مشتر کہ مفا د اور مشتر کہ میثا ق !
17 مارچ 2019 2019-03-17

یہ کہنا کہ وطنِ عزیز میں حز بِ قتدار اور حز بِ اختلاف کے در میا ن کسی قسم کا میثا ق مو جو دنہیں، انتہا ئی غلط ہو گا۔ یہ میثاق ہے ذا تی مفا دا ت کا۔ اس میثاق کی بدولت ایک رکن کا مفاد پوری برادری کا مفاد بن جاتا ہے۔ بات ہورہی تھی تنخواہوں اور مراعات میں ہوشربا اضافے کی۔ پنجاب اسمبلی کے تمام اراکین، جو ہر روز ایک دوسرے کے گریبان تک پہنچتے ہیں، نے اپنے اپنے جماعتی پرچم اور باہمی اختلافات ایک طرف رکھ دیئے ہیں۔ ہر رکن نے اپنی جماعت کو یکسر بھول کر اپنے ذاتی مفاد کا علم مضبوطی سے تھام رکھا ہے۔ یہ اسی میثاق کی بدولت ہوا ۔ اس با رے چند اطلات عوا م تک پہنچا نا ضرو ری ہیں۔توپہلی اطلاع یہ ہے کہ بل قائمہ کمیٹی میں 24 گھنٹے کے اندر منظور ہوا۔ پھر ایوان میں لایا گیا اور منٹوں میں منظور کرلیا گیا۔ بل گورنر صاحب کو دستخطوں کے لیے بھجوادیا گیا ہے۔ توقع یہی ہے کہ وہ اس مسودۂ قانون کی توثیق کے لیے پہلے سے قلم ہاتھ میں لیے انتظار میں ہوں گے۔ بلاتوقف دستخط کردیئے جائیں گے۔ حالات کا ’تقاضا‘ بھی یہی ہے۔ یہ وقت صوبے کی مالی حالت دیکھنے کا نہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ہمارا واویلا اور دہائیاں ان تک نہ پہنچی ہوں گی۔ پہنچیں بھی کیسے، درمیان میں اونچی دیواریں ہیں۔و قت سرکاری وسائل کے محتاط استعمال کے بارے خیالات زریں پر نظر ڈالنے کا نہیں۔ یہ وقت ہے اپنی جیب کی فکر کرنے کا۔ اس موقع پر یاد آیا کہ پاکستان تحریک انصاف ہی وہ جماعت ہے جس کے بارے سنتے آئے ہیں کہ دھرنے کے دوران کئی ہفتوں کی غیر حاضری کے باوجود اس کے ارکان اسمبلی نے تنخواہیں اور الاؤنسز پورے پورے وصول کیے تھے۔ ہمارے ہاں سرکاری خزانے اور یتیم کے مال میں کیا فرق ہے؟ اس کا کوئی وارث ہوتا ہے؟ پاکستان میں اوسط ماہانہ آمدنی 135 ڈالر ہے۔ ہمارے 45 فیصد بچے ناکافی غذا کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی طور پر کمتر رہیں گے۔ باہر والی دنیا انہیں ’’سٹنڈ‘‘ کہتی ہے یعنی ناقص، نمو سے محروم، کند ذہن۔ مگر کیا کریں کہ ہماری مستقبل کی قریب نصف آبادی اسی قسم کے حالات سے دوچار ہے۔ انہیں وہ خوراک مل نہیں پاتی جس کی انہیں ضرورت ہے، کیونکہ ان کے والدین کی آمدنی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے اور حکومت کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ان بچوں کو کچھ کھانے کو ملتا ہے یا نہیں، یا انہیں سیکھنے کے مناسب مواقع میسر ہیں یا نہیں۔ ہمارے منتخب نمائندوں نے اپنے لیے کیا معاوضے اور مراعات جائز اور مناسب سمجھے ہیں، قارئین غور فرمائیں۔ سب سے پہلے جناب وزیر اعلیٰ کو دیکھیں۔ ان کی گرانقدر خدمات عوام کے سامنے ہیں۔ اس عہدے کے لیے ان کی اہلیت کے بھی ’’معترف‘‘ ہیں۔ اسی لیے ان کی تنخواہ 59 ہزار سے بڑھا کر 3 لاکھ 75 ہزار کی جارہی ہے۔ مراعات میں بے تحاشہ اضافہ الگ ہے جبکہ تاحیات گھر بھی ملے گا۔ سرکاری گھر لینے کے طریقے معروف ہیں۔ ایک سابق صدر اچھے بھلے اپنے گھر میں رہا کرتے تھے۔ جب یہ سہولت ملی وہ اسے کرائے پر چڑھا کر سرکاری گھر میں آن بسے۔ وزرا کی فوج ہے اور ہر وزیر کی خدمات اور کارکردگی عوام ’’سنہری حروف‘‘ سے لکھتے ہیں، اسی لیے ان کی تنخواہ 45 ہزار سے بڑھ اکر ایک لاکھ 85 ہزار کی جارہی ہے۔ جناب سپیکر اور ان کے نائب کی تنخواہیں 59 ہزار اور 38 ہزار سے بڑھ اکر بالترتیب 2 لاکھ 60 ہزار اور 2 لاکھ 45 ہزار کی جارہی ہیں۔ اراکین اسمبلی کی خدمات تو سب عہدیداروں پر بھاری ہوتی ہیں، اس لیے اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہ 83 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کردی گئی ہے اور مراعات کو بھی کئی گنا بڑھادیا گیا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری، سپیشل اسسٹنٹ اور مشیر بھی چونکہ ’’عوامی خدمت‘‘ میں پیش پیش رہتے ہیں، اس لیے انہیں بھی بھلایا نہیں جاسکتا، کسی سے کم نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس شاہانہ نوازش کا سلوک دوسروں کی طرح ان کے لیے بھی ہے۔ یہ واضح کرنا مناسب ہوگا کہ منتخب اراکین اوار ان کے سرکاری عہدوں کی نسبت سے معاوضے اور مراعات پر ہمیں کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں۔ اعتراض ہو بھی نہیں سکتا کہ دنیا بھر میں یہی معمول ہے۔ ان معاوضوں اور مراعات میں اضافے پر بھی اعتراض نہیں کہ وقت کے ساتھ تنخواہیں بڑھنا ہی چاہئیں لیکن جو ہورہا ہے اور جس طرح ہورہا ہے ہمیں اس پر شدید اعتراض ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان نے جس طرح اپنی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے کو نمٹایا ہے، اس سے یوں لگتا ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ منتخب نمائندوں کی پہلی ترجیح ہے، عوام کی خدمت یا قانون سازی نہیں اور اضافہ بھی ایسا کہ سرکار سے تنخواہیں پانے والے دیگر تمام طبقات بس اس کا تصور ہی کرسکتے ہیں۔ دوسری جانب ملک کے مالی حالات ان دنوں دگرگوں ہیں، قرضے لے کر گزارہ کیا جارہا ہے اور مالی مشکلات کے باعث کئی اہمیت کے حامل منصوبے التوا میں پڑے ہیں۔ ان حالات میں پنجاب اسمبلی کی جانب سے ارکان کی تنخواہوں میں ہوش اڑا دینے والا اضافہ کیا ارکان کی خود غرضی پر محمول نہ ہوگا؟ منتخب ایوان کی اس کارکردگی کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو پاکستان پر رحم آتا ہے۔ قائد ملت کے آخری الفاظ یاد آتے ہیں ’’اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے!‘‘ وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی کی جانب سے تنخواہوں اور مراعات میں اس من مانے اضافے کو مایوس کن قرار دے دیا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان خوشحال ہوجائے تو شاید یہ قابل فہم ہو مگر ایسے میں جب عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہی وسائل دستیاب نہیں یہ فیصلہ بالکل بلا جواز ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی پنجاب اسمبلی کے اس فیصلے پر افسردگی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ ان نازک معاشی حالات میں یہ رویہ شرمناک ہے۔ پی ٹی آئی کے کئی دیگر رہنماؤں نے بھی اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے خود کو نوازے کا اقدام اور وزیر اعظم اور وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے متصادم قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا برحق ہے، پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں کی تشویش بھی بجا، مگر کاش وزیر اعظم نے اس اقدا م کا کچھ روز پہلے نوٹس لیا ہوتا اور صوبے کی حکومت کو ہدایت کردی ہوتی کہ وہ اس بل کی حمایت نہ کرے۔ اب جبکہ مسودۂ بل کی منظوری دی جاچکی ہے، اس کی واپسی اور نظر ثانی کا صرف یہی امکان باقی ہے کہ گورنر پنجاب کردار ادا کریں۔یعنی ڈو بتے کو تنکے کے سہا رے کی امید۔


ای پیپر