ملک شدید سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہےٗحفیظ اللہ خان نیازی
17 مارچ 2020 (17:06) 2020-03-17

اسد شہزاد

دُنیا کھنگالی، ملک ملک چھانے، کسی ملک میں کہیں بھی قوم کو سیاست، عقیدے، اقلیت، اکثریت، عدالتی اور عسکری اداروں پر منقسم نہیں پایا۔ جن ملکوں میں (پاکستان بدرجہ اتم موجود) ملتی جلتی کیفیت موجود ریاست متحد نظر نہ آئی، پاش پاش رہی۔ اس میں باک نہیں کہ سیاستدان ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے اداروں کو ملوث رکھنے میں تدبیر وترکیب آزمانے کا کوئی موقع نہیں گنواتے، مگر یہ کب ممکن رہتا ہے، تب ہی جب مضبوط ادارے آئین سے باہر تجاوز میں اپنا منصب ومقام تلاش کرتے ہیں۔

بدقسمتی یہ کہ آج پاکستانی قوم اداروں پر مکمل طور پر تقسیم ہو چکی ہے اور جب مفادات کے اسیر ہو جائیں تو حکومت سے ٹکرائو منطقی انجام ہوتا ہے۔ قومی یکسوئی، اتحاد، یقین، ایمان تتربتر ہوتا یوں نظر آرہا ہے کہ حکومت اپنے پائوں پر نہیں کھڑی، سیاست دان ایک دوسرے کو کھنگال رہے ہیں۔ 73سال گذرگئے، اب بھی تبدیلی کے نام پر تجربات سے قوم اور ملک کو گزارا جارہا ہے۔ اداروں کی نفسیات اور اعتماد ہلچل اور ہیجان ہر دم نئے گل کھلانے کو خلاف معمول حالات کو دوسری طرف لے جارہے ہیں۔ جو ہونا چاہیے وہ نہیں ہورہا اور جو نہیں ہونا چاہیے وہ ہورہا ہے۔ ایک یوٹرن کے بعد دوسرا یوٹرن، اب تو قوم بھی یوٹرن کی عادی ہو چکی ہے۔ چوروں کے جنگل میں کرپشن کا بازار سجا ہوا ہے۔ اسمبلیوں کے اندر زوردار تقاریر موجود مسائل اور بحران ختم کرنے کا حل نہیں، مجھے کوئی میرے ایک سوال کا جواب دے دے کہ وطن عزیز کے معروضی حالات پر رحم کون کھائے گا، اس حکومت کا ایک ہی عنوان ہے ’’کرپشن کا خاتمہ‘‘ جو کہ اب بڑھتے بڑھتے حکومتی ایوانوں میں بھی چلی گئی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہر ایک کے لیے ایک ہی قول اور ایک ہی پیمانہ ہو، جوش وخروش وفور جذبات بہرحال بدنیتی کی نشاندہی کرتے ہیں، عمل کہیں نظر نہیں آرہا۔ گزرے 73سالوں کی تاریخ ہی بتا رہی ہے کہ اچھی نیت پر مبنی اقدامات نے ہی پاک سرزمین کو برزخ بنائے رکھا ہے۔ نظریہ ضرورت بار بار متعارف کرایا جاتا رہا، خطرات ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔ مہنگائی نے غریب کو مرنے پر مجبور کردیا ہے۔ جب ان کے اپنے ہی آٹا اور چینی بحران پیدا کریں گے تو پھر باہر کس کو گلہ تو کس سے شکوہ ہو۔

نوازشریف کی بیماری پر سیاست نہ کی جائے، انسانیت کو تو معاف کردیں، بلاول کو وراثت میں ماں اور نانا کی جو سیاست ملی ہے وہ سنبھال پایا تو اس کے اندر لیڈر بننے کی خوبیاں موجود ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بہت سے کرائسس خود پیدا کیے جو اس کے گلے پڑ گئے ہیں۔

درج بالا باتیں پاکستان کے نامور کالم نگار، تبصرہ نگار، تجزیہ نگار اور سیاسی رہنما حفیظ اللہ خان نیازی کی ہیں۔ موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر ہم نے گزشتہ دنوں ان کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی جو ذیل کے کالموں میں دی جارہی ہے۔

دوسال گزرنے کے بعد بھی حکومت تبدیلی کے نام پر اپنے وعدوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکی۔ آپ کے نزدیک ایسا کیوں ہوا کہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے اور ایک کے بعد دوسرے بحران نے پاکستان کو بہت سے خطرات سے لاحق کردیا؟

تحریک انصاف نے عنان حکومت سنبھالتے ہی خود کو کرائسس میں ڈھال لیا، بہت سے معاملات میں یہ بے قصور ہیں کہ ان کو یہ علم نہیں تھا کہ اس ملک میں مختلف شعبہ جات میں کہاں کہاں خلاء اور کرائسس ہیں اور دو تین بڑے اہم مسائل سے دوچار ملک کو کس طرح سنبھالنا ہو گا۔ پہلا مسئلہ یہ کہ ملک شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے اور یہاں ہماری بدقسمتی یہ بھی رہی کہ اس ملک میں ہر دس سال بعد یا جب کوئی جمہوری حکومت ہوتی ہے تو ایک سیاسی عدم استحکام کی فضا پیدا کردی جاتی ہے۔ اس کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ یا تو حکومت ختم کردی جاتی ہے یا اپنی کوتاہیوں سے وہ خود ختم ہو جاتی ہے، جیسے شوکت عزیز، ظفراللہ خان جمالی اور یوسف رضا گیلانی اور ہمارے ہاں سیاسی کرائسس پیدا کرنے والے جب یہ طے کر لیتے ہیں کہ سیاستدانوں کو کیسے سرنگوں رکھنا ہے اور ان کی کمزوریوں سے کب فائدہ اُٹھانا ہے تو وہ گاہے بگاہے وہ فائدہ اُٹھاتے رہتے ہیں، دوسرا آج تک جتنے بھی سیاسی یا معاشی ماحول پیدا کیے گئے یا جتنی بھی حکومتیں گئیں، وجہ ایک ہی سامنے رہی وہ ہے اقتصادی بحران۔ اس کی تازہ مثال تحریک انصاف کی حکومت ہے جو شدید معاشی بحران سے گزر رہی ہے، اس حکومت کی بنیادیں ہی کمزور ریت پر رکھی گئیں۔ اس سیاسی حکومت کی عمارت میں سب سے بڑی دراڑ جو پڑی وہ معاشی بحران پر قابو نہ پانا ہے۔ تیسرا یہ کہوں گا کہ ایک بحران کے بعد ایک اور بحران کی موجودگی، پھر اس حکومت کا گڈگورننس پر قابو نہ پانا بھی اس کے گلے پڑا ہوا ہے،یہ اس میں بُری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ دیکھیں یہ حکمران طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہتر ایڈمنسٹریٹر مقرر کرے جو وہ نہیں کرپائی اور چوتھی بات یہ کہ اس حکومت میں نالائق ترین لوگ سامنے آئے جن کو اپنی سیاسی اور حکومتی ترجیحات کا علم ہی نہیں اور ان کو بھاری ذمہ داریاں سونپ دی گئیں لہٰذا وہ خود ہی سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو گئے اور وہ اس حکومت کی ناکامیوں میں برابر کے شریک اور ذمہ دار ہیں، خاص کر اقتصادی بحران میں ان کی نالائقی نے بہت بڑا کردار ادا کیا، مگر سب سے بڑا کلیپس گڈگورننس کا ہوا، جو یہ لوگ ابھی تک سنبھال نہیں پائے اور ہر دوسرے تیسرے ماہ کبھی پنجاب تو کبھی مرکز سے یہ باتیں آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ تبدیلی ہونے جارہی ہے، پھر وزراء بھی بدلے گئے، حکومت میں آنے کے بعد کئی ماہ تو ان کو یہ پتہ نہیں چل سکا کہ گھوڑے کی لگام کہاں ہے اور پائوں کہاں رکھ کر اس کو دوڑانا ہے اور گھوڑے کو ڈائریکشن دینے والے خود ناواقف اور نادان تھے۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ 1971ء میں ہم انہی مسائل سے دوچار تھے، ایک طرف اقتصادی تو دوسری طرف سیاسی اور تیسری طرف مالی استحکام اور گڈگورننس کے نہ ہونے سے ایک بڑا خمیازہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں دیکھنا پڑا گو پاکستان کے ٹوٹتے وقت وہ فورسز اور سیاسی جماعتیں بہت مستحکم تھیں اور ان کا بہت بڑا نام اور مقام تھا۔

دوسری طرف مذہبی جماعتیں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان یہ سب بکھر گئیں اور ان کی موجودگی میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور کے پی کے کی دوسری سیاسی جماعتیں سامنے آگئیں۔ صدافسوس کہ مشرقی پاکستان کے ٹوٹنے کے بعد بھی سیاسی دبائو میں کمی نہیں آئی اور ایک دوسرے کو توڑنے کی سازشیں ہوتی رہیں اور یوں ایک بحران کے بعد کئی بحران ہماری تاریخ کا حصہ بنتے گئے۔ جب نوازشریف کی پہلی حکومت آئی تو پی پی پی نے اس کو توڑنے کے لیے بے شمار حملے کیے اور پھر ایک طویل عرصہ تک پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان شدید سیاسی محاذوں پر اختلافات اس حد تک چلے گئے کہ مارشل لاء لگے اور سیاسی عدم استحکام کی بنیاد پر جمہوری حکومتوں کو اقتصادی بحران کی شکل بنا کر گھر روانہ کردیا جاتا رہا بلکہ بار بار ان حکومتوں کا ملیامیٹ کیا گیا۔ یہاں یہ بھی دیکھا گیا کہ بعض کو صفحہ ہستی سے مٹا کر دوسری سیاسی جماعتوں کو تسلیم کرایا گیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج تک جو کچھ بھی ہوا، اس میں سیاستدانوں کا اپنا کردار زیادہ ہے۔ یہاں ایک اور اہم بات جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی کہ ایک سیاسی جماعت تحریک انصاف نے جب اقتدار سنبھالا تو اس نے آتے ہی خلفشار پیدا کردیئے، یہی نہیں اس کے اپنے اندر بھی ایک بڑا سیاسی خلفشار پیدا ہوگیا اور یہ خلفشار کوئی معمولی نہیں جو سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو چکا ہے اور اس سے پورے ملک کے سیاسی وجود کو بہت سے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ آج ہمارے سامنے تین بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی ہیں۔ ان میں عملاً تینوں جماعتیں زمین بوس ہوا چاہتی ہیں یا ہوچکی ہیں اور میں یہاں ایک اور بات کروں گا کہ جس طرح نواز شریف کو بٹایا گیا یہ پاکستان کی سیاست کا مایوس ترین لمحہ فکریہ تھا، جس سے ایک بڑا سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گیا، یہ کیوں ہوا میں اس کی تفصیل میں فی الحال نہیں جانا چاہتا اور پاکستان کی 73سالہ سیاسی تاریخ کو کس طرح جوڑ توڑ میں رکھا گیا کہ کسی کو آرام کے ساتھ حکومت نہیں کرنے دی گئی۔ تحریک انصاف کی بات کروں تو یہ بھی اندرونی اور بیرونی طور پر سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو چکی ہے اور جس سمت کی طرف اس کو جانا تھا وہ سمت ان کو دکھائی ہی نہیں دی اور آج ایک عجیب وغریب صورتحال کا حکومت، عوام اور سیاست کو سامنا ہے۔ اس سے قبل ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا اور آج ملک ایک بڑی تباہی کا سامنا کرتے ہوئے بندگلی کی طرف جارہا ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تبدیلی کے نام پر ایک خودکش حملہ کیا گیا عوام پر؟

پاکستانی عوام پر یہ خودکش حملہ نہیں کہہ سکتے البتہ قوم کے ساتھ فریب کاری، دھوکہ دہی اور بڑے پیمانے پر جھوٹ بولا گیا، جس نے پورے سیاسی سسٹم کو ہلا کر رکھ دیا۔ آپ نے ہر وہ جھوٹ بولا اور ڈنگ ٹپائو والے سلسلے شروع کر دیئے۔ ایک یوٹرن کے اوپر دوسرا یوٹرن، عوام کے ساتھ ایک زیادتی کے بعد دوسری زیادتی یعنی کوئی بھی منصوبہ، کوئی بھی وعدہ پورا نہ ہوسکا۔ انہوں نے انتخابات کے دوران کہا کہ وہ پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دیں گے، اس ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دیں گے، یہ نیا خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان ہو گا۔ ہم ملک میں مہنگائی کا خاتمہ کردیں گے اور پھر کیا ہوا، غربت کو اور غربت میں ڈھال دیا گیا، لاکھوں لوگوں کو بیروزگار کردیا، مہنگائی سے لوگ مرنے پر مجبور ہو گئے، نہ جی سکیں نہ مرسکیںوالی حالت ہو گئی عوام کی۔ پھر اس ملک میں احتساب کے نام سے جو ہورہا ہے وہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔ میں اس پر کیا جواب دوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم قرضہ نہیں لیں گے اور لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں گے مگر انہوں نے بے تحاشا قرضہ لیا اور ایک پیسہ بھی واپس نہ لائے جس کے یہ دعویدار تھے۔ یہ تکرار اُلٹ ہو گئی اور یہ وہ کام کررہے ہیں جو نہیں کرنا تھے اور جو کرنا تھے وہ نہیں کررہے۔ یہاں ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہوا کہ آپ نے پہلے دن سے کرپشن پر اس قدر زور لگایا اور کہا کہ ہم ملک کو لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارے صابر عوام وہ نہیں دیکھتے کہ آنے والا کیا کرے گا، وہ اُمید لگا لیتے ہیں۔ 2018ء کے انتخابات ہوئے تو لوگوں کو اُمیدیں، آسیں، دلاسے اور یقین تھا کہ اب ملک تبدیل ہو جائے گا اور دودھ کی نہریں بہہ جائیں گی، نوکریاں اور گھر ملیں گے، کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا، جبکہ یہ ان کی خوش نصیبی ہے 2018ء میں جانے والی نواز حکومت نے اس ملک کو بجلی دی ،پہلے 24گھنٹے بجلی نہیںملتی تھی، اب ان کو 24گھنٹے بجلی ملتی ہے، گیس نہیں ملتی تھی وہ ملتی ہے، کارخانے اور کاروبار بند تھے وہ سب چل پڑے۔ یہ نواز حکومت ان کو دے گئی۔ وہ حکومت بہت سے معاملات میں بہتر تھی، خاص کر اس وقت معاشی بحران نہیں تھا اور جب یہ لوگ اقتدار میں آئے تو لوگوں نے ڈیمانڈ کرنا شروع کردی، بجائے وہ کام کرتے وہ نوازشریف کی بیماری کو ایک بڑا ایشو لے کر اس کی مخالفت میں چل نکلے، یہاں ایک اور کرائسس کا سامنا ہونے والا ہے، وہ یہ کہ جو لوگ ان کو لے کر آئے اور جن کو بخار اور خمار تھا کہ ان کے آنے سے ملک بہت آگے چلا جائے گا وہ بخار اور خمار ان کی حرکتوں سے ٹوٹ چکا ہے۔

اپوزیشن کا موقف ہے کہ یہ سلیکٹڈ حکومت ہے؟

یہ سوفیصد سلیکٹڈ حکومت ہے۔ اس بات میں ایک فیصد بھی انکار ممکن نہیں۔ اس کو بنانے کے لیے کیا کیا دبائو نہیں ڈالے گئے۔ انتخابات میں جو ہوا وہ سب نے دیکھا۔ جیتنے والے ہرا دیئے گئے اور ہارنے والے جیت گئے۔ پاکستان میں تو میں اور آپ چپ رہیں گے۔ میں بات کروں تو آپ چھاپ نہ سکیں گے۔ بات کروں تو وہ جان لیوا ہو سکتی ہے لیکن کیا عوام آپ کو معاف کردیں گے۔ دیکھیں جب تک تمہارے پاس طاقت ہے تم چلتے رہو گے، جب تمہارا وقت ختم ہو گا تو پھر کیا بنے گا، سدا تونہیں رہنا۔ ایک اور بات کہ سب اداروں کو غیرمستحکم کردیا گیا ہے اور اگر وہ مضبوط نہ ہوئے تو پھر ملک میں انارکی پھیلنے کا خطرہ ہے جس کی بنیاد رکھی جاچکی ہے۔ ہماری تاریخ آگے ہی بڑے بڑے سانحات سے بھری پڑی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اب یہ قوم مزید کسی بڑے سانحہ کی متحمل ہوسکے گی۔ ہم تو ابھی تک ان مجرموں کو تلاش نہیں کرسکے جن کی وجہ سے پاکستان اپنی خطرناک حد تک پہنچ گیا اور آنے والے جب آپ کی ایک ایک چیز عیاں کریں گے، آپ کے کیے وعدے جو پورے نہ ہوئے، اس وقت کیا ہو گا؟، جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت۔ آج جو بین الاقوامی صورتحال ہے اس میں سب سے اہم بات کہ آپ نیوکلیئرملک ہیں اور اس کی حفاظت کرنا انتہائی ضروری امر ہے، کہ بہت سی طاقتیں آپ کی اس طاقت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ اسی کے سبب پاکستان کے اندر انارکی، عدم استحکام اور افراتفری اور انتشار پیدا کرنے کے حربے بے دریغ استعمال کیے جارہے ہیں اور کیئے جائیں گے اور ہمارا ایٹمی پروگرام اس وقت تحفظ میں آئے گا جب پاکستان میں مکمل سیاسی استحکام جنم لے گا اور ہم مضبوط قدموں پر کھڑے دکھائی دیں گے۔ دوسری طرف ہمیں امن وامان کی صورتحال پر مکمل گرفت کی ضرور ہے، آپ کا ملک سنگین معاشی بحران سے نکلے گا تو کچھ بہتری آئے گی۔

کیا آپ مڈٹرم انتخابات یا اِن ہائوس تبدیلی کی طرف دیکھ رہے ہیں؟

میں تو صدق دل سے چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ عمران خان کی عمر اس قدر طویل کردے کہ جو لوگ عمران خان کو لانے والے ہیں ان کو ہر معاملے میں ایک دفعہ تسلی ہو جائے، وہ تسلی چشم تصور میں نہیں عملاً ہونی چاہیے۔ اس کے بعد پاکستان میں کیا ہونے جارہاہے، اس پر ابھی بات نہیں کروں گا، مجھے تو ابھی یہ نہیں پتہ کہ کیا پاکستان مزید ایک دو سال تک عمران خان کا اقتدار برداشت کرسکے گا، مگر عملاً جو لوگ سیاسی تخمینے لگاتے ہیں، یا اگر میں اپنا سیاسی ذائچہ بنائوں، اگر معاشی بحران کا خاتمہ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مل بیٹھنے کا چارٹر تیار نہ ہوا، اور سیاستدان ایک دوسرے کے ساتھ سرجوڑ کر نہ بیٹھے، جس کی آج پاکستان کو شدید ضرورت ہے اور ایک قومی ایجنڈے کو سامنے نہ لائے ،تو آنے والے مہینے بہت تکلیف میں گزریں گے۔ اب حالات اس طرف جارہے ہیں کہ یہ نہ آپ کو مرنے دیں گے نہ زندہ رہنے دیں گے۔

کیا قوم کو وینٹی لیٹر پر رکھا جائے گا اور کب تک؟

وہ تو وینٹی لیٹر پر آچکے ہیں، اب مجھے بتایئے کہ نیو ورلڈ آرڈر کیا تھا، اور اس میں اکنامک صورتحال کو واضح دیکھا گیا تھا، کہ اس خطے میں کیا ہونے جارہا ہے، اور کیا ہو گا، یہ ان کا ایجنڈا تھا، جو پاکستان کو پنپتا نہیں دیکھنا چاہتے ،اور وہ پاکستان میں ہمیشہ معاشی اور سیاسی عدم استحکام دیکھنا چاہتے ہیں، اور اس میں یہ بات واضح تھی کہ دُنیا کو آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے شکنجے میں کیسے پھنسانا ہے، اور پھر 9/11 کے واقعہ کے بعد انہوں نے کئی شرائط لگانے کے ساتھ اس پر عمل درآمد شروع کردیا۔ اب کیا ہوا کہ انہوں نے آپ کے بڑے بینکوں پر پلنٹی لگانا شروع کردی۔ ہم ایک اور بڑے مالی بحران میں جانے والے ہیں جو عمران حکومت کے لیے جان لیوا ثابت ہوگا۔

کیا ن لیگ کا شیرازہ بکھر چکا ہے، آپ مریم نواز اور نوازشریف کی بیماری کو کہاں دیکھ رہے ہیں؟

دیکھیں جہاں حکومت اپنی نالائقیوں کے بوجھ تلے دبی آرہی ہے، وہاں ن لیگ بھی اپنی پالیسیوں کی وجہ سے سیاسی اور عدالتی عتاب کا شکار ہے۔ یہ بات طے ہے کہ ن لیگ کے اندر ایک ہی لیڈر نوازشریف ہے۔ جہاں تک شہبازشریف کا تعلق ہے انسانی جبلت کے تحت وہ بھائی کے ساتھ کھڑے ہیں، دوسری طرف وہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ان کو چار دفعہ پاکستان کا وزیراعظم بننے کی آفر ہوچکی ہے، اب انسانی جبلت کے بھی کچھ تقاضے ہیں، وہ شاید یہ سوچ رکھتے ہوں گے کہ ایک چانس بن رہا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے ان کے اندر بہت سی صلاحیتیں دی ہیں، مگر جو اہم صلاحیت ہے، جو ہر سیاستدان کے اندر لازمی جُزو ہے، اور وہ ہے جرأت اور دلیری، وہ ان کے قریب سے بھی کبھی نہیں گزری۔ تیسری وہ یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بنانے پر ہی آپ اقتدار میں آسکتے ہیں، میرے نزدیک سیاستدان کی عزت اقتدار میں آنا نہیں ہوتا۔ ان کے بھائی نوازشریف کی مثال ان کے سامنے ہے کہ انہوں نے اقتدار کو جوتے کی نوک پر رکھا اور وہ جب بھی اقتدار سے رُخصت ہوئے، پہلے سے زیادہ دوگنی عزت کما کر واپس آئے۔ وہ عزت 1993ء، 1999ء اور 2013ء میں ملی، حالانکہ 1999ء میں نوازشریف کے جانے کا جو طریقہ تھا وہ بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آیا تھا۔ 2013ء سے قبل اور ان کی 2018ء کے انتخابات تک وہ پاکستان کی مقبول ترین سیاست کررہے تھے۔ اب جہاں تک ان کی بیماری کا تعلق ہے تو میرا نہیں خیال کہ اس کے بارے میں دورائے ہو سکتی ہے، کہ وہ ایک انتہائی سنجیدہ بیماری میں مبتلا ہیں ،اور یہ بھی ہے کہ وہ موت اور زندگی کی کشمکش سے گزر رہے ہیں، اور میرے خیال میں ان کا زندہ بچ جانا ایک معجزہ ہی ہو گا، اور کراچی سے آئے ڈاکٹرز کے علاوہ شوکت خانم کی میڈیکل ٹیم نے ان کو فوری علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی تجویز دی، گو اس دوران ان کے خاندان کا ان پر بہت دبائو بڑھ گیا۔ مریم نواز کو جیل سے ہسپتال لایا گیا، ہر حربہ استعمال کرانے کے بعد نوازشریف باہر جانے کے لیے رضامند ہوئے۔ آج ان کے علاج کو حکومت نے شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کردیا اور بیماری پر پھر نئی سیاست کا آغاز کردیا گیا، جو نہیں ہونا چاہیے تھا، اور انہوں نے تو اخلاقی اقدار کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ یہاں دیکھتا ہوں تو تحریک انصاف کے اندر بہت سی باتوں کا فقدان ہے۔ وہ ہر وقت ایک عورت کی طرح اس شک میں مبتلا ہیں کہ نواز اور شہباز ان کے خلاف سازش کررہے ہیں، دوسرا انہوں نے نیب کے چیئرمین کو تمام اختیارات دے کر ان کا بہیمانہ استعمال کرایا۔ دوسری بات یہ کہوں گا کہ نوازشریف کے جانے سے تھوڑا بہت نقصان ن لیگ کو ضرور ہوا ہے اور وہ قیادت سے محرومی کا احساس اپنے اندر لے جا چکی ہے۔ دوسری طرف یہ ہورہا ہے کہ شہبازشریف یہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے حالات اور سیاست کو آگے لے جایا جائے، جبکہ نوازشریف جیل کے اندر یا باہر ہوں، وہ ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے حامی ہیں۔ اتنے مقبول لیڈر کے ساتھ عمران خان کی حکومت کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ ہمارے سیاستدانوں کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون کتنے پانی میں ہے اور وہ ان کو بڑے آرام کے ساتھ ہینڈل کرسکتے ہیں اور ان کے لیے ہر کام انتہائی آسان ہوتا ہے۔ اب سیاستدانوں کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ ہے عوام الناس۔ اس کی ایک تازہ مثال مریم نواز کی ہے کہ جب وہ خاموشی توڑ کر عوام میں گئی تو گلی گلی لوگ ہجوم درہجوم باہر آگئے اور شاید اس قدر عوامی شہرت نوازشریف کو کبھی نہیں ملی ہو گی جو مریم نواز نے حاصل کرلی اور دُنیا نے دس بارہ دنوں میں وہ جلوس اور جلسے دیکھے اور مریم نواز نے پاکستان کی تاریخ میں ایک نئی بات رقم کردی کہ آئو دیکھیں ن لیگ کہاں کھڑی ہے اور تمام حلقوں میں یہ بات طے ہو گئی کہ آنے والی سیاست کا مرکز مریم نواز ہو گی۔ انہوں نے اس کو دوبارہ نیب کے ذریعے جیل یاترا کرادی۔ دوسری طرف یہ ہوا کہ نوازشریف کو جیل میں ڈالنے سے چارچاند لگ گئے اور ان کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ دوسرا یہ ہوا کہ پنجاب میں لوگ اداروں کے اندر تقسیم ہو گئے۔ انہی دنوں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو پنجاب کے اندر نواز کا جو سپورٹر اور ووٹر تھا اس کے اندر وہ حب الوطنی پیدا نہیں ہو سکی جو ہر پاکستانی کے اندر ہوتی ہے اور عوام کی توجہ بھارتی حملے کی طرف متوجہ ہو گئی اور مسلم لیگ کو دو تین بڑے مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ اس قدر سختیوں اور پابندیوں کے باوجود مسلم لیگ ن کی موجودہ قیادت میں دم خم باقی ہے اور پارٹی کے اندر دو بیانیے آگئے، ایک وہ جس میں یہ نعرہ دیا گیا کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘، اس سے وہ پیچھے ہٹ گئے اور ’’سلیکٹڈ وزیراعظم‘‘ کے نعرے کو بھی پیچھے کی طرف لے گئے اور مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ میں عدم شرکت نے عوام کے دلوں میں ن لیگ کے لیے کمی پیدا کردی، بہت سوں نے اس کو بُرا تصور کیا،مولانا کے دھرنے میں ن لیگ کے خلاف نعرے بھی لگے۔ چوتھا یہ ہوا کہ آرمی چیف کی مدت میں اضافے کو ووٹ دے کر مسلم لیگ ن بھی حصوں میں تقسیم نظر آئی۔ بہت سوں نے مخالفت کردی کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، اب ن لیگ کی قیادت اس کو کس طرح قابو کرتی ہے یہ تو آنے والاوقت ہی بتا پائے گا مگر میری رائے میں مسلم لیگ ن کے پاس ابھی بھی بہت کمال کی لیڈرشپ موجود ہے۔ شاہد خاقان عباسی ایک زیرک سیاستدان کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ احسن اقبال نے بھی اپنا نام پیدا کرلیا ہے۔ رانا ثناء اللہ اور خواجہ آصف کا بڑا کردار دیکھا جارہا ہے۔ اب چونکہ نوازشریف کی واپسی میں تھوڑی دیر ہو گی کہ ان کے دل کا آپریشن ہرحال میں ہونا باقی ہے اور اب اگر وہ گئے ہیں تو ان کو اپنا علاج مکمل کرا کے آنا چاہیے۔ اب اس دوران جو گیپ آیا اور شہبازشریف واپس نہیں آتے تو میرا خیال ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو ن لیگ کا صدر بنا کے اپوزیشن لیڈر بنا دیا جائے گا، یوں مسلم لیگ ن کا نیا سفر شروع ہو جائے گا، اس لحاظ سے ان کے لیے اچھی خبریں آرہی ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کے صدر بننے سے کیا مسلم لیگ ن خاندانی قیادت سے باہر نکل جائے گی؟

وہ نکل چکی ہے کہ جس طرح انہوں نے شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنایا تھا اور جس طرح اب وہ گرج برس رہے ہیں اب یہ خاندانی سیاست تو نہیں ہے، ان کی سیاست کے رُخ بدل رہے ہیں۔

کیا بلاول بھٹو کو ایک لیڈر بننے کے لیے ایک دو اور عوامی انتخابات دیکھنا ہوں گے؟

بلاول بہت کچھ سیکھ رہا ہے اور وہ ایک بڑے سیاسی میدان میں اپنی اہمیت کو جتانے میں مصروف ہے۔ محترمہ کی شہادت کے بعد بلاول کو کم عمری میں سیاست میں ڈال دیا گیا۔ اس کے باوجود پی پی پی نے سیاست میں اپنی کم عقلیوں کے سبب جو خلاء چھوڑا تھا، اس کو تحریک انصاف نے پورا کردیا۔ پنجاب اور کراچی کی سیاست میں کیا ہوا اور ایم کیو ایم کے بعد ایک بڑا گیپ آیا۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی خاموشی نے بھی ایک خلاء چھوڑا ہوا ہے اور بلاول کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ اس سے بھرپور فائدہ اُٹھائے کہ وہ ایک بڑی لیڈر کا بیٹا اور بڑے لیڈر کا نواسہ ہے اور قدرتی طور پر اس کے اندر بھی سیاست کے عنصر نمایاں ہورہے ہیں، اگر اس نے دن رات محنت کرتے ہوئے وہی جدوجہد جو اس کی والدہ اور نانا نے کی تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ آنے والے سالوں میں ایک بڑی قیادت کے ساتھ اُبھرے۔ ابھی تو اس کے پاس سپیس ہے، اس کے اپنے اکائونٹ میں ذاتی سیاست نہیں، اسے جو کچھ ملا وہ وراثتی ہے، جس طرح عمران خان کو پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان میں سے ایک سپیس ملی تھی اور اس نے فائدہ اُٹھالیا تھا۔

مولانا فضل الرحمان آگے جا کر عمران حکومت کے لیے خطرہ ثابت ہوں گے؟

مولانا فضل الرحمان کے دھرنے نے نہ صرف حکومت بلکہ طاقتور حلقوں میں بڑی پرابلم کھڑی کردی تھی اور ان کے پاس جتنی عوامی طاقت اور سیاست ہے اس سے وہ کہیں پانچ گنا زیادہ پرفارمنس دے رہے ہیں اور موجودہ حکمرانوں کو پریشان کرنے کے لیے وہ کافی ہے۔ مولانا نے باہر نکل کر لوگوں کو ہکابکا کردیا تھااور ان کے اس شو کو سنجیدگی سے لینا ہو گا کہ انہوں نے کم ازکم اپنی طاقت تو ظاہر کردی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر