ایک نہیں دو معیار
17 مارچ 2019 2019-03-17

ایک روز جلد یا بدیر یہ سانحہ بھی قصہ ماضی بن جائے گا۔ اور مہذب دنیا یہ بھول جائے گی کہ گلوب کے گوشہ بعید کرائسٹ چرچ کی ایک مسجد میں سجدہ ریز مسلمانوں کو ناکردہ جرم کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ ان کو نسلی برتری میں مبتلا سفید فا م دہشت گرد نے گولیوں سے بھون دیا۔وہ اہل ایمان تو اللہ کے حضور حاضری کیلئے جمع تھے۔ بالکل نہتے۔ پچاس شہید ہوئے۔ مہذب بین الاقوامی دنیا ایسے ان گنت سانحے فراموش کرچکی۔ بے گناہوں کے خون کو بہتے صدیاں بیت چکیں۔ ایسے ہی ساڑھے تین صدیاں قبل بلیک افریقہ سے مسلماں افریقی غلاموں کو جانوروں کی طرح بحری جہازوں میں بھر کرکولمبس کی نو دریافت شدہ سرزمین امریکہ لایا گیا تھا۔ بالکل درست اعداوشمار تو موجود نہیں لیکن اندازہ ہے کہ تیرہ کروڑ انسانوں کو غلام بنا کر امریکہ لایا گیا۔ ان میں سے چار کروڑ تو راستے کی صعوبتیں ، بھوک پیاس اور تشدد کی تاب نہ لاتے ہوتے ہوئے رزق خاک ہوئے۔ آج انسانی حقوق کے سب سے بڑے چیمپئن امریکہ کا ضمیر ان چار کروڑانسانوں کا قتل بھول چکا۔ آج برطانیہ کے مہذب انگریز یہ بھی بھول چکے کہ برصغیر کو فتح کرنے کے بعد کس طرح حریت پسندوں کو توپوں کے گولوں سے اڑا دیا گیا، کیسے سر عام پھانسیاں دی گئیں۔ تاریخ کی کتابوں کے بوسیدہ اوراق کے سوا اس قتل عام کا کوئی عینی شاہد بھی باقی نہیں بچا۔ یہی گورے انگریز آج دنیا کو قانون پسندی کے لیکچر دیتے پائے جاتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کالا پانی کونسے انسانی حقوق کی تنظیم کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ بر صغیر نے آزادی حاصل کی تو مسلم آبادی اپنے نئے آزاد شدہ وطن کی جانب ہجرت کیلئے مجبور ہوئی۔ ہندوؤں اور سکھوں نے مل کر تاریخ کا بدترین قتل عام کیا۔ موقر برطانوی اخبار گارجین کے اندازہ کے دس لاکھ افراد شہید ہوئے۔ یہ قتل عام بھی قصہ پارینہ ہوا۔ گزشتہ صدی تو جرم ضعیفی کی سزا وار اقوام کے قتل عام کا عہد تھا۔ ویت نام میں امریکیوں نے انسانی قتل کے نت نئے طریقے ایجاد کیے۔ جاپانیوں پر تاریخ عالم کا پہلا ایٹم بم برسایا۔ اس بم باری کے نتیجہ میں اسی سال سے ہیروشیما اور ناگاساکی کی بدقسمت دھر تی پر بیمار نسلیں جنم لے رہی ہیں۔ نکارا گوا ، وینزویلا ، کونسی دھرتی ہے جہاں پر زمینی ناخداؤں نے نسل آدم کی بے بسی سے فائدہ اٹھا کر خون کی ہولی نہ کھیلی ہے۔ یوں تو سب زور آوروں نے جہاں بس چلا طاقت کی جبلت کے تحت انسانی خون سے اپنی پیاس بھجائی۔ لیکن قاتلوں کا عالمی اتحاد صرف مسلمانوں کے خلاف ہے۔ کیونکہ ان کا خون ارزاں ، کوئی ان کی ڈگمگاتی، بے سمت کشتی کا کھیون ہار نہیں ۔ گزشتہ صدی میں جنگوں ہجرتوں اور مہاجرت کے نتیجہ میں کروڑوں مسلمان شہید ہوئے۔ کمال بات ہے آج کی مہذب دنیا میں کروڑوں مسلمانوں کے قتل کا کوئی ایک قاتل بھی پکڑا نہ جاسکا۔ ان کو شمالی فلپائن میں قتل کیا گیا۔ مجرم نہیں ملا۔ ان کو بوسنیا میں کروشین درندوں نے چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ کسی ایک قاتل کی تصویر تک سامنے نہ لائی جاسکی۔ مسلمانوں کودارفر میں بمباری کر کے مارا گیا۔ جرم بے نشان رہا مجرم کا سراغ تک نہ ملا۔ مشرقی تیمور میں خون بہتا رہا۔ کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ کہانی یہیں تک محدود نہیں ۔ گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں ایک کے بعد دوسرا بش چڑھ دوڑا۔ انتیس سال سے قتل عام جاری ہے۔ انبیا اور اولیا کرام کی مدفن دھرتی ادھیڑی جاچکی۔ کسی کو جرمانہ کی سزا بھی نہ ملی،۔ نائن الیون کے بہانے افغانستان میں لاکھوں انسانوں کی قتل کردیا گیا۔ کس کو یاد ہے دشت لیلیٰ میں سینکڑوں لوگوں کو کنٹینر میں بھر کر صحرا کی تپتی ریت پر چھوڑ دیا گیا۔ وہ بے گناہ سانس گھٹ کر مر گئے۔ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی۔ گوانتا نامو بے میں جو انسانیت سوز جرائم ہوے ان کا مقدمہ کس عدالت میں زیر سماعت ہے کسی کو معلوم ہے تو بتائے۔ برما کے بے زمین بے شناخت روہنگیا جو صرف قتل ہوجانے کیلئے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا وکیل کون ہے۔ کوئی ہے؟کوئی نہیں ۔ ارض فلسطین کی داستان تو اب عشروں پرانی ہے۔ اب اس قتل عام میں تو کوئی نئی خبر بھی نہیں رہی۔ مقبوضہ کشمیر میں ستر سال سے آزادی کے متوالے جدوجہد کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ لیکن کوئی پرسان حال نہیں ۔ بس تجزے ہیں تبصرے اور مباحثے۔ ابھی چند سال پہلے جنونی قاتل نے ناروے میں خون مسلم پانی کی طرح بہا یا۔ کون سے آسمان زمین پر آگرا۔

کرائسٹ چرچ کی مسجد میں خون کی ہولی کھیلنے والے قاتل کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ مسکرا رہا تھا۔ کوئی اس قتل عام کے ڈانڈے وائٹ سپریمیسی سے ملاتا ہے۔ کوئی اس کو براعظم آسٹریلیا میں تارکین وطن کی بھر مار کا شاخسانہ قرار دیتا ہے۔ حالانکہ سارا براعظم آسٹریلیا غیر ملکی تارکین وطن نے آباد کیا۔ اصل باشندے تو اب صرف عجائب گھروں میں باقی رہ گئے ہیں۔ کوئی اس واقعہ کو مذہبی جنون کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ وجہ کوئی ایک نہیں ،لیکن نتیجہ سب کو معلوم ہے۔ اس جرم کے مرتکب فرد کو تو سزا ملے گی۔ لیکن سوچ کو قید نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ دنیا میں ایک نہیں دو قانون کار فرما ہیں۔ ایک نہیں دو طبقے ہیں ، دو مختلف دنیائیں ہیں۔ ایک ظالموں کی دوسری مظلوموں کی۔ٹرینٹ نامی دہشت گرد طاقت وروں کا ہرکارہ تھا اور مقتول مسلمان مظلوم قبیلے کے فرزند۔کچھ دنوں میں یہ قتل بھلا دیا جائے گا۔ ماضی کی وارداتوں کی مانند۔


ای پیپر