سرخیاں ان کی…؟
17 مارچ 2020 2020-03-17

٭ دنیا کا نظام مفلوج…!

O کرونا کے خوف سے اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹرز بند، برطانیہ میں اجتماعات پر پابندی، سعودی عرب میں بین الاقوامی پروازیں منسوخ، منیلا میں راتیں، خاموش، شارجہ ابو ظہبی کے نائٹ کلب اور پارکس بھی بند، امریکہ کی برطانیہ اور آئر لینڈ پر سفری پابندی، چین کے بعد دنیا یورپ سے خوفزدہ، تادم تحریر، دنیا بھر میں کرونا سے ہلاکتیں 7 ہزار سے تجاوز کر چکی ہیں۔ 35 ہزار یورپی متاثر جبکہ اٹلی میں 2158 ، ایران 853، امریکہ میں 91 اموات ہو چکی ہیں۔ خدا کا شکر پاکستان واحد ملک جہاں کرونا وائرس عمومی طور پر نہیں پھیلا اور حکومتی پالیسی بروقت بچاؤ قابل تحسین رہی۔ جس کا اظہار (WHO) بھی کر رہا ہے۔ تاہم ابھی رات باقی ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں امریکہ سے آئی خاتون میں کرونا وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد ’’خدا جلد اسے شفا یاب کرے‘‘ پاکستان میں بھی تمام مذہبی، سیاسی، سماجی تقریبات منسوخ اور مزارات تفریحی مقامات بھی بند کر دیے گئے۔ سکول کالج بھی بند کر کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ بہرحال، انسان بھی عجیب ہے۔ ایک طرف پولیو کے قطرے دوسری طرف اسے ختم کرنے کے نئے نئے طریقوں پے مبنی نئی نئی دریافتیں۔ ایک طرف اس سے محبت کے گیت تو دوسری طرف اس کی جگہ (HRI) یعنی انسانوں کے مابین مربوط رشتوں کی بجائے انسانوں اور روبوٹس کے مابین ایک ایسا بین الضابطہ (Inter Disciplinar) تحقیقی میدان آباد کرنا۔ جس میں ایسے خدمت گزار روبوٹس تیار کیے جائیں۔ جو انسان سے بہتر انسان کے کام آ سکیں۔ لہٰذا میں کہہ سکتا ہوں کہ آئندہ دس سالوں میں دنیا کے تمام ’’رنگ ڈھنگ‘‘ بدل جائیں گے۔ بہرحال بات دوسری طرف نکل گئی۔ معذرت خواہ ہوں۔ بات ہو رہی تھی کرونا وائرس سے ہلاکتوں پے جس نے آج پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ خفیہ جنگ ہے۔ یعنی اپنی جنگ جو کہاں اور کب ختم ہو گی کسی کو نہیں معلوم؟ البتہ اب بھی وقت ہے کہ انسانیت کو حیوانیت میں بدلنے کی روش ترک کر پائے اور انسانیت کو آزاد کیا جائے۔ تسخیر کائنات تو خالق کی خوشی ہے مگر اپنی اپنی حدود سے تجاوز نہ کیا جائے۔ خدا بننے کی کوششیں نہ کی جائیں بلکہ بحیثیت ایک بے غرض خادم بنی نوع انسان آگے بڑھیں اور خدا و انسان کے درمیان ایک ایسا فیض رساں رشتہ قائم کرنے کے لیے کردار ادا کریں کہ جس سے دولت کی بجائے، محبت کی دولت تقسیم ہو اور محبت جو قطری اور بنیادی چیز ہے۔ آج دنیا کو اسی محبت کی ضرورت ہے۔ آپ دنیا سے نفرتوں کا خاتمہ اور محبت کا آغاز کر کے تو دیکھیں۔ انسان کو انسان سے محبت کا گر سکھا کر تو دیکھیں۔ یہی دنیا نہ صرف بیماریوں سے پاک ہو جائے گی بلکہ اپنی تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ ایک خوش رنگ جنت میں دھل جائے گی جبکہ نفرت گناہ اور گناہ ہی بیماری ہے اور گناہ کسی بھی قسم کا ہو۔ پہلے

روح میں مختلف امراض پیدا کرتا ہے۔ وہاں سے بیماری بن کر انسانی جسم میں منتقل ہو جاتا ہے۔ خدا قرآن میں اس کی تصدیق یوں کرتا ہے ’’کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر اترتے ہیں، یہ ہر جھوٹے اور بدکار انسان پر نازل ہوتے ہیں‘‘۔ حضرت مسیح علیہ السلام ایک روحانی طاقت رکھتے تھے۔ آپ ؑ اندھوں، بہروں، کوڑی زدہ، فالج زدہ، انسانوں کو صرف چھو کر اچھا کر دیتے تھے مگر جب کوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو سب سے پہلے فرماتے تھے "Do you believe" ۔

ترجمہ! کیا تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو…؟ اور یوں اسے شفایاب کر کے ہدایت دیتے "Go and sin no more" ترجمہ! جاؤ اور آئندہ گناہ نہ کرنا۔ آج بنی نوع انسان کو سوچنا ہو گا۔ بالخصوص اہل بھارت، اسرائیل، امریکہ، روس، جرمنی، برطانیہ آج اپنی اپنی زندگیوں کے ہولناک آلام و عقوبت کا شکار کیوں ہیں اور پھر اس سے پہلے کہ آپ کی معیشت ہی نہیں انسانیت بھی سسکنے لگے۔ دھرتی کے سسکنے کی آواز سنسنی ہو گی ورنہ

٭ میر شکیل الرحمن کی گرفتاری؟

O بقراط نے کہا تھا۔ سب سے بڑا اور خطرناک مرض وہ ہے جسے معمولی سمجھا جائے اور اس کے علاج پر توجہ نہ دی جائے۔ ویسے آپس کی بات ہے ہم دنیا میں اس بدنامی سے بچ جاتے تو اچھا ہوتا؟ بے شمار مسائل میں کسی نئی رسوائی کی کیا ضرورت آن پڑی تھی جبکہ اس سے قبل جو اس قدر گرفتاریاں ہوئیں، اس کے نتائج کہاں ہیں؟ کیا ان سے دور عدل و انصاف، ترقی و خوشحالی لوٹ آیا۔ جو اس نئی گرفتاری کے احتساب سے لوٹ آئے گا۔ لہٰذا حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ عوامی و ملکی مسائل کے حل کی طرف توجہ دے اور تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی نئے فساد و شر کو پنپنے کا موقع نہ دے۔ نہ ہی اپنا قیمتی وقت ضائع کرے۔ نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا ۔ میں جنگ ہار سکتا ہوں لیکن وقت ضائع نہیں کر سکتا۔ میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ جناب عمران خان گمراہ کن مشوروں سے دور رہیں۔ ایسے مشورے جو نہ صرف حکومت کی بدنامی کا باعث نہیں۔ بلکہ برائی کو اچھائی میں بدلیں اور ظالم کو مظلوم بنائیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے شایان شان نہیں ہیں!

٭ وزیراعلیٰ پنجاب کی کامیابی…؟

O جس طرح آج دنیا کرونا کے خلاف کسی سائنسی معجزے کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اسی طرح ہماری اپوزیشن بھی کسی سیاسی معجزے کی منتظر ہے جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ سیاست میں بحرانی صورت حال کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب کافی متحرک ہیں اور خوبصورتی سے اپنے کارڈز ابھی کھیل رہے ہیں جبکہ میں پہلے بھی کالم میں لکھ چکا ہوں کہ ’’ان ہاؤس تبدیلی‘‘ ناممکن ہے۔ اب تو امکان غالب ہے کہ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی بھی تقسیم ہوں گی اور نہ صرف ماہ اپریل میں سیاسی مراکز تبدیل ہوں گے بلکہ جناب بزدار ’’سیاسی ماہر‘‘ بھی کہلائیں گے۔ ویسے بھی ’’گلیاں ہو جان سنجیاں‘‘ تو پھر کھل کر کھیلنے کا مزہ ہی اور ہے۔ خاص طور پر ن لیگ میں ہونے والی سیاسی گراوٹ کے نتیجے میں اپوزیشن مایوس ہی نہیں ایک خاص ڈپریشن میں بھی ہے۔ یہی حال پیپلزپارٹی اور جناب فضل بھائی کا ہے۔ بہرحال یہ بھی امکان غالب ہے کہ جناب نواز شریف مزید چھ سے سات سال ٹھنڈی ہواؤں میں "Relax" کریں اور جناب شہباز شریف کا لندن قیام ایک تیر سے دو شکار کرے۔ جناب چوہدری نثار اونٹ پر سوار صحراؤں کی ریت چھان رہے ہیں۔ کب اور کتنے اونٹوں کے ساتھ پلٹیں گے۔ فی الحال ان سے کوئی بات نہیں ہو رہی ہے۔ محترم خاقان عباسی، محترم احسن اقبال پرانے بیانیے کی کہاں تک لاج نبھاتے ہیں یہ بھی نہیں معلوم؟ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ ن لیگ پی پی پی اور جے یو آئی کے درمیان اپنی سرد مہری سی سرد مہری ہے کہ ناقابل یقین ہے کیونکہ جس طرح ہر مشکل انسان کا امتحان لیتی ہے یہ تینوں سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے کا امتحان لے رہی ہیں اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ تک محدود ہیں جبکہ بعض ذرائع کے مطابق اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ممکن ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں کچھ نئے سیاسی پرندے جناب ’’بزدار ہاؤس ‘‘ کا طواف کریں اور ایک دوسرے سے گلے ملتے ہوئے یہ شعر گنگنائیں۔

وہ میرا کچھ بھی تو نہیں

پھر بھی اسے اپنا کہنا اچھا لگتا ہے


ای پیپر