اسلام میں عورتوں کے حقوق
17 مارچ 2019 2019-03-17

پاکستان کے دو بڑے شہروں لاہور اور کراچی میں چند دن قبل عورت مارچ کے نام پر وہ طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا کہ پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے۔ مارچ میں ایسی مادر پدر آزاد عورتیں شریک ہوئیں کہ جن سے بلاشبہ مردوں کو بھی پردہ کرنا ضروری ہے۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر نعرہ تو حقوق نسواں کا لگایا گیا لیکن درحقیقت ان کی خواہش یہ ہے کہ انہیں ایسا ماحول میسر ہو جہاں ہم جنس پرستی اور فحاشی و عریانی عام ہو،وہ برسرعام جو چاہیں کریں کوئی انہیں پوچھنے والا نہ ہو ۔ مارچ میں شریک عورتوں نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے کہ جنہیں زبان پر لانا بھی ایک عزت مند شخص کیلئے ممکن نہیں ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں غیر ملکی قوتوں کی آشیرباد سے ایسی کئی این جی اوز کام کر رہی ہیں جو ڈالروں کے حصول کیلئے پاکستانی معاشرے کو لادینیت، فحاشی و عریانی اور بے راہ روی کی دلدل میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔ عورت کے حقوق کی بات کرنے والی ان سبھی این جی اوز کی بھاگ دوڑ مغرب پسند طبقہ کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ عورت کو کٹھ پتلی کی طرح نچاتے ہیں اور پوری دنیا میں اسلام او رمسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ کہنے کو تو یہ عورت مارچ تھا مگر اس میں کئی مردوں اور خواجہ سراؤں نے بھی خواتین کا روپ دھار کر شرکت کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تعداد زیادہ ظاہر کرنے کیلئے بعض غریب عورتوں کو بھی چند سو یا ہزار روپے دیکر کتبے تھماکر مارچ میں شریک کیا گیا۔ بہر حال یہ جو کچھ بھی تھا ایک اسلامی ملک میں ایسی مذموم حرکتیں پورے ملک اور معاشرے کیلئے بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔ حقوق نسواں کے نام پراسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے والی یہ عورتیں خود بھی اس بات سے نابلد ہیں کہ اسلامی شریعت نے ایک عورت کے حقوق کا کس قدر خیال رکھا اور کیا بلند مقام عطا فرمایا ہے؟ظہور اسلام سے قبل عورتوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ معصوم بچیوں کو گڑھا کھود کو زندہ زمین میں دفنا دیا جاتااورعورت کے وجود کو باعث عار سمجھا جاتا تھا۔ قدیم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یونان، مصر، ہند، عراق اور چین سمیت ہر جگہ عورت پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے تھے۔ مظلوم عورتوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا اور انہیں محض اپنی عیش و عشرت کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔یہ انڈیا جہاں روزانہ کئی عورتوں کے ساتھ درندگی ہوتی ہے اور خواتین چلتی بسوں، ٹرینوں، گاڑیوں اور دیگر مقامات پر بھی محفوظ نہیں ہیںیہاں عورت کو خاوند کے مرنے پر اس کے ساتھ ہی زندہ جلا دیا جاتاتھا اور آج بھی یہ رسم مختلف علاقوں میں کسی نہ کسی حد تک موجود ہے۔ دنیا بھر کی تہذیبوں میں عورت کی کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی۔ نہ اس کی کوئی مرضی چلتی اور نہ ہی اسے ظلم کیخلاف آواز بلند کرنے کا حق حاصل تھا مگر اسلام نے عورت کو ذلت و پستی کے تاریک گڑھوں سے نکالا اور وہی عورت جسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا اسے عزت عطا کی اور بے پناہ حقوق دیے۔ مغربی تہذیب عورت کو اس وقت عزت دیتی ہے جب وہ مردوں کی طرح ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے پر تیار ہو لیکن پیغمبر اسلام نبی اکرم ﷺ نے قومی و ملی زندگی میں عورت کی اہمیت سمجھتے ہوئے اسے فطرت کے مطابق ذمہ داریاں سونپیں۔ اسلام دین فطرت ہے اور اس نے اپنے ماننے والوں کیلئے زندگی گزارنے کا ایک مکمل لائحہ عمل دیا ہے۔ اسلام کی رو سے دین کے معاملہ میں ایک مرداور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ ان کی جسمانی ساخت ضرور مختلف ہے لیکن بحیثیت انسان دونوں برابر ہیں۔ اسلام نے اس بات کا پورا خیال رکھا ہے کہ ایک عورت ہونے کی بنا پر اس کے حقوق مسخ نہ ہوں، اس کی صلاحیتیں نہ کچلی جائیں اوراس کے ساتھ ناانصافی نہ ہو ۔ عام طور پر کمزور کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے کافی محنت اورکوشش کرنی پڑتی ہے تب کہیں جاکر ان کو ان کے جائز حقوق ملتے ہیں، ورنہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاتالیکن اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیے جس سے وہ مدت دراز سے محروم چلی آرہی تھی۔ یہ حقوق اسلام نے اس لیے نہیں دیے کہ عورت اس کامطالبہ کررہی تھی بلکہ اس لیے کہ یہ عورت کے فطری حقوق تھے جن کا ملنا اس کا حق تھا۔دیکھا جائے تو اسلام نے عورت کو معاشرے میں جو مقام ومرتبہ دیا ہے وہ بے ہودہ روایات سے پاک ہے۔ نہ تو ایک عورت کو گناہ کا پتلا بنا کر مظلوم بنانے کی اجازت ہے اور نہ ہی اسے یورپ جیسی آزادی حاصل ہے۔ اسلام نے عورت پر احسان کرتے ہوئے اس کی شخصیت سے متعلق مردوعورت دونوں کی سوچ اور ذہنیت کو تبدیل کیا۔ اس کے معاشی، سماجی اور تمدنی حقوق کا فرض ادا کیا ، اس بنا پر انسان ہونے میں مرداور عورت دونوں برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’ہم نے بنی آدم کو بزرگی وفضیلت بخشی اور انھیں خشکی اور تری کے لیے سواری دی۔ انھیں پاک چیزوں کا رزق بخشا اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سی چیزوں پر انھیں فضیلت دی‘‘۔اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک او رمقام پر فرماتا ہے کہ ’’ہم نے انسان کو بہترین شکل وصورت میں پیدا کیا‘‘۔ چنانچہ آدم کو جملہ مخلوقات پر فضیلت بخشی گئی اور انسان ہونے کی حیثیت سے جو سرفرازی عطا کی گئی اس میں عورت برابر کی حصے دارہے۔اسلامی معاشرہ نے بعض حالتوں میں اسے مردوں پرفوقیت اور عزت و احترام عطا کیا ہے۔ اسلام نے عورت کو اگر پردہ کا حکم دیا ہے تو اس میں اسی کی بہتری اور حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔ مغرب نے عورت کو معاشرے میں کھلونا اور اشتہار بنا کر رکھ دیا ہے یہی وجہ ہے کہ جس طرح وہاں عورتوں کے حقوق پامال کئے جارہے ہیں مسلمان ملکوں میں تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مغربی معاشروں میں خاندانی نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے اور بچوں کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے باپ کا نام کیا ہے؟۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مغربی ملکوں کی عورتیں اسلام کی پناہ میں آکر اپنی عزتیں و حقوق محفوظ کرنا چاہتی ہیں اور خواتین کی بہت بڑی تعداد اسلام قبول کر رہی ہے لیکن پاکستان اور دیگر اسلامی معاشروں میں ڈالروں پر پلنے والی بعض این جی اوز سے تعلق رکھنے والی حیا باختہ خواتین جنسی بے راہ روی عام کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ درحقیقت یہ سب اوچھی حرکتیں نکاح کے خلاف منظم مہم اورزنا آسان بنانے کیلئے کی جارہی ہیں۔اس بات کاعملی ثبوت اور کیا ہو گا کہ نام نہاد عورت مارچ میں سب سے زیادہ کتبے عورت کی آزادی کے نام پر نکاح کے خلاف ہی لکھے گئے تھے۔ عورتوں کے مارچ کی بازگشت قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی سنائی دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے پاکستان میں اسلامی اور پاکیزہ معاشرے کو برباد کرنے کیلئے کروڑوں ڈالر خرچ کئے جارہے ہیں۔ مغرب کو مسلمانوں کا خاندانی نظام ایک آنکھ نہیں بھاتا وہ مسلمانوں کو بھی شرم و حیاسے عاری بنانا چاہتے ہیں۔ اسلامی شریعت نے نکاح جلد کرنے اور خواتین کو پردہ کا حکم دیا ہے۔ جب نکاح میں تاخیر ہوتی ہے تو معاشروں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔اہل اقتدار کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی ہندووانہ رسوم و رواج پر پابندی لگائیں اور نکاح کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ اسی طرح محض اسمبلیوں میں تبصرے کر لینا ہی کافی نہیں ہے پاکستان کے مسلم معاشرہ کو برباد کرنے کی سازشیں کرنے والے خفیہ کردار بے نقاب کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ ملک لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیا ہے یہاں ایسی لغویات اور اسلامی معاشرہ برباد کرنے کی کسی طور اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس موقع پر سیاسی، مذہبی و سماجی تنظیموں اور جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے بھرپور کردار ادا کریں۔یہ ملک اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اس کی جغرافیائی سرحدوں کی طرح نظریاتی سرحدوں کا تحفظ بھی ہم سب پر فرض ہے۔


ای پیپر