کرونا اور احتیاط
17 مارچ 2020 2020-03-17

کرونا وائرس سے تباہی جاری ہے اور یہ وائرس اب تک کرہ ارض کے 156ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے دنیا میں متاثرہ مریضوں کی تعداد دولاکھ سے تجاوزکر گئی ہے اور اِس وائرس سے عالمی سطح پر ہونے والی مجموعی اموات کی تعداد 67سے تجاوز کرگئی ہیں چین سے باہر یہ وائرس سب سے زیادہ یورپ میں تباہی مچا رہا ہے جہاں صرف گزشتہ دو دنوں میں 517لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 52400مزیدلوگ اِس مرض کا ش کار ہوچکے ہیں دنیا کے متمول اور ترقی یافتہ یورپ میں ہلاکتوں کی تعداد 2ہزار سے تجاوز کر گئی ہے مگر ہنوز وائرس پر قابو نہیں پایا جا سکا دنیا کے جس ملک کی طرف نگاہ اُٹھائیں ایک ہراس کی فضا ہے لوگ ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مسجدیں ،چرچ اور دیگر عبادت گاہیں ویران ہو رہی ہیں کھیل کے میدان اور پارک تک سُنسان ہیں سچی بات تو یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کٹ کر رہ گئے ہیں تعلیمی اداروں میں ویرانی ہے اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا سائنسدان بھی اِس سوال کا جواب دینے یا حتمی طور پر کچھ کہنے سے قاصر ہیں اور سوال کا جواب تلاش کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں ۔

سوشل میڈیا پر کئی ایسی مشکوک ویڈیو ہیں جن میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ لوگ وائرس پھیلانے کی دانستہ طورکوشش کر رہے ہیں جب کہ وائرس کا شکار کرنے کی غیر مُبہم دھمکیاں بھی ویڈیوزمیں محفوظ ہیں جس کی وجہ سے وبا کے بارے میں اہلِ نظر شکوک وشبہات ظاہر کر رہے ہیں جنھیں چین کی طرف سے کرونا وائرس کا امریکی لیبارٹری سے تعلق جوڑنے سے مزید تقویت ملی ہے جسے کرونا وائرس کے پھیلائو کے بعد بند کر دیا گیا ہے کیونکہ لیبارٹری بند ہونے کے بعد انگریزی میں چھپنے والی کئی رپورٹس کو مٹایا کیا گیا ہے چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لی یانگ ژائو نے ایک ٹویٹ میں بھی کہا ہے کہ ہو سکتا ہے ووہان میں یہ وبا امریکی فوجی لیکر آئے ہوں جس پر امریکی وزیرِ خارجہ کی طرف سے وارننگ دینے پر کشید گی میں اضافہ ہواہے کیونکہ بظاہر امریکہ میں بھی لوگ اِس مرض کا شکار ہیں لیکن اِس بات میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ کرونا نے ایسے ممالک میں زیادہ تباہی مچائی ہے جن سے دنیاکی واحد سُپرطاقت نا خوش ہے چین میں تباہی مچانے کے بعد یہ وائرس ایران ،اٹلی اور سپین میں آبادیاں ویران

کرنے لگا ہے جس کی وجہ سے ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ یہ مرض قدرتی نہیںبلکہ بہت کچھ ایسا ہے جو مرض کے پھیلائو میں انسان کی کاوشوں کو ظاہر کرتا ہے اِس بات میں شائبہ نہیں کہ امریکی معیشت کو چین کی اقتصادی طاقت سے خطرہ ہے اورکچھ نیٹومعاملات کی وجہ سے وہ یورپ سے بھی خوش نہیں کرونا وائرس کے بڑے شکار چین اور یورپ ہیںحالات اِس حد تک خراب ہو گئے ہیں کہ چین اور یورپ دنیا سے کٹ چکے ہیں اور اُن کی اقتصادیات بُری طرح متاثر ہوئی ہیں اُنھیں اگلے کئی برس ہونے والے نقصان کے اثرات پر قابو پانے میں لگ جائیں گے بھلا ایک وبا کو کیسے پتہ چلا کہ دنیا کی واحد سپُر طاقت چین اور یورپ سے ناخوش ہے اسی بنا پر اِ ن خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ وبا کے پھیلائو میں انسانی ذہن کی منصوبہ بندی شامل ہے خیر ایران نے تو اپنی غلطیوں سے تباہی میں اضافہ کیا ہے اگر بروقت زائراین کے بارے احتیاطی تدابیر کی جاتیں تو نقصان میں کمی واقع ہو سکتی تھی۔

کرونا وائرس نیا نہیں کئی برس قبل اٹلی میں جنم لینے والی وبا کی تحقیق کے دوران کرونا کی تشخیص ہوئی اِس وبا کے شکار کئی لوگ مر گئے مگر جلد ہی طبی تحقیق نے مناسب حل تلاش کر لیا اور مرض پر قابو پا لیا لیکن اب جو کرونا کی نئی قسم سامنے آئی ہے وہ پہلے سے دریافت کرونا سے بہت طاقتور ہے اسی بنا پر اُس کی تباہ کاریاں زیادہ ہیں اب تک کی تحقیق کے مطابق یہ عمررسیدہ افراد اور بچوں کوزیادہ متاثر کر رہاہے یہ وائرس ایک مخصوص درجہ حرارت میں زندہ رہ سکتا ہے لیکن ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ داعش اور القائدہ جیسے دہشت گرد گروہ بھی تباہی مچانے کے لیے ایسے ممالک کا انتخاب ہی کیوں کرتے ہیں جن سے دنیا کی واحد سُپر طاقت معاندانہ رویہ رکھتی ہے اورپھر دہشت گروہوں کو کُچلنے کے نام پر ایسے ممالک کے وسائل پر ہی سُرعت سے حملہ آور ہوتی ہے جن سے اسرائیل کو مستقبل میں خطرے کا امکان ہو اب بھی وائرس کی تباہ کاریوں کا بغور جائزہ لیں تو یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ زیادہ تر وائرس نے ایسے اہداف کا انتخاب کیا ہے جن سے ایک مخصوص ممالک ناخوش ہیں اِس وجہ سے اذہان میں مختلف طرح کے سوال جنم لے رہے ہیں اور ماہرین وائرس کے پھیلائو اور تباہ کاریوں میں انسان کی جیالوجیکل تحقیق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اِس وبا پر قابو کیسے پانا ہے ابھی تک مستند حل تلاش نہیں کیا جاسکا مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ چین میںوائرس سے ہونے والی اموات میں کمی آنے لگی ہے اور لوگ مرض کے شکار ہونے سے زیادہ صحت یاب ہونے لگے ہیں جس کی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ چین میں وبا کا زور ٹوٹ رہا ہے لیکن یہ مرض دنیا کے مزید علاقوں میں پیش قدمی کر رہی ہے ماہرین موسم گرم ہونے پر مرض کی شدت میں کمی کا مکان ظاہر کر رہے ہیں لیکن مستقبل میں ایسی مزید وبائوں کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا اِس لیے اقوامِ عالم کوتحقیق کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے اور امکانات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جوہری ہتھیاروں نے روایتی لڑائی کے ہتھیاروں اور افرادی قوت کی افادیت ختم کر دی اب اقتصادیات کی لڑائی ہے جن سے ہوشیار رہنا ہی دانشمندی ہے۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان میں صورتحال بہت بہتر ہے اب تک جن میں مرض کی تشخیص ہوئی ہے وہ یا تو ایران سے زیارات سے واپس آئے ہیں یا بیرون ِ ملک سے واپس وطن آئے ہیںابھی تک کرونا سے پاکستان میں کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا کرونا کا پھیلائو محدود ہے پھر بھی ہمیں اطمنان سے بیٹھنے کی بجائے مرض پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کا سلسلہ موقوف نہیں کرناچاہیے کیونکہ علاج سے احتیاط بہتر ہے پاکستان جیسا کم وسائل رکھنے والا ملک بڑے پیمانے پر اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا ضرورت اِس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت بھی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے حقائق پر توجہ دے ناگہانی آفت کے خاتمے کے بعد بھی سیاست چمکائی جاسکتی ہے فوری طور سب کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ ہر خاص و عام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لیے آگاہی دیں کیونکہ ملک کی بڑی آبادی ناخواندہ ہے اور صحتِ عامہ کی سہولتیں بھی تسلی بخش نہیں اگاہی دیکر بڑے خطرے کے نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے جو لوگ اِس بات پر خوش ہیں کہ ہمارا ملک گرم علاقے میں ہے وہ یہ بات مت بھولیں کہ پاکستان میں سرد علاقوں کی بھی کمی نہیں جہاں وائرس زندہ رہ سکتا ہے اور سردموسم آنے کے بعد دیگر علاقوں کو لپیٹ میں لے سکتا ہے ہمیں یہ سوچ کر بھی مطمئن ہونے کی ضرورت نہیں کہ مرض زیادہ تر عمررسیدہ لوگوں کو شکار بنا رہا ہے اور پاکستان میں آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے خوش فہمی سے نکل کر آگاہی کی مُہم سے نقصان کم کیا جاسکتا ہے اگر ہر مکتبہ فکر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے تو۔


ای پیپر