لاہور ہائی کورٹ میں جناب بلاول بھٹو کا خطاب
17 مارچ 2020 2020-03-17

10 اپریل 1986ء میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے لاہور اور گوجرانوالہ میں تاریخی جلسوں کے بعد درمیان میں نواب زادہ نصر اللہ خان کا ہائی کورٹ بار میں خطاب سنا تھا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ مشرف پہلا جرنیل ہے جو گرفتار ہو گا اور یہ ملک میں آخری مارشل لاء ہے گو کہ مارشل لاء تو نہیں لگا مگر آج کی جمہوریت سے واضح مارشل لاء کہیں بہتر ہے۔پہلا دور ہے کہ ادارے اور ’’وزیراعظم‘‘ الگ الگ اپنے آپ کو ریاست کا نام دے رہے ہیں۔ جناب میاں شاہد محمود (ریٹائر جج) ایڈووکیٹ سپریم کورٹ شہاب چیمبرز جو میرا بھی وکالت کا دفتر ہے سے اٹھ کر خالد ہاشمی کے ساتھ خرم کھوسہ کے آفس چلے گئے وہاں پر محترم افتخار شاہد ، شیخ عثمان غنی، جمال اشرف بیٹھے تھے وہیں سے معلوم ہوا کہ جناب بلاول بھٹو ہائی کورٹ بار سے خطاب کرنے آ رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی پنجاب میں ٹائی ٹینک تھی کہاں سے کہاں آ گئی مگر اس کے انداز ، ورکرز اور بنیادی پروگرام سے دوری اور اندر کی دھڑے بندی نے موجودہ صورت حال پیدا کر دی کہ پارٹی کارروائی پارٹی بن کر رہ گئی جس کی قیادت کے دو ادوارہیں پہلا قربانی دینے کا اور دوسرا اپنی دھڑے بندی پر پارٹی کو قربان کرنے کا۔جو لوگ عرصہ سے پارٹی میں کرتا دھرتا ہیں پیپلزپارٹی کا ورکرز اور جناب بلاول بھٹو ان کے حصار میں ہیں۔

جیسے سکندر مرزا کو نام نہاد خطوط، ایوب کو ڈیڈی ، ادھر تم ادھر ہم والی در فنطنیاں 1977ء کی جمہوریت مخالف تحریک میں چھوڑی گئی تھیں۔ حالانکہ خوشامدی سولی نہیں چڑھا کرتے۔ دراصل اجرتی قاتل سے اجرتی تجزیہ کار زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ فرماتے ہیں کہ سارے چوہدری بھی مر جائیں تو بلاول وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ حالانکہ وطن عزیز میں معین قریشی، مزاری تو وزیراعظم رہے سو رہے شوکت عزیز، ظفر اللہ جمالی، چوہدری شجاعت بھی وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ وطن عزیز میں قدرت کو اگر منظور نظر ہو تو تانگے کی سواری نہ رکھنے والا وزیراعظم بن جایا کرتا ہے۔ یوں اکثریت کو یوں اقلیت میں بدلا جاتا ہے کہ انتخابات کے باوجود سلیکٹڈ کا لقب پاتا ہے لہٰذا اگر قدرت کو منظور نظر ہو گا جناب بھٹو کا نواسہ محترمہ بی بی شہید کا بیٹا زیادہ محنت نہیں مانگتا۔ 24 گھنٹوں نہیں صرف لمحوں میں بلاول بلاول ہو جائے گی۔ یہی ’’دانشور اور اینکرز‘‘ بلاول بھٹو کے حمایتی ہوں گے۔

اگلے روز خطاب تھا ڈاکٹر جاوید اقبال ہال میں داخل ہوا تو افتخار شاہد، خرم کھوسہ ، خالد ہاشمی، رحمن شاہد، شیخ عثمان غنی، زاہد چوہدری نوجوانوں کے سربراہ جناب شاہد نذیر۔ ذوہیب بٹ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اور وکلاء کی کثیر تعداد موجود تھی۔سعید غنی سے ملاقات رہی۔ میں نے انہیں کہا کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں 50 سال سے کم عمر کا ورکر نہ ہونے کے برابر ہے لہٰذا چیئرمین کا عوامی رابطہ بڑھائیں سامنے دیکھا تو چوہدری اعتزاز احسن تشریف فرما تھے میں نے سلام کیا۔ برادرم افتخار شاہد ابھی بات کرنے لگے تو چوہدری صاحب کہنے لگے کہ سپرنٹنڈنٹ جیل گلزار بٹ صاحب کا بھائی ہے۔ انہوں نے مارشل لاء دور میں سیاسی قیدیوں کا اور ہمارا ہمیشہ بہت خیال رکھا وکلاء تحریک میں گرفتار وکلاء کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔ گلزار بھائی کے پاس مرد حر جناب آصف علی زرداری اور میاں برادران بھی جیل کاٹ چکے۔ زرداری صاحب آج بھی ان کے حسن سلوک کے معترف ہیں۔

کہتے ہیں سو بار سننے سے ایک بار دیکھنا بہتر ہے۔ واقعی بلاول بھٹو ایسا ہی ہے۔ میر مرتضیٰ بھٹو ، محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کی شخصیات کو یکجا کریں تو بلاول کی شخصیت بنتی ہے۔ مائیک پر ایک شخص محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ کی قربانیوں کی بات کرتے ہوئے کہ جب محترمہ بختاور کو گود میں اٹھائے ننھے بلاول کو انگلی لگائے مرد حر آصف علی زرداری کی لانڈی جیل میں چلچلاتی دھوپ میں پیدل ملاقات کر کے آتیں جیسے واقعات سنا رہا تھا تو میں بلاول کے چہرے کو دیکھ رہا تھا ان کی آنکھیں اور چہرہ ظلم کی ان گنت وارداتیں جو لمحوں میں انسانوں کو بوڑھا کر دیں سنا رہی تھیں۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید ، محترمہ بی بی شہید کے ذکر پر بلاول

بھٹو کے چہرے کے تاثرات اور بدلتے ہوئے رنگ آنسو تھامے ہوئی مغموم آنکھیں کوئی انسان ہی دیکھ اور سمجھ سکتا ہے۔ شیخ رشید (بدھاں بائی ) ’’ٹلیاں والے‘‘ نہیں جو بھٹو صاحب کو سلیکٹڈ کہہ کر سستی اور گھٹیا شہرت چاہتے ہیں کیا نہیں جانتے کہ جناب بھٹو صاحب ایوب حکومت چھوڑ کر جیل کاٹی اور 1967ء میں پارٹی کی بنیادی رکھی اور کوئی ایک بندہ اسٹیبلشمنٹ کا نہیں لیا تھا اور تو اور جو لوگ جناب بلاول بھٹو کی مقبولیت، شخصیت، حسب نصب، ذہانت ، ویژن، فصاحت و بلاغت کو لے کر کیش کروانے نکلے ہیں ان کو ترس اور شرم آنی چاہیے کہ یہ مظلوم اپنی والدہ اور نانا کے مشن کو لے کر نکلا ہے جس کے والد کی جتنی کردار کشی کی گئی شاید تاریخ میں کسی دوسرے کے نصیب میں نہیں آئی، کچھ رحم کریں۔

جناب بلاول بھٹو کی تقریر سنی لگ رہا تھا جناب بھٹو اور محترمہ بی بی کو اللہ نے بلاول کی صورت گری کر کے ایک رہنما بنا دیا ہے تاریخ اور وطن عزیز کی خدمت، جدوجہد اور قربانیوں کی داستان کو وجود مل گیا ہو جیسے چونکہ بلاول بھٹو کا وطن عزیز کی حقیقی قوت نوجوان اور محروم عوام خصوصاً پنجاب میں تعارف نہیں ہونے دیا جا رہا ابھی سے قبضہ جاری ہے۔ اس قبضہ گروپ سے جناب بلاول کو آزادی لینا ہو گی۔ پیپلزپارٹی اپنی قیادت سے آج بھی والہانہ محبت اور عقیدت رکھتی ہے۔ جب ایم آر ڈی اور ضیاء کے خلاف پیپلزپارٹی کی جدوجہد تھی اقتدار آنے پر وہ لوگ خیال خواب ہوئے وٹو، بابر اعوان رحمن ملک ایسے لوگ آ گئے۔ پیپلزپارٹی کے ورکر سے اس سے بڑی زیادتی کیا ہو گی کہ اس کو ان کا در دکھا دیا جائے۔ بلاول بھٹو عام سیاست دان نہیں ہیں۔ انہیں جب والدہ کا ساتھ نصیب ہوا باپ جیل میں تھا۔ جب باپ رہا ہوا تو ماں شہید ہوئیں۔ نانا کا مرثیہ لوری میں سنا، دبئی والے گھر اکیلا دیواروں سے فٹ بال کھیلتے دیکھا گیا۔ 19 سال کا نہ ہوا تو دنیا کی سب سے بڑی سیاسی لیڈر والدہ شہید کو لحد میں اتارنا پڑا یہ سب باتیں اپنی جگہ کیا ملک کو چلانے اور عوامی رہنمائی کی اہلیت بھی ہے کہ نہیں جذبہ اور جنون بھی ہے کہ نہیں؟ میں دیانتداری سے کہتا ہوں کہ بلاول کو سننے کے بعد میری یہ رائے ہے کہ چلتے لمحے میں بلاول بھٹو امید کی واحد کرن ہیں اس وقت کوئی دوسرا سیاسی رہنما ویژن کے اعتبار سے ان کا ہم پلہ نہیں ہے ۔سیاست اور استقامت بلاول کے جینز میں شامل ہے۔ بس نقالوں سے ہوشیار رہنا ہو گا۔ بلاول بھٹو کو نوجوانوں اور عوام سے براہ رست رابطہ کرنا ہو گا واضح معاشی اور سوشل ڈیمو کریسی کا پروگرام دینا، ہر شعبہ کے ماہرین اور دانشور ساتھ ملانا ہوں گے۔ مجھے یقین واثق ہے کہ بدترین مخالف اور نجومی قسم کے تجزیہ کار بھی اپنی رائے بدلنے پر قابو نہ رکھ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ عاجزی کو پسند کرتا ہے جو میں نے بلاول کی شخصیت میں دیکھی۔ عروج کو نہیں تکبر کو زوال ہوا کرتا ہے۔ بلاول بھٹو ایک عاجز اور انسان دوست شخصیت ہیں ہزار بار سننے سے ایک بار دیکھنا بہتر ہے۔


ای پیپر