آرٹ، آسودگی، تگ ودو اور بھوک سے جنم لیتا ہے:کامران لاشاری کی فکر انگیز باتیں
17 مارچ 2020 (16:56) 2020-03-17

اسدشہزاد

کامران لاشاری درازقد، اندازگفتگو میں رعب، محبت، انکساری اور دوستی کا پیکر، خوبصورت نین نقش، کہنے کو تو وہ بیوروکریٹ دیکھنے کو ایک آرٹسٹ، رنگوں، پھولوں اور آرٹ کا قدردان … ہمارے درمیان بہت کم ایسے لوگ ہیں جنہوں نے مقام شہرت کو نہیں دیکھا مگر شہرت خود کو ان کے مقام کی طرف لوٹ گئی۔ ان کی شخصیت بڑی من موہنی ہے۔سادہ لوح، خوش دل ، منکسرالمزاج اور نرم انسان کامران لاشاری سے میرا تعلق تیسرے دور میں گزر رہا ہے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ ایسا تعلق جوڑتے ہیں کہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے قریب وہی ہیں۔ کامران لاشاری کے کون کون سے اچھے دنوں کا ذکر کروں اچھے کاموں کا ذکر کروں، ان کی کس تصویر کا کس رنگ کا کس کلچر کا ذکر کروں کہ یہی تو وہ ذات ہے جس نے نوجوانوں کی فکر کو پکڑا اور لاہور کے بعد اسلام آباد بھی کو بدل کے رکھ دی۔ کہنے کو ایک بیوروکریٹ دیکھنے کو محنتی انسان بولنے کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بندہ بولتا رہے اور ہم سنتے رہیں۔ آیئے ذیل کے کالموں میں کامران لاشاری کی باتیں پڑھتے چلیں۔

میں آپ کو ہیرو آف دی لاہور کہوں گا کہ آپ نے جہاں تاریخ کو زندہ کیا وہاں لاہور کی تاریخی حوالوں میں خوبصورتیاں پیدا کیں، اس کے بعد آپ نے اسلام آباد کو اور رنگوں سے بھرا، اب آپ پھر سے لاہور کی گلیوں اور بازاروں کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں اگر یہ ایکسرسائز پورے ملک میں کی جائے تو شہر شہر اور خوبصورتیاں ہم دیکھ سکتے ہیں؟

میرے نزدیک اربن مینجمنٹ ایک بہت بڑی سائنس ہے۔ ہم پوری دُنیا کے شہروں کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ کس طرح بنے اور پھر ان کو اور کیسے بہتر کیا گیا۔ میرے نزدیک ہر شہر میں ایک سٹی منیجر، میڈیا یا آپ اسے کوئی بھی عہدہ دے دیں اس کا ہونا ضروری ہے کہ وہ شہر کے تمام ترقیاتی کاموں کی نہ صرف دیکھ بھال کرے بلکہ اس کو اور خوبصورت بنانے کیلئے ماڈلز تیار کرے۔ دوسرے شہروں کو بہتر بنانے میں پرائیویٹ سیکٹر کا بڑا کردار ہوتا ہے لہٰذا ہم ان دونوں صورتوں سے الگ تھلگ ہیں۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ جہاں صوبے کا چیف ایگزیکٹو خود دلچسپی لے اور پھر اس کے لیے فنڈز مہیا کرے تو وہ شہر ایک باکمال شہر بن جاتا ہے اور باقی شہر ان سہولیات یا خوبصورتیوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ میرے نزدیک ہر سیکٹر میں سیاسی ویژن ضرور ملے گا مگر اس کا طریقہ کار یہ ہونا چاہیے کہ ایک منتخب نمائندہ یا نامزدکردہ شخص اس کو بھی سٹی کا ایڈمنسٹریٹر بنایا جائے۔ اس کے بعد مختلف شہروں کے درمیان خوبصورتی کے مقابلے کرائے جائیں کہ کس شہر نے کس قدر ترقی کی ہے اس سے شعور بڑھے گا۔ لوگوں کو نیا اور بہتر ماحول دکھائی دے گا، میرے خیال میں اب دُنیا میں ملکوں یا ان کی ریاستوں کا مقابلہ نہیں ہے۔ اب تو شہروں کا مقابلہ ہے۔ پاکستان میں صوبوں کی بات کریں تو سب کی ایک ہی آواز ہے کہ پنجاب میں بہت کام ہوا ہے۔ بے شک یہ بات درست ہے مگر یہ بھی دیکھئے کہ اس کام کے بعد ہریالی کتنی آئی ہے درختوں کے جال نظر آئے۔ قدرتی حسن میں اور اضافہ ہوا۔ عمارتوں کر رنگدار اور روشن کیا گیا۔ پبلک لائبریری، پبلک باتھ روم بڑھے، زراعت کے شعبے میں نمایاں ترقی نظر آئی، اگر یہ کام دوسرے صوبوں میں وہاں کے چیف ایگزیکٹو توجہ دیں تو وہ بہتر ہو گا ورنہ تین چار شہروں کے علاوہ کوئی شہر خوبصورت نظر نہیں آئیگا۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لاہور کی اصل روایات کو بدل دیا گیا ہے؟

پہلی بات یہ ہے کہ ہم نے لاہور کی روایات اور اس کی اصل شکل کو نہیں بدلا مگر آپ یہ بھی دیکھئے کہ زمانوں کے ساتھ ساتھ شہروں میں بھی تبدیلیاں آئی ہیں اس کی روایات اس کی اصل شکل بدل جاتی ہے۔ ایک صدی لاہور، پچاس سال قبل والا لاہور اور آج سے بیس سال پہلے والے لاہور میں بہرحال تبدیلی آئی ہے اور آپ کبھی بھی رونماہونے والی تبدیلی کو روک نہیں سکتے۔ اب یہاں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ تبدیلی کو اس کی صحیح سمت میں کیسے لے جانا ہے اور تبدیلی کی جگہ کو قائم دائم بھی رکھنا ہے تاکہ وہ مسخ نہ ہوجائے اور ہم نئی ڈویلپمنٹ کے چکر میں اس کی اہمیت اور افادیت کو کھو دیں اور خاص کر لاہور کا تو یہ خاصا ہے کہ اس کی تاریخ، اس کی ثقافت، اس کا کلچر، اس کی روایات، تاریخی پس منظر میں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ اس کے حوالے سے کوئی چیز توڑ پھوڑ کا شکار تو نہیں ہوئی لیکن اس کو وہ توجہ بھی نہیں مل پائی جو اس کو ملنا ضروری ہے۔ اب لاہور سٹی والی اتھارٹی کا قیام حکومت پنجاب کا ایک اچھا اقدام ہے۔ ایک طرف تو بڑے بڑے پُل بن رہے ہیں تو دوسری طرف بہت سی ثقافتی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جہاں روشنی کی اشد ضرورت ہے وہاں اندھیرے ہی اندھیرے ہیں جن چیزوں کو بچانے کی ضرورت ہے۔ ان کو دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم صرف بے توجگی کی وجہ سے اپنے اثاثے سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ میں یہاں آزادی چوک کی بات کرتا چلوں کہ اس کے بننے سے آپ پیدل لاہور فورٹ آسکتے ہیں درمیان کی سڑک ختم کر کے فاصلہ اور کم کردیا گیا ہے۔ وہ تو چھ ماہ میں مکمل ہوگیا مگر جن اثاثوں کی میں بات کررہا ہوں وہ عدم توجگی کی وجہ سے پش پشت رہ جاتے ہیں اس بلڈنگ کی طرف رات کو جاتے ہیں تو وہاں ایک ہوکا عالم ہوتا ہے جیسے کہ حضوری باغ، بارہ دری، بڑے تاریخی مزارات شامل ہیں۔ اگر یہ عمارتیں کسی دوسرے ممالک میں ہوتیں تو ان کی رونقیں بہت دوبالا ہو جاتیں۔ میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہیں اپنے ماضی کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ نے ایسا کردیا تو پھر آپ ان قوموں میں شمار ہونگے جو اپنے ورثوں کا دفاع نہ کرسکیں اور ان کا بُرا حال ہوا۔

یہاں پارک وغیرہ بنا کر چھوڑ دیتے ہیں دوبارہ اس طرف توجہ نہیں دی جاتی تاکہ وہ پھر کھنڈرات کا نقشہ پیش کرنے لگیں، یہاں ایک نہیں کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں؟

آپ کی بات درست ہے مگر کچھ چیزیں ایسی نظر آتی ہیں جن پر توجہ نہ دینے سے بہت نقصانات ہوئے، بحیثیت قوم ہم دیکھ بھال کے عادی نہیں ہیں چاہے ہمارا آئین ہو چاہے ہماری عمارات، ہم ان کی پاسداری نہیں کرتے۔ یہ بات درست ہے کہ ہم چیزیں تو بنا لیتے ہیں مگر ان کی حفاظت نہیں کرپاتے۔ یہاں آپ کو ایوب پارک کی مثال دوں گا۔ شکرپڑیاں اور راول ڈیم کا ذکر کروں گا اور ہم نے چھانگامانگا بنایا، اب ان کی وہ خوبصورتیاں، نیاماحول، وہ رنگ وروغن، وہ روشنیاں اب کہاں گئیں، کل کیاحالت تھی اور آج کیا ہے؟ بنا کر اس کو سنبھالنا بھی ایک مشکل جاب ہے کہ ہم بنا کر آگے کی طرف بڑھتے رہتے ہیں اور پچھلے والے کاموں کو بھول جاتے ہیں مگر یہاں ان چیزوں کو بھی دیکھنا ہو گا جو آج بھی قائم دائم ہے۔ جس طرح کے پی ایچ اے کا قیام جس کا میں پہلا ڈی جی تھا میرے جانے کے بعد کئی لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ ادارہ ختم ہو جائے گا مگر وہ بڑا کامیاب جارہا ہے کہ آپ کو سڑکوں پر پودے، گرین ماحول آج سے پندرہ سال قبل اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ لاہور ایک شاہکار کے طور پر سامنے آئے گا۔ یہ تو وہ کام ہیں جو آپ کر کے گئے، انہی کاموں کو بار بار پینٹ کیا جارہا ہے۔ نیا کام تو ہمارے سامنے نہیں آیا، پہلے تو آپ ان کو اس بات کریڈٹ دیں کہ انہوں نے ان خوبصورت روایات کو نبھایا تو ہے اور جس سطح پر میں نے محکمہ کو چھوڑا تھا وہ اس سے بہت آگے کی طرف بڑھا ہے، ہوسکتا ہے کہ آئیڈیاز کے اعتبار سے اتنا نہ بڑھا ہو لیکن اس کے فروغ اور اس کی ترقی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور آج جس سکیل پر چیزیں ہیں یہ بہت باعث فخروالی بات ہے۔ مال روڈ کی بلڈنگ ہی کو لے لیں کہ ضلعی انتظامیہ ان کو بہتر طریقہ سے بہترین کی طرف لے جارہی ہے البتہ فوڈسٹریٹ ضرورختم ہوئیں۔

بہت اچھا آئیڈیا تھا کیوں بند کرنا پڑا؟

اس کی کامیابی اسی میں تھی کہ ایسی چیزیں پرائیویٹ سیکٹر کے اندر ہی رہنا ضروری ہوتا ہے۔ اس میں ان لوگوں کو اپنی فنانشلی طاقت نظرآرہی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ان لوگوں نے اس کو بہت سنبھالا دیا ہوا تھا۔ کچھ عرصہ بند رہنے کے بعد اب پھر سے اس کا آغاز ہوگیا ہے اور یہ اچھی بات ہے۔ تسلسل ٹوٹنے سے اس کی طاقت بھی ضائع ہو گئی تھی۔ یہاں ایک بنیادی فرق نظر آیا کہ فوڈسٹریٹ قائم کرنے والے لوگ پیسہ کے معاملات کو تو سمجھ سکتے ہیں مگر وہ آرٹ، کلچر اور پھر اس کو قائم دائم رکھنے والے معاملات کو نہیں سمجھ سکتے۔

ہمارے ہاں کام کرتے وقت نسل درنسل اس کا صحیح پیغام نہیں دیا جاتا کہ اس کو سنبھالنا کیسے ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی کو کیسے لانا ہے نہ اس سلسلے میں کورسز کا اجراء ہوا،نہ نئی پود کو لیکچرز دیئے گئے نہ ان کو اس کی اہمیت کا اور نہ افادیت کا علم ہوتا ہے؟

بائی ماڈل تو آپ کسی کو سکھا سکتے ہیں دوسرا طریقہ نصابی ہے کہ آپ کو سکولز اور کالجز کی سطح پر ماحولیات کے بارے میں پڑھایا جائے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انسان جو چیزیں اور عادات اپنے والدین سے سیکھتا اور اپناتا ہے۔ وہ کتاب سے نہیں سیکھ پاتا تو میں یہاں پھر بات کروں گا کہ اگر آپ 25سال پہلے والے لاہور کو دیکھیں تو سوائے مال روڈ کے ہر سڑک ٹوٹی پھوٹی ہوتی تھی اور سائیڈ پر مٹی اُڑتی تو اندھیری کا سماں لگتا تھا اور مال روڈ پر بسوں اور ویگنوں اور رکشوں سے نکلنے والا دُھواں کس قدر خوفناک ماحول پیدا کردیتا تھا جب سے ان کو بند کیا ہے اب صورتحال بہت بہتر ہے۔ اب جگہ جگہ کوڑے کی جگہ ڈسٹبین نے لے لی ہے۔ آوارہ کتوں کو یہاں سے ختم کردیا گیا۔ آپ کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ 25سال پہلے والے اور آج کے لاہور میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ انسان ہمیشہ بہتری کی تلاش میں رہتا ہے، بہتر سوچے گا توپھر بہتر ہی پائے گا۔ یہاں آپ کو ایک دلچسپ بات بتائوں کہ ڈی ایچ اے نے اپنے آغاز ہی میں لاہور میں کھجوروں کے درخت لگانے کی مہم شروع کی تو آدھے شہر نے احتجاج کرتے ہوئے مذاق بنایا حتیٰ کہ روزنامہ نے تصویر لگا کر کیپٹن لکھا کہ اُونٹ کہاں ہیں؟

اور آج اسی لاہور میں جگہ جگہ کھجور کے درخت لگائے جارہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو بندہ نئی چیز کو لاتا ہے تو اس کو بڑی ہمت دکھانا ہوتی ہے اور جو لوگ مذاق کرتے ہیں بعد میں اسی ماحول کو اپنا لیتے ہیں اور مجھے یوں لگتا ہے کہ کھجور کا درخت لگانا اب ایک روایت بن گئی ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ نرسریوں کا کلچر کہاں چلا گیا ہے اور ان تمام باتوں میں پی ایچ اے کا کردار ہے جس نے شعور کو بھی ڈویلپ کیا ہے اور جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں نے نہ تو کوئی بڑا کام کیا ہے نہ کوئی کریڈٹ اپنے سینے پر سجانا مقصود حامل ہے۔ اس کے باوجود لوگوں نے ہر بات اور ہر کام کو سراہا۔ ہم نے صرف یہ کیا کہ لاہور کے چوک چوراہے، پارک، باغوں کے علاوہ سڑکوں کو گرین کردیا۔ رنگ وروغن اور ٹوٹ پھوٹ کی شکار جگہوں کو جو بالکل نظرانداز رہتی تھیں سرکاری ادارے ادھر توجہ ہی نہیں دے رہے تھے، نہ ان کے پاس اختیارات اور نہ ہی فنڈز تھے بلکہ یہ لوگ مجھ سے بحث کیا کرتے کہ آپ ولایتی پھولوں کے بیچ سڑکوں پر لگائیں گے؟ جہاں دُحواں بھی ہے۔ اندھیری بھی چلتی ہے۔ لوگ تو پھول توڑ کر لے جاتے ہیں ان باتوں کے باوجود ہم نے ایک رسک لیا اور آج جدید لائٹس، جدید پودے، جدید ماحول کی وجہ سے پورا لاہور جگمگا رہا ہے، جگہ جگہ پھولوں کی دُکانیں، پارکوں میں لیٹرین کا انتظام، پبلک چوکوں پر درخت، پھول، پودے نہ کوئی لائٹ توڑتا ہے نہ پودوں کو ضائع کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ لوگوں نے بھی ماحول کو اپنایا ہے۔ ہم نے فوارے تک لگائے، ادھر کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔ اس کے بعد پہلے دیواروں پر اشتہارات، بڑے بڑے بینرز، وال چاکنگ وغیرہ بدنُما شہر لگتا تھا۔ اب پورے لاہور میں ایک ہی سائز کے سٹیکر لگے ہوتے ہیں اور وہ پولز پر لگے سڑکوںکا حصہ لگتے ہیں۔ پھر بڑے بڑے سائن بورڈز اور ان کو مخصوص جگہوںپر لگانے سے لاہور بہت خوبصورت ہو گیا ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کلچر میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟

جدید ضرور ہوا ہے، روایات نہیں بدلیں اور میرے نزدیک لوگوں میں بہتر سوچ اُبھری ہے۔ اب ان کی تمام ابلاغ کے اوپر دسترس ہے، رپورٹ بہت تیز ہو گئی ہے۔ پوری دُنیا کے ساتھ براہ راست تعلق بن گیا ہے۔ میرے نزدیک کچھ تہذیب بھی بہتر ہوئی ہے البتہ یہاں ایک المیہ یہ ہوا کہ ہماری شوبز کی دُنیا کا ایک خاصا رہا ہے۔ شہر بھر میں میوزیکل شو ہوتے تھے، رات گئے لاہور محفلوں کی زینت بنتا تھا۔ بسنت جیسے تہوار منائے جاتے تھے، جشن بہاراں تھا۔ ہارس اینڈ کیٹل شو تھا، ایک ثقافت ایک خوبصورت کلچر تھا، وہ اب ختم ہو گیا ہے۔ وہ رونقیں ختم ہو گئی ہیں۔ تھیٹرز، غزل گوئی کی محفلیں تھیں، کیا کچھ نہیں تھا جو اس شہر میں نہیں ہورہا تھا۔ اب ان سب کاموں میں تنزلی آگئی ہے۔ لاہور کی آباد شامیں اور راتیں ویران ہو گئی ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ سکیورٹی کے نام پر سب کچھ بند کردیا گیا ہے۔

کیا کیا؟

یہاں یہ ہوا کہ لوگوں نے ان چیزوں کو سیاست میں تلاش کرنا شروع کردیا جیسا کہ عمران اور طاہر القادری کے دھرنوں کے بارے میں کہا گیا، یہ ایک ایسی ضرورت ہے جس کا ہر کوئی متلاشی ہے۔ اگر میں آپ کے سوال کا جواب بڑے اینگل سے دوں کہ ایک بڑی ہستی کھیلتی زندگی پر ایک چھاپ لگا دی گئی ہے، دہشت، پریشر اور ایک امپورٹڈ کلچر کی اور یہ سعودی عرب سے ٹرانسپورٹ ہو کے اگر وہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ نہ ہو تو جسٹ ہم سعودی زندگی بسر کررہے ہیں اس لیے کہ وہاں نہ کوئی آرٹ ہے نہ کلچر اور نہ ہی انٹرٹینمنٹ ہے ۔ ہم آہستہ آہستہ ان تمام چیزوں سے محروم کر دیئے گئے جہاں سے آکسیجن ملتی ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آرٹ بھوک سے جنم لیتا ہے؟

میرے نزدیک آرٹ آسودگی میں پنپتا ہے لیکن تگ ودو بھوک سے نکلتی ہے۔ انسان کے مختلف لیول ہوتے ہیں، ایک تو کھانے پینے کی بھوک کالیول ہوتا ہے اور اس کے لیے تگ ودو جاری رہتی ہے۔ بندشوں میں ایک آدھ تحریر، ایک آدھ تصویر ایک آدھ آرٹ نکلتا ہے یا پھر اتنی بھوک آئے کہ وہ انقلاب کی شکل میں سامنے آجاتا ہے البتہ ان معاشروں میں جہاں آسودگی تھی انہوں نے آرٹ اور کلچر کو بہت پروموٹ کیا، اگر پابندیوں، بندشوں اور زبردستی والا کلچر رہے گا توپھر بھوک کیا آسودگی بھی کام نہیں آسکے گی۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے ایک بچے کو آپ زبردستی یہ کہیں کہ یہ کرنا ہے وہ نہیں کرنا، یہ بننا ہے وہ نہیں بننا تو وہ ختم ہو جائے گا اور اس کی اپنی قدرتی گروتھ اور قدرتی تبدیلی اس کے اندر نہیں آپاتی۔ ہمارے معاشرے کے ساتھ بھی یہی سلوک ہورہا ہے۔ جب ہم ہر وقت تنقید کریں گے اور معیشت رائے کا اظہار نہیں کرینگے تو پھر ہر طرف دبائو ہی محسوس ہوگا۔

٭٭٭


ای پیپر