پولیس کب درست ہوگی ؟
17 مارچ 2020 (17:13) 2020-03-17

اعجاز مقبول

یہ فروری کی دو تاریخ تھی اورٹرینی سب انسپکٹر محسن سرکاری گشت پر مامور تھا ، رات آٹھ بجے کے قریب اسے کنٹرول روم سے کال آتی ہے کہ کسی جوان کو بھجواکرہمارے لئے چائے اورکھانا لایاجائے۔ٹرینی سب انسپکٹر محسن کو تھوڑی دیر کیلئے تو کچھ سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کیاکرے، اس نے کال کرنیوالے کو جواب دیا میں کسی ہوٹل سے نہیں ،تھانہ ریس کورس کی پولیس موبائل سے بات کررہاہوں،ہمارا کام کسی کیلئے چائے کھانا کابندوبست کرنا نہیں ،،بلکہ جرائم کنٹرول کرنا ہے،۔۔۔۔وائرلیس آپریٹر کاکہاتتھا جناب لگتاہے کہ آپ محکمے میں نئے آئے ہیں ، ہمیں توروز ڈویڑن میں سے کوئی نہ کوئی پولیس موبائل کھانا اورچائے دے کر جاتی ہے۔

پولیس تربیت پانیوالے محسن کے پاس دوراستے تھے یا وہ چائے کھانا کنٹرول روم پہنچاتا یاپھر سسٹم سے بغاوت کرتا، اس نے دوسرا راستہ چنا اورتھانہ ریس کورس میں چائے روٹی اورپچاس پچاس روپے مانگنے والوں کے خلاف کارروائی کیلئے رپٹ درج کرادی،،،اس نے موقف اختیار کیاکہ کتنی شرم کی بات ہے کہ جرائم کے خاتمے اورعوام کی خدمت کے جذبے کیساتھ پولیس فورس جوائن کرنیوالے پڑھے لکھے نوجوانوں کوجوعوام کی خدمت اورجرائم کے خلاف لڑنے کیلئے بھرتی ہوتے ہیں انہیں روٹیاں اورچائے لانے کیلئے مجبور کیاجاتاہے۔ محسن نے اپنی درخواست میں یہ بھی لکھاکہ کس حیثیت میں تھانے کی گاڑیوں کوکھانا اورچائے لانے کاکہاجاتاہے، بعض اوقات افسران بالا کے نام پر سو یا پچاس پچاس روپے بھی اکٹھے کئے جاتے ہیں۔ محکمہ کی بدنامی کاباعث بننے والے ایسے بھیک پسند عناصر جو کھانا اورچائے کامطالبہ کرکے کرپشن کاجواز فراہم کرتے ہیں ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔۔

، یہ ایک واقعہ ہی پولیس نظام سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ کس طرح چائے روٹی لانے جیسے چھوٹے چھوٹے حکم دے کر پولیس جوائن کرنیوالوں کو کرپشن کی ترغیب دی جاتی ہے۔۔۔اسی طرح کی بہت سی کہانیوں کی بازگشت گاہے بگاہے پولیس کے مختلف دفاتر میں سنائی دیتی رہتی ہے،اعلی پولیس حکام کی طرف سے اکثر یہ دعویٰ کیا جاتاہے کہ محکمے میں کالی بھیڑوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے اورکرپشن کے خاتمے کیلئے احتساب کے عمل کو مضبوط اور مستحکم بنایاجائیگا،۔۔ لیکن کیا واقعی محکمہ پولیس سے کرپٹ عناصر کے خاتمے اورکرپشن کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدمات کئے جا رہے ہیں ، کیا پولیس کمیونٹی پولیسنگ میں تبدیل ہو رہی ہے تو اس حوالے سے نئی بات میڈیا نیٹ ورک کرائم سیل کے سینئر رپورٹر حماد اسلم کاکہناہے کہ پولیس ریفارمز اس وقت تک قابل عمل نہیں ہوسکتیں جب تک اعلی پولیس حکام کسی ایک سمت کا تعین نہیں کرلیتے، ، انہوں نے بتایاکہ محکمہ پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کے صرف پہلے دوماہ کے دوران ، کرپشن، اختیارات سے تجاوز کرنے ، ڈیوٹی سے غیر حاضری،ناقص تفتیش ، اورغفلت برتنے جیسے دیگر الزامات میں میں اب تک چار ہزار سے زائد ملازمین کو مختلف سزائیں دی جاچکی ہیں۔ جن میں نوکری سے برخاستگی، معطلی ، سرزنش اورانتباہ سمیت دیگر شامل ہیں، گزشتہ سال اسی طرح کے الزامات میں سزاپانیوالے پولیس اہلکاروں کی تعداد 60ہزار سے زائد تھی۔ یہ الزامات اورسزائیں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے ذمہ دارمحکمے کی کارکردگی پر کئی سوالات کوجنم دیتی ہیں ، حماد اسلم کاکہناتھاکہ کرپشن سے پاک پولیس کی طرف سے کمیونٹی پولیسنگ کاسفر اس وقت تک کامیابی کی منازل طے نہیں کرسکتا جب تک پولیس کو سیاسی دبائو سے آزاد نہیں کیاجاتا۔ اور اسے حقیقی معنوں میں ایسے خود مختار محکمے کی شکل نہیں دی جاتی جس کااحتسابی نظام اس قدر مضبوط ہوکہ کرپٹ عناصر کی تطہیر خودکار نظام کے تحت ہوتی چلی جائے، انہوں نے یہ انکشاف بھی کیاکہ پولیس ریفارمز ، پولیس میں احتساب اور تقرر و تبادلوں کے معاملات میں اکثر اعلی پولیس حکام میں اختلافات بھی سامنے آئے ہیں ، ماضی میں آئی جی صاحبان کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں سربراہ پنجاب پولیس کو اعلی پولیس افسروں کو یہ کہناپڑا کہ آرام دہ کمروں سے نکل کر باہر کی دنیا دیکھیں اورجرائم کی شرح کنٹرول کرنے کیلئے خود کو فعال بنائیں۔

قیام پاکستان سے لے کر آج تک محکمہ پولیس میں اصلاح کی کوششوں کاجائزہ لیں توحقائق سامنے آتے ہیں کہ 1861 کے پولیس ایکٹ میں موجود سقم اورکمیاں دور کرنے کیلئے متعدد بار کاوش کی گئی ،پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد فروری 1948 میں سندھ اسمبلی نے کراچی میں ماڈرن پولیس فورس کے قیام کیلئے ایک بل پاس کیا، لیکن بعض وجوہات کی بناپر یہ بھی قابل عمل نہ ہوسکا، 1973کے آئینی فریم ورک کے تحت پولیسنگ کو صوبائی معاملہ قرار دیاگیا، جس کے تحت چاروں صوبوں جن میں پنجاب ،سندھ، بلوچستان اورکے پی کے شامل ہیں ان کی اپنی اپنی پولیس فورس ہے جس کے اختیارات صوبائی حدود تک ہیں، اسی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی اپنی پولیس فورس ہے۔۔

برصغیر کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں پولیس میں تبدیلیاں اور اصلاحات لانے کاعمل کئی طرح سے مشکلات کاشکا ر ہے، ملک میں امن وعامہ، دہشت گردی ، بنیاد پرستی اورسکیورٹی خطرات نے بھی پولیس نظام میں بہتری لانے کے اقدامات میں رکاوٹیں کھڑی کئے رکھیں۔ قیام پاکستان کے بعد بننے والی حکومتوں کی طرف سے پولیس ریفامز کو نظر انداز کئے جانے کے باوجود 1861کے فرسودہ پولیس ایکٹ میں اصلاحات لانے کیلئے متعدد بار کوششیں ہوئیں جو بارآور ثابت نہ ہو سکیں، اصلاحات کیلئے متعدد کمیشن قائم کئے گئے ،1951میں سر اولیور گلبرتھ گریس ،1961 میں جسٹس جے بھی کانسٹینٹائن کی سربراہی میں بھی کمیشن بنائے گئے اسی طرح 1985 میں اس وقت کے صوبہ سرحد (موجودہ کے پی کے) کے آئی جی اور1997 میں اس وقت کے وزیرداخلہ کی چیئرمین شپ میں بھی کمیشن بنے ،لیکن وہ ریفارمز کے حوالے سے قابل عمل نہ ہوسکے ،جس کی بڑی وجوہات میں سیاسی عدم دلچسپی بیوروکریسی کی مزاحمت، اوردیگر معاملات ان اقدامات کے راستے میں رکاوٹ بن گئے،، ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ پولیس میں ہر گزرتے دن کیساتھ سیاسی مداخلت میں اضافہ ہوا۔ 1999 میں مشرف دور میں پولیس ریفارمز کیلئے ایک فوکس گروپ بھی تشکیل دیاگیا، اس گروپ کی متعدد کوششوں اورسفارشات کے نتیجے میں پولیس آرڈر2002 سامنے آیا، اس پولیس آرڈر کے تحت پولیس کو ایک پیشہ وارانہ ، عوامی خدمت کرنیوالا اور قابل احتساب ادارہ بنانا مقصود تھا، ، ،سابق صدر نے اس مقصدکیلئے تین ٹاپ پولیس افسروں کاچنائو کیا جن میں سابق آئی جی صاحبان ذوالفقار قریشی افضل شگری اور شعیب سڈل شامل تھے،، انہیں پولیس آرڈر2002 کی شکل میں نئی جہتیں تلاش کرکے اسے قابل عمل بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی، لیکن جنرل مشرف کا یہ خواب شرمندہ تعبیر محض اس لئے نہ ہوسکا کہ اس دور کے سیاستدان پولیس کی خود مختاری کے حق میں تھے ، نہ اس ڈیپارٹمنٹ کو وہ سیاسی دبائو سے آزاد دیکھناچاہتے تھے، لہذا ادارہ جاتی اصلاح کی یہ کوشش بھی اس وقت دم توڑ گئی جب مشرف اقتدارسے رخصت ہوگئے۔۔

2018 کے عام انتخابات میں برسراقتدار آنیوالی تحریک انصاف کی حکومت نے ایک مرتبہ پھر پولیس ریفارمز کابیڑہ اٹھایا، حکومت کے قیام کے چند ماہ بعد ہی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے پولیس ریفارمز کمیشن قائم کردیا، اس کمیشن کی سربراہی خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت کے دوران پولیس کوغیرسیاسی بنانے کے اقدامات میں غیر معمولی کارکردگی دکھانیوالے سابق آئی جی ناصر درانی کے سپرد کی گئی۔ پولیس ریفارمز کمیشن کو مزید فعال بنانے کیلئے ڈیپارٹمنٹ میں نیک شہرت رکھنے والے افسر محمد طاہر کو آئی جی پنجاب کی سیٹ پر تعینات کیاگیا لیکن پولیس میں سیاسی مداخلت کے باعث یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی، اورایک ہفتے بعد ہی پنجاب حکومت نے آئی جی محمد طاہر کوعہدے سے ہٹا دیا، اسی شام پی آرسی کے چیئرمین ناصر درانی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے اوریوں یہ کمیشن بھی غیرفعال ہوکررہ گیا،،

پی آرسی کی غیر فعالیت سے کمیٹیاں بنانے کے ایسے کھیل کاآغاز ہوا جو کسی ٹھوس اورمثبت نتیجے کے بغیر تاحال جاری ہے، پنجاب حکومت نے وزیر قانون راجابشارت کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔ حالانکہ اس دوران پولیس ریفارمز کے حوالے سے یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام کے زیراہتمام سابق ڈی جی ایف آئی اے اورنیشنل کائونٹر ٹیررازم کے پہلے چیئرمین طارق پرویز کی سربراہی میں ایک کمیٹی پہلے ہی کام کررہی تھی جس میں پنجاب اسمبلی میں موجود ہر سیاسی جماعت کا ایک ایک ایم پی اے بھی شامل ہے، پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کے دوران آئی جی صاحبان کو باربار تبدیل کیاگیا تبدیل ہونیوالوں میں سید کلیم امام، محمد طاہر ، امجد جاوید سلیمی اور عارف نواز جیسے پولیس افسر شامل ہیں جبکہ موجودہ آئی جی شعیب دستگیر پنجاب پولیس کے پانچویں سربراہ ہیں۔۔۔ پنجاب میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کی قیادت اور ارکان صوبائی اسمبلی کی طرف سے پولیس افسروں کے باربار تبادلوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاجاتاہے، اپوزیشن جماعتوں نے پاکپتن اوردیگر شہروں میں اعلی پولیس افسروں کے تبادلوں کوسیاسی تبادلے قراردیا۔

پنجاب میں محکمہ پولیس کو جہاں کئی طرح کے مسائل کاسامناہے ان میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بطور سربراہ محکمہ کوئی آئی جی ایس اوپیز لانے میں کام یاب نہیں ہوسکا، بدلتے افسروں کے ساتھ نوکری کے ضوابط کار اور اوقات کار بھی بدل جاتے ہیں ،اتنی بڑی پولیس فورس کیلئے چھٹیوں کانظام ہی نہیں بنایا جا سکا، محکمے کے سربراہ بننے والے شعیب دستگیر سمیت ماضی کے سربراہوں نے بھی رولز اینڈ ریگولیشن بنانے کی زحمت ہی گوارہ نہ کی۔۔ پولیس ذرائع کاکہناہے کہ جو آئی جی صاحب آتے ہیں وہ اپنی مرضی کے رولز بنا لیتے ہیں ،جوان کے تبادلے کے بعد خود بخود ختم ہو جاتے ہیں اورآنے والے انسپکٹر جنرل اپنے فرمان کے تحت پولیس فورس کوچلاتے ہیں، ،یہی وجہ ہے کہ حقیقی معنوں میں تھانہ کلچر تبدیل ہوسکا نہ پہلے سلام پھر کلام کا نعرے لگانیوالی پولیس کے روئیے میں کوئی تبدیلی آئی۔۔ اربوں روپے کابجٹ بھی پولیس کو صحیح معنوں میں پولیس کا فرض مدد آپ کی کے راستے پر گامزن کرنے میں ناکام دکھائی دیتاہے،،تجزیہ کاروں اورسول سوسائٹی کی طرف سے محکمہ پولیس کے اہم عہدوں پر براجمان افسروں کی صلاحیتوں پر بھی کئی طرح کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ اے ایس پی سے آئی جی کے عہدے پر پہنچنے والے افسر طویل سروس رکھنے کے باوجود اپنے محکمے کے حالات سے ناواقف دکھائی دیتے ہیں ، پولیس سربراہ کے عہدے پر موجود افسر بھی ان مسائل کاادراک نہیں رکھتے جن کا پولیس فورس کی بڑی تعداد کوسامنا کرناپڑتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ پولیس میں اصلاحاتی تبدیلیوں کی صورتحال بہتر نہیں ہوسکی۔۔ پولیس سسٹم اوراس سے جڑے مسائل کے مطالعہ کے بعد یہ بھی مشاہدے میں آیاہے کہ انتظامی اورمالی خود مختاری کے فقدان کے باعث پویس فورس کو کئی طرح کی مشکلات کاسامنا ہے ، جس کے باعث محکمانہ تبادلوں اور تعیناتیوں پر بھی سیاسی اوربیرونی عناصر کے اثر ہونے کے امکانات ہر وقت موجود رہتے ہیں، سیاسی حکام کی طرف سے پولیس کواپنے مقاصد کے لئے استعمال کئے جانے کے باعث بھی عوام میں پولیس اپنا اعتما دبحال کرنے میں ناکام رہی ہے، پولیس کے اعلی افسروں کو جاپانی ماڈل کی طرز پر عوامی کمیٹیوں کے سامنے جواب دہ بنانا جدید پولیسنگ کاجدید تصور خیال کیا جاتاہے تاکہ کمیونٹی پولیسنگ فروغ پاسکے لیکن خود صوبائی حکومتوں اورپولیس کے اعلی حکام کی مخالفت کے باعث یہ ماڈل بھی نافذ نہ کیاجاسکا، پولیس ریفارمز کے نفاذ میں جہاں کئی طرح کی رکاوٹیں ہیں وہیں خود پولیس کے اندر سے بھی اس کی مزاحمت کے پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، پولیس آرڈر 2002 کے تحت پولیس کوپیشہ ور اورمستعد بنانے کی اس طرح کی کوشش کی گئی تھی کہ اس میں سیاسی مداخلت کاعنصر کم سے کم رہ جائے ، لیکن اس سیاسی مداخلت کے عنصر کو کم کرنے کیلئے اقدامات تاحال ایک خواب کی طرح دکھائی دیتے ہیں،،،

پولیس ریفارمز کے حوالے سے کام کرنیوالی غیرسرکاری تنظیم ’روزن‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق کمیونٹی پولیسنگ کاوجود اس وقت تک عمل میں نہیں آسکتا جب تک اس کی اوور ہالنگ کیلئے قابل عمل اورٹھوس اقدامات نہ اٹھائے جا سکیں‘ پولیس فورس میں شامل اہلکاروں میں تعلیمی کمی اور تربیت کے فقدان کے باعث بہت سارے مسائل کا سامنا ہے، رپورٹ میں کہاگیا ہے ملک بھر میں پولیس کی ٹریننگ کیلئے بائیس انسٹی ٹیوٹ ہیں جن میں پولیس ٹریننگ کالج اور پولیس ٹریننگ سکولز شامل ہیں ،انویسٹی گیشن پولیس کیلئے ایک کیس کی تفتیش کا بجٹ 452 روپے اورماہانہ 300لیٹر پٹرول مختص ہے، پولیس کا85فیصد بجٹ تنخواہوں اورپنشن میں چلاجاتاہے جبکہ ٹریننگ جیسے اہم شعبے کیلئے ایک فیصد بجٹ رکھاگیاہے، عالمی معیار کے مطابق پولیس میں خواتین کا تناسب دس فیصد ہوناچاہئے لیکن پاکستان میں پولیس میں نوکری کرنیوالی خواتین کا تناسب صر ف ڈیڑھ فیصد ہے،لاہور میں قائم واحد ویمن پولیس سٹیشن کیلئے کوئی الگ عمارت قائم کی گئی ہے نہ اسے ایف آئی آردرج کرنے کااختیار ہے ،

یہی وجہ ہے کہ انصاف کیلئے تھانوں کارخ کرنیوالی خواتین کو مرد سائل کی نسبت مشکل اورمختلف حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اوراس کی ایک بڑی وجہ تھانوں میں مرد اہلکاروں کی نفری بھی ہے،روزن نے اپنی رپورٹ میں پولیس کی بہتری کیلئے سفارشات بھی پیش کی ہیں جن میں بجٹ میں اضافہ ، نوکری کے اوقات کارمیں بہتری ،خواتین تھانوں کو ایف آئی آر درج کرنے کے اختیارات ،تھانوں میں کیمرے نصب کرنے سمیت دیگر سفارشات شامل ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی اور ترجمان پنجاب پولیس انعام غنی کاکہنا ہے کہ بہتری کی گنجائش ہر جگہ موجود ہوتی ہے، ہماری کوشش ہے کہ ماڈل تھانوں کو عوامی خدمت کا مرکز بنا دیا جائے، انہوں نے نئی بات میڈیا کے چینلز لاہور رنگ کے پروگرام تھانیدار میں گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کایہ ویژن ہے کہ تھانوں کو زیادہ سے زیادہ وسائل دئیے جائیں اور انہیں مضبوط بنایاجائے،ایک سوال کے جواب میں ان کاکہنا تھاکہ پولیس سیٹیشنز کے وسائل پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی بنایا جائیگا تاکہ یہ پیسے کسی کی جیب میں نہ جائیں اورنہ ہی غلط جگہ پر خرچ نہ ہوں ،۔ترجمان پنجاب پولیس انعام غنی نے مزید بتایاکہ اب تک جو ہم پولیسنگ کرتے تھے یہ کرائم اورکریمنیل سنٹرک پولیسنگ تھی ۔ پولیس کی سوچ کامرکز جرم اورملزم تھا اب اس میں تبدیلی لا رہے ہیں اور پیپل سنٹرک پولیس کی طرف جا رہے ہیں جس کا محورعوام ہوں اورپبلک سروس ڈلیوری ہو۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریفارمز کا صرف یہ مطلب نہیں لیاجاسکتا کہ پولیس کے زنگ آلود اسلحہ کو چمکا دیا جائے بلکہ اس سے مراد محکمہ پولیس کی مکمل اوورہالنگ ہے ، عوام میں پولیس کے اس تاثر کواجاگرکرنا کہ یہ محکمہ عوام کی خدمت کیلئے ہے ایک ٹھوس اور قابل عمل منصوبے کا نفاذ ضروری ہے ، جس میں سیاسی دبائوہو نہ کرپشن ، تشدد کی کہانیاں ہوں نہ پولیس زیادتی کے واقعات ،بلکہ پولیسنگ کاجدید تصور جوکمیونٹی پولیسنگ کی عملی شکل میں موجود ہو نافذ کئے بغیر ادارہ جاتی اصلاحات کا سفر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔۔ پولیسنگ کے بہت سارے ماڈلز دنیا میں موجود ہیں ، ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ کونسا پولیسنگ ماڈل ہمارے ملک کیلئے بہترین اورسود مند ہے، پولیس صوبائی ادارہ ہونے کے باوجود اس میں وفاقی افسروں کی اجارہ داری ہے یہ پہلو بھی بحث طلب ہے ، شہری اور دیہاتی پولیسنگ میں بھی فرق پر بھی غور کیاجاناہے انتہائی اہم ہے،لیکن ابھی یک یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہم اصلاحات کے نام پر ادھر ادھرہاتھ مارنے کے سوا کچھ نہیں کرسکے،،،

اس ساری صورتحال کا بغور جائزہ لیاجائے تو یہ عقدہ کھلتاہے کہ سٹیک ہولڈرز پولیس ریفارمز کے وجود اوراس کی اصل شکل میں نفاذمیں رکاوٹ دکھائی دیتے ہیں،، قیام پاکستان سے لے کرآج تک سیاستدانوں کی سیاست کا دارومدار اور سیاسی چودھراہٹ کا پاکستانی رجحان پولیس کے سیاسی ہونے کے تاثر کو تقویت دینے میں پیش پیش رہا، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے سیاستدان ہر گز نہیں چاہیں گے کہ کوئی ایسا نظام پنپ سکے جو پولیس کوسیاسی دبائو سے آزاد کر دے، شاید یہی وجہ ہے کہ سندھ جیسا صوبہ 1861 کے پولیس ایکٹ کی طرف لوٹ چکاہے جبکہ بلوچستان میں پولیس کا کردارانتہائی محدود ہے، پنجاب میں پولیس ریفارمز سیاسی کمیٹیوں میں دب کر رہ گئی ہیں ، پولیس کی کمیونٹی پولیسنگ کی کوششیں اس وقت بے سود ہوجاتی ہیں جب ان پر اعلی افسروں کے اچانک تبادلوں کا پہاڑ آن گرتا ہے۔۔

، دوسری طرف ایک ایسا غیرمرئی تنازع ڈی ایم جی گروپ اورمحکمہ پولیس کے درمیان بھی جاری ہے جس کے باعث پولیس ریفارمز کا یہ اونٹ تاحال کسی کروٹ نہیں بیٹھ سکا، ڈی ایم جی گروپ پولیس کواپنے تابع رکھنے کے ہاتھ پائوں مار رہی ہے، ڈی ایم جی گروپ کی کوشش ہے کہ بائیسویں گریڈ کاآئی جی چیف سیکرٹری کے ماتحت ہو، دوسری طرف محکم پولیس اپنی خود مختاری اورآزادی کو قائم رکھنے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے، محکمہ پولیس اپنے اربوں روپے کے فنڈز اور اختیارات خود استعمال کرنا چاہتی ہے ، دونوں اطراف کی کوششوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اس کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہے،، لیکن ایک بات طے ہے کہ پولیس اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر کا نقصان تھانوں میں انصاف کے حصول کیلئے جانیوالی عوام کو ہی پہنچ رہا ہے، تھانوں میں فرنٹ ڈیسک کے قیام کے باوجود انصاف کیلئے دھکے کھانیوالوں کو کرپٹ عناصر کی خواہشات کیلئے کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اس کی وجہ محکمہ پولیس کانظام کچھ اس سمت میں نمو پاچکا ہے کہ پولیس عوام کی خدمات کے بجائے سیاسی منشا اور کرپشن جیسے عفریت کی تابع دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں کرپشن سے پاک پولیس اورعوام کی خدمت کیلئے کمیونٹی پولیسنگ کے دعوے محض دعوے ہی دکھائی دیتے ہیں۔

٭٭٭

پولیس کب درست ہوگی ؟


ای پیپر