اُس نصیحت سے کنارہ کر لے گا جو اُس کے نفس پر گراں گزرتی ہے۔ روح کو لطیف کرنے کی بات وہی ہوتی ہے جو نفس پر بھاری ہوتی ہے۔ 

انسان فطری طور پر اپنے بارے میں نرگسیت کا شکار ہوتا ہے، وہ اپنی تعریفیں کرتا ہوا نہیں تھکتا اور دوسروں کے عیوب گنوانے سے اسے فرصت نہیں ملتی۔ اگر ہمیں اپنے ہم سفر کی کوئی عادت ناپسند ہے تو سوچنا چاہیے کہ ہماری بھی کوئی عادت اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہو سکتی ہے۔ جسے ہم برداشت کر رہے ہیں‘ وہ بھی تو ہمیں برداشت کر رہا ہے۔ خوش اخلاقی دوسروں کی پسند کا خیال رکھنے کا نام ہے۔ دوسروں پر اپنی پسند ناپسند ٹھونستے رہنا دراصل خود غرضی کا باب ہے۔ اخلاقیات کے تمام ابواب صبر اور قربانی سے ترتیب پاتے ہیں۔ صبر مظلوم کے حصے میں آتا ہے۔ صبر کی اِس سے بڑی فضیلت کیا ہوگی کہ صبر کرنے والے کو اللہ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کا فیصلہ ہے’’ ان اللہ مع الصابرین‘‘یہاں لفظ ’’مع‘‘ قابلِ غور ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ اس موقع پر ایک کیف کے عالم میں بہت خوب جملہ کہا کرتے ’’دیکھو! وہ مشکل دُور نہیں کرتا لیکن خود ساتھ ہو جاتا ہے‘‘ ۔

آمدم برسرِ مطلب‘ پوچھا جاتا ہے کہ زیادتی کرنے والے کو آخر کتنی بار معاف کیا جائے؟ دراصل معاف کرنے والا ہی تو صبر کرنے والا ہوتا ہے۔ جس نے معاف نہیں کیا‘ اُس نے محض برداشت کیا… کسی معاشی یا معاشرتی مجبوری کے تحت اُس نے برداشت کیا۔ برداشت کرنے کا صلہ معاشرہ دے گا لیکن معاف کرنے والے کا صلہ اُس کے رب کے پاس ہے۔ آپؒ بڑے واشگاف الفاظ میں فرمایا کرتے …اور یہ الفاظ آج بھی میرے کانوں میں اپنے لہجے سمیت گونج رہے ہیں’’ جس نے معاف کیا‘ وہ معاف کر دیا گیا‘‘  کیا ہمیں اپنے لیے معافی نہیں چاہیے؟ اگر معافی چاہیے تو ہم فراخ دلی سے معاف کیوں نہیں کرتے؟ کیا ہمیں اپنے لیے ستارالعیوبی کی چادر   نہیں چاہیے؟اگر چاہیے تو پھر ہمیں چاہیے کہ دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کریں۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ لباس   جہاں زینت اور باعث ِ زینت ہے ‘ وہاں پردہ پوش بھی ہوتا ہے۔ 

اس باب میں باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ایک قول کا مفہوم ہے کہ رشتہ داری میں تعلقات کا حُسن برداشت میں پوشیدہ ہے۔ناقابلِ برداشت بات ہی کو تو برداشت کرنا ہوتا ہے۔

خاندان معاشرے کی اکائی ہے ، یہ اکائی منتشر ہو جائے تو معاشرے دہائی دینے لگتے ہیں۔ اس ضمن میں رسولِ کریمؐ کی ایک حدیث مبارک ہمارے چاروں طبق روشن کر دینے کے لیے کافی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ ابلیس ہر روز اپنا دربار منعقد کرتا ہے اور اپنے چیلوں سے اُن کی کارکردگی کے بارے میں پوچھتا ہے، کوئی چیلہ کہتا ہے کہ اُس نے کسی کو قتل پر اکسایا، کوئی اسے بتاتا ہے کہ اس نے کسی کو چوری کی ترغیب دی ، داد پانے کے لیے کوئی چیلہ اسے بتاتا ہے کہ اُس نے فلاں کو زنا کے قریب کیا۔ وہ یہ ساری باتیں سن کر کہتا ہے کہ تم نے کوئی خاص کام نہیں کیا۔ اتنے میں ایک چیلہ کہتا ہے کہ اس نے فلاں میاں بیوی کے درمیان ناچاقی پیدا کرا دی ہے، یہ سنتے ہی ابلیس اُٹھتا ہے اور اُسے گلے لگا کر کہتا کہ تومیرا جانشین ہے‘ تُو نے اصل کام کیا ہے۔ یعنی انسانی فرد اور معاشرے کو منتشر کرنے کے لیے ابلیس کے بچھائے ہوئے جالوں میں سب سے قوی جال میاں بیوی کے درمیان نااتفاقی پیدا کرنا ہے۔ اس  کے بچھائے ہوئے اس جال میں ایک کمزور انسان پھنس کر شیطانی قوتوں کا آلہ کار بن جاتا ہے۔  رب کریم ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرنے کی ہمت اور معافی مانگنے کی  سعادت نصیب فرمائے۔ آمین !یا رب العالمین!!


ای پیپر