ابلیس کی ایجاد

17 مارچ 2018

عامرہ احسان


شام !حضرت ابراہیمؑ کا دارالہجرت ، انبیاء ؑ کا مولد ومسکن۔ نبی ؐ کو معراج مکہ سے نہیں بلاد الشام سے ملی۔ عہد رسالت ؐ کا، خلافت عثمانیہ تک کا شام لبنان، اردن، مقبوضہ فلسطین شام پر محیط تھا) اب کس حال میں ہے حالیہ انسانی تاریخ کا خوفناک ترین المیہ ، درندہ صفت مہذب چہروں ترقی یافتہ دنیا کے حکمرانوں کے ہاتھوں برپا ہے۔ لاکھوں بے گھر ڈیڑھ کروڑ امداد کے منتظر ،5لاکھ شہید۔ مغربی میڈیا سکورچیک کرکے بتاتا رہتا ہے۔ بمباریوں تلے ویڈیوز میں ہرجگہ عورتیں، بچے نمایاں ہیں۔ 8مارچ عالمی یوم خواتین تھا۔ ایک دن کے لیے جنگ بندی تو کردیتے۔ زخمی، معذور ، ننھے بچوں کی مائیں، بوڑھی عورتیں تو محفوظ مقامات پر پہنچا دی جاتیں ! لیکن کیونکر !یہ عالمی دن تو آزاد عورت (مادرپدر آزاد، لباس کی قید سے آزاد، مردانہ عورت) کا دن تھا سوانہوں نے خوب منایا ! رہا بچوں کا عالمی دن تو وہ 20نومبر کو آئے گا۔ کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک ! یوں بھی احادیث میں ’الغوطہ‘ کا تذکرہ فتنوں کے دور میں مسلمانوں کا مرکز ہونے کی حیثیت سے موجود ہے۔ شام کی فیصلہ کن جنگوں میں امت کے 3حصے۔ ایک تہائی جو اللہ کے دین سے باغی ہوجائے گا۔ وہ جن کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی۔ ایک تہائی جو کفار سے لڑے گی۔ اس میں شہداء کی کثیرتعداد جو عنداللہ دنیا کی بہترین شہید ہوں گے۔ تیسری تہائی جو فتح پائے گی وہ اس کے بعد کسی بڑے فتنے میں مبتلا نہ کئے جائیں گے۔ بشارتوں کی سرزمین۔۔۔ 7سال سے دنیا کا ہرہتھیار ان پر آزمایا گیا۔ عزیمتوں کے کوہ گراں ہیں جو خون اور جلے ہوئے گوشت کے لوتھڑوں میں بکھر تو جاتے ہیں۔۔۔ یہاں سے نکلنے پر تیار نہیں !دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو۔۔۔ عجب چیز ہے لذت آشنائی۔ متاع نمرود کا سودا کرنے والے دنیائے کفر کے سارے ہتھیار اپنے سینے پر لے رہے ہیں۔ گلاب بچوں کی پنکھڑیاں بکھررہی ہیں۔ بستیاں کھنڈر ہو چکیں۔ ڈیڑھ ارب مسلمان کہاں ہیں۔ ؟ یہ ناخواندہ (Illiterate)مسلمان ہیں۔ قرآن ناخواندہ ، حدیث ناخواندہ پرشکوہ، ہیبت ودبدبہ قائم کردینے والی اسلامی تاریخ ناآشنا! نام کے مسلمان۔ ڈارون کی بندرنسب نسلوں کے غلام !شام میں بہتی خون کی ندیوں اور بھوک سے بلکتے مسلم بچوں عورتوں کے بھائی بند کیا کررہے ہیں؟ سعودی عرب وژن 2030ء تک پہنچنے میں دن رات ایک کررہا ہے اس لیے مصروفیت بے پناہ ہے مالدار مشرق وسطیٰ پورا ایسے ہی ایجنڈوں کی تکمیل میں پانی کی طرح پیسہ بہارہا ہے۔ امام کعبہ پاکستان تشریف لائے۔ قصر صدارت میں صدرممنون حسین نے بھی وژن، 2030ء کی زبردست تائید کی ان کے سامنے۔ (کیونکہ پاکستان تو بہت پہلے یہ ایجنڈے پورے کرچکا۔ لکس سٹائل ایوارڈ ، ویٹ کے مقابلہ ہائے حسن گواہ ہیں ) اس ملاقات میں شام کے لیے دعا یا بیان نظر سے نہیں گزرا۔ بس اس (کانی، کانے دجال والی ) وژن کے تذکرے رہے۔ برطانیہ، جہاں مسلمان ، بالخصوص پاکستانی بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ مردان کار، ان کے ملک کی تعمیر وترقی جس افرادی قوت کی مرہون منت ہے وہ مسلمان ہی تو ہیں۔ تاہم اب برطانیہ میں اپنے انداز سے شکریہ ادا کیا جارہا ہے جو ان کی صلیبی تاریخ (جوانہوں نے نسل درنسل اپنے بچوں کو پڑھائی ہے۔ ہماری طرح کورا نہیں رکھا ) نے انہیں سکھا رکھا ہے۔ صلیبی جنگوں میں گھوڑوں کے گھٹنوں تک بہنے والا خون مسلم آج صرف شام، عراق، افغانستان۔۔۔تک محدود کیوں رہے؟ سو اس کے لیے اب ایک گمنام خط برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھیجا گیا ہے گھروں میں۔ ’مسلمانوں کو سزادو‘۔۔۔ 3اپریل کا عنوان ہے۔ یہ دن منائے جانے کے لیے : مسلمان کو گالی دو۔ یا (مسلم عورت کا ) سکارف نوچو۔۔۔یا۔۔۔ تیزاب مسلمان کے منہ پر پھینکو (شرمین عبید کی اگلی فلم کا مواد ؟) مسجد جلاؤ یا اس پر بم پھینکو۔ بالترتیب یہ 100,50,25,10اور 1000پوائنٹ حاصل کرنے والے کام ہیں جن پر اسی طرح چھوٹے بڑے انعامات دینے کا وعدہ ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ مسلم کش مہم دیگر یورپ میں بھی پھیل جائے گی ۔ یورپ جانے کے شائقین نوٹ فرمالیں ! لند میں مصری 18سالہ طالبہ کو 3گوری لڑکیوں نے تشدد کرکے مارڈالا ہے۔ دارالکفر میں مسلمان محفوظ نہیں ہیں۔ (اب بھی وقت ہے ذرا قرآن حدیث کھول کر فتنۂ دجال پہچان کر ایمان بہم پہنچا لیجئے!) روشن خیالی، اعتدال پسندی، رواداری ، امن ، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ، سافٹ امیج کے پہاڑے پڑھانے والے سارے طوطے ہمارے ہاں چھوڑ دیئے گئے۔ ان غلغلوں میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس دیوانگی نے ہمیں اتنا حواس باختہ کررکھا ہے کہ زمینی ، زیر زمینی (قبر) آخرت کے سارے آسمانی حقائق بھلا کر اسلام آباد جیسے شہر میں قرآن پڑھانے والوں، مساجد ، مدارس ، حتیٰ کہ خواتین کے دروس گھروں میں قرآن پڑھتی بچیاں بچے تک ڈرائے دھمکائے جارہے ہیں۔ کیا قرآن پڑھنا (23مارچ۔۔۔ قرارداد پاکستان، نظریۂ پاکستان والی اب قریب ہی تو ہے !) قرآن پڑھانا خلاف آئین ہے ؟ قانون شکنی ہے ؟ ساتھ ہی جمعے کے خطبے کی آزادی چھیننے کی تیاری ہے۔ سرکاری روبوٹ خطے جاری کرنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ تو پھر یوم آزادی منانا بھی چھوڑ دیجئے۔ غلامی اختیار کی ہے (اللہ کو چھوڑ کر دنیائے کفر کی !) تو اعلان بھی کردیجئے۔ یہاں امریکہ کے ’ہاں گرے‘، ’بلیک‘ (سیاہ) ہونے کی فکر تو بہت ہے۔۔۔ وہ دن بھول چکے جب: ’کچھ لوگ سفید (روشن ) چہرے والے ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہوگا۔ (ان سے کہا جائے گاکہ ) ایمان کی نعمت پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا ؟ اچھا تو اب اس کفران نعمت کے صلے میں عذاب کا مزہ چکھو ۔ رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو ان کو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ ملے گی اور وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے‘۔ (آل عمران 106,107) قرآن ناخواندگی نے ہمیں کیا سے کیا بنا دیا ۔ سری دیوی پر رونے والے ،خون مسلم، معصوم ننھے بچوں پر بے رحمانہ ، سفاکانہ ظلم سے منہ موڑے پڑے ہیں ؟ترقی یافتہ مہذب دنیا کیا کررہی ہے؟ وہ بھی ہمارے ماڈریٹ مسلمانوں کی طرح رنگ برنگے تماشوں میں گم ہیں۔ شارک کے ساتھ شرفنگ ہورہی ہے۔ (خود ان کے بڑے ، خونی شارک بنے ہم پر دانت گاڑے بیٹھے ہیں) نیویارک میں سالانہ بلیوں کا شوہوا۔ بلیوں کے استعمال کی شاندار مصنوعات اور اعلیٰ خوراک کی نمائش۔ بہترین نگہداشت پر پالی موٹی تازی بلیاں۔ دوسری طرف شام کی وڈیو میں بلکتی نانی جس کے غوطہ میں محصور ننھے نواسے فون پر بات نہیں کرپاتے کہ مارے فاقوں کے ان کی آواز ہی نہیں نکلتی۔ رہے ہم تو۔۔۔ ہمارے بچوں کی ہوٹلوں میں شاندار پارٹیاں ، سالگراہیں بالی وڈ شادیاں ، ڈرون کیمرے سے محفوظ ہوتی شادمانیاں ۔(وہ ڈرون دنیا دنیا بھر میں چن چن کر مسلمانوں کے پرخچے اڑانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بھارت مزید ہماری سرحد پار مخبریوں کے لیے ڈرون بھیجتا ہے) ہمارے عیش وطرب کی یادگاریں اس ٹیکنالوجی سے فیض یاب ہوتی ہیں۔ ساتھ ساتھ رونا روتے ہیں ’ہم کافر کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہمارے پاس ٹیکنالوجی نہیں ہے !‘ہمارے پاس کھیل تماشے ہیں یا ایمان والوں کو ٹھکانے لگانے والی ٹیکنالوجی یعنی راؤانوار۔ !کہاں گیا ؟۔اسے تلاش کرنے کی بھی ٹیکنالوجی ہی تو نہیں ہے سو بھول جائیے!ستم ظریفی مغرب کی یہ بھی دیکھئے کہ ان کے ایک ارب پتی ایلن مسک کو ایک غم کھائے جارہا ہے۔ دنیا تیسری جنگ عظیم سے تباہ ہونے چلی ہے۔ انسانی تہذیب کے اہم اجزاء (بیج) چاند اور مریخ پر پہنچا دیئے جائیں تاکہ تیسری جنگ کے خاتمے پر زندگی دوبارہ شروع کی جاسکے !آئندہ سال سے آمدورفت شروع ہوجانے کا امکان ہے۔۔۔ مابین سیارہ جات۔ عقل کے ناخن لیں تو پوٹن ، بشار ، ٹرمپ، کوریا کا کم جونگ ان، مودی، سوچی اور اس کا فوجی جرنیل، السیسی اور اس جیسوں کی طویل فہرست مزید ہے ہمارے پاس۔ ان سب کو جلدازجلد چاند، مریخ پر بھیج دیا جائے تو کیا یہ نسخہ زیادہ آسان نہیں؟(ماؤں کی گودیں میسر نہ آنے کی بناپر سادہ باتیں انہیں سمجھ نہیں آتیں دنیا تباہ کرنی اور بیج چاند پر محفوظ کرنے سمجھ آتے ہیں!)ہمارے ہاں ترقی یافتگی کا ایک اور پیمانہ ملاحظہ ہو۔ اسلام آباد کے کچھ سیکٹرز میں کم عمر نوجوان پارکوں میں چرس بھرے سگریٹ (فراہمی پر نوجوان مامور ہیں) مل مل کر پی رہے ہیں۔ دن دہاڑے بھی اور راتوں میں بھی بلاروک ٹوک۔ گھر گھر سے بگڑے نوجوانوں کے ہاتھوں اجیرن ہوتے گھروں کی خبریں۔ والدین لرزاں وترساں مخلوط تعلیم۔ موبائل اور سستے پیکج موجود۔ تعلیمی معیار برباد۔ منہ زور بے لگام۔ حیاباختہ جوانیاں۔ عشق عاشقی ۔ ڈرگزرقص وموسیقی ۔ پاکستان واقعی رشک امریکہ یورپ ہوچلا ہے۔ مساجد۔ قرآن، ایمان سے بچا بچا کر پالنے والے نظام پروان چڑھایا گیا، اب وہ فصل پک کر ترقی کے سینے پر مونگ دلنے کو تیار ہو گئی ہے۔۔۔ یوم پاکستان بھی اسی رنگ ڈھنگ سے منائیں گے۔۔۔ بھنگڑے، موسیقی، رقص وسرود سے آزاد مملکت کا شکرانہ ادا ہوگا! نہیں جانتے کہ آزادئ افکار ہے ابلیس کی ایجاد ۔۔۔ ! ابلیس کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ملک وملت کو یہ سپوت کیا چاند تارے دکھائیں گے؟ فکر کیجئے !

مزیدخبریں