ریاست ہو گی ماں کے جیسی ؟
17 مارچ 2019 2019-03-17

اگر میں کسی مہذب اور جمہوری ریاست کا شہری ہوتا تو اس وقت اس کی پارلیمنٹ بریگیڈئیر ریٹائرڈ اسد منیر کی خود کشی کے بعدملک میں جاری احتساب کے عمل، ادارے کی کارکردگی اور ریاست پر مجموعی اثرات کے بارے ضرورمکالمہ کر رہی ہوتی اور کسی نہ کسی فیصلے پر پہنچ رہی ہوتی۔میں خود سے سوال پوچھتا ہوں کہ کیا میں کرپٹ لوگوں کے احتساب کا مخالف ہوں تو رب العالمین کو حاضر ناظر جانتے ہوئے جواب دیتا ہوں کہ نہیں۔ کرپٹ لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے اوربلاامتیاز ہونا چاہئے مگر سوال یہ ہے کیا واقعی کرپٹ لوگوں کا احتساب ہو رہا ہے اور کیا واقعی بلاامتیاز ہو رہا ہے اور اس کا جواب آپ کے پاس موجود ہے اور یہی جواب ریاستی سطح پر ہمارے مکالمے اور فیصلے کی بنیاد ہونا چاہئے۔

قومی احتساب بیورو کو خوشیاں منانی چاہئیں کہ اس کا خوف اتنا بڑھ چکا کہ ایک ریٹائرڈ بریگیڈئیر گرفتاری کے ڈر سے خود کشی کر لیتا ہے مگر مجھے موت کو گلے لگا لینے والے شخص کی گواہی پر ایک رتی برابر بھی شبہ نہیں کہ اس کے پاس جھوٹ بولنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا جب وہ یہ کہتا ہے کہ اس کے کیس میں ایک کے سوا تمام تحقیقاتی افسران نااہل، مغرور، بدتمیز اور غیر تربیت یافتہ تھے۔ میں نے اس پر نیب میں تفتیش بھگتنے والے ایک معروف شخص سے پوچھا تواس نے جواب دیا کہ آئی او یعنی انویسٹی گیشن آفیسر کے نام پر چھبیس ، ستائیس برس کے ایسے نوجوان بھی ہیں جن کا قانون اور تفتیش سے کوئی تجربہ نہیں اور وہ بے ضابطگی، بے قاعدگی اور بدعنوانی کے درمیان فرق کرنے کے بھی اہل نہیں۔ اسد منیر کو واقعی خود کشی کر لینی چاہئے تھی کہ جب اسے یہ علم تھا کہ نیب کے اس قانون میںگرفتاری کے بعد ضمانت کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اورگرفتاری کا فیصلہ سو فیصد نیب کے ادار ے کی اپنی صوابدید پر ہے، نیب محض الزام پر گرفتا ر کر سکتا ہے اور ثبوت اس کے بعد اکٹھے کر سکتا ہے۔ کیا کسی مہذب ملک میں وائیٹ کالر کرائم پر گرفتاری کے ایسے قوانین کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ میاں نواز شریف اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر شور مچاتے ہیں، ان کے حامی بہت آنسو بہاتے ہیں، کیا ایسا تو نہیں کہ ایسے ہی ظالمانہ قوانین کی چوکیداری کرنے پر انہیں کسی کی بددعا لگی ہو ۔ وہ خود کو نظریہ کہتے ہیں مگر یہ کیسا نظریہ ہے کہ وہ جس نظام کے خود شکار ہوئے ہیں اسے تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نیب کے قوانین میں تبدیلی کی حمایت نہیں کریں گے کہ انہوں نے جو بھگتنا تھا بھگت لیا اور اب ان کے سیاسی مخالفین بھگتیں گے۔ مجھے یہ کہنے میںعار نہیں کہ اس قانون میں ہر بے گناہ کی گرفتاری اور موت کے گناہ کا حصہ بقدر جثہ ان سب تک ضرور پہنچے گا جو ان قوانین کی حفاظت کریں گے۔ اس سے پہلے ایک پروفیسر صاحب مارے جا چکے اور وہ صاحب بھی جن پر گھوسٹ ٹیچروں میں تنخواہوں کی تقسیم پر ناقص نگرانی کا الزام تھا۔

ایک منٹ ٹھہرئیے، کیا میری بات کا یہ مطلب ہوا کہ نیب کی تحویل میں جو بھی مرے گا اس کا ذمہ دار نیب ہی ہو گا ، نہیں ہرگز نہیں مگر نیب کے ناقص قوانین، روئیے ، کردار اور کارکردگی کی وجہ سے جو بھی مرے گا اس کا ذمہ دار نیب ہی ہو گا۔ نواز شریف کی حکومت تو اب ماضی ہوچکی، گیند اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی کورٹ میں ہے، جناب وزیراعظم کہتے ہیں کہ وہ مودی سے بات کرسکتے ہیں مگر چوروں سے نہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کشمیر پر قابض ہے، جس کی افواج کشمیری خواتین کی عصمت دری کر رہی ہیں، کشمیری نوجوانوں کو قتل کر رہی ہیں، جس کے پائلٹ ہماری ریاست کی عزت پامال کر رہے ہیں، اس قصائی سے بات ہو سکتی ہے مگر اپنے وطن کے لوگوں سے نہیں جن پر محض الزامات ہیں اور جو ثابت بھی نہیں ہوئے، جی ہاں، میں کسی مہذب اور جمہوری ملک کا شہری ہوتا تو میری قیادت ایسے بیانات ہرگز نہ دے پاتی۔ بات نیب کی ہو رہی ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ نیب کی کارکردگی پر پارلیمنٹ کی کوئی کمیٹی بھی جواب طلبی نہیں کرسکتی کیونکہ نیب کے پاس اختیار موجو دہے کہ وہ ان تمام کمیٹیوں کے ارکان کے گرد پھندا مضبوطی سے باندھ سکتا ہے تو کیا یہ پھندا موجودہ حکومت کے خلاف نہیں استعمال ہو سکتا۔ ابھی موجودہ حکمران اسی خیال کا شکار ہیں لیکن جب ہم بے ضابطگی اور بے قاعدگی کو کرپشن کے ساتھ رکھیں گے تو پھر وہ تمام لوگ پکڑے جائیں گے جنہوں نے میٹرو پشاور کا بجٹ دوگنا کر دیا، جنہیں میٹرو کے روٹ کی تعمیر اور جنگلے لگنے کے بعد پتا چلا کہ وہاں سے تو دو بسیں ایک ساتھ گزر ہی نہیں سکتیں، جنہیں منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچانے کے بعد علم ہوا کہ ایسے ہر منصوبے میں سیوریج اور ڈرینج کا نظام بھی شامل ہوتا ہے۔

میٹرو پشاور تو ایک مثال ہے ورنہ جہاں بھی فیصلہ

ہو گا اس پر کوئی نہ کوئی اعتراض ضرور ہوسکے گا اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اعتراض پر ایکشن لینے والوں کی فہم، فراست اور تجربہ کیا ہے، کیا وہ ایک غیر معروف اخبار کے ایک ایک غیر معروف کالم نگار کی رائے پر کسی سابق وزیراعظم پرتاریخ کی سب سے بڑی منی لانڈرنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے تحقیق و تفتیش شروع کر سکتے ہیں تو پھر سب کو ایسے لوگوں کے پاس موجودہ اختیارات سے خوفزدہ رہنا چاہئے کیونکہ ان کے ہاتھ میں محض الزام پر آپ کے خلاف ہر قسم کی کارروائی کا اختیار موجود ہے اور اگر آپ ایسے باکمال اداروں کی موجودگی میں عزت چاہتے ہیں تو پھرآپ کے پاس خود کشی کا راستہ ہی باقی رہ جاتا ہے کہ شائد کچھ لوگ آپ کی بے گناہی پر یقین کر لیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ نشاندہی کرنی ہے کہ احتساب کا یہ عمل ملکی وحدت کو بھی متاثر کرنے جا رہا ہے۔ میں نے پیپلزپارٹی کے رہنما منور انجم کو کہتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ بلاول بھٹو زرداری پر جتنے بھی کیس ہیں وہ سندھ کے ہیں مگر انہیں نیب راولپنڈی میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ نیب ا س سے پہلے سندھ اسمبلی کے سپیکر آغا سراج درانی کو بھی اسلام آباد سے گرفتار کر چکا ہے حالانکہ یہ گرفتاری سندھ میں بھی ہوسکتی تھی۔ میں نے سوچا کہ بلاول بھٹو زرداری کو سندھ کے مقدمہ میں نیب سندھ کا باقاعدہ بیورو ہونے کے باوجود راولپنڈی کیوں طلب کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کا کوئی جواب نہیں ملا مگر پیپلزپارٹی کے حلقوں میںیہ ضرور سننے کو ملا کہ بلاول بھٹو زرداری کو اسی راولپنڈی میں طلب کیا جا رہا ہے جہاں کی جیل میں اس کے نانا کو پھانسی دی گئی اور جہاں کے لیاقت باغ میں اس کی ماں کو گولی مار کے جاں بحق کر دیا گیا، یہ وہی پنڈی ہے جہاں سے قائد ملت لیاقت علی خان کی نعش بھی بھیجی گئی تھی مگر ایسی باتوں پر غور کرنے کا دماغ اور وقت مہذب اقوا م کے پاس ہوتا ہے جہاں گالیوں ، جوتوں، ڈنڈوں اور ہتھوڑوں کو ہی عزت اور وقعت دی جائے وہاں جمہوریت اور تہذیب کی نشوونما نہیں ہوتی۔ ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ ہم نے ایک ایسا پاکستان بنا لیا ہے جہاں لوگ گالیوں، جوتوں، ڈنڈوں، ہتھوڑوں اور ہتھکڑیوں سے ڈر کے خود کشی کر رہے ہیں اور ہم اسے احتساب کا نام دے رہے ہیں۔ نیب نے ریاست کاانتہا درجے کا خوف پیدا کر لیا ہے جو اس کی کامیابی ہے مگر یہ سوال تاریخ، سیاسیاست اور سماجیات کے ماہرین سے ہے کہ کیا ریاستیں ڈر اور خوف سے اپنا وجود اورشہریوں سے تعلق برقرار رکھ پاتی ہیں۔ کسی شخص نے نعرہ لگایا تھا کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی ، کیا ماں کا تعلق بچوں سے محبت اور انصاف کے بجائے طاقت اور دھونس کا بھی ہوتا ہے۔ کیا بچے ماو¿ں سے ڈر کے خود کشیاں بھی کرتے ہیں؟


ای پیپر