انٹرنیشنل بیفلو کانگرس 2019ء
17 مارچ 2019 2019-03-17

گیارہویں ورلڈ بیفلو کانگریس کا انعقاد 25۔23 نومبر 2016ء میں کولمبیا کے شہر کار ٹیجنا کے لاس امریکہ ہوٹل میں ہوا۔ پاکستان کو بھی اس کانگریس میں مدعو کیا گیا لیکن ویزہ میں مشکلات کے باعث کوئی بھی نمائندہ پاکستان کی طرف سے نمائندگی نہ کر سکا۔ بظاہر یہ ایک معمولی بات تھی لیکن ایک امریکن تعلیم یافتہ محب وطن پاکستانی کو اس کانگریس میں شرکت نہ کرنے کا دکھ کھائے جا رہا تھا۔ وہ اس کانگریس میں شرکت کر کے اگلی ورلڈ بیفلو کانگریس پاکستان میں کروانا چاہتے تھے۔ انتھک کوششوں کے باوجود جب کانگریس میں شرکت کے امکانات ختم ہو گئے تو انھوں نے ہمت نہ ہاری اور اعلان کیا کہ اگلی ورلڈ بیفلو کانگریس سے پہلے انٹرنیشنل بیفلو کانگریس پاکستان میں ہو گی۔ جس میں دنیا بھر سے لوگ شرکت کریں گے تاکہ ہم دنیا سے کٹ کر نہ رہ جائیں۔یہ نعرہ بظاہر ناممکن نظر آتا تھالیکن نیک نیتی، سچی لگن، وطن سے محبت اور مستقل محنت کے باعث انٹرنیشنل بیفلو کانگریس2019ء پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے پرل کونٹی نینٹل ہوٹل میں 19۔18 فروری 2019ء کو کامیابی سے منعقد ہو گئی۔ جس نے پوری دنیا میں پاکستان کے مثبت پہلو کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ یقیناًاب تک اس شخصیت کا نام جان چکے ہوں گے۔ جی ہاں ان کا نام پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا ہے۔یونیورسٹی آف ویٹنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے وائس چانسلر ہیں۔ ویٹنری سائنس میں ان کی تحقیقات اور خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے انھیں 2015ء میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا ہے۔ کانگریس کو کامیاب کرنے کے لیے وفاقی حکومت سمیت تمام صوبائی حکومتوں نے اپنی شرکت کو یقینی بنایا۔وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے اس کانگریس کے انعقاد اور انتظامات میں ذاتی دلچسپی لی۔ انھوں نے کانگریس کا افتتاح کیا اور لائیو سٹاک کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ صوبائی وزیر لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب حسنین بہادر دریشک اور سیکرٹری لائیو سٹاک محمد احسن وحید نے تمام بزنس میٹنگز، کانفرنس اور لائیو سٹاک شو میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے وزرائے اعلی نے بھی کانگرس میں شرکت کی جو کہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ حکومت پاکستان وفاقی اور صوبائی سطح پر لائیو سٹاک کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے نیک نیتی سے کوشاں ہے۔ ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا صاحب کی دعوت پر میں بھی بطور کالم نگار اس کانگریس میں شریک ہوا۔ چائنا سے آئے ہوئے وفد، بھارتی پروفیسروں اور کینیڈا سے آئے فارم ہاوس کے مالکوں سے میری تفصیلی بات ہوئی۔وہ کانگریس کے انعقاد پر خوش تھے اور بہترین میزبانی پر منتظمین کے شکرگزار بھی تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دودھ دینے والی بھینسوں کی بہترین نسلیں موجود ہیں۔ نیل اور کوہستانی نسل والے دودھ کے جانور وہ پاکستان سے بھارت اور کینڈا لیکر جاتے رہتے ہیں۔ برآمدات بڑھانے کے لیے صرف ایف ایم ڈی اور دیگر بیماریوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

کانگریس میں سترہ ممالک کے ساٹھ سے زیادہ ماہرین نے شرکت کی۔ ان ممالک میں امریکہ، انڈیا، کینیڈا، ایران، چائنا، سری لنکا، عراق، نیپال، تھائی لینڈ، فلپائن، بلغاریا اور اٹلی سرفہرست تھے۔ کانگریس کے انتظامات بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھ کر کیے گئے تھے۔ کانگریس میں ایک مکمل سیشن، چودہ ٹیکنیکل سیشنز، ایک فارمر انڈسٹری فورم، سات پری کانگریس ورکشاپس اور ٹیکنیکل گروپس کی سات بزنس میٹنگز شامل تھیں۔ دو دن کی اس کانگریس میں نوے سے زیادہ پوسٹر پیش کیے گئے۔ بھینسوں کے دس مختلف پہلوؤں پر سو سے زیادہ پرزنٹیشن دی گئیں۔ چودہ سے زیادہ ماہر مقرر اس کانگریس میں موجود تھے۔اس کے علاوہ پتوکی میں نیشنل لائیو سٹاک اور بیفلو شو کا بھی انعقاد کیا گیا۔ جس میں پانچ ہزار سے زیادہ کسانوں نے شرکت کی جو کہ بہت بڑی کامیابی ہے۔اس شو میں سو سے زیادہ بہترین نسلوں کی بھینسوں کا دودھ دینے کا مقابلہ کروایا گیا۔ جیتنے والی بھینس نے چھتیس گھنٹوں میں پچاس لیٹر سے زیادہ دودھ دے کر پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ اس کے علاوہ بھینسوں کی خوبصورتی کے مقابلے بھی کروائے گئے۔ چولستان کی گائیوں، بھینسوں کی تمام نسلوں کو مقامی کسانوں سمیت بیرون ممالک سے آئے ہوئے نمائندوں نے خوب پسند کیا۔ بیرون ممالک سے آنے والے ماہرین اور فارم مالکان نے پاکستانی بھینسوں کی خریداری اور اپنے ملک میں ان کی برآمدات میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ کانگریس کے اختتام پر بیرون ممالک سے آئے ہوئے نمائندوں کو ضلع ساہیوال میں قادر آباد کے مقام پر سیمن پروڈکشن یونٹ کا دورہ بھی کروایا گیا۔ یہ دورہ انتہائی کامیاب رہا۔ بیرونی نمائندوں نے لیباریٹری پروٹوکول کو بین الاقوامی معیار کے مطابق قائم رکھنے پر حکومت پنجاب کی تعریف کی اور اس معیار کو اپنے ملک میں بھی قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔بیرون ملک سے آئے مہمانوں کی تفریح اور پروٹوکول کا مکمل خیال رکھا گیا تھا۔ انھیں اندرون لاہور کی سیر کروائی گئی۔ اس کے لیے خصوصی رکشوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ جنھیں دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ اس کے بعد لاہور کے شاہی قلعہ میں روایتی موسیقی پروگرام کا انتظام کیا گیا تھا۔موسیقی کے بعد لاہوری سپیشل کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ مہمان حکومت پنجاب کی اس میزبانی سے بہت لطف اندوز ہوئے اور کانگرس کو ہر لحاظ سے کامیاب اور بین القوامی معیار کے عین مطابق قرار دیا۔اس سال ورلڈ بیفلو کانگریس 2019ء کی میزبانی ترکی کر رہا ہے۔ ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا اس کانگریس میں شرکت کر کے ورلڈ بیفلو کانگریس 2022ء کی میزبانی پاکستان کو دلوانے کے لیے اپنا کیس پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔میں دعا گو ہوں کہ اللہ ڈاکٹر صاحب کو کامیاب کرے تاکہ پاکستانی کسان خوشحال ہو سکے۔ کیونکہ جس دن پاکستانی کسان خوشحال ہو گیا اس دن پاکستان لائیو سٹاک کے شعبے میں برازیل، انڈیا،آسٹریلیا اور امریکہ کو پیچھے چھوڑ دے گا اور ہمیں ملک چلانے کے لیے بھیک نہیں مانگنا پڑے گی۔


ای پیپر