آوے کا آوا…
17 مارچ 2020 2020-03-17

دوستو، مثل مشہور ہے کہ آوے کا آوابگڑا ہوا ہے، اس کا مطلب جو ہمیں سمجھ آتا ہے(اردو کی ڈکشنریوں وغیرہ سے ہٹ کر) وہ یہ ہے کہ سب کچھ گڑبڑہی چل رہا ہے۔۔ لیکن جب جلسے،جلوسوںمیں آوے گا بھئی آوے گا کے نعرے لگتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ، آئے گا بھئی آئے گا۔۔ لیکن اگراسی کو آپ انگریزی میں پڑھنا چاہیں گے توAway یعنی ’’دُور‘‘ کے معنی میں شمارہوگا۔۔ اب چھوٹی سی کھوپڑی میں یہ بات نہیں سماتی کہ۔۔ آوے کا کیا مطلب نکالیں۔۔؟ آپ سوچئے ،ہم جب تک آوے کا آوابگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

یہ تو آپ مان لیں کہ ہم بہت ہی عجیب قوم ہیں، پوری دنیا کرونا وائرس کی وجہ سے خوف کا شکار ہے اور دوسری طرف ہماری قوم ہے جو ’’جگتوں‘‘ سے باز نہیں آرہی۔۔(اس قوم میں مابدولت بھی شامل ہیں اورہم بھی کبھی کبھار ’’جگت‘‘ سے باز نہیں آتے)۔۔ہم ایسی قوم سے ہیں جب آمنے سامنے بیٹھ کر بات کررہے ہوں تو کہتے ہیں۔۔سن بھائی۔۔ جب فون پر بات کررہے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں۔۔دیکھ بھائی۔۔باباجی کہتے ہیں۔۔کبھی کبھی مجھے ان لوگوں کی بہت فکر ہونے لگتی ہے جنہوں نے کوئی کام میرے مشور ے پر کیا ہو۔۔بیوی بچے کوماررہی تھی۔۔ باپ نے وجہ پوچھی تو بیوی کہنے لگی۔۔میں نے اسے کہا خوب پڑھ اچھی بیوی ملے گی، یہ آگے سے کہتا ہے۔۔ابا کو پڑھ لکھ کر کیا ملا؟؟؟۔۔باباجی فرماندے نے۔۔کرونا وائرس کی تین علامتیں تو بیوی کو دیکھ کر ہی شروع ہوجاتی ہیں۔۔سانس لینے میں تکلیف۔۔ سرمیں درد اور گلے میں خراش۔۔ہم چونکہ پٹھان ہیں، یہ بات باباجی بخوبی جانتے ہیں، اس لئے ایک روز انہوں نے ہم سے باتوں باتوںمیں اچانک پوچھ لیا۔۔کیا آپ کوپتہ ہے برین کینسر کیوں ہوتا ہے؟؟ ہم نے گردن دائیں سے بائیں ہلادی یعنی نفی میں جواب دیا،جس پر وہ مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔۔ جب کھوپڑی میں دماغ ہوتا ہے تو برین کینسر بھی ہوتا ہے۔۔یہ تجھے ہونہیں سکتا۔۔باباجی کا مزید کہنا ہے کہ ۔۔جوانی میں ایک بار ایک لڑکی سے محبت ہوگئی۔۔ ایک عامل سے تعویذ لیا۔۔تعویذ جعلی نکلا۔۔ محبوب قدموں کے بجائے گلے پڑگیا۔۔

بات ہورہی تھی پاکستانی قوم کی ،جس کا آوے کا آوا بگڑا ہواہے، یہ دنیا کی واحد قوم ہیں جوپچھلی گاڑی کا ہارن سن کر اپنی گاڑی کی اسپیڈ مزید تیز کردیتے ہیں۔۔ایک بار ہم نے رنگ روڈلاہور میں دو کاروالوں کو لڑتے ہوئے دیکھا، ایک کہہ رہا تھا، جب میں دائیں جانب کا انڈیکیٹر دے رہا تھا تو راستہ کیوں نہیں دے رہے تھے تم۔۔دوسرا کہہ رہا تھا، میں بھی وائپر ہلاہلاکر کہہ رہا تھا، نہ پترنہ،راستہ نہیں دینامیں۔۔ہمارے ایک کلاس فیلو ڈاکٹر دوست اپنا ایک دلچسپ قصہ سناتے ہوئے کہنے لگے۔۔جب میں ڈاکٹری کا امتحان پاس کر کے سرکاری ہسپتال میں بطور جونیئر ڈاکٹر تعینات ہوا تو ایک 67 سالہ بزرگ مریض کو پیشاب کی مصنوعی نالی لگانے میں مصروف تھابلکہ تقریباً لگا ہی چکا تھا کہ بابا جی نہایت مشفقانہ انداز میں گویا ہو۔۔پتر جے تو کج پڑھ لکھ جاندا تے ایہو جئے کم تے نہ کرنے پیندے۔۔جب آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے تو لامحالہ بیویاں بھی اسی میں شمار ہوتی ہیں۔۔کھانے کی میز پر شوہر نے دو تین نوالے کھا کر بیوی سے کہا ۔آج تم نے یہ کیا کھانا پکایا ہے ، مجھ سے کھایا نہیں جارہا۔ بیگم بولی یہ تو وہی ہوا کہ ہم الزام ان کو دیتے تھے وہ میری طرف آیا۔ غلطی تمہاری ہے اور غصہ مجھ پر۔ میرے حلق سے بھی یہ نہیں اتررہا۔ حیران ہو کر شوہر نے پوچھا اس میں میری کیا غلطی ہے ؟ کیا کھانا میں نے پکایا ہے ؟ بیوی نے برجستہ کہا ۔۔وہ کھانا پکانے کی ترکیبوں والی کتاب تم نے ہی تو لاکر دی ہے۔ اسی کی ایک ترکیب سے میں نے پکایا ہے۔ اب اس میں قصور میرا ہے یا تمہارا ؟؟؟

جب بیوی اور کچن کا ذکر چل نکلا ہے تو پھر یہ بھی سن لیجئے۔ایک عورت باورچی خانے میں اپنے خاوند کے ناشتے کے لیے انڈے فرائی کر رہی تھی کہ اس کا خاوند باورچی خانے میں داخل ہوا اور کہنے لگا ۔۔او خدایا ، تم ایک ہی وقت میں کتنے سارے انڈے فرائی کر رہی ہو۔؟ذرا احتیاط کرو، احتیاط سے پلیز، تھوڑا مکھن اور ڈالو۔ان کو اْلٹا کرو، الٹا کرو، یہ ادھر سے جل رہے ہیں۔یہ نیچے سے چپک جائیں گے۔ احتیاط سے ، ذرا احتیاط سے۔جب تم کچھ پکا رہی ہوتی ہو تم کبھی میری بات نہیں مانتیں، کبھی نہیں مانتیں۔اب ان پر نمک چھڑکو، تم ہمشہ نمک چھڑکنا بھول جاتی ہو۔وغیرہ وغیرہ۔۔عورت نے گھور کر اپنے خاوند کو دیکھا اور بولی ۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ مجھے انڈے فرائی کرنے نہیں آتے یا میں پہلی دفعہ انڈے فرائی کر رہی ہوں؟۔۔خاوند نے بڑے سکون سے کہا ۔۔میں صرف تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ جب میں ڈرائیونگ کر رہا ہوتا ہوں تو تمہاری باتوں سے میں کیسا محسوس کرتا ہوں۔۔باباجی سے ہم نے سوال کیا۔۔محبت کب ہونی چاہیئے؟؟ وہ برجستہ بولے۔۔محبت شادی سے پہلے ہو یا بعد میں مگر بیوی کو کان و کان خبر نہیں ہونی چاہیے۔ باباجی کی فہم و فراست کا جواب نہیں، کبھی کبھی ایسی ’’باریک‘‘ بات کہہ جاتے ہیں کہ کئی روز تک زبان پر ’’واہ،وا‘‘ رہتی ہے۔۔ایک روز کہنے لگے۔۔یہ بات اپنے پلو سے باندھ لینا،بال سفید کرنے میں زندگی نکل جاتی ہے ، کالے تو آدھے گھنٹے میں ہوجاتے ہیں۔۔

کچھ بیویاں بہت ’’میسنیاں‘‘ ہوتی ہیں۔۔زوجہ محترمہ نے اپنے خاوند سے پوچھا۔۔ آپ کو ملک شیک بنا دوں ؟اس نے منع کردیا، زوجہ محترمہ بہت اٹھلا کے بولیں۔۔ پی لیں نا پلیز ، دو خراب کیلے پڑے ہیں۔ اچھا دلچسپ بات یہ ہے کہ ،دنیا میں ایسی بیگمات بھی ہیں جو شوہر سے بات چیت بند کرکے یہ سمجھتی ہیں کہ اسے سزا دے رہی ہیں۔۔باباجی کا کہنا ہے۔۔شادی کے بعد پہلا سال فخر سے دوسرا صبر سے اور باقی کے جبر سے گزرتے ہیں۔۔ایک خاتون نے دوسری سے کہا۔۔ شادی کے شروع شروع دنوں میں میرے شوہر میری ہر خواہش بھاگ بھاگ کر پوری کیا کرتے تھے، دوسری خاتون نے پوچھا، تو اب کیا ہوا ؟؟ پہلی بڑی معصومیت سے بولی۔۔ اب فرمائش سنتے ہی بھاگ نکلتے ہیں۔۔کچھ شوہر بھی بڑے معصوم ہوتے ہیں۔۔جب ایک صاحب سے بیوی نے پوچھا،جب میں گانا گانے لگتی ہوں تو آپ باہر جاکر کیوں کھڑے ہوجاتے ہیں ؟؟وہ بولا۔۔صرف اس لیے کہ پڑوسی کہیں یہ نہ سمجھیں میں تمھیں مار رہا ہوں۔۔۔اور ہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ بیوی کے میک اپ پر بھول کر بھی نکتہ چینی مت کیجئے ورنہ آپ کو اس کا اصل چہرہ دیکھنا پڑجائے گا۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔آپ ہاتھ نہیں دھوتے بلکہ ہاتھ ایک دوسرے کو دھوتے ہیںآپ صرف دیکھتے ہیں ۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔


ای پیپر