کورونا وائرس کا عالمی صحت پالیسیوں پرسوالیہ نشان
17 مارچ 2020 2020-03-17

پوری دنیا میںکورونا وائرس وبا پھیلنے پر دہشت طاری ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں وائرس کے خطرے پر الرٹ جاری کردیا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں بھی معمولات زندگی معطل ہیں۔ معاشی سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں۔ ہر ایک کو ہر ایک خطرہ ہے۔ پاکستان میں بھی سو کے لگ بھگ کیسز ظاہرہونے پر لوگوں خواہ حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔

سب سے بڑا خطرہ صوبے سندھ میں محسوس کیا جارہا ہے جہاں کیسز بھی زیادہ ہوئے ہیں، اور حکومت نے حفاظتی تدابیر بھی زیادہ کی ہیں۔ سندھ میںملک کا سب سے بڑا شہر کراچی واقع ہے جہاں بری، بحری خواہ فضائی راستوں سے داخلے پوائنٹس ہیں۔ صنعتی، تجارتی دارالخلافہ کی حیثیت رکھنے والے شہر میں ایک سروے کے مطابق ہر ماہ پینتالیس ہزار افراد کراچی پہنچتے ہیں، جبکہ کاروبار وغیرہ کے حوالے سے آنے والے اس کے علاوہ ہیں۔ گنجان آبادی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں چوبیس ہزار افراد فی مربع کلومیٹر میں رہتے ہیں۔ لہٰذا گنجان آبادی کے لحاظ سے سندھ کا دارلحکومت کا یہ شہر ڈھاکہ اور بمبئی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے شہر کے انفراسٹرکچر یعنی بنیادی سہولیات میں کوئی توسیع نہیں ہوئی لیکن بڑی تیز رفتاری سے اس کی آبادی میں اضافہ ہوتا رہا۔ شہر کا سیوریج، ڈرینیج اور صفائی کا نظام ٹوٹ چکا ہے۔ پینے کے پانی کی صورتحال یہ ہے کہ ساٹھ فیصد آبادی کو واٹر سپلائی کا پانی میسر نہیں۔ رہائشی مکانات کی اکثریت کو کچی آبادی میں شمار کیا جاسکتا ہے۔معاملہ صرف کراچی کا نہیںدیہی سندھ کی بھی صورتحال خراب ہے جہاں زرعی معیشت بڑھتی ہوئی آبادی کا وزن نہیں اٹھا رہی ہے، جس نے غربت اور سماجی نابرابری کی ایک اور شکل پیدا کردی ہے۔ چھوٹے شہر بڑے ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دس سال کے دوران سندھ حکومت نے بڑے انفرا اسٹرکچر تو بنائے لیکن بنیادی سہولیات کی طرف توجہ کم دی۔بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی لوگوں کو بھی پریشان کر رہی ہے، اور وبائی امرض کے پھوٹ پڑنے پرخود سندھ حکومت کسی اور صوبے کی حکومت کے مقابلے میں زیادہ پریشان ہے۔

حفظان صحت بنیادی نقطہ ہے جو کورونا وائرس اور دیگر امراض سے بچائے رکھتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہر بیس

سیکنڈ کے بعد صابن سے ہاتھ ھوئیں اور سینسٹائیز استعمال کریں۔ بیماری کی صورت میں خود کو اکیلا اور دوسرے لوگوں سے دور رکھیں ۔ کیاعملاایسا ممکن ہے؟ پاکستان میں چالیس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے۔ دو کروڑ افرادکو رہائش کی مناسب سہولت حاصل نہیں۔ جب دنیا میں ایک کھرب لوگ جھگیوں یا کچی آبادیوں میں رہتے ہوں۔ جہاں پانی کی بنیادی سہولت میسرنہ ہو، کیسے بیس منٹ کے بعد ہاتھ دھوئیںگے؟ جگہ کی اتنی تنگی کہ ایک کمرے میں دو سے چار افراد رہائش پذیر ہوں۔ دنیا بھر کی صحت پالیسیاں میڈیکل انڈسٹریل کامپلیکس ڈکٹیٹ کرتا ہے۔ کرونا وائرس نے ان پالیسیوں کی قلعی کھول دی ہے کہ پالیسیاں ناقص اور یک طرفہ ہیں، جو کسی بھی بڑے چیلنج کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ کوریا اور اٹلی جیسے ممالک جہاں صحت کا ترقی یافتہ نظام موجود ہے، اس وائرس کو روکنے میں ناکام رہے۔ ماہرین طبی تحقیق کی ساکھ اور ان کے کارآمد ہونے کو بھی چیلنج کرتے ہیںادویا ت کا غلط اور زیادہ استعمال ان کی افادیت اور پراثر ہونے پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ علمی اور تحقیقی میں کرپشن، دواساز کمپنیوں پر انحصار اور ان کمپنیوں کا دائرہ اثربہت بڑے سوالات ہیں جو دنیا بھر میں امراض اور صحت کی صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔

اصل خرابی کہیں اور ہے۔ سماجی ، معاشی اور موسمیات کے مسائل انسانی صحت پربری طرح سے اور بڑے پیمانے پر اثرانداز ہو رہے ہیں ، جنہیں نظر انداز کیا جارہا ہے۔ آج دنیا میں کئی پھیلنے والے امراض میں اضافہ ہوا ہے جس میں ایڈز، یرقان اور دیگر وائرس وغیرہ شامل ہیں۔ جو آبادی میں تیزی سے اضافے، ماحولیاتی تبدیلیوں، سماجی اور ٹیکنالاجی میں تبدیلیوں اور رہن سہن کے طور طریقوں کی وجہ سے ہے۔ خود عالمی ادارہ صحت کا بھی کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں منتقل ہونے والے امراض میں اضافے کا باعث ہیں۔ ماحول کو بگاڑنے میں منافع اور مزید منافع کا عنصر حاوی ہے۔

انیس سو تیس سے لیکر انیس سو اسی تک کا سنہری دور تھا جب ٹی بی، اور دیگر کئی مہلک امراض کا علاج دریافت کرلیا گیا۔ اس کے بعد بڑی ترقی ہوئی ہے۔ لیکن ان دریافتوں کا عام لوگوں تک راسئی کا معاملہ اہم رہا ۔ صرف صحت پر توجہ دینا کافی نہیں۔ بھوک غذائی قلت، دسٹ، دھوئیں سے بھی امراض وجود میں آتے ہیں۔

کسی نے خوب کہا ہے کہ صحت ہسپتالوں سے پیدا نہیں ہوتی، سماجی عناصر دولت، مکانات، تعلیم اور درمیانہ طبقے کے اختیار صحت کے لئے اہم ہیں۔ صحت کے نظام میں سے صحت کو بے دخل کردیا گیا ہے۔ جس کے پاس دولت، اختیار، علم اور طریقہ کار ہے وہی طے کرتا ہے کہ صحت کیا ہے اور کی تعریف کا پیمانہ کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ طبقہ وہی بات طے کرے گا جس سے اس کے اختیار ، اقتدار اور دولت میں اضافہ ہو۔بعض صحت کے نظام کو چلانے والے نظام کی نااہلی کو تسلیم کرتے ہیں کسی مرض کو علاج کرتے وقت جتنا وسائل خرچ ہوتے ہیں تنے پیسے اس مرض کے اسباب کو روکنے پر بھی خرچ نہیں ہوتے۔ امراض کیوں جنم لیتے ہیں، کیوں پھیلتے ہیں؟ اس نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل اور حفاظتی ادویات اور تدابیر کی ضرورت ہے جو کہ ہمارے طبی تعلیم کے نصاب اور پالیسیوں میں غائب ہے۔ اس کی وجہ اختیارات رکھنے والوں کی جانبداری ہے۔ پورا نظام منافع اور پیسے کے گرد گھومتا ہے ، وہ سماجی اور معاشی نابرابری کی طرف دیکھتا ہی نہیں۔ جبکہ سماجی صورتحال اور معاشی نابرابری خرابی صحت کے اہم نکات ہیں۔


ای پیپر