اور کوئی راستہ نہیں
17 مارچ 2020 2020-03-17

ہلاکت خیز مرض وبائی شکل اختیار کر کے نسل آدم پر حملہ آور ہو چکا ، انسان سخت جان مخلوق ہے ، جہدوبقا اسکی جبلت میں ہے وہ اس وباء پر بھی فتح حاصل کرلے گا لیکن اس ہلاکت خیزعفریت کے پھوٹ پڑنے سے نگاہوں کے سامنے تنے خوش فہمی کے سارے پردے چاک ہو گئے ووٹر نامی مخلوق کو ادراک ہوا کہ وہ آج بھی وباؤں بیماریوں اور امراض کے مقابلے میں تہی دامن خالی ہاتھ ہے اس کی ناتواں پیٹھ پر لدے پیران تسمہ پا حاکمان وقت کی ترجیحات کچھ اور ہیں سیاست ،بالا دستی کا جنون، غلبہ کی تڑپ ، مخالفین کو دبانے ، اپنا مطیع بنا لینے کی دوڑ اور اس خواہش کی تکمیل کیلئے اسلحہ کے انبار ،ہلاکت خیز ہتھیار ، کیمیائی اور حیاتیاتی جرثومے تاکہ کمزور اقوام پر تسلط جما کر غلبے کی آرزو پوری کی جاسکے۔ جمہوریت کے نام پر چند فیصد اکثریت کے بل بوتے پر بنے حکمران ہوں یا موروثیت کے علم بردار آمریت کے پروادہ شاہان عصر ، سب کی ترجیح فلاح انسانی نہیں بلکہ کاروبار سیاست ہے۔ جو دنیا کا سب سے منافع بخش بزنس ہے۔ کوئی سرمایہ کاری نہیں بس رعایا کو داؤ پر لگانا پڑتاہے۔

اولاد آدم ازل سے وباؤں ، بلاؤں ، آفات ارضی و سماوی جنگوں اورالام سے نبرد آزما رہی ہے۔ یہ کش مکش ابد تک جاری رہے گی۔ انسانوں نے انفرادی طور پر اور گروہوں کی شکل میں اپنے وجود کو لاحق خطرات پر غلبہ حاصل کیا ہے گزشتہ صدی کے آغاز میں کئی عشروں تک طاعون ایسا متعدی مرض بستیوں کی بستیاں نگل گیا آن واحد میں کروڑوں انسان اس بلا کا لقمہ بنے۔ لیکن پھر انسان نے اس وباء کو شکست دی۔ آج طاعون کا نام پر انی فلموں ، ناولوں اور داستانوں میں باقی رہ گیا ہے۔دو عظیم جنگوں کی بات اور ہے لیکن نسل آدم پر ایک کے بعد دوسری بلا نازل ہوتی رہی۔ ٹی بی گزشتہ صدی میں لا علاج مرض تھا، ٹی بی میں مبتلاء شخص کی بے بسی کی موت یقینی سمجھی جاتی۔قدرت کی صناعی کے شاہکار انسا نی ذہن نے اس کا بھی علاج دریافت کیا ، ٹی بی اب ایک قابل علاج مرض ہے چند ہفتوں کے علاج سے متاثر شخص بھلا چنگا ہو سکتا ہے۔ پولیو مرض دائمی معذوری کی شکار اپاہج نسلیں پیدا کیں۔ بین الاقوامی اداروں کے عطیات اور ہمہ گیر بین الاقوامی مہم نے پولیو کو شکست دی۔ بین

الاقوامی تعاون کی یہ روشن ودمکتی مثال ہے۔ایک ہم بدقسمت قوم ، اور ہمارا ہمسایہ ملک افغانستان ہے جو پولیو پر قابو نہیں پا سکے ورنہ پسماندہ ترین افریقی اقوام بھی اپنے عوام کے سامنے سرخرو ہیں۔ ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام ہوں یا کینسر ان جان لیوا امراض کے ساتھ جنگ جاری ہے یہ جنگ لیباٹریوں میں لڑی جا رہی ہے یہ جنگ بھی آخرکار جیتی جائے گی۔ گزشتہ صدی کے آخری میں ایڈز نامی عفریت بوتل سے باہر نکل نکل آیا یہ مرض معاشرتی شرمندگی کی علامت بن گیا۔ عالم گیر مہم چلی اس مرض پر ابھی تک مکمل قابو نہیں پایا جا سکا لیکن احتیاط اور محفوظ طرز زندگی اپنا لینے کے نتیجہ میں اب اس مرض میں وہ شدت نہیں رہی۔ گزشتہ چند برسوں میں برڈ فلو ،ایبولا، سائرس اور انگنت نامی وائرسوں نے جنم لیا۔ یہ وائرس اور اس کے اثرات مختصر عرصہ کیلئے میڈیا میں مرکز نگاہ بنے رہے پھر ہر چیز معمول کے مطابق ہوتی چلی گئی مخلوق خدا اور آفات کے مابین کش مکش جاری ہے۔حادثات افلاس ، غربت ، بیروزگاری ان گنت دشمن ہیں جن کا سامنا اولاد آدم کو ہے اب اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں کرونا وائرس نے تہذیب انسانی پر کاری وار کیا ہے اس مہلک مرض نے گورا دیکھا نہ سیاہ رو ،زرد روچینیوں پر بھی یلغار کی ہے اور ہم ایسے جنوبی ایشیائی گندمی رنگوں کی حامل اقوام کو جدید ترین ترقی یافتہ یورپی ممالک بچے ہیں نہ پسماندہ ترین افریقی ممالک۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس یورپی ممالک بھی محاصرے میں ہیں اور وہ بھی جو دوسروں کے دست نگر ہیں۔ مسلمان بھی گھیرے میں ہے، ہندو، عیسائی ، یہودی بھی۔مساجد ، مندر ،کلیسا،بھگوڈا اورسینی گوک سب مقدس ترین مقامات کی تالہ بندی ہو رہی ہے۔ سربراہان مملکت ، مسلح افواج کے مسلح افواج کے سپہ سالار ،سیاسی راہنما کون ہے جو لپیٹ میں نہیں ، یورپ کو کورونا وائرس کا نیامرکز قرار دیا جا رہا ہے۔ 160 ممالک کورونا سے متاثر ہو چکے ، ہر طرف ویرانی ، خوف اور سناٹا ہے ، مارکیٹیں سنسان ہے ، انسان اپنے ہم جنسوں سے فاصلے پیدا کرنے کے اقدامات کر رہا ہے۔سرحد یں سیل ، کاروبار بند، تعلیمی ادارے بند ،تفریحی مقامات پر الو بول رہے ہیں، کھیلوں کے مقابلے با امر مجبوری جاری ہیں تو بھی تماشائیوں کے بغیر ، کھلاڑی موجود ہیں لیکن کوئی ان کو داد دینے والا نہیں ، عالمی راہنما سر جوڑ کر بیٹھے ہیں دنیا بھر میں ڈیڑھ لاکھ افراد میں اس مرض کی نشاندہی ہو چکی ہے ،کئی ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ، فی الحال اس مرض کو قابو پانے کی کوئی تدبیر موجود نہیں ، اس بیماری کا علاج صرف اور صرف تحقیقی لیبارٹریوں سے نکلے گا۔ جس کے لئے ارب ہا ڈالرز درکار ہیں۔کوئی معجزہ ٹوٹکا ، ٹونا اس مرض سے نجات نہیں دلا سکے گا، اصل تشویش حکومتی ترجیحات اور نصب العین پرہے ، انسان بے بس ہے ، حکومتوں کی ترجیح میزائل ، جنگی جہاز تباہ کن ہتھیار ،خلا کی تسخیر ، ایٹمی پروگرام ، غلبے کی جنگ ہے۔ سربراہان مملکت ،فیصلہ سازوں نے اپنی ترجیحات نہ بدلیں تو بھوک ، آفات ، وبائیں ، بیماریاں ، انسان کو شکار کر تی رہیں گی اور انسان بے بسی کی موت مرتا رہے گا۔ انسانیت کو بچانا ہے تو صحت ، تعلیم ، غربت کے خاتمہ کیلئے سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔جنگ ہی کرنی ہے تو تحقیق کے ہتھیار سے وباؤں اور آفات کے خلاف لشکر کشی کی جائے اور کوئی راستہ نہیں ۔


ای پیپر