بھارتیو سن لو ! پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے !
17 مارچ 2020 (17:10) 2020-03-17

الطاف حسن قریشی

ایک قومی سیمینار میں ایک فاضل مقرر انجانے میں یہ کہہ گئے کہ پاکستان ایک چھوٹا ملک ہے۔ اس پر حاضرین کی طرف سے احتجاج ہوا اور وطن عزیز کی نمایاں خصوصیات کا ذکر چل نکلا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان دُنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جو قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ دوسرے صاحب فرما رہے تھے کہ ہماری زمینیں زرّخیز ہیں اور ہمارا آبپاشی کا نظام دُنیا میں سب سے بہتر ہے۔ ہمارے عوام نہایت جفاکش، حددرجہ ذہین اور زبردست قوتِ ارادی کے مالک ہیں۔ ایک طرف سے آواز آئی کہ ہماری فوج دُنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے اور ہمارے سائنس دانوں اور ٹیکنالوجسٹ نے اپنی قابلیت اور اپنے وسائل سے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا ہے۔ ہمارا جغرافیائی محل وقوع اس قدر شاندار ہے کہ ہم وسطی ایشیا اور شرقِ اوسط کے سنگم پر واقع ہیں اور ہماری گوادر بندرگاہ دُنیا کی سب سے گہری بندرگاہ ہے جو علاقائی اور عالمی تجارت کا بہت بڑا مرکز بننے والی ہے۔ یہ باتیں ہورہی تھیں کہ ایک جانب سے آواز آئی کہ اس قدر امتیازی شان کے باوجود ہم پسماندہ کیوں ہیں اور ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک ترقی اور خوشحالی کی نئی نئی منزلیں طے کرتے ہوئے بڑی بڑی معیشتوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہماری آبادی کا ایک قابل لحاظ حصہ خطِ غربت کے نیچے زندگی بسر کررہا ہے اور ہمارے کروڑوں بچے تعلیمی اداروں سے باہر ہیں۔ دُکھ اس بات کا ہے کہ ہم اپنے کروڑوں ہم وطنوں کو صاف پانی بھی مہیا نہیں کرپائے اور ہمارے بیشتر ہسپتال اور ہمارے تعلیمی ادارے انتظامیہ کی بے حسی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ پھر ہماری قومی زندگی کا یہ افسوسناک پہلو بھی زیربحث آیا کہ ہر دس پندرہ سال بعد فوج اقتدار سنبھال کر سیاسی جماعتوں کی نشوونما روک دیتی اور سول ادارے کمزور کر دیتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت پنپ سکتی ہے نہ سول ادارے اپنی ذمے داریاں اُٹھانے کے قابل رہتے ہیں۔ سیاسی اور معاشی طور پر بالادست طبقوں نے غریب آدمی کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے جو قومی اور ملکی معاملات سے لاتعلق ہوچکا ہے۔ قیادت کے منصب پر جو خاندان یا گروہ جلوہ افروز ہیں ان کا اپنے عوام سے تعلق انتہائی کمزور ہے، یہی بالادست طبقہ اپنے اللوں تللوں کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض لیتا ہے جو پاکستان کی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

سیمینار میں جن خیالات کا اظہار ہوا، وہ بڑی حد تک مختلف حقیقتوں کی غمازی اور ہماری اجتماعی زندگی کے روشن اور تاریک پہلو اُجاگر کرتے ہیں۔ بلاشبہ وقت کے ساتھ ساتھ بعض شعبوں میں حالات بہتر ہوئے ہیں مگر ہمیں درپیش چیلنجز انتہائی گمبھیر اور خطرناک ہیں۔ دراصل ہمارا وطن جن اندوہناک حالات میں قائم ہوا، وہ اس کی زندگی پر اثرانداز ہوتے چلے آرہے ہیں۔ ہندوستان کے وہ علاقے جو مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل تھے، انہیں علیحدہ کرنے سے پاکستان قائم ہوا تھا جو ہندو اکثریت کے لیے کسی طور بھی قابلِ قبول نہ تھا، چنانچہ برہمن قیادت نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ ہندوستان تقسیم نہ ہونے پائے اور انگریزوں کے چلے جانے کے بعد اس کی سلطنت ان تمام خطوں پر قائم ہو جائے جن پر انگریزوں نے حکومت کی تھی۔ پاکستان کی تخلیق سے اس کے تمام عزائم دھرے کے دھرے رہ گئے مگر وہ پاکستان کو دوبارہ اپنے اندر ضم کر کے اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھتا رہا۔ بھارت جو رقبے اور وسائل میں ہم سے دس گنا بڑا ہے، وہ ہمارے ملک میں تخریب کی سُرنگیں کھودنے اور عدم استحکام پیدا کرنے میں لگارہا اور آخرکار مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو اپنے اعترافی بیان میں بھارت کے تمام مذموم عزائم اور تخریبی سرگرمیوں کا ذکر پوری وضاحت سے کرچکا ہے۔ تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کو ہر طرح کی کمک فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خونریزی اور تباہی کا بازار گرم رکھنا چاہتی ہے۔ دراصل ہمارے پڑوسی کی پاکستان دُشمنی ہماری قومی سلامتی کے لیے بہت بڑا خلیج بنی ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے اس نے افغانستان اور ایران میں بھی اپنا اثرونفوذ پیدا کرلیا ہے اور مودی خلیجی ممالک میں بھی طرح طرح کے حربے آزما رہا ہے لہٰذا ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کواس بڑھتے ہوئے فتنے پر قابو پانے کے لیے ایک دانش مندانہ اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔

اس حکمت عملی کا فطری طور پر اوّلین مقصد پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانا اور شرقِ اوسط کو تحفظ کی ضمانت فراہم کرنا چاہیے۔ اس میدان میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت پوری طرح مستعد اور تخلیقی ذہانت سے کام لے رہی ہے۔ خوش قسمتی سے چین کی مدد سے پاکستان لڑاکا طیاروں، ٹینکوں اور چھوٹے ایٹم بموں میں خودکفیل ہوچکا ہے۔ چھوٹے ایٹم بم بھارت کے اعصاب پر سوار ہیں جن کی موجودگی میں وہ پاکستان کے خلاف جارحیت کی ہمت نہیں کرسکتا۔ مقبوضہ کشمیر میں اُٹھنے والی نوجوانوں کی غیرمسلح تحریک آزادی بھی اس کے لیے سوہانِ روح بنی ہوئی ہے۔ آسام کے اندر بھی علیحدگی کی شورش آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ مرکز میں مسٹر مودی کی حکومت قائم ہے جو آرایس ایس کے فلسفے پر ایمان لائے ہوئے ہے اور بھارت میں تمام اقلیتوں کا قلع قمع کرنا چاہتی ہے۔ مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دلت کمیونٹی پر لرزہ خیز مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ نسل کشی کی یہ پالیسی بھارت کے اندر تقسیم درتقسیم کے فطری عمل کو تقویت پہنچا رہی ہے۔ بھارت کی جنونی اور متعصب قیادت کو یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا۔ پاکستان چونکہ دفاعی طور پر بہت مستحکم ہو گیا ہے، اس لیے اس پر شب خون مارنے کے بجائے وہاں کی سیاسی اور عسکری قیادت پاکستان کو سبق سکھانے کے بیانات داغتی رہتی ہے اور پاکستان دُشمنی میں اندھے پیروکاروں کو مطمئن رکھنے کے لیے کنٹرول لائن پر ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کے ڈرامے رچا رہی ہے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان پر فوجی یلغار کرنے سے پہلے وزیراعظم اندرا گاندھی نے پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے یورپ اور امریکہ کا دورہ کیا تھا اور پاکستان کے خلاف گھڑے ہوئے مظالم پر ٹسوے بہائے تھے۔ نریندر مودی بھی اسی روش پر کاربند ہے۔ وہ پاکستان کو تنہا کرنے میں بُری طرح ناکام ہوچکا ہے بلکہ وہ خود تنہا ہو بھی گیا۔

ہماری حکمت عملی میں مزید دو نکات ضرور شامل ہونے چاہئیں۔ پہلا یہ کہ بھارت کی سوا ارب آبادی میں سلیم الطبق لوگ خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ ان سے رابطے بڑھائے جائیں۔ مودی کی مقبوضہ کشمیر پر لگائی دفعہ 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بھارتی دانشور، اہل قلم اور اہل سیاست آواز اُٹھا رہے ہیں اور وہ بھی پاکستان کے ساتھ اچھی ہمسائیگی کا رویہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ یہ آواز جس قدر توانا اور ہمہ گیر ہو گی اسی قدر ہندو جنونیوں کا تحکم کم ہوتا جائے گا اور اقلیتوں کے حوصلے بلند ہوں گے جو بھارت کی سالمیت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ہماری حکمت عملی کا ایک اور اہم نکتہ یہ ہونا چاہیے کہ بھارت میں اقلیتوں اور کشمیریوں پر تشدد اور ان کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالی کے ہولناک واقعات پورے ثبوت کے ساتھ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں میں پیش کیے جاتے رہنے چاہئیں۔ حقائق بار بار سامنے لانے سے عالمی ضمیر میں یقینا ارتعاش پیدا ہو گا اور دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا بھارتی سحر ٹوٹ جائے گا۔ یہ کام حد درجہ محنت طلب اور صبر آزما ہے اور غیرمعمولی پیشہ ورانہ مہارت اور بصیرت کا تقاضا کرتیا ہے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ اور سیاست دانوں کو جذباتی بیانات دینے کے بجائے دلیل سے اور ثبوت کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خطے کے عوام اسی وقت خوشحال اور ترقی یافتہ ہوں گے جب ہمسائے امن سے رہیں گے اور ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ بھارت کی پاکستان دُشمنی اور اسلام بیزاری راہ میں حائل ہے مگر آہستہ آہستہ وہ نسل ختم ہورہی ہے جس نے تعصبات میں جنم لیا تھا جبکہ نئی نسل نئے عہد کے تقاضے خوب سمجھتی ہے۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے مینارپاکستان آکر مہمانوں کی کتاب میں تحریر کیا تھا کہ ہم پاکستان کے آزاد وجود کو تسلیم کرتے ہیں جو اپنی طاقت سے قائم ہے۔ پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے والے بھارت میں دوچار نہیں بلکہ لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں ہیں کیونکہ وہ پاکستان کی اٹل حقیقت کے قائل ہوچکے ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر