سیاسی منظر نامہ
17 مارچ 2019 2019-03-17

چھوٹی جماعتیں منظر سے غائب، بڑی جماعتیں خاموش، نیب سرگرم، حکومت مطمئن، اپوزیشن پریشان، صفوں میں سناٹا، کبھی کبھار سناٹے کو چیرتی ہوئی کسی خوفزدہ لیڈر کی آواز، اور پھر گمبھیر خاموشی، کیوں؟ مقدمات اور حالات خاموشی کی وجہ بنے، سب نیب کی کرامات، ’’تم طلب کرو ہو کہ کرامات کرو ہو‘‘ جو منظر عام پر آکر سر گرم ہوا۔ اسی کیخلاف تحقیقات شروع، ایک دو دن بعد ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ، طلبی پر گرفتاری، گرفتاری کے فوراً بعد ہفتہ دو ہفتے کاریمانڈ،ریمانڈ میں مختلف ڈیمانڈز، سیاسی لیڈر خوف سے ہی بلڈ پریشر اور دل کا مریض بن گیا۔ تقریر کیا خاک کریگا۔ لیڈری کس برتے پر ہوگی۔ کمزور دل ریٹائرڈ بریگیڈیئر اسد منیر پنکھے سے جھول گیا۔ خدا لگتی کہیے تو دو چار کروڑ کو چھوڑ کر سترہ اٹھارہ کروڑ کیخلاف ریفرنس دائر ہوسکتے ہیں۔ سبھی پر آمدن سے زیادہ اثاثوں کا الزام، بقول محترم سراج الحق بلا تفریق احتساب ہو تو بیشتر پارلیمنٹرین جیل میں ہوں گے۔ حکومت 50 لاکھ گھروں کے ساتھ ساتھ بیس پچیس لاکھ جیلیں بھی تعمیر کرے، لیڈر پنڈ چھڑانے کے چکر میں کہیں کے نہیں رہے۔ کس کس کا ذکر کیا جائے۔ ’’گھر کا گھر بیمار ہے کس کس کو دیں تسکین ہم‘‘ شیخ رشید نے حالات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ نیب زدہ لیڈروں سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ ’’آپ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے‘‘ خود شیخ صاحب، بابر اعوان، جہانگیر ترین اور علیم خان سمیت تمام سرکاری درباری وزیروں مشیروں کو واقعی کوئی خطرہ نہیں، ما شاء اللہ اتنی بلندی پر بیٹھے ہیں کہ تحقیقات کرنے والوں کی نظر ہی نہیں پڑتی۔ نیب نے بلانا ہی نہیں تو خطرہ کس بات کا۔ اسی لیے دھڑلے سے بڑھکیں مارتے پھرتے ہیں۔ ویسے بھی حاکم وقت کا فرمان ہے کہ صرف چوروں ڈاکوؤں کو خطرہ ہے۔ چور ڈاکو کون ہیں؟ جنہیں طلب کرلیا، گرفتار کرلیا۔ چور ڈاکو ثابت ہونے تک گرفتار بلا رہیں گے۔ ثبوت ڈھونڈنے میں سات سے دس سال لگ سکتے ہیں اس کے بعد کوئی نیک دل چیف جسٹس اظہار برہمی کرتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیدے گا۔ حاکم وقت کے کارندے جھاڑ پونچھ کر جیل سے باہر نکالیں گے اور یہ کہتے ہوئے چھوڑ دیں گے کہ ’’جا تجھے کش مکش دہر سے آزاد کیا‘‘ اس وقت تک رت بدل چکی ہوگی۔ بڑھکیں مارنے والے 8 ماہ بعد بھی بڑھکیں مار رہے ہیں۔ وزیر مشیر بقول غالب، ’’مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں‘‘ میڈیا والوں کو ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ روز پریس کانفرنسیں، بیانات، ٹوئٹ، اپوزیشن کے گرد گھیرا تنگ کرنیکی دھمکیاں، ہر ترقیاتی منصوبے میں کرپشن کی نشاندہی، شہباز شریف ہر اسکینڈل سے بری، پھر بھی ریفرنس، شیخ صاحب کا بس نہیں چلتا ورنہ شریف فیملی کو کالے پانی کی سزا دے کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سیاسی منظر نامہ سے غائب کردیں، بقول غالب

بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

اللہ معاف کرے یہی شیخ صاحب مصاحبی سے قبل الیکشن میں ضمانت ضبط کرا بیٹھے تھے، کسی بھلے مانس نے مشورہ دیا کہ کسی کا سہارا ڈھونڈو، شیخ صاحب نے ڈوبتے ڈوبتے شہیتر کو پکڑ لیا۔ اشارہ غیبی ہوا کہ اب وارے نیارے، شہیتر کے سہارے پار اترے، اب اپوزیشن لیڈروں کی آنکھ کا تنکا دیکھ لیتے ہیں اپنی آنکھ کا شہیتر نظر نہیں آتا۔ بقول ایک مستعفی وزیر ’’شہیتروں سے جپھے مارے بیٹھے ہیں‘‘ بلاول بھٹو نواز شریف سے ملنے جیل گئے تھے کون سی انہونی ہوگئی۔ نواز شریف بھی عمران خان کی عیادت کیلئے چلے گئے تھے۔ بلاول نے بھی عیادت کی، بیماری کا پوچھا ریاست مدینہ میں عیادت عبادت کا درجہ رکھتی ہے شیخ صاحب کو کیسے پتا چل گیا کہ بلاول نے نواز شریف سے سیاسی مشورے طلب کیے۔ میاں صاحب نے کہا میں تو خود پھنسا ہوا ہوں، گرفتار بلا ہوں دعا کیجیے، فضول کمنٹری، بے بنیاد باتیں، اپنے محکمے کی ترقی کے اقدامات کے بجائے اپوزیشن کے پیچھے ڈنڈا لیے مستعد، شیخ صاحب تنہا نہیں باقی سارے درباری بھی سکھ چین کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ساری آفتیں، ساری مصیبتیں اپوزیشن کی قسمت میں لکھی ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ نیب جان چھوڑے گا تو اپنا کردار ادا کریں گے۔ سیاسی منظر نامہ سمجھ میں آرہا ہے۔ اپوزیشن کیخلاف ریفرنسوں، گرفتاریوں اور مقدمات سے حکومت کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا۔ امریکن ادارے انٹرنیشنل ری پبلیکن انسٹی ٹیوٹ (آئی آر آئی) کے حالیہ سروے میں کہا گیا کہ 57 فیصد عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، عمران خان 57 فیصد عوام کی حمایت سے ملک کے مقبول ترین وزیر اعظم قرار پائے۔ ایک امریکی اخبار نے تو نوبل انعام کیلئے نامزد بھی کردیا۔ نواز شریف کی مقبولیت 21 فیصد، آصف زرداری 12 فیصد، صد حیف یہ دن بھی دیکھنے تھے۔ عوام کی اکثریت مہنگائی سے پریشان 77 فیصد لوگ روزگار کے بارے میں فکر مند، اس کے باوجود حکومت کی کارکردگی سے مطمئن، وزیر خزانہ کہتے ہیں مہنگائی اور بڑھے گی، کمال ہے چیخنے چلانے سے حکومت مزید مستحکم ہوگی، پھر وہی سوال کہ اپوزیشن کی صفوں میں سناٹا کیوں؟ عوام کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوگا تو وہ حکمران وقت کے حق میں ہی دعائیں کرینگے تاہم لوگ پوچھتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں متحد کیوں نہیں ہوجاتیں۔ سوال اہم لیکن جواب اہم ترین، دو تین وجوہات، پہلی سب سے بڑی وجہ، اشارہ غیبی نہیں ہوا جس دن اشارہ ہوگیا۔ اسی دن آل پارٹیز کانفرنس ہوگی اور اتحاد کا اعلان کردیا جائیگا۔ دوسری وجہ آصف زرداری ابھی تک باہر ہیں۔ پالیسی یہی ہوگی ایک کو اندر رکھو دوسرے کو باہر لیکن گھیسٹتے رہو، منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت منسوخ، چیلنج کرینگے تو ضمانت بھی ہوجائیگی، کیس بھی ختم نہیں ہوگا۔ بلاول کی دھمکیاں بھی جاری رہیں گی۔ لانگ مارچ کی دھمکی، جیل بھرو تحریک کی دھمکی، وفاقی وزیر اطلاعات نے فوراً ٹوئٹ کیا دھمکی کی ضرورت نہیں جیلیں خود بخود بھر جائیں گی۔ شیخ صاحب نے بھی مارچ، اپریل میں صفایا ہوجانے کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔ نواز شریف جیل میں پڑے پڑے سیاسی سے نظریاتی ہوتے جا رہے ہیں، ٹوٹتے دکھائی نہیں دیتے لیکن اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 62,63 ختم کرنے کو کہا تھا۔ نیب قوانین میں تبدیلی پر زور دیا تھا کسی کی نہ مانی، آج کوئی بھی ان کی نہیں مان رہا۔ وکلا نے رات دن ایک کردیے مگر انہیں تاحیات نا اہلی اور قید و بند کی صعوبتوں سے نہ بچا سکے۔ آرٹیکل 62,63 خود ان ہی پر لاگو ہوگیا۔ اپنے ہی دام میں پھنس گئے، یاروں نے بزعم خود انہیں سیاسی منظر نامے سے ہی غائب کردیا۔ اپوزیشن اتحاد میں نیب بڑی رکاوٹ، سمت بدلے تو اپوزیشن لیڈر اتحاد کا سوچیں، سمت خود بخود نہیں بدلے گی، بیک ڈور ڈپلومیسی شروع ہو۔ علیل، ڈیل، اپیل اسی پر جھنجھٹ سے نجات کا دار و مدار، ڈیل یا اپیل پر آزادی کے ساتھ ساتھ سمت بھی بدل جائے گی، گھر بیٹھ کر اتحاد کی سمت متعین کی جاسکتی ہے۔ سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اتحادیوں کا پیمانہ صبر ابھی لبریز نہیں ہوا۔ مایوسی دلوں میں گھر کر رہی ہے۔ غصہ کا پارہ چڑھ رہا ہے درجہ حرارت میں اضافہ بھی ہورہا ہے لیکن اتنا نہیں کہ قابو سے باہر ہوجائے۔ اختر مینگل ایک دو بیانات میں اپنے تحفظات کا اظہار کر کے خاموش ہوگئے۔ ایم کیو ایم اپنے موجودہ اسٹیٹس سے غیر مطمئن لیکن اپنے حالات پر دم بخود ’’پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے‘‘ فی الحال خاموش رہنے پر مجبور، ق لیگ نے اپنے تحفظات کا اظہار کردیا لیکن اس کی خواہش بہت چھوٹی ہے، مونس الٰہی کو نوکری چاہیے۔ وزارت مل جائے تو اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی، چوہدری شجاعت اس معاملہ پر مٹی نہیں پا سکے، عمران خان کے پاس پہنچ گئے۔ شنوائی ہوئی یا نہیں واپسی پر چوہدری صاحب کو چپ لگ گئی، حکومت سے علیحدہ ہو نہیں سکتے، علیحدہ ہو کر کیا کریں گے، بقول غلام محمد قاصر۔

کروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

محبت کی بجائے سیاست لگا لیجیے شعر حسب حال ہوجائے گا، تینوں اتحادی پارٹیاں بدستور اقتدار سے چمٹی نظر آتی ہیں ’’چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافرلگی ہوئی‘‘ اپوزیشن تینوں اتحادیوں کے بغیر کیا بگاڑ لے گی۔ دباؤ بڑھا لے حکومت کو گرا نہیں سکتی، پھر اسی اشارہ غیبی کا انتظار ، سیاسی منظر نامہ دھندلا نہیں واضح ہے، عوام کو مستقبل قریب میں نواز شریف یا آصف زرداری میں سے کوئی نظر نہیں آتا، ’’پھر کسے رہنما کرے کوئی‘‘ اسی لیے عوام نے مہنگائی کی کڑوی گولی بھی نگل لی ہے، اللہ خیر کرے۔


ای پیپر