”خدانخواستہ“ اگر کَروناٹھیک ہوگیا تو....
17 مارچ 2020 2020-03-17

قارئین کرام، اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے، میں اہل زبان میں سے نہیں ہوں بلکہ میرے شجرہ نسب میں سات پشتوں سے بھی پہلے، کوئی اردو بولنے والا نہیں تھا، لہٰذا میں نے اس موضوع کے چناﺅ میں آپ کو عجیب مخمصے میں مبتلا کردیا ہے، یہ وہ غلطی تھی کہ جیسے اکثر مقررین کہتے ہیں کہ جیسے میں فرما رہا تھا غالباً کچھ دن پہلے صوبہ سندھ کے جناب سعید غنی، جن کی اصول پسندی الفاظ کے چناﺅ، اور زیروبم کا میں کافی دیر سے مداح ہوں، کہ وہ دائرہ اخلاق میں رہتے ہوئے، اپنا مدعا بڑی خوش اسلوبی سے ناظرین تک پہنچاتے ہیں، ناظرین ان کے دھیمے پن سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔بہرکیف سعید غنی صاحب، پریس کانفرنس میں حالیہ پھیلی ہوئی عالمی وبا کرونا وائرس کی وجہ سے صوبہ سندھ میں درس گاہوں کی بندش کا اعلان کرتے ہوئے لغزش زبان کی وجہ سے نہیں، خیال کسی دوسری جانب بھٹک جانے کے سبب فرمارہے تھے ، کہ صوبہ سندھ کے سکول تاحکم ثانی بند رہیں گے اگر ”خدانخواستہ“ کرونا وائرس کا خاتمہ ہوگیا تو پھر بعد میں درس گاہوں کو کھولنے کی نئی تاریخ کا اعلان کردوں گا۔

اب میں اس لغزش زبان پہ کیا تبصرہ کروں، کیونکہ یہ تووہ خوش قسمت لوگ ہیں، کہ جنہوں نے ایک عرصے تک سندھ کو، اور اپنے وطن عزیزکے تمام میڈیا پر اس طرح سے قبضہ جمائے رکھا، کہ پختون، پشتون، پنجابیوں ،بلوچوں اور پٹھانوں کو کسکنے کی بھی اجازت نہیں تھی، مزاج یار میں آئے ، تو سگار کے ساتھ ساتھ، کچھ اور پیتے، اور لہک لہک کر گنگناتے، حتیٰ کہ ٹھمکتے لگاتے، اور بھارتی گانے سناتے نظرآتے تھے، یہ تو اللہ بھلا کرے، اس وقت کے چیف جسٹس غالباً افتخار چوہدری صاحب نے نوٹس لیتے ہوئے، پابندی لگادی، اور بائیس کروڑ پاکستانیوں نے سکھ کا سانس لیا مگر پھر بھی میری یہ تحریر چغلی کھارہی ہے، کہ بقول نیر

تیری یادوں کے حبس بے جا سے

خود کو آزاد کرنہیں پایا!

شہروالوں سے کیا گلہ نیر

کوئی فریاد کرنہیں پایا!

گوسعید غنی صاحب کا تعلق متحدہ سے نہیں ہے، مگر شاید وہ بھی وفاق سے اپنا حق مانگتے ضرورنظرآتے ہیں۔

قارئین متذکرہ بالا سطورمیں نے کسرنفسی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے لکھیں، مگر میری اردو میرے والد مرحوم ومغفور نے بچپن سے اور پرائمری کلاسز میں اخبار پڑھوا کر اورمیری غلطیوں کی اصلاح کرکے اس قدرٹھیک کرادی تھی، کہ میں ایک لمبا عرصہ پاکستان ٹیلیویژن سے خبریں پڑھتا رہا، قارئین ہو سکتا ہے، شاید آپ کو یقین ہو، اور میں آپ کویاد بھی ہوں، وگرنہ امجد اسلام امجد اور عطا الحق قاسمی، میرے گواہوں میں شامل ہیں، اور عطاالرحمن صاحب بھی مگر آج کل اپنے پرانے شوق کی بناپر میں، اپنے پسندیدہ مخصوص چینلز پر خبریں سنتا ہوں، تو نیوز کاسٹرز صاحبان کی Silly Mistakesسن کر اور مو¿قرجریدوں اور اخبارات پڑھ کر ذہنی کوفت ہوتی ہے، مگر آج کل تو سیاستدان بھی جان بوجھ کر اور دیدہ دانستہ الفاظ کو بگاڑ کر بولنے کو شاید اپنے آپ کو بلاول سمجھتے ہوئے اس طرح سے بولتے ہیں، کہ یقین نہیں آتا، کہ یہ تقریر کررہے ہیں یا پٹھانوں کی نقل اتار رہے ہیں، مثلاً پاکستان کی معاون خصوصی اطلاعات کے بیانات، اورتقریریں وپریس کانفرنسز ، حزب اختلاف یعنی اپوزیشن کے خلاف لب کھولتے ہوئے امان اللہ مرحوم کی نقالی کی بھونڈی کوشش لگتی ہے، کہ زبان اخلاقیات کو الفاظ واہیات کا جامہ پہنا دیا جاتا ہے، جہاں وفاقی اطلاعات کا وزیر ہمہ وقت ایسی کوشش کرتا رہے تو وزیراعظم پاکستان کو بھی کہنا پڑتا ہے، کہ میں اپنے وزراءکے بیانات سے کافی تنگ ہوں، مگر فیاض الحسن چوہان کو اپنے وزیراعظم کی اس بات سے احتیاطاً اختلاف نہیں ہے، شاید اسی لیے وہ بھی ہمیشہ تعریف تحریک میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتے نظرآتے ہیں، شاید مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبالؒنے اسی لیے فرمایا تھا، کہ

کرتو بھی حکومت کے وزیروں، کی خوشامد

دستور نیا اور نئے دور کا آغاز!

قارئین کرام ہمارے وطن کا اگر پٹواری ہو، یا اسسٹنٹ کمشنر اسے اپنے فرائض منصبی کو سنبھالنے سے پہلے کچھ متعین عرصے کے لیے ٹریننگ ضرور لینی پڑتی ہے، مگر حیرت ہے، کہ ہمارے سیاستدانوں کو چاہے وہ ممبر قومی اسمبلی یا ممبر صوبائی اسمبلی بھی بن جائیں، تو انہیں کسی قسم کی ٹریننگ اور تربیت نہیں دی جاتی۔ میری طرح تقریباً سارے لوگوں کا اس بات پہ اتفاق ہے، کہ ہمارے اسلاف کی طرح چرچل اور ڈیگال بھی یہی کہتے ہیں، کہ اگر کسی ملک میں جنگ وجدل اور خونریزی سے تباہی بھی پھیل جائے، تو فکر کی کوئی بات نہیں، اگر اس ملک میں انصاف کا بول بالا ہو، تو پوری قوم دیکھتے ہی دیکھتے، پھر اوج کمال کو پہنچ جاتی ہے، مگر مجھے تو جناب آصف سعید کھوسہ کی طرح جسٹس گلزار صاحب کے ساتھ سے بہت سی توقعات ہیں، کہ وہ نہ صرف کراچی کو بلکہ پورے ملک کو ٹھیک کردیں گے، مگر ان کا یہ تازہ بیان پڑھ کر میں ٹھٹک گیا، کہ ہم نیب کے سپروائزرنہیں، ہم سے کیوں آبزرویشن مانگتے ہیں۔

قارئین ، میں بات کررہا تھا، حکمرانوں اور عوام میں ”بدزبانی“ دور غلام محمد سے ایسی شروع ہوئی ، اور ذوالفقار علی بھٹو نے تو قذافی سٹیڈیم میں اپنی تقریر جو براہ راست پی ٹی وی سے دکھائی جارہی تھی ، اپوزیشن کو بہن کی گالی دے دی تھی، پنجاب کے ایک وزیر جوکہ ان کی پارٹی سے تھے، وہ مغلظات کے حوالے سے بہت مشہور تھے، چند دل جلوں نے ان کی شکایت ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم سے کردی، کہ وہ بات بات پہ گالیاں نکالتے رہتے ہیں، بھٹو مرحوم نے انہیں بلایا، اور ان سے پوچھا، کہ آپ کے بارے میں شکایت آئی ہے کہ آپ گالیاں نکالتے ہیں، غالباً ان کا نام تھا غلام نبی ، انہوں نے پوچھا کہ کون (بہن کی گالی) کہتا ہے، میں گالیاں نکالتا ہوں، یہ سچ سن کر بھٹومرحوم ہنس پڑے، قارئین اب آپ کو پتہ چل گیا ہوگا، کہ سچ، اور ”کلمہ حق“ میں کتنا باریک پردہ ہے، کہ کلمہ حق بھی منکرین کو گالی کی طرح لگتا ہے۔


ای پیپر