وزیراعظم صاحب، صرف ایک گھنٹہ مختص کریں
17 مارچ 2018 2018-03-17


زیر نظر مضمون پولیس کے سینئر اور ریٹائرڈ افسر جناب طارق پرویز کا تحریر کردہ ہے۔۔۔ روزنامہ ڈان مورخہ 17 جون کو شائع ہونے والے اس مضمون کا ترجمہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔۔۔ مضمون نگار ’نیکٹا‘ کا تصور پیش کیا تھا۔۔۔ جس کے تحت ملک کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک مربوط نظام کے تحت لانا تھا۔۔۔ تاکہ دہشت گردی کی جڑیں اکھاڑ دینے کی خاطر مؤثر کارروائیاں کی جا سکیں۔۔۔ عملاً ایسا نہیں رہا۔۔۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ نیکٹا صحیح معنوں میں فعال نہیں ہو سکا۔۔۔ یہاں تک کہ اس کے بورڈ آف گورنرز کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہو سکا۔۔۔ اس کا سبب کیا ہے کون اس کا ذمہ دار ہے۔۔۔ سول حکومت، عسکری ادارے یا دونوں۔۔۔ سبب جو بھی ہو مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آرہے۔۔۔ گزشتہ روز رائیونڈ میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کے قریب پولیس سٹیشن پر دہشت گردی کا جو خوفناک حملہ ہوا وہ پوری قوم کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔۔۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔۔۔ جبکہ ہماری حکومت اور دوسرے اداروں کا دن رات کا دعویٰ ہے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردی تنظیموں کو جڑوں سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے۔۔۔ سرزمین پاکستان پر وہ اپنا وجود نہیں رکھتیں۔۔۔ لیکن رائیونڈ کے واقعے نے ان دعووں کی تکذیب کر دی ہے۔۔۔ تحریک طالبان پاکستان نہ صرف فعال ہے۔۔۔ بلکہ اس کے سہولت کار بھی موجود ہیں۔۔۔ اس کا پہلا ردعمل یہ سامنے آیا ہے پی ایس ایل کے مقابلوں میں کئی غیر ملکی کھلاڑیوں نے حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے اور ان میں کچھ پاکستان آکر دہشت گردی کے خوف سے واپسی کا رخت سفر باندھ رہے ہیں۔۔۔ جبکہ آئندہ ماہ جون میں پیرس میں منعقد ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے عالمی ادارے کے اجلاس میں گرے ایریا میں ہمارا نام درج کرنے کا جو خطرہ منڈلا رہا ہے۔۔۔ سو علیحدہ! امریکہ میں نائن الیون کے بعد وہاں تمام کی تمام سکیورٹی ایجنسیوں کو ہوم لینڈ سکیورٹی نام کی مشترکہ تنظیم کے تحت ایک نظام میں مربوط کر دیا گیا تھا۔۔۔ سی آئی اے اور ایف بی آئی دونوں بڑی جاسوسی تنظیموں نے اپنا تشخص برقرار رکھتے ہوئے نئے نظام کا حصہ بننا قبول کر لیا۔۔۔ نتیجہ سامنے ہے۔۔۔ وہاں نائن الیون کے بعد دہشت گردی کا بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا۔۔۔ ہمارے یہاں ایسے واقعات کم ضرور ہوئے ہیں لیکن رکنے کا نام نہیں لے رہے۔۔۔ اصل وجہ کیا ہے۔۔۔ زیر نظر مضمون سے قارئین کو اس سلسلہ میں رہنمائی ملے گی۔۔۔ (عطاء الرحمن)
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ’گرے فہرست‘ میں پاکستان کوشامل کرنے کاعمل، ایک بھاری قومی شرمندگی کے سواکچھ نہیں۔۔۔سوال یہ ہے کہ کیا ہماری طرف سے بروقت کارروائی کے ذریعے اس شرمندگی سے بچاجاسکتاتھا۔۔۔ہماری طرف سے انسداد منی لانڈرنگ؍دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے تدارک کے متعلق تازہ ترینmutual evaluation report(جاری کردہ2009ء) کے مطابق کہایہ گیاتھاکہ فاٹاکے لیےAML/TF risk analyisisتیارکیاجائے،قومی AML/TFحکمت عملی اپنائی جائے اوراس حکمت عملی کے نفاذکے لیے ادارہ جاتی لائحہ عمل کومزیدٹھوس بنایاجائے۔۔۔
اب تک نوبرس گزرچکے،لیکن اس سمت میں ہماری طرف سے بہت کم پیشرفت ہوئی۔۔۔جبکہ انسداد منی لانڈرنگ بنیادی طورپر وزار ت خزانہ اوربینک دولت پاکستان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے،دہشت گردی کی مالی معاونت کاتدارک اندرونی سلامتی اورتحفظ کے اداروں کی ذمہ داری ہے۔۔۔آج بھی ہم TFکاکوئی بھی risk analysisنہیں کرسکے اورنہ ہی اس سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی تشکیل دے سکے ہیں،اورپھرجس شہری قومی ادارے ؛National Counter Terrorism Authority(نیکٹا)کویہ ذمہ داری سونپی گئی تھی،وہ محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑرہاہے۔۔۔
اس ادارے کاقیام جنوری 2009 ء میں وزیراعظم کے ایگزیکٹو حکم کے تحت عمل میں آیا اوراس کے انتظام وانصرام کی خاطر ایک قانون کانفاذفروری 2013ء میں کیاگیا۔۔۔بدقسمتی سے اس کے قیام کے بعد برسوں تک،یہ ابھی تک مکمل طورپرفعال نہیں ہوسکا۔۔۔نیکٹاکی غیرموثرکارکردگی کے باعث ہمیں جوقیمت اداکرناپڑی،اس کے متعلق شاذونادرہی گفتگوکی گئی ہے۔۔۔
National Counter Terrorism Authority ایکٹ2013ء کے مطابق اس کی ذمہ داریوں میں دواہم اورمرکزی شعبے شامل ہیں:حکمت عملی برائے قومی انسداددہشت گردی کی تشکیل اوراس کے نفاذ کی نگرانی، اورپھریہ مختلف ذرائع اوراہلکاروں کے ذریعے ملنے والی خفیہ معلومات کو اکٹھاکیاجائے ،نیزاس ملک کی سلامتی کودرپیش خطرات کے تجزیات پرمشتمل مختلف رپورٹیں حکومت کوپیش کی جائیں۔۔۔
لہٰذا، نیکٹاکوایک ایساادارہ سمجھاگیا جوسٹریٹجک سطح پرایک ایساادارہ ہے جس کاعملی کارروائی سے کوئی واسطہ نہیں اورجوصرف قومی سطح پرانسداددہشت گردی کے ضمن میں درپیش خطرات کے تدارک کرنے کی کوشش کاتجزیہ کرتاہے۔۔۔
اس ادارے کواس قابل بنانے کے لیے یہ اپنی ذمہ داریاں موثرطورپراداکرسکے،اس کی حیثیت ایک ایسے ادارے کے طورپرہوناچاہیے جسے پاکستان میں انسداددہشت گردی پرمامورافراداوراداروں(فوجی یاغیرفوجی) کی طرف سے سنجیدگی سے لیاجائے ۔۔۔لیکن نہ تووہ مختلف خفیہ معلومات کوایک دوسرے سے آگاہ کرنے میں مخلص ہوتے اورنہ ہی وہ اس ادارے کی طرف سے جاری کرد ہ احکامات کی پابندی کرتے۔۔۔نیکٹاایکٹ،اس ادارے کوبراہ راست وزیراعظم کوجواب دہ بنانے کے ذریعے اسے ایک حیثیت فراہم کرتاہے کہ جس طرح آئی بی اورآئی ایس آئی، وزیراعظم کوجواب دہ ہیں۔۔۔
تاہم،نیکٹاکے قانون کے تحت،اسے فعال بنانے کی خاطر ناگزیرنقطہ آغاز یہ ہے کہ بورڈآف گورنرزکااجلاس طلب کیاجائے جس کی صدارت وزیراعظم کریں ۔۔۔اس بورڈکی ذمہ داری ہے کہ وہ strategic visionمہیاکرے اوراپنی سرگرمیوں کاجائزہ لے،نیزاپنابجٹ منظورکرے اوراپنی حکمت عملیوں اورجرائد کی بھی نگرانی کرے۔۔۔اس کی روشنی میں، ایک سادہ نتیجہ یہ ہے کہ اپنے بورڈآف گورنرکے اجلاس کی غیرموجودگی میں یہ ادارہ مکمل طورپرفعال نہیں ہوسکتا۔۔۔
یہ حقیقت کہ گزشہ نوبرس کے دوران ایک مرتبہ بھی ادارے کے بورڈآف گورنرزکااجلاس طلب نہیں کیاگیااوریہ صورت حال اس امرکی شاہد ہے کہ اس ادارے کواس سیاسی قیادت کی طرف سے کسی بھی قسم کی ترجیح حاصل نہیں جو خود کوانسداددہشت گردی پرمبنی حکمت عملی کی علمبردارکہلاتی ہے۔۔۔کیااس سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ ہم نیکٹاکوغیرموثربنانے کے لیے نقصان میں جارہے ہیں؟
عام طورپریہ کہاجاتاہے کہ نیکٹاکابنیادی مقصد انسداددہشت گردی پرمبنی حکمت عملی کی تشکیل اوراس کی نگرانی ہے۔۔۔ ایک غیرموثرنیکٹا،وفاقی سطح پرانسداددہشت گردی کی ایسی کوشش ثابت ہواہے جس کی بنیادکسی بھی قسم کی بھی سیاسی ،پیشہ ورانہ راہنمالائحہ عمل نہیں ہے۔۔۔اس وقت اس امرپرزوردیناچاہیے کہ نیکٹا، پالیسی سازی کے حوالے سے سیاسی بالادستی کے بنیادی اصول کااظہارہے جس کی ضمانت ہمارے آئین میں دی گئی ہے۔۔۔ ایک موثرسیاسی مجازادارے کی غیرموجودگی کاخلااس طرح پُرہواہے کہ فوجی قیادت نے اس کی عملی سربراہی سنبھال لی ہے۔۔۔
جبکہ،یوں،ممکن ہے کہ اس ادارے نے وقتی طورپرشاندارنتائج حاصل کیے ہوں،یہ صورت حال ہماری قومی سلامتی کے لیے طویل المدت مضراثرات کی حامل ہے۔۔۔فوج میں مخصوص تربیت کے باعث،فوج کی سربراہی میں انسدددہشت گردی کی کوئی بھی کوشش کامیاب ثابت ہوسکتی ہے۔۔۔انسداددہشت گردی کے دیگر پہلو،مثلاً عسکریت پسندی کی وجوہ کاتدارک ،جوفوج کی ذمہ داریوں کے زمرے میں شامل نہیں،نظراندازہوجاتے ہیں۔۔۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سوں کایہ خیال ہے کہ فوج کی طرف سے انسداددہشت کی کوششوں میں کامیابی عارضی نوعیت کی ہے ۔۔۔اس صورت حال میں ایک فعال نیکٹا،انسداددہشت گردی کے لیے عملی اورغیرعملی کوششوں کے درمیان ایک بہترتوازن کویقینی بناسکتاہے جبکہ اس ضمن میں متعلقہ سیاسی افراد اورادارے بھی اس طرف متوجہ ہوں۔۔۔بلاشبہ یہ کہاجاسکتاہے کہ نیکٹاکومضبوط کرنے کاعمل،پاکستان کودرپیش دہشت گردانہ خطرات کے مستقل تدارک کی ضمانت ہے۔۔۔
فوج کی سربراہی میں انسداددہشت گردی کی کوششوں کاایک اورنقصان یہ ہے کہ سیاسی اداروں میں اپنی تشکیل وترقی کی صلاحیتیں ماندپڑجاتی ہیں۔۔۔مثال کے طورپرنیشنل ایکشن پلان کاایک بہت ہی اہم نکتہ (فوجداری عدالتی نظام کی فعالیت میں ترقی )یہ تھاکہ اسے ملتوی کردیاجائے جس کی خاص وجہ سیاستدانوں کی یہ کمزوری تھی کہ وہ دستیاب معمولی رقوم کوسیاسی (غیرفوجی)اورپیراملٹری اداروں کے درمیان درست تقسیم نہیں کرسکے۔۔۔
نیکٹاکی دوسری اہم ذمہ داری یہ ہے کہ تمام خفیہ اداروں کی معلومات کے نتائج کو اکٹھاکیاجائے اورا س ضمن میں ایک بامقصد تجزیاتی رپورٹ تیارکی جائے۔۔۔ا س ضمن میں بنیادی تصوریہ ہے کہ کوئی بھی فوجی خفیہ ایجنسی،خواہ یہ کس قدرمطلق العنان ہو،ہردہشت گردانہ سرگرمی کے متعلق مکمل معلومات رکھ سکے۔۔۔بدقسمتی سے نیکٹا کی عدم اثرپذیری کے باعث،قومی سطح پرکوئی بھی سیاسی ادارہ موجودنہیں جویہ ذمہ اداری اداکرسکے۔۔۔خفیہ ادارے اپنے نقطۂ نظرکے مطا بق اپنی رپورٹیں حکومت کوپیش کرتے ہیں اورقومی سلامتی پراس شعوری اثرکوبہ خوبی تصورکیاجاسکتاہے۔۔۔
اس سے یہ کہنامراد نہیں کہ نیکٹا ہرقسم کے دہشت گردانہ مسائل کے لیے اکسیرثابت ہوسکتاہے۔۔۔ لیکن یہ بات یقینی طورپرکہی جاسکتی ہے کہ یہ ادارہ ،انسداددہشت گردی کے ضمن میں قومی اداروں کے باہمی میل جول کے حوالے سے ایک ناگزیرقدم کی حیثیت رکھتاہے۔۔۔کیاہم قابل احترام وزیراعظم سے یہ درخواست کرسکتے ہیں کہ اپنی مصروفیت میں ایک گھنٹہ مختص کریں تاکہ وہ نیکٹاکے بورڈآف گورنرزکے اجلاس کی صدارت کرسکیں؟


ای پیپر