دُنیا میں موت کے بڑھتے قدم نہ رُک سکے!
17 مارچ 2020 (17:03) 2020-03-17

نعیم سلہری

گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے نئے کیس کے سامنے آنے پر پاکستان میں کیسز کی مجموعی تعداد 20 ہوگئی ہے۔اس حوالے سے گلگت بلتستان کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر شاہ زمان نے اسکردو کے 14 سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق کی اور بتایا کہ متاثر لڑکا اپنی والدہ کے ساتھ 25 فروری کو ایران سے پاکستان پہنچا تھا۔ڈاکٹر شاہ زمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکا 4 اور 5 مارچ کی شب اہل خانہ کے ہمراہ اسکردو پہنچا تھا، جہاں 6 مارچ کو اس میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں اور انہیں آئسولیش وارڈ منتقل کردیا گیا۔یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا تھا۔26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی۔ 29 فروری کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مزید 2 کیسز کی تصدیق کی، جس سے اس وقت تعداد 4 ہوگئی تھی۔3 مارچ کو معاون خصوصی نے کورونا کے پانچویں کیس کی تصدیق کی۔6 مارچ کو کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا، جس سے تعداد 6 ہوئی۔8 مارچ کو شہر قائد میں ہی ایک اور کورونا وائرس کا کیس سامنے آیا۔9 مارچ کو ملک میں ایک ہی وقت میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے 9 کیسز کی تصدیق کی گئی۔10 مارچ کو ملک میں کورونا وائرس کے 3 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے دو کا تعلق صوبہ سندھ اور ایک کا بلوچستان سے تھا، جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 19 ہوگئی تھی اور اب گلگت بلتستان میں نیا کیس سامنے آنے پر کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 20ہو گئی ہے۔

دسمبر 2019 کے وسط سے چین کے شہر ’ووہان‘ سے شروع ہونے والا کورونا وائرس 11 مارچ 2020 کی سہ پہر تک دنیا کے 118 ممالک تک پہنچ چکا تھا اور اس سے دنیا بھر میں ایک لاکھ 19 ہزار 133 افراد متاثر ہو چکے تھے۔اگرچہ اب بھی متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ چین سے ہے، تاہم حیران کن طور پر گزشتہ 2 ہفتوں سے چین میں کورونا وائرس میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

کورونا وائرس کے آغاز میں چین سے یومیہ ایک سے تین ہزار افراد کے شکار ہونے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں تاہم اب وہاں سے 40 سے 50 افراد کے متاثر ہونے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور چین حکومت نے کورونا وائرس پر تقریبا قابو پانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ جہاں کورونا وائرس چین سے مسلسل کم ہورہا ہے، وہیں مذکورہ وائرس دوسرے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

یورپ میں کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے پہلے نمبر پر ’اٹلی، دوسرے نمبر پر فرانس، تیسرے نمبر پر اسپین، چوتھے پر جرمنی اور پانچویں نمبر پر سوئٹزرلینڈ‘ ہے،اٹلی کے علاوہ یورپی ملک جرمنی، فرانس اور اسپین میں ڈیڑھ ہزار یا اس سے زائد مریض سامنے آچکے ہیں، جب کہ باقی تمام ممالک میں 500 سے کم اور 10 سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں

چین میں ریکارڈ مریضوں کی وجہ سے اگرچہ براعظم ایشیا اب تک کورونا وائرس کے مریضوں کے حوالے سے سرفہرست ہے، تاہم گزشتہ 2 ہفتوں سے اس وائرس کو ایشیا کے بجائے ’یورپ‘ اور ’امریکا‘ میں تیزی سے پھیلتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق کورونا وائرس یورپی ملک اٹلی اور امریکا میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور کچھ ہی دن میں دونوں ممالک میں اندازوں سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب چین کے بجائے اٹلی میں یومیہ بنیادوں پر سب سے زیادہ مریض سامنے آ رہے ہیں جب کہ امریکا میں بھی معمول اور اندازوں سے زیادہ مریضوں کے سامنے آنے سے وہاں خوف پھیل چکا ہے۔اٹلی میں 11 مارچ کی سہ پہر تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 10 ہزار 149 تک جا پہنچی تھی جب کہ امریکا میں مریضوں کی تعداد ایک ہزار 30 تک جا پہنچی تھی۔ یورپ میں سب سے زیادہ مریض اٹلی میں ہیں، تاہم دیگر یورپی ممالک جن میں جرمنی، فرانس، برطانیہ، اسپین، سوئٹزرلینڈ، ناروے، نیدرلینڈ، سویڈن، بلیجیم، ڈنمارک اور آسٹریا‘ جیسے ممالک شامل ہیں، وہاں مسلسل کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔یورپ میں کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے پہلے نمبر پر ’اٹلی، دوسرے نمبر پر فرانس، تیسرے نمبر پر اسپین، چوتھے پر جرمنی اور پانچویں نمبر پر سوئٹزرلینڈ‘ ہے۔اٹلی کے علاوہ یورپی ملک جرمنی، فرانس اور اسپین میں ڈیڑھ ہزار یا اس سے زائد مریض سامنے آسکے ہیں، جب کہ باقی تمام ممالک میں 500 سے کم اور 10 سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں اور تقریبا یورپ کے ہر ملک میں کورونا کے مریضوں کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

یورپ کے علاوہ امریکا میں بھی تیزی سے کورونا پھیل رہا ہے کیوں کہ تین ہفتے قبل ہی یہ وائرس امریکا میں شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں مریضوں کی تعداد 1100 کے قریب پہنچ گئی اور وہاں اس سے 31 تک ہلاکتیں ہونے سے خوف پھیل گیا۔امریکا میں جہاں کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے میوزیکل پروگرامات منسوخ کردیے گئے ہیں، وہیں وہاں پر کئی شہروں کے مارکیٹس بھی بند کردیے گئے ہیں۔امریکی ریاست نیویارک میں تو کورونا وائرس کے احتیاطی تدابیر کے پیش نظر قرنطینیہ میں موجود افراد کی حفاظت اور انہیں اشیا پہنچانے کے لیے فوج کو تعینات کردیا گیا ہے۔کورونا وائرس کے انٹرنیشنل لائیو میپ کے اعداد و شمار کے مطابق چین میں اب کورونا کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، علاوہ ازیں ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی کورونا وائرس اتنی تیزی سے نہیں پھیل رہا، جتنی تیزی سے یورپ و امریکا میں پھیل رہا ہے۔

ایشیا میں چین کے بعد کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض ایران میں ہیں، جہاں 11 مارچ کی سہ پہر تک مریضوں کی تعداد بڑھ کر 8 ہزار42 تک جا پہنچی تھی، تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے جہاں مریضوں کی تعداد 7 ہزار 755 تک جا پہنچی تھی۔اگر ایشیا میں جنوبی ایشیائی خطے کی بات کی جائے تو اس خطے میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار یورپ سے کم ہے اور یہاں مجموعی طور پر بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال، سری لنکا اور بھوٹان‘ کے مجموعی مریضوں کی تعداد 100 سے بھی کم ہے۔جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض سوا ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک بھارت میں ہے، جہاں 11 مارچ کی سہ پہر تک مریضوں کی تعداد 60 تک جا پہنچی تھی، دوسرے نمبر پر پاکستان ہے جہاں مریضوں کی تعداد 20 تک جا پہنچی تھی۔افغانستان میں 5، ، بنگلہ دیش میں 3، سری لنکا میں 2، بھوٹان میں ایک اور نیپال میں بھی ایک مریض کی تصدیق کی جا چکی ہے۔جنوبی ایشیا میں جہاں کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار دیگر خطوں سے کم ہے، وہیں اس خطے میں اس مرض سے ہلاکتیں بھی بہت کم ہوئیں اور اس خطے میں کورونا وائرس کے صرف 4 مریض ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق بھارت سے ہے۔جنوبی ایشیا کے علاوہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار اتنی تیز نہیں جتنی امریکا اور یورپ میں ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے حکومت نے اقدامات شروع کر دیئے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ حکومت کے خصوصی حفاظتی اقدامات کی بدولت حالات قابو میں ہیں۔ پنجاب میں کروناوائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس کا کریڈٹ بڑی حد تک وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور ان کی ٹیم کوجاتا ہے جن کے بروقت حفاظتی اقدامات نے عوامی صحت کو یقینی بنائے رکھاہے۔جب اس موذی مرض کی خبریں دنیا میں پھیلی تو وفاقی سطح پر ہائی الرٹ جاری کیاگیا اور خاص طورپر پاکستان کے بڑے صوبے بلکہ نصف پاکستان یعنی صوبہ پنجاب کی قیادت نے ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کئے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سیکرٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کیا جو 24گھنٹے کام کر رہا ہے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کابینہ کی خصوصی کمیٹی قائم کی جس کیلئے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہوتے ہیں اور مختلف محکموں کی طرف سے کئے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیاجاتاہے۔ کرونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کیلئے جامع ایس او پیز پر عملدرآمد کیاجا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اخبارات اور میڈیا کے سینئر کالم نگاروںاور اینکرز کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ عوام میں کرونا وائرس سے متعلق شعور اجاگر کرنے کیلئے میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ضروری سازو سامان کی خریداری کیلئے 236ملین روپے کے فنڈز جاری کر دیئے ہیں۔پنجاب کے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس اور 5بیڈز پر مشتمل آئیسولیشن وارڈ کا قیام عمل میںلایاگیا ہے۔ ایک ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیاگیاہے جو صورتحال کا جائزہ لے کر اقدامات کرے گا۔ تمام انٹرنیشنل ائرپورٹس پر عملہ تعینات کیاگیاہے۔لاہور، فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ اور رحیم یارخان کے ائرپورٹس پر 29ڈاکٹرز اور 73سٹاف کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں۔ ائرپورٹس اور داخلی و خارجی راستوں پر غیرملکیوں کی سکریننگ کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں مقیم چینی باشندوں اور ان کے کیمپوں کے علاوہ ایران سے آنے والے اڑھائی ہزار سے زائد زائرین کی سکریننگ مکمل کر لی گئی ہے۔ ائرپورٹس پر ہنگامی اقدامات کیلئے پیشگی مشقیں کی گئی ہیں۔ تمام وفاقی اور صوبائی سٹیک ہولڈرز سے رابطے مکمل کر لئے گئے ہیں اور آپس میں معلومات کی شیئرنگ کی جا رہی ہے۔ کرونا وائرس کے مریضوں اور ٹیسٹوں وغیرہ کی منتقل کیلئے ایس او پیز تیار کر لئے گئے ہیں اور H1اور N1 ویکسین اور دیگر ادویات کی نقل و حمل کی سپلائی کا پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں و دیگر پیرامیڈیکل سٹاف کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایاکہ پنجاب میں 3 سنٹرز کے ذریعے کرونا وائرس کے مریضوں کی تشخیص کی جاسکتی ہے ۔لیول تھری لیب، شوکت خانم اور چغتائی لیب کے ذریعے مفت ٹیسٹوں کی سہولت موجود ہ ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر بنائے جانے والی ٹیکنیکل ٹیم کرونا وائرس سے بچائو کے حوالہ سے اہم اجلاس کررہی ہے۔ وزیر صحت پنجاب نے کہا کہ کرونا وائر س کے حوالہ سے ہر 4 گھنٹے بعد تازہ رپورٹ آتی ہے ۔ محکمہ صحت کا سرویلینس سنٹر 24 گھنٹے مانیٹرنگ کررہا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر