پیپلز پارٹی سے پانچ سوالات
17 مارچ 2020 2020-03-17

گزشتہ برس کی بات ہے ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا تھا۔موضوع گفتگو تھا ’’ پاکستان میں جمہوریت کو درپیش مشکلات ‘‘ ۔ اس تقریب کے مہمان خاص تھے پیپلز پارٹی کے اہم رہنما فرحت اللہ بابر۔ ان کی گفتگو کا نتیجہ یہی تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ فوج ہے،لیکن جب سوالات کا دور شروع ہوا تو سامعین کی اکثریت نے جو سوالات پوچھے تو اس کا لب لباب یہ تھا کہ ملک میں جمہوریت کی سب سے بڑی دشمن یہاں کی سیاسی جماعتیں ہیں۔ سامعین نے دو وجوہات بیان کیں ایک یہ کہ سیاسی جماعت جب اقتدار میں آتی ہے تو یہ عوام کو سہولیات دینے میں ناکام ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں میں خود جمہوریت نہیں وہاں بدترین خاندانی آمریت ہے۔فرحت اللہ بابر نے سامعین سے کسی حد تک اتفاق بھی کیا لیکن وہ اس بات پر پھر بھی قائم رہے کہ سارا قصور سیاسی جماعتوں کا نہیں فوج بھی ایک بنیادی رکاوٹ ہے۔ اس تقریب کے احوال پر’’ روزنامہ نئی بات ‘‘ کی انہی صفحات پر میں کالم بھی لکھ چکا ہوں۔یہ تفصیل لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول زرداری نے بھی دبے الفاظ میں یہی بات دہرانی شروع کردی ہے۔ صورت حال بالکل اسی طرح ہے جس سے فرحت اللہ بابر مخاطب تھے۔عوام کی رائے کچھ اور ہے جبکہ پیپلز پارٹی کا موقف کچھ اور۔یہاں ہم صرف چند واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ زیادہ قصور وار کون ہے؟

آپ کو یاد ہوگا کہ 2010 ء میں پیپلز پارٹی اقتدار میں تھی۔ آصف علی زرداری ملک کے صدر تھے۔یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی فوج کے سربراہ تھے۔وہ اپنے عہدے سے فارغ الخدمت ہونے والے تھے لیکن جولائی 2010 ء میں وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے قومی ٹیلی وژن پر قوم سے مختصر خطاب کیا اور خوش خبری سنائی کہ صدر آصف علی زرداری سے مشاورت کے بعد انھوں نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں تین سال کی تو سیع کردی ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے یہ توسیع صدر آصف علی زرداری سے مشاورت کے بعد نہیں کی تھی بلکہ انھوں نے یہ خوش خبری قوم کو صدر مملکت آصف علی زرداری کے حکم پر سنائی تھی۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے جنرل اشفاق پرویز کیا نی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ جمہوریت پسندی کے باعث ان کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ‘‘ ۔اب بلا ول زرداری سے سوال یہ ہے کہ اگر فوج اس ملک میں جمہوریت کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے تو

پھراس وقت کے صدر آصف علی زرداری اوروزیر اعظم یوسف رضا گیلا نی نے جنرل کیانی کو جمہوریت کا حامی قرار دے کر مزید تین سال کے لئے توسیع کیوں دی ؟ کیا بلاول زرداری یہ راز قوم کو بتا دیں گے کہ کس کے دبائو پر ان کے والد اور اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے جنرل کیا نی کو تو سیع دی تھی؟

جنوری 2018 ء میں نواب ثناء اللہ زہری بلوچستان کے وزیر اعلی تھے۔قومی انتخابات میں چند مہینے باقی تھے ،لیکن پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے ان کی حکومت کو گرانے کے لئے اپنا کندھا پیش کیا تھا۔انھوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ صرف چند مہینے ہے بلوچستان کی حکومت خود بخود ختم ہو جائے گی اس لئے اپنے آپ کو بدنام کرنے کی ضرورت نہیں ۔ کیا بلاول زرداری اور پیپلز پارٹی کے رہنمااس راز سے پردہ اٹھانے کے لئے تیار ہے کہ آصف علی زرداری نے کس کے کہنے پر ایسا کیا تھا؟

مارچ 2018 ء میں سینٹ کے انتخابات ہونے تھے۔ مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ چیئرمین سینٹ کے لئے میاں رضا ربانی کی حمایت کے لئے تیار ہے لیکن آصف علی زرداری نے رضا ربانی کوچیئرمین سینٹ بنانے سے انکار کرتے ہوئے ایک غیرمعروف اور غیر سیاسی شخص صادق سنجرانی کو ووٹ دیا۔سوال یہ ہے کہ آصف علی زرداری کو یہ فیصلہ کرنے پر کس نے مجبور کیا تھا؟کیا بلاول زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر اہم رہنما اس سوال کا جواب دیں گے؟اگست 2019 ء میں جب متحدہ اپوزیشن نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تو پیپلز پارٹی کے کئی ارکان نے پارٹی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے صادق سنجرانی کو ووٹ دیا۔کیا بلاول زرداری بتانا پسند کریں گے کہ ان ارکان کے خلاف انھوں نے کیا کارروائی کی ؟ کیا وہ اس سوال کا جواب دیں گے کہ ان کے ارکان نے کس کے کہنے پر صادق سنجرانی کو ووٹ دیا تھا؟

سال2019ء کے آخرمیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ سامنا آیا۔ مقدمہ سپریم کورٹ میں چلا گیا۔ عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ اس اہم مسئلے پر قانون سازی کریں ۔ پیپلز پارٹی نے غیر مشروط طور پر حکومتی بل کا ساتھ دیا۔ نوید قمر نے جو تجاویز دی تھی ان کو بھی واپس لے لیا۔اب سوال یہ ہے کہ بلاول زرداری جو خود رکن قومی اسمبلی ہیں وہ اس اہم معاملے پر لا تعلق کیوں رہے؟ کیا وہ قوم کو بتا سکتے ہیں کہ انھوں نے اس بل کی غیر مشروط حمایت کیوں کی؟

یہ تو صرف وہ پانچ واقعات اور پانچ سوالات ہیں کہ جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک میں جمہوریت کی راہ میں بنیادی رکاوٹ کون ہے؟ اگر پیپلز پارٹی ان مواقع پر ڈٹ جاتی تو ممکن تھا کہ آج حالات مختلف ہوتے،لیکن جب قیام کا وقت آتاہے تو خود سجدے میں گر جاتے ہیں اور پھر دوسروں پر الزام لگاتے ہیں کہ تم کھڑے کیوں ہو؟ اگر سیاسی جماعتیں خود اپنے آپ کو آمریت سے پاک کر دیں ۔ اپنے اندر جمہوری اقدار اور روایات کو فروغ دیں تو کوئی اور ملک میں جمہوریت کی راہ میں روکاٹ نہیں بن سکتا۔اب بھی اگر ہم جائزہ لیں تو جمہوریت کی راہ میں جو کوئی بھی رکاوٹ بن رہا ہے تو اس کی بنیادی وجوہات دو ہی ہے کہ سیاسی جماعت جب اقتدار میں آتی ہے تو وہ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتی اور دوسری بڑی وجہ ان سیاسی جماعتوں پر چند بڑے اور امیر خاندانوں کا قبضہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ کارکنوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور وہ پیپلز پارٹی کی بجائے کسی اور پارٹی کا رخ کر رہے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ بعض ادارے بھی رکاوٹ ہیں لیکن وہ اس مسئلے کا ایک جز ہے کل نہیں۔ وہ ایک سبب ہے لیکن بنیادی سبب ہر گز نہیں۔جب تک سیاسی جماعتیں ان کوتاہیوں کو دور نہیں کرتیں اسی وقت تک جمہوریت کی ریل گاڑی ملک میں الٹا ہی چلتی رہے گی۔اس لئے دوسروں پر الزام سے قبل اپنے گریباں میں جھانکنا ہوگا۔دوسروں کو اصلاح کا مشورہ دینے سے قبل اپنی اصلاح کرنا ہو گی۔


ای پیپر